مذہبی رواداری

1,904

رواداری کا مفہوم صرف یہی نہیں ہے کہ دوسروں کوبرداشت کیا جائے بلکہ اس کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ دوسروں کے مذہبی عقائدو اقداراور جذبات وتہذیبی ورثے کابھی لحاظ رکھا جائے، ان کے متعلق عدم برداشت یا تحقیر کا ایسا رویہ اختیار نہ کیاجائے جو ان کے لیے قابلِ قبول نہ ہواور ان کے جذبات کو ٹھیس پہچانے کا سبب بنے۔ اس طرح مذہبی روادی دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مذہب کے حوالے سے معیاری انسانی برتاؤکا نام بن جاتا ہے۔مذہبی رواداری کے حوالے سے قرآن وسنت میں صریح ہدایات موجود ہیں۔ اسلام عقیدہ توحید میں بے لچک موقف رکھتا ہے اوراس میں کسی سمجھوتے کا قائل نہیں، لیکن قرآن میں واضح اصول کے طور پر دوسروں کے باطل معبودوں کو بھی برا بھلا کہنے سے سختی سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ اس سے جذبات مجروح ہوں گے، فریق مخالف کے مزاج میں اشتعال پیداہوگا اور وہ عین فطرت کے تقاضے کے مطابق جواب میں معبودِ حقیقی کو بھی برا بھلا کہنے لگے گا۔اسلام میں فریق مخالف پر رد کرنے کا جو طریقہ بتایا گیا ہے، وہ بھی خوب صورت اسلوب میں کی جانے والی بحث یعنی جدال احسن ہے نہ کہ طنز و تشنیع اور نزاع پیداکرنے والا طرزعمل۔رواداری کے متعلق قرآن کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ یہ انسان کی آزادی فکر و عقیدہ کا سب سے اہم اعلامیہ ہے، کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی کے فکر و عقیدہ کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرے، ہر فرد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جس نظریے کو چاہے اختیار کرے اور جسے چاہے رد کردے، اس کا محاسبہ کرنے والی ذات خدا کی ذات ہے، وہ قیامت کے دن اس کا محاسبہ کرے گی،دنیا میں اس بنیاد پر ایسے شخص کے ساتھ برا اور غیر اخلاقی طرزِ عمل اختیار نہیں کیا جاسکتا، اسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

انسانی رواداری کا بہترین نمونہ ہمیں پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت طیبہ میں ملتا ہے۔یہ کتنا اہم نمونہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کسی غیر مسلم کے جنازے کو بھی دیکھ کر اس کے احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے۔ ہجرت کے بعد پیغمبراسلام ﷺ کو یہ قوت حاصل ہوگئی تھی کہ وہ مدینہ میں قائم یہودیوں کی عبادت گاہوں کو مسمار کردیں لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا،اس کے بجائے آپ نے ان کے اندر پائے جانے والے نفرت و کدورت کے جذبات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ انسانی تاریخ میں رواداری کی سب سے پہلی اور عملی مثال ”میثاقِ مدینہ“ ہے، جس کے تحت مذہبی رواداری پر مبنی جو حقوق ریاست کے غیر مسلم شہریوں کو حاصل ہوئے ان میں سے دونمایاں  حقوق یہ تھے۔ایک یہ کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو بھی مذہبی و سیاسی سطح پر وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں، دوسرے یہ کہ دونوں فریق مل کراپنے دفاعی اخراجات کی ذمہ داریاں اٹھائیں گے اور مل کراپنا دفاع کریں گے۔ تاریخ میں کوئی فاتح اور حاکم قوم، ملت اور مذہب میثاق مدینہ سے پہلے رواداری اور مخالف فکر و نظر کے پیرو کاروں کو برداشت کرنے کی ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حضرت عمر کا ایک غیر مسلم غلام حضرت عمرکی وفات تک ان کے پاس رہا، حضرت عمرچاہتے تھے کہ وہ اسلام قبول کرلے لیکن اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔اپنی وفات کے وقت حضرت عمر نے اسے آزاد کردیا۔ یہ اسلام ہی کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا ورنہ سیدنا عمرجیسی پر جلال شخصیت تمدن سے قبل کے اس دور میں ایسا رویہ کہاں اختیار کر سکتی تھی۔ دنیا کے ذخیرہ اخلاق میں مذہبی رواداری کے حوالے سے یہ بات نادر الوجود ہے کہ اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب نے دشمنوں، بطور خاص مذہب و عقیدہ کی بنیاد پر جانی دشمنوں کے ساتھ عفو و درگزرکے برتاؤکو لازمی قرار دیا ہو، اسلامی تعلیما ت میں اس طرح کے ہزاروں عملی ثبوت تاریخ کے سینے پر نقش ہیں۔

 مذہبی رواداری کے حوالے سے ہمیں صرف اصولی قوم ہی نہیں کہ وہ رواداری کے اصول و نظریات اور نرے فلسفوں پر یقین رکھتی ہو ،بلکہ عملی قوم بھی بننا چاہیے،مذہبی راوداری کی وہ روشن مثالیں جو ماضی میں ملتی ہیں، موجودہ دور میں بہت کم ہوگئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اصول و نظریات کے حوالے سے جب بھی ہمیں مثالیں پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، ہم عموماً اپنے ماضی سے ہی اس کی مثالیں پیش کرتے ہیں، ماضی میں ہماری ذہنیت دین کی اصولی تعلیمات و ہدایات کی روشنی میں تشکیل پائی تھی جبکہ حال میں ہمارا ذہن موجودہ سیاسی حالات و واقعات سے زیادہ متاثر ہے۔بلکہ بسا اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس بات نے ایک اصول کی حیثیت اختیار کرلی ہے کہ جو تمہارے ساتھ جیسے کرے تم بھی اس کے ساتھ ویساہی کرو۔حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ “تم ابن الوقت مت بنو کہ کہنے لگو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کریں گے تو ہم ان کے ساتھ اچھا معاملہ کریں گے اور اگر وہ ہمارے ساتھ برا معاملہ کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ برا معاملہ کریں گے، بلکہ تم خود کو اس بات کا عادی بناؤکہ اگر تمہارے ساتھ کوئی برائی کے ساتھ پیش آئے تو تم بھلائی کے ساتھ پیش آؤ”۔عیسائیت میں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ تم اپنے دشمنوں سے بھی پیار کرو،ظاہری طور پر یہ چیز انسان کی عام فطرت سے ہٹ کر محسوس ہوتی ہے، قرآن میں اس سے ملتی جلتی بات یہ کہی گئی ہے کہ “تم برائی کوبھلائی سے دفع کرو، جب تم ایسا کروگے توتم دیکھوگے تمہارا دشمن بھی تمہارا گہرا دوست بن جائے گا”۔

 مذہبی رواداری کے مفہوم کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے حالات و واقعات میں بھی جن کی براہِ راست زدہم پر پڑتی ہو، کھلا ہوا نقصان ہمارے سامنے ہو، ہمیں وسیع القلبی کے ساتھ اس کی پاس داری کرنی چاہیے۔

 حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ نیکی خود اپنا انعام ہے، ضروری نہیں ہے کہ ہم جو نیکی کررہے ہوں ہمیں اس کی متوقع اورپسندیدہ جزا بھی ملے،اس وقت اسلامی اصولوں پر فخر کی بجائے ان کو برت کر دکھا نے کی ضرورت ہے،ایک داعی قوم کی حیثیت سے ہمار ا یہ فریضہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ وسیع النظری اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں،اس سے قطع نظر کہ دوسروں کا معاملہ ہمارے ساتھ کیا ہے،یہی رسول اللہ ﷺ کا اسوہ اور اصحاب رسول کی سنت ہے۔

میری نظر میں مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے سب سے اہم حکمت عملی جو اختیار کی جاسکتی وہ یہ ہے  کہ ہم سب مل کر لاؤڈ سپیکر کی پابندی کو مؤثر بنائیں۔مذہب کے نام پر عدم رواداری کو سب سے زیادہ تقویت لاؤڈسپیکر کے غلط استعمال سے مل رہی ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے بعد ریاستی سطح پر لاؤڈ سپیکر کو کنٹرول کیا گیا ہے مگر اس پابندی کو مزید مؤثر بنایا جائے تو زیادہ فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔تمام مکاتب فکر کے جید علماءکو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ مساجد ومدارس ،عبادت گاہوں، جلسوں،جلوسوں اور دیگر مذہبی تقریبات میں ایسے لوگوں کو ہرگز شریک ہونے کی اجازت نہ دیں جو انہی کے مسالک اور اس کے بنیادی نطریات کے لیے مسائل پیدا کرتے ہوں۔کیونکہ ایسے شرپسند ذاکرین وواعظین اپنی اشتعال انگیز تقریر کرکے چلے جاتے ہیں،مگر ایسی تقاریر سے جو پیغام جاتا ہے وہ اس مسلک کے اکثریتی لوگوں کا پیغام بن جاتا ہے۔وہ مسجد و مدرسہ اور عبادت گاہ متنازعہ ہوجاتی ہے۔مسائل کا سامنا یہاں کے لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح اگر کہیں کسی اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں کوئی سانحہ ہوجائے تو تمام مسالک کی مسلمہ اور جید شخصیات کو فورا سامنے آنا چاہیے تاکہ وہ جلتی ہوئی آگ کو کنٹرول کرسکیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...