طلاق سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

طلاق سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے کئی پہلو ہیں اور ان سب پر الگ الگ غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس کا نمایاں ترین پہلو تو “انسانی حقوق” کے اس بین الاقوامی تصور کی قوت کا اظہار ہے جسے اخلاقی، اقداری اور تہذیبی لحاظ سے ایک فیصلہ کن معیار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہےاور دنیا کے ہر معاشرے اور قانونی نظام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کیے بغیر اخلاقی اور قانونی جواز حاصل نہیں کر سکتا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس فیصلے میں بھی حق طلاق میں مرد وعورت کی مساوات کے اصول کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ سوال غالب مغربی تہذیب اور اسلامی تصور معاشرت کے مابین ایک بنیادی نزاعی مسئلہ ہے جس پر اصولی سطح پر گفتگو کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی تہذیب کا moral absolutism پر مبنی یہ رویہ غیر اخلاقی اور غیر عقلی ہے اور موجودہ دنیا کے فکری وتہذیبی خلفشار کا ایک بنیادی سبب ہے۔ اس موضوع پر سنجیدہ مکالمے کے ذریعے سے اہل مغرب پر ان کے طرز فکر کی غلطی اور اس کے عملی مضمرات کو واضح کرنا ضروری ہے۔

دوسرا پہلو، جو بظاہر اس فیصلے میں زیادہ نمایاں ہے، تین طلاقوں کے نفاذ اور وقوع پر پابندی کا مسئلہ ہے۔ ہمارے نزدیک یہ معاملے کا ایک جزوی اور فقہی نوعیت کا پہلو ہے اور اگر محض ظاہری نتیجے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو کم سے کم اس حد تک کوئی بہت وزنی اعتراض اس فیصلے پر وارد نہیں ہوتا۔ ہم اپنی تحریروں میں تفصیلاً‌ واضح کر چکے ہیں کہ افراد کے حقوق واختیارات پر اس نوعیت کی قدغنیں لگانے کا حق، مصالح عامہ کے تحت، نظم اجتماعی کو حاصل ہے اور اس ضمن میں مسلم یا غیر مسلم ریاست کے اختیارات کے مابین کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ ہم نے لکھا ہے کہ “کسی بھی صورت حال میں دی گئی طلاق کو خاوند کے دائرہ اختیار کی حد تک موثر مان لیا جائے تو بھی اس سے عدالت کے نظر ثانی کے حق کی نفی لازم نہیں آتی” ۔

قاضی کو “ولایت عامہ”کے تحت جس طرح تمام دوسرے معاملات میں فریقین کے مابین طے پانے والے کسی معاہدے یا کسی صاحب حق کے اپنے حق کو استعمال کرنے پر نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے، اسی طرح طلاق کے معاملے میں بھی حاصل ہونا چاہیے اور اگر وہ قانون وانصاف اور مصلحت کے زاویے سے کسی طلاق کو کالعدم قرار دینا چاہے تو نصوص یا عقل وقیاس میں کوئی چیز اس کے خلاف نہیں پائی جاتی۔

ایک مقدمے میں خاوند نے بیوی کے مطالبے پر اسے کہا کہ طلاق کے معاملے میں جو اختیار مجھے حاصل ہے، وہ میں تمھیں تفویض کرتا ہوں۔ بیوی نے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں، لیکن سیدنا عمر اور عبد اللہ بن مسعود نے یہ سارا معاملہ واقع ہو جانے کے بعد یہ قرار دیا کہ خاوند کا تفویض کردہ حق صرف ایک طلاق کی حد تک موثر ہے۔

ان مثالوں سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ حق طلاق کے غلط اور غیر حکیمانہ استعمال کی روک تھام اور قانون کے اطلاق کو موثر اور منصفانہ بنانے کے لیے اس نوع کی قانونی تحدیدات عائد کرنے کی نہ صرف پوری گنجائش موجود ہے، بلکہ یہ قانون کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ معاصر تناظر میں دیکھا جائے تو کئی پہلووں سے اس نوعیت کی قانون سازی ضروری معلوم ہوتی ہے۔ شوہر کسی وقتی جذباتی کیفیت میں طلاق دے بیٹھے یا شعوری طور پر طلاق دینے کا فیصلہ کر لے، عمومی طور پر اس کے مضر نتائج واثرات عورت اور بچوں ہی کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ چنانچہ عورت اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے کہ خاوند کے حق طلاق کے نافذ اور موثر ہونے کو بعض قانونی پابندیوں کے ساتھ مقید کیا جائے۔

تیسرا پہلو ہندوستان جیسے مسلم اقلیتی ممالک کی دینی قیادت کے فہم وبصیرت اور حکمت ودانش سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مسئلے پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف، انداز فکر اور حکمت عملی بحیثیت مجموعی قابل رشک نہیں رہی اور اس پر اجتہادی بصیرت کے بجائے روایتی مذہبی رجعت پسندی کا رنگ غالب رہا ہے۔ یہ ادارہ مسلمان خواتین کی نئی نسل میں اسلام کے قانون نکاح وطلاق کے حوالے سے پائے جانے والے سوالات وتحفظات کو حکمت ودانش سے موضوع بنانے اور بحیثیت مجموعی مسلم کمیونٹی میں اپنی قیادت اور بصیرت پر اعتماد پیدا کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی طرح ہندوستان میں بھی مذہبی علماء نے بدقسمتی سے معاشرتی تبدیلیوں کے مقابلے میں خود کو ایک فریق بنا لینے کی روش اختیار کرنا زیادہ مناسب سمجھا ہے جو جدید مسلم معاشروں کا ایک عمومی مسئلہ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...