مفاہمت یا مزاحمت ،پاکستان کے پاس کرنے کو کیا کچھ ہے ؟

522

ٹرمپ کی دھمکی آمیز تقریر کے بعد وزیراعظم پاکستان نے سعودی عرب کا دورہ کیا ۔سعودی شاہی خاندان کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان پل کی حیثیت حاصل رہی ہے ۔افغان جنگ جسے تب افغان جہاد کہا جاتا تھا اس میں بھی سعودی ،سی آئی اے کے ساتھ’’ آن بورڈ ‘‘تھے ۔اس لئے بعد ازاں جتنے بھی مراحل آئے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اگر براہ راست ڈیل کی بھی تو ا س میں سعودی آشیر باد کوہمیشہ ملحوظ ِ خاطر رکھا ۔

لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے تعلقات امریکہ کےساتھ ہی نہیں سعودی عرب کے ساتھ بھی مثالی نہیں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سعودی عرب کے دورے کے بعد قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جس میں فیصلہ ہوا کہ وزیر خارجہ واشنگٹن جانے کی بجائے ماسکو اور بیجنگ جائیں گے۔کیا اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب نے پاک امریکہ کشیدگی میں کسی قسم کا  کردار ادا کرنے سے معذرت کر لی ہے ؟ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حالیہ عرب ایران کشیدگی میں سعودی عرب پاکستان سے جس کردار کی توقع رکھتا تھا پاکستان نے وہ کردار ادا نہیں کیا بلکہ غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی ۔

امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات میں موجودہ کشیدگی اس کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کرے گی ۔اسی لئے پاکستان نے متبادل کے طور پر ماسکو اور بیجنگ کا راستہ اپنایا ہے ۔فی الوقت اسے کوئی بہت سوچی سمجھی حکمت عملی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسے رائے عامہ کے مطالبے کے پیش نظر ہی دیکھا جا رہا ہے ۔کیونکہ حکومت ایک سیاسی بحران سے گزر رہی  ہے اور اس کی نظر اگلے سال کے عام انتخابات پر ہے ۔اگر ان حالات میں وہ از خود امریکہ کے ساتھ رابطے استوار کرتی بھی ہے اور ان کے نتیجے میں بہت سے مطالبات مان لیتی ہے تو اس کے بارے میں انہیں اپوزیشن آڑے ہاتھوں لے گی جس کا خمیازہ انہیں انتخابات میں بھگتنا پڑے گا اس لئے وہ ان حالات میں فیصلے خارجہ تعلقات کی نزاکتوں کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ عوامی جذبات کو سامنے رکھ کر کرنے پر مجبور ہے ۔لیکن امریکہ کے ساتھ تعلقات پر اصل قوت فوج کو حاصل ہے فوج کا فیصلہ ہی حکومت کا فیصلہ قرار پائے گا ۔

بیجنگ اور ماسکو کی حمایت پاکستان کے لئے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا ضرور ہے  مگر فی الوقت ہمیں نہ  تواس بات کا اندازہ ہے کہ امریکہ ہمارے ساتھ کیا کرنے جا رہا ہے اس لئے پاکستان نے ابھی یہ نہیں سوچا کہ ضرورت پڑنے پر چین اور ماسکو ہمارے ساتھ کس حد تک آگے جائیں گے ۔چین ہمارا سٹڑیٹجک پارٹنر ضرور ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ امریکہ کا سب سے بڑا ٹریڈ پارٹنر بھی ہے ۔روس کے ساتھ ہماری قربت حالیہ سالوں میں بڑھی ہے مگر اتنی نہیں جتنی روس کی معمر قذافی اور صدام کے ساتھ تھی اور بشار الاسد کے ساتھ اب تک ہے ۔خدا نہ کرے یہاں عراق، شام اور لیبیا والی صورتحال بنے نہ ہی ہم 22کروڑ کی آبادی کے ساتھ جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔

’’ہماری دفاعی استعداد صرف بھارت کے ساتھ مقابلے پر ڈیزائن کی گئی ہے ۔امریکہ نہ صرف دنیا کی اکیلی سپر  پاور ہے بلکہ ا س کی ’’فائر پاور ‘‘ کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے ‘‘۔یہ بات سابق صدر پرویز مشرف اکثر اس وقت کہتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ 9/11کے بعد صرف ایک امریکی کال پر کیوں جھک گے تھے ۔ اب حالات  اُس سے بھی  زیادہ دگر گوں ہیں ہمیں سرحدوں پر ہی نہیں بلکہ اپنے گلی کوچوں میں بھی جنگ کا سامنا ہے ۔ان حالات میں ہمیں ایک بپھرے ہوئے شیرکے سامنے آنے کی بجائے حت المقدور کوشش کرنی ہے کہ پاکستان تصادم سے بچ جائے ۔امریکہ اب افغانستان میں کسی سیاسی اہداف یا حکمت عملی کے تحت نہیں بلکہ خالصتاً فوجی حکمت عملی کے تحت آ  رہا ہے اور  یہ آمد اس کے سٹریٹجک مفادات کا حصہ ہے ۔یہ حکمت عملی ڈیزائن بھی پینٹا گون میں ہوئی ہے اور اس میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ  کوصرف صدر کے آفس کی حد تک شامل رکھا گیا ہے ۔

پاکستان کو جیسے تیسے اس وقت کو گزارنا ہے اور کسی ایسے کمزور لمحے کا انتظار کرنا ہے جہاں ٹرمپ کسی اور بحران میں پھنس کر رہ جائیں ۔اس کے علاوہ اس افتاد سے باہر نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔سیاسی جماعتیں اس اہم ایشو پر’’ پوائنٹ سکورنگ‘‘نہ کریں یہ پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس پر نہایت ٹھنڈے دماغ کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...