ترقی سے نالاں بلوچ

1,426

خلیجی ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہیں جہاں کئی ممالک میں مقامی آبادی بیس فیصد کے قریب ہیں لیکن 80 فیصد افراد باہر سےآکر کام کر رہے ہیں ۔

چین نے اپنی معیشت اور ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے 2013 میں اپنی معاشی پالیسی کے 4 اہداف مقرر کئے ۔ ان اہداف میں ون بیلٹ ون روڈ کا قیام، آزادانہ تجارت کا فروغ، ایشیاء اور یورپ کے درمیان زمینی رابطوں میں اضافہ اور عوام کے درمیان رابطے شامل ہیں۔

ان اہداف میں مرکزی حیثیت اس سلک روٹ کو حاصل تھی جو ہزاروں سال سے موجود تھا۔ ایک شاہراہِ ریشم جو وسطی ایشیاء سے ہوتے ہوئے ماسکو اور یورپ تک جاتی تھی اور دوسرا سمندری راستہ ، جو مشرقِ بعید اور آگے افریقہ تک جاتا تھا ۔ چین ان راستوں کو اپنی نئی اقتصادی ضروریات کے تحت وسعت دینا چاہتا ہے ۔اس کے لئے اس نے سڑکوں اور ریلوے لائن کا ایک بہت بڑا منصوبہ بنایا ہے ۔ایک راستہ چین سے ماسکو ، روٹر ڈیم اور وینس تک جاتا ہے اور دوسرا راستہ مغربی ایشیا ء ،انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور برما تک جبکہ تیسرا پاکستان سے بحیرہ عرب تک جاتا ہے ۔

گوادر بندرگاہ کو 47 ارب ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کا ’دل‘ سمجھا جاتا ہے۔ اس بندرگاہ کے بننے سے چین کی مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ تک رسائی آسان ہو جائے گی۔گودار بندرگاہ 2007 میں چین کے مالی اور تکنیکی تعاون سے قائم ہوئی تھی۔ اس منصوبے کے لیے چین نے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر کی امداد دی ۔

گوادر میں 4000 ایکڑپر پاکستان کا سب سے بڑا ائیر پورٹ تعمیر کیا جارہا ہے جو 2018ء تک کام کرنا شروع کر دے گا ۔ گوادر میں فری ٹریڈ زون کی تعمیر کے لئے بھی 600 ایکڑ رقبہ چین کے حوالے کیا جا چکا ہے جسے چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی تعمیر کررہی ہے ۔

پاکستان کے وفاقی وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ حکومت گوادر شہر کو دبئی کا نعم البدل بنانا چاہتی ہے تاہم بلوچ قوم پرست اسے ترقیاتی منصوبہ قرار دینے کے بجائے بلوچ عوام کا مزید استحصال قرار دے رہے ہیں ۔ وہ ان معاشی منصوبوں سے خوفزدہ دکھائی دیتی ہے ۔ بلوچ ایسا کیوں سوچتے ہیں ۔

بلوچ قوم پرست رہنماء اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اخترجان مینگل نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی ملکیت بلوچستان کی صوبائی حکومت کو دی جائے اور ” بلوچستان کے ساحل اور وسائل کا اختیار بلوچستان کے لوگوں کو دیا جائے۔ بلوچوں کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی ترقیاتی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔

گوادر اور کیچ کے اضلاع سے قومی اسمبلی کے رکن سید عیسیٰ نوری نےگفت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام سمجھتی ہے کہ اس ترقیاتی عمل سے نا صرف ان کے حقوق غصب ہوں گے بلکہ اس کے اثرات ان کی تہذیب ، ثقافت ، تمدن اور زبان پر بھی پڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ پر 2002 سے کام جاری ہے لیکن ابھی تک مقامی آبادی کو اس حوالے سے کوئی ہنر سکھایا گیا اور ناہی کوئی مخصوص تعلیم و تربیت دی گئی ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب پورٹ عملی طور پر کام شروع کرے گی تو افرادی قوت باہر سے لائی جائے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر دو لاکھ آبادی پر مشتمل شہر ہے جس میں اگلے پندرہ بیس برسوں میں 20 لاکھ غیر بلوچ افراد آئیں گے جس کی وجہ سے آبادیاتی تبدیلیاں واقع ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ 1947 سے پہلے کراچی بلوچ اکثریتی علاقہ تھا ، تاہم اس کے بعد اب کراچی کا سب سے پسا ہوا طبقہ بلوچ ہے ۔

سید عیسیٰ نوری کا کہنا ہے کہ انہیں باہر سے لوگوں کے آنے پر اعتراض نہیں ، وہ ضرور آئیں ، زمینیں بھی خریدیں تاہم ان کے لیے قانون سازی کر کے تیس یا چالیس تک مدت مقرر کی جائے ۔ ان کے ووٹ ، شناختی کارڈ ، ڈومیسائل نہ بنائے جائیں اور انہیں انہیں مستقل شہری کی حیثیت نہ دی جائے ۔اسی طرح جو لوگ باہر سے سرمایہ لیکر آئیں ، وہ بلوچوں کو اپنا خدمتگار بنانے کے بجائے انہیں کاروبار میں ففٹی ففٹی کی بنیاد پر شریک کریں ۔

سید عیسیٰ نوری کہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندہ ہونے کے باوجود انہیں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے آج تک کسی اجلاس میں بلایا گیا اور ناہی اس لحاظ سے کبھی کوئی بریفنگ دی گئی ۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ کئی بار وہ موقع پر موجود تھے ، بریفنگ ہو رہی تھی لیکن انہیں بریفنگ میں نہیں جانے دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ
” ہمیں کسی اجلاس میں نہیں بلایا گیا ، کبھی کوئی بریفنگ نہیں دی گئی بلکہ بریفنگ میں شریک ہونے سے روک دیا گیا ۔ چین کے ساتھ معاہدے ہوئے تو ہمیں اس کی نقل تک فراہم نہیں کی گئی ۔ وفود چین سے آتے اور پاکستان سے چین جاتے رہے لیکن ہمیں کبھی چین کے دورے کی دعوت نہیں دی گئی”۔
ان کا کہنا تھا کہ ” سارا کام ہم سے چھپا کر کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بلوچ عوام کے تحفظات اور خدشات انہیں مزید بے چین کر رہے ہیں ۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔”

بلوچستان میں چیف منسٹر پالیسی ریفارم یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے  گفت کر تے ہوئے کہا کہ بلوچوں کو اس بات کی پریشانی ضرور لاحق ہے کہ گوادر مستقبل میں کراچی جیسا بن جائے گا اور وہاں کی مقامی آبادی کی حیثیت باہر سے آنے والوں کے مقابلے میں زیرو ہو جائے گی۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ریاست کو سوچنا ہوگا کہ 20 کروڑ آبادی والے ملک کے 44 فیصد رقبے والی ایک کروڑ آبادی پچھلے ستر برس میں پانچ بار کیوں کھڑی ہوئی ۔ کیا ریاست اپنے سوا کروڑ لوگوں کی تکلیف نہیں سن سکتی ۔ 

ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق گوادر شہر الگ ہے اور گوادر پورٹ الگ اور ایسی اطلاعات ہیں کہ گوادر پورٹ کے گرد ایک علاقہ خاص کر دیا جائے گا جو صرف چینیوں کے تصرف میں ہوگا اور مقامی آبادی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی رہداری کے حوالے سے کئی سوالات کے جوابات ابھی تک نہیں مل سکے ہیں ۔ اس سوال کا بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا کہ گوادر سے جو ریونیو حاصل ہو گا، اس میں صوبے کا حصہ ہو گا یا نہیں ؟ اسی طرح ہائی وے جو گاڑیاں گذریں گی ا، ان کا ٹول چینی کمپنی لے گی یا صوبہ کیونکہ روڈ چینی کمپنی بنا رہی ہے ۔ اسی طرح اس روٹ کی حفاظت کے لیے جو سیکورٹی برگیڈ قائم کیا گیا ہے ،اس میں مقامی آبادی کو کوئی نمائندگی دی جائے گی یا نہیں ؟

گوادر دو لاکھ آبادی پر مشتمل شہر ہے جس میں اگلے پندرہ بیس برسوں میں 20 لاکھ غیر بلوچ افراد آئیں گے جس کی وجہ سے آبادیاتی تبدیلیاں واقع ہوں گی ۔ 

معروف  تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے گفت گو کر تے ہوئے کہا کہ بلوچستان سب سے کم آبادی والا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہےجہاں ترقی کی شرح بھی بہت کم ہے . یہاں قبائلی نظام ہے یا نیم قبائلی نظام ہے. پسماندگی کی وجہ سے ان کی بیوروکریسی ، سیاست اور طاقت کے مراکز سمیت فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونے والےاداروں میں ان کی نمائندگی نہیں . بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور 700 میل طویل ساحل ہے ، خلیج کے دھانے پر ہونے کی وجہ سے یہ فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے ایک اثاثہ ہے جس کی وجہ سے فوج اسے چھوڑ نہیں سکتی .بلوچستان کی معدنی دولت خود بلوچوں کے لیے ایک عذاب بن گئی ہے کیونکہ ان اثاثوں پر سب کی نظریں ہیں اور بلوچ اپنے اثاثوں کو ان “نظروں” سے نہ بچا سکتا ہے اور ناہی ان کی حفاظت کر سکتا ہے ۔ اسی لیے اس کے اثاثوں اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ ہمیشہ “دوسرے” ہی کرتے ہیں .وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ریاست کو سوچنا ہوگا کہ 20 کروڑ آبادی والے ملک کے 44 فیصد رقبے والی ایک کروڑ آبادی پچھلے ستر برس میں پانچ بار کیوں کھڑی ہوئی ۔ کیا ریاست اپنے سوا کروڑ لوگوں کی تکلیف نہیں سن سکتی ۔ بلوچستان دراصل اسٹیبلشمنٹ کے لئے کارنر کا پلاٹ ہے اور جہاں بلوچ ، خانہ بدوشوں کی طرح جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں . اسٹیبلشمنٹ ان سے کہہ رہی ہے کہ پلاٹ ہمارا ہے ، وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے سوائے چیخنے چلانے کے ، آزادی بھی حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ ایرانی بلوچستان ساتھ جڑا ہے ،ان کے ساتھ بھی معاملہ کردوں والا ہے جو پانچ ملکوں میں بٹے ہوئے ہیں اور جب بھی اٹھتے ہیں ، ریاستیں انہیں دبا دیتی ہیں .

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ مرکز نواز حکومت کا ہے ۔آج آپ بلوچستان میں طاقت کے بل بوتے پر لوگوں کو دبا دیں گے ، پاک چین اقتصادی راہداری بھی بنا دیں گے ،امن بھی قائم ہو جائے لیکن اتنا شعور تو ہونا چاہیے کہ قبرستان کی خاموشی اور امن میں فرق کر سکیں . کل اگر کسی بیرونی طاقت کے مفاد بدل جاتے ہیں تو بلوچ پھر کھڑے ہو جائیں گے ، کیا اس سے پہلے ان کی جائز شکایات کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا .

بلوچ قوم پرست رہنماء اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اخترجان مینگل نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی ملکیت بلوچستان کی صوبائی حکومت کو دی جائے اور ” بلوچستان کے ساحل اور وسائل کا اختیار بلوچستان کے لوگوں کو دیا جائے۔ 

پاکستان میں چینی امور کے ماہر ڈاکٹر فضل الرحمان نے گفت گو کر تے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام چاہتی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں سے پہلے جذبہ خیر سگالی کے تحت تعلیم اور صحت کے شعبے میں کام کیا جائے ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کو گذشتہ پندرہ برس سے سینڈک منصوبے سے بھی کچھ نہیں ملا۔بلوچستان کے ضلع چاغی میں سینڈک کے مقام پر 1970میں کاپرکی دریافت ہوئی اورحکومت پاکستان نے 1995میں ساڑھے تیرہ ارب روپے کی لاگت سےسینڈک میٹل لمیٹڈ کے نام سے کمپنی بنائی،اس منصوبے کو چلانے کیلئے 2002میں حکومت پاکستان اور چینی کمپنی ایم سی سی کے درمیان دس سال کیلئے ففٹی ففٹی منافع کی بنیاد پرمعاہدہ ہوا ۔ صوبے کو اعتراض ہے کہ وفاق نے اسے کچھ نہیں دیا جبکہ مقامی آبادی کو شکوہ ہے کہ کمپنی نے جو اسکول اسپتال قائم کئے ، وہاں صرف ملازمین کا ہی حق ہے ۔ڈاکٹر فضل الرحمان کے مطابق جب تک منظم اور مربوط پالیسی اختیارکر کے معاملات کو بہتر نہیں بنایا جائے گا ،مسائل کا بہتر حل نہیں سکے گا ۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق گوادر کے لوگوں کو اقتصادی راہداری سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ان کا اعتراض یہ ہے کہ باہر کے لوگ آکر گوادر میں زمینیں خرید رہے ہیں جس کی وجہ سے گوادر پورٹ کے ثمرات عام بلوچوں تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ ان کے مطابق اب صورتحال بدل رہی ہےمقامی افراد کو روزگار کے بہتر مواقع ملنے چاہیں اور باہر سے آنے والوں کو ووٹ کا حق نہیں دینا چاہیے ۔ ان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں میں تجربہ کار اور ماہر افرادی قوت کی بہر حال ضروت پڑتی ہے اور دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ آپ افرادی قوت کے آنے پر پابندی عائد کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہیں جہاں کئی ممالک میں مقامی آبادی بیس فیصد کے قریب ہیں لیکن 80 فیصد افراد باہر سےآکر کام کر رہے ہیں ۔زاہد حسین کے مطابق حکومت کو یہ سوچنا ہو گا کہ اگر اقتصادی راہداری کو کامیاب بنانا ہے تو پھر بلوچوں کے تحفظات کو بھی دور کرنا ہوگا ۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...