متذبذب اور اَنا پرست سیاست دان کی کتھا

918

چوہدری نثار علی خان،اُس وقت تک وفاقی وزیرِ داخلہ رہے ,جب تک میاں نواز شریف ملک کے وزیرِ اعظم رہے ۔دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو چوہدری نثار علی خان ،وزارتِ داخلہ کے منصب پرفائز ہوئے۔مئی دوہزارتیرہ سے جولائی دوہزار سترہ تک وزیرِ داخلہ رہنے والے چوہدری نثار علی خان کا کردار اُلجھے ہوئے ، متذبذب اور اَناپرست سیاسی حکمران کا رہا۔ چوہدری نثار علی خان کابطور وزیرِ داخلہ اور سیاسی رہنما کے نمایاں طورپر تین طرح کا انداز اس عرصہ میں سامنے آیا۔اولاًملک میں ہونے والی دہشت گردی کے تناظر میں ،دوسراپاکستان پیپلز پارٹی کے حکمرانوں سے ہونے والی ذاتی نوعیت کی لڑائیوں سے متعلق اور تیسرااپنی پارٹی قیادت پر بداعتمادی کا انداز۔

چوہدری نثار علی خان تحریکِ طالبان  پاکستان سے مذاکرات کے حامی تھے۔کراچی ایئرپورٹ کا واقعہ آٹھ جون دوہزار چودہ کو رُونما ہوا،اُس وقت تک دہشت گردوں سے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا،لیکن اس دوران دہشت گردی کے واقعات بھی ہوتے رہے۔کراچی ایئرپورٹ کے واقعہ کے فوری بعد عسکری قیادت نے بھرپور آپریشن کا فیصلہ کیا۔چودہ جون کو ضربِ عضب شروع ہوا۔یہاں تک ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں چوہدری نثار علی خان غائب پائے جاتے رہے۔کراچی ایئرپورٹ حملہ کے وقت بھی موصوف نے وہاں کا دورہ نہیں کیا تھا۔آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے کے بعد بھی چوہدری نثار علی خان کے بیانات کے جائزہ میں ،ایک تذبذب کی کیفیت نمایاں ملتی ہے۔دہشت گردی کے واقعہ کے بعد ،جب اُن پر میڈیا اورسیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے تنقید کی جاتی تو وہ پریس کانفرنس کرتے اور جس طرح کا ردِ عمل دیتے ،اُس سے واضح ہوتا کہ اُنہوں نے وزیرِ داخلہ بن کر ملک و قوم پر احسان کیا ہے۔آٹھ اگست دوہزار سولہ وہ دِن تھا ،جب کوئٹہ میں دہشت گردی کا ایک بڑا واقعہ ہوا،جس میں وکلاءنشانہ بنے تھے۔اتنے بڑے سانحہ میں چوہدری نثار علی خان کا وتیرہ وہی رہا۔لیکن ذرا توقف کریں،جب اُس الم ناک واقعہ کی تحقیقات پر یک رُکنی کمیشن بنا اور اُس کی رپورٹ پندرہ دسمبر کو پیش کی گئی تو فاضل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وفاقی و صوبائی حکومت کو اس کا ذمہ دار قراردیا اور اُس رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاقی وزیرِ داخلہ نے غلط بیانی سے کام لیا اور اُنہوں نے کالعدم تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔اس پرچوہدری نثار علی خان نے شدید ردِ عمل دیتے ہوئے، سترہ دسمبر کی ٹھنڈی شام ،پریس کانفرنس کے ذریعے رپورٹ کو یک طرفہ قراردیا تھا۔اُن کی پریس کانفرنسوں کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ ان کا اہتمام ذاتی نوعیت کی صفائیاں پیش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔  وزیرِ داخلہ ہمیشہ یہ بھی کہتے رہے کہ ملک میں داعش کا کوئی نام و نشان نہیں ہے ،مگرپاک فوج نے آپریشن خیبر فور کا ماہِ جولائی میں آغاز کیا ۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ میں درج یہ بات کہ وزارتِ داخلہ (وفاقی و صوبائی وزارتِ داخلہ) کو قیادت میسر ہے اور نہ ہی اُس کی سمت متعین ہے اور ہمارے سابق وفاقی وزیرِ داخلہ کا دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد کا ردِعمل ،ثابت کرتا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے منصب پر غیر موزوں شخصیت کا انتخاب کیا گیا تھا۔

جس وقت ملک اور پارٹی کو اِن کی ضرورت پڑتی،اُس وقت یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ دست وگریباں پائے جاتے نظر آتے۔چوہدری اعتزاز احسن کی دھرنے کے دِنوں میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وہ تقریر کیسے نظر انداز کی جاسکتی ہے ،جس میں اُنہوں نے چوہدری نثارعلی خان پر حدسے زیادہ تنقید کی،دونوں کے مابین ذاتی لڑائی تھی۔اُس وقت مسلم لیگ ن کو پیپلز پارٹی کی سیاسی مدد کی اشد ضرورت تھی کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک ،دھرنے کی صورت حکومت گرانے پر تلی ہوئی تھیں لیکن چوہدری نثارعلی خان ذاتی لڑائیوں میں اُلجھے ہوئے تھے۔علاوہ ازیں ،اپوزیشن لیڈر نے میاں نواز شریف کو کئی بار مخاطب ہو کر کہا کہ میاںصاحب! آپ نے آستین کے سانپ پال رکھے ہیں۔اُن کا اشار ہ واضح طور پر چوہدری نثارعلی خان کی طرف ہوتا۔

چوہدری نثارعلی خان پارٹی کے اندر بھی محاذ آرائی کی سیاست میں اُلجھے ہوئے نظر آئے۔اندرونی پارٹی کی فضا کچھ اس انداز کی رہی کہ موصوف دوسرو ں پر اور دوسرے اِن پر نالاں رہے اور بداعتماد بھی۔آج جب یہ کہا جارہا ہے کہ پارٹی کے اندرپھوٹ گہری پڑچکی ہے تو چوہدری نثارعلی خان کا کردار کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔حالیہ دِنوں میں پرویز رشید نے کھل کر باتیں کیں ،جواب میں ہمیشہ کی طرح پریس کانفرنس کی گئی اور ہمیشہ کی طرح بے تحاشہ باتیں کی گئیں ۔یہ باتیں کیا ہوتی ہیں؟ محض اپنی صفائی یا پھر تذبذب کا اظہار۔ حتیٰ کہ اگر پارٹی کا کوئی رہنما ٹی وی پر بیٹھ کر اِن کے بارے ایک آدھ جملہ کہہ دیتا تو وزارتِ داخلہ برہم ہو اُٹھتی اور ترجمان کا بیان آجاتا۔

ہمارامجموعی تاثر یہ ہے کہ چوہدری نثارعلی خان کے اندازِ سیاست اور حکمرانی سے یہ واضح ہوا کہ  وہ وزارت کے اُمور نمٹانے ،پارٹی کی اندرونی سیاست اور دیگر سیاسی رہنماﺅں کے ساتھ تعلقات میں وہ متذبذب اور اَنا پرست رہے ہیں۔صاف ظاہر ہے، جیساکہ اُوپر بیان ہو چکا ،نقصان ملک اورسیاسی کلچر کو پہنچا او ر خود اُن کی اپنی ذات بھی متنازع ٹھہری۔چوہدری نثارعلی خان نے جیسا انداز اپنایا،اُس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔آج پارٹی اور ملکی سیاست میں اُن کا مقام کیا ہے؟یہاں بتانے کی ضرورت نہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...