بدلتے پاکستان کی مزاحمت

1,028

28جولائی2017ءکو عدالت عظمیٰ نے بیرون ملک آف شور کمپنیوں میں بے نامی شراکت داری،حصہ داری یا سرمایہ کاری کے نام پر شروع ہونے والے پانامہ پیپرز سکینڈل پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو دبئی میں قائم ان کے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے نیز وصول نہ کی گئی تنخواہ کو چھپانے کے جرم میں آئین کی دفعہ 62 ایف کہ وہ  صادق اور امین نہیں رہے لہٰذا عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت کا اہل نہیں سمجھا جاسکتا۔میاں نواز شریف اس عدالتی حکم کے باعث قومی اسمبلی کی رکنیت اور وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوگئے اور ساتھ غیر معینہ مدت کےلئے عوامی نمائندگی حاصل کرنے سے محروم ہوگئے ہیں۔مخالفین کا استدلال ہے کہ غیر معینہ مدت کا مطلب تاحیات ہے جبکہ آئینی و قانونی ماہرین اس کے برعکس خیال ظاہر کررہے ہیں تاہم ایک قانونی نقطہ واضح اور متفقہ ہے کہ آرٹیکل62 کی ذیلی شق کےلئے نااہلیت کی مدت متعین نہیں اور کسی جرم کےلئے اگر وہ سرزد ہو بھی تو غیر معینہ مدت تک سزا بنیادی طور پر عدل و انصاف کے اصولوں کے برعکس ہے ۔چنانچہ مجھے یہ کہنا ہے کہ دفعہ62 مبہم ہے اس پر مزید قانون سازی پارلیمان کا استحقاق ہے اور اراکین پارلیمان کا فرض ہے کہ وہ اب اس دفعہ میں پنہاں سقم دور کریں۔

“ریاست کی تشکیل نو کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کے فکری مغالطوں اور غیر حقیقی معروضوں سے نجات پا کر معروضی حقائق اور عالمی مسلمات کے مطابق پرامن بقائے باہمی کے ذریعے ریاستی دفاع و استحکام اور تعاون و ترقی کا لائحہ عمل اپنایا جائے”

بنیادی نقطہ ملک کے قیام کے بعد اقتدار پر تسلط یا اس کی نظری قانونی و سیاسی توضیح میں مضمر ہے۔ اول اول اقتدار جن سیاسی اکابرین کو ملا ان کی اکثریت اشرافیہ سے تعلق رکھتی تھی جبکہ قائدین حلقہ ہائے نیابت سے محروم تھے۔ چنانچہ انہیں جلد ہی عوامی بالادستی کے خوف نیز ووٹروں کی محرومی کے بحران نے آن لیا تو سول بیوروکریسی نے سیاسی خلا میں اپنی بالادستی کےلئے گنجائش کو پُر کرنا شروع کیا جسے ملٹری حلقے نے زیادہ منظم اور طاقت ور ہونے کے ناطے اپنا زیادہ استحقاق جانا اور پھر انہوں  نے براہ راست اقتدار کا توازن،قانون ساز ادارے(عوامی حاکمیت) سے چھین کر قانون کے مطابق کام کرنے والے ریاستی اداروں  کے حوالے کردیے اور یہ سلسلہ مشرف عہد تک لمحہ بہ لمحہ مضبوط ہوتا رہا۔بنیادی کشمکش کے تاریخی مرحلے میں ایک جانب ریاست کی تشکیل نو کا تقاضہ اور دوسری جانب سٹیٹس کو پہلے سے موجود توازن کا استقرار اور تسلسل ہے۔ تشکیل نو کے معنی ہوں گے کہ ماضی کے فکری مغالطوں اور غیر حقیقی معروضوں سے نجات پا کر معروضی حقائق اور عالمی مسلمات کے مطابق پرامن بقائے باہمی کے ذریعے ریاستی دفاع و استحکام اور تعاون و ترقی کا لائحہ عمل اپنایا جائے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی تشکیل نو کے عملی یا متوقع تقاضوں کی تکمیل کےلئے گنجائش مہیا ہو ۔بنیادی تبدیلی کا یہ مرحلہ پارلیمان کو طاقتور بنائے بغیرممکن نہیں۔آئین کی بالادستی کے نتیجے میں نئی عوامی حاکمیت اور قانون کی بالادستی یا ریاست کی رٹ قائم ہوسکتی ہے۔نواز شریف نے2013ءکے بعد اقتدار کے ابتدائی ایام میں بنیادی پالیسی میں تبدیلی کی کوشش کی تو دھرنوں نے اس عمل کو معطل کرانے کا فریضہ ادا کیا۔میں نے دھرنا شروع ہونے سے قبل اس کے متذکرہ مقصد کی تکمیل کا اشارہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دھرنا اپنے اعلانیہ مقاصد میں ناکام ہوگیا ہے کیونکہ قومی سلامتی دفاع کی پالیسی نواز شریف نے بحالت عبوری راولپنڈی کو واپس لوٹا دی تھی۔لمحہ موجود کا بحران کچھ خدشات اور ان کے امکانات کے ادراک سے جنم لیتا ہے۔مثلاً یہ امکان کہ نواز شریف نے2013ءکے بعد اقتدار پر اکتفا کرلیا تھا مگر2018 کے اوائل میں جب سینیٹ کے52 ارکان کا انتخاب ہوگا تو نواز شریف و اتحادی ایوان بالا میں اکثریت حاصل کرلیں گے۔ نیز یہ بھی کہ2018ءکے عام انتخابات میں کسی ماوراتی قوت کی عدم مداخلت کی بنیاد پر وہ قومی اسمبلی اور پنجاب  وبلوچستان میں حکومت سازی کےلئے درکار عددی قوت حاصل کرلیں گے۔اس سے یہ خدشہ کہ کیا مئی2018ءکے بعد نواز شریف اقتدار پر اکتفا کرلیں گے یا وہ اختیارات کے مالک بھی بننا چاہیں گے؟ شاید یہ سوچا گیا ہو کہ اب کی بار اقتدار بمع اختیار منتقل کرنا پڑ سکتا ہے۔  اس پس منظر میں پانامہ پیپرز کیس اور اس کے فیصلے کے بعد سے میرا نقطہ نظر یہی  ہے کہ یہ مالی بدعنوانی و کرپشن کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی تشکیل نو کے امکانات سے ابھرتے خدشات کے تدار ک کی کوشش ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...