یوم ِ آزادی اور ہمارے رویے

530

ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ قائداعظم قومی پرچم کے سامنے نہایت مغموم بیٹھے ہیں،ان کی آنکھوں میں گہری اداسی کے سائے ہیں۔اس شخص نے  قائد سےپوچھاکہ آپ اتنے اداس کیوں ہیں؟ہم نے تو پڑھا اور سنا ہے کہ آپ بڑے  بلند حوصلہ انسان تھے۔ قائداعظم نے ایک گہری سانس لی اور قومی پرچم پہ نظریں جما کر بولے۔یہ قومی پرچم دیکھ رہے ہو،اس میں سبز رنگ کا بڑا ٹکڑا ہے اور سفید رنگ کا چھوٹا،میں چاہتا ہوں ان رنگوں کی جگہ تبدیل کی جائےیعنی سفید رنگ کو بڑا اور سبز رنگ کو چھوٹا کر دیا جائے۔اس شخص نے حیرت سے پوچھا۔جناب !اس وطنِ عزیز میں پچانوے فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں اور سبز رنگ ان کی نشاندہی کرتا ہے۔اسے کیسے بدل دیں؟ آپ نے گہرے دکھ سے فرمایا۔”میں جانتا ہوں سبز رنگ مسلمانوں کی اکثریت کو ظاہر کرتا ہےمگر یہ اس پاکستان میں تھا جسے میں نے بنایا تھا۔آج کے پاکستان میں تو ہر فرقہ دوسرے کو باطل سمجھتا ہےاوراسے کچھ ڈھیل مل جائے تو کافر بھی کہے دیتا ہے۔اس میں مسلمان کدھر ہیں؟

“پاکستان کی آزادی کے پیچھے سرسید احمد خان کی علمی،سیاسی اور سماجی کوششوں سے لے کر قائد اعظم کی انقلاب پرور قیادت تک ،کئی دہائیوں کا ایک مسلسل او ر پُر عزم سفر تھا”

زمین پر اقتدار مل جانے کا نام آزدی نہیں ہے بلکہ اصل آزادی سوچ اور عمل کی ہے۔یعنی بدلتے حالات میں آگے بڑھنے والی قوموں کی طرح اپنے رویوں اور سوچ کے زاویوں کو بدلنا اصل میں آزادی کا فلسفہ ہے۔پاکستان کی آزادی کے پیچھے سرسید احمد خان کی علمی،سیاسی اور سماجی کوششوں سے لے کر قائد اعظم کی انقلاب پرور قیادت تک ،کئی دہائیوں کا ایک مسلسل او ر پُر عزم سفر تھا ۔ 70 سال پہلے کی دنیا کچھ اور تھی اور اب دنیا کا رنگ ڈھنگ کچھ اور ہے،سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایسا انقلاب بپا کر دیا ہے کہ ہر چیز وقت سے پہلے ہڑ بڑا کر جوان ہوئی ہے۔ دنیا سمٹ کر ایک تھالی  بن گئی ہے،سائنس اور ٹیکنالوجی  کی دنیا نے جغرافیائی و نظریاتی دیواریں گرا کر انسان کو انسان کے قریب کر دیا ہے،سوچوں میں وسعت آگئی ہے،سماجی ترقی اور تہذیبی شعور میں مسلسل اضافہ ہورہاہے جو قوموں کے لیے ترقی اور خوش حالی کا ضامن بنتاجارہا ہے۔ کسی بھی قوم کو سنبھلنے کے لیے70 سال ایک طویل مدت ہوتی ہے۔صرف ایک ملک کی مثال اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہے۔

اگست 1945ءمیں  امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرادیا ۔جس  سے ایک لاکھ چالیس  ہزار لوگ جل کر راکھ ہوگئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ۔تین دن بعد ہی ایک اور بم ناگاساکی پر قیامت بن کر گرا ۔جس سے 47 ہزا ر جاپانیوں کی موت واقع ہوئی اور ان سے زیادہ زخمی ہوئے ۔ ان شہروں کی تباہی سے جاپانیوں کی کمر ٹوٹ گئی ۔بظاہر جاپان تباہ ہوگیا تھا مگر اس شکست خوردہ قوم نے خود کو سنبھال لیا  اورجلد ہی اپنے پیروں پر پھر کھڑی ہوگئی۔جاپان نے حالات اور مستقبل کے امکانات کو سمجھ کر علم و ہنر ،سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ایک شعوری جذبے کے ساتھ ایسے اترے  کہ آج جاپان کی معیشت ،اس کی سائنس و ٹیکنالوجی میں طاقت کی بہ دولت  اتنی بلند سطح پر موجود ہے کہ انہیں شکست وریخت سے دوچار کرنے والا امریکہ بہادر ان سے  نہ صرف خائف ہے  بلکہ وہ جاپان سے بہترتعلقات کو اپنی پالیسیوں میں اولیت دیتا ہے۔

“سر اٹھا کے وقار کے ساتھ جینا ہے تو علم کو،برداشت کو ،محنت کو ،مثبت رویوں کو اور رواداری کو لازمی طور پر اپنی ترجیحات میں شامل کرناہوگا کیونکہ یہی قائداعظم کی روح کا ہم سے تقاضا ہے”

1947کے بعد ہماری حالت اتنی خراب نہیں تھی جتنی جاپان کی جوہری تباہ کاریوں کے باعث ہوئی تھی۔وہ قوم ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی تھی اور ہم تقسیم کے دوران ٹوٹ پھوٹ کر بھی ایک آزاد ملک کی شکل میں جُڑ گئے تھےمگر جاپانیوں نے اپنے زخم زخم وجود کو سنبھال کے پھر سے باوقار طریقے سے زندگی گزارنے کا راستہ اختیار کر لیا جبکہ ہم نے اپنے زخمی وجود کو پھر سے کاٹنا شروع کردیا۔ ہمارے نصیب میں صبحِ آزادی تو لکھی گئی تھی  لیکن ہمارے نصیب کے اندھیرے اسی طرح باقی رہے ۔

آج کا زمانہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے،نئی سوچ ،نئے وژن اور ایک نئے طرزِ احساس کاہے،خاک بازی کا نہیں ،تسخیرِ کائنات کا ہے،ٹکڑوں میں بٹنے کا نہیں،ٹکڑے ٹکڑے سمیٹ کر زمانے کو للکارنے کا ہے،ترقی یافتہ اور زمانے میں انقلاب بپا کرتی قوموں کی شان اور انقلابی روش اختیار کرنے کا دور ہے کیونکہ یہی یوم ِ آزادی کا فلسفہ ہےاور  آگے بڑھنے کا اصل راستہ بھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...