شیر اور خرگوش کی کہانی

284

جب کوئی بات کہنے کے لئے زبان ساتھ نہ دے تو عام طور پر کہانی جانوروں کی زبانی کہی جاتی ہے۔ یہ روایت ملوکیت کے عہد میں عربی ادب سے شروع ہوئی جب کلیلہ و دمنہ جیسی کہانیاں فارسی اور ہندی سے عربی میں سنائی گئیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہی تھی کہ عرب اپنے سوا سب کو عجم یعنی گونگا سمجھتے تھے کیونکہ ان کو لگتا تھا باقی سب  غوں غاں سے کام لے رہے ہیں اور بے زبان کی غوں غاں کا برا نہیں منایا جاتا۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ جانوروں کی کہانیاں کسی بھی زبان میں کہی جائیں دلچسپی سے سنی جاتی ہیں کیونکہ وہ حقیقت میں انسان کی کہانیاں ہی ہوتی ہیں۔ شیر اور خرگوش کی کہانی بھی ایسی ہی کہانی ہے۔

مولانا جلال الدین رومی نے یہ کہانی اپنی مقبول عام مثنوی کے دفتر اول میں بیان کی ہے۔ اس کہانی میں مولانا ان توکل پسند صوفیا کو جو وظیفوں کو فتوحات سمجھتے ہیں زندگی میں جدو جہد اور کام کر کے کھانے کی نصیحت کرتے ہیں۔ آپ کہانی پر غور کریں تو کہاںی کچھ اور لگتی ہے۔ مولانا کہانی کے اندر کئی اور کہانیاں بھی سناتے جاتے ہیں ساتھ  ساتھ زندگی کے اور رازوں سے بھی پردہ اٹھاتے ہیں۔  اس طرح کہانی سننے والے کو اس میں  کئی ان کہیاں بھی  سننے کو ملتی ہیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب تاتاری بلائے بے درماں کی طرح مسلماںوں پر ٹوٹ پڑے تھے۔ خوارزم، بخارا اور سمر قند ان کی زد پر تھے اور مسلم قیادت گول چہروں اور نیم باز آنکھوں والی حسیناوں کے گالوں کے سیاہ رنگ تلوں پر سمر قند و بخارا نچھاور کرنے کے لئے بے قرار تھی۔ اگر حافظ کا یہ شعر حکایت بزبان دیگراں تھا تو مثنوی کی یہ کہانی بھی شیر اور خرگوش کی زبانی کسی اور کی کہانی ہے۔

ہم نے کہانی تو وہی سنائی ہے جو مولانا نے لکھی اور آپ نے بھی پہلے سنی ہوگی۔ ہم نے اس میں سے مولانا کی رننگ کمنٹری بھی حذف کردی ہے تاکہ آپ کے لئے  اس کہانی کا رشتہ آج کے حالات سے جوڑ نا مشکل نہ ہو۔ البتہ ہم نے اس کہانی کی علامتی حیثیت کو اجاگر کرنے کے  لئے کہانی کو گذشتہ سے پیوستہ کردیا ہے۔ آگے ہمارے بھاگ۔

مولانا روم کہتے ہیں کہ یہ قصہ ایک خوبصورت اور س سبز وادی کا ہے۔ جہاں دنیا کی ہر نعمت موجود تھی۔  پرندوں کے لئےمیوہ دار درخت، چرندوں کے لئےمزیدار گھاس اور درندوں کے لئے جانوروں کی فراوانی۔ نہ لڑائی جھگڑا، نہ جنگ و جدل۔ امن اس لئے کہ جانور دو قسموں میں تقسیم تھے ایک درندے جو خود کو نخچیر کہتے تھے اور دوسرے باقی جانور جو خود کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ نخچیر ان باقی جانوروں کے شکار پرگذر بسر  کرتے تھے۔ اور جانور اسے قدرت کا قانون سمجھ کر ہنسی خوشی رہتے تھے۔ نہ کسی کو شکایت تھی نہ گلہ۔

پھر ایک دن سب کچھ بدل گیا۔

وادی میں ایک شیر آ گیا۔ وہ جانوروں کی گھات میں بیٹھا رہتا اور ہر روز کسی نہ کسی کو شکار کرکے پیٹ بھر لیتا۔ سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا۔ نخچیر بہت پریشان ہو گئے۔ ان کو پریشان دیکھ کر دوسرے جانور بھی شیر کو برا بھلا کہنے لگے۔ ایک دن سب مل بیٹھے اور غور کیا کہ امن چین کیسے واپس آئے۔ نخچیروں نے جانوروں کو یقین دلایا کہ بہت جلد ہم اس کا حل نکال لیں گے۔ نخچیروں کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ شیر سے بات کی جائے کہ وہ یہاں سے چلا جا ئے۔ شیر سے بات ہوئی تو اس نے صاف انکار کر دیا۔ نخچیروں نے پھر سر جوڑے اور ایک تجویز پر متفق ہوگئے۔ اس مرتبہ وہ دوسرے جانوروں کے نمائندے کے طور پر لومڑی، ہرن اور خرگوش کو ساتھ لے گئے۔ سب نے مل کر شیر سے درخواست کی کہ جناب گھات لگا کر شکار نہ کیا کریں۔ ہم ذمہ داری لیتے ہیں کہ آپ کی خوراک کے لئے ایک جانور روزانہ ہم مہیا کریں گے۔ شیر نے کہا مجھے منظور ہے لیکن میرا اصول وفاداری اور وعدے کی پاسداری ہے۔ مکر مجھے نا پسند ہے۔ میں سانپوں اور بچھووں کے مکر کا ڈسا ہوں۔ ان سب کو چھوڑ کر اس وادی میں آیا ہوں۔ مکر بالکل برداشت نہیں۔

  نخچیروں نے سمجھایا کہ احتیاط کو چھوڑیں، تقدیر پر بھروسہ کریں۔ توکل سب سے بہتر راستہ ہے۔ خدا کے فیصلے سے جنگ نہ کریں۔ اللہ کے عذاب سے بچے رہنے کا یہی طریقہ ہے۔ شیر نے کہا توکل تو ٹھیک ہے لیکن سعی کے بغیر کچھ نہیں ملتا۔ توکل سست بنا دیتا ہے۔ توکل کے ساتھ جد وجہد نہ ہو تو زندگی بے کار لگتی ہے۔ نخچیروں  نے عرض کیا کہ  عالی جاہ کوشش اور جد و جہد کمزوروں کا کام  ہے۔ کوشش توکل سے بہتر نہیں ہو سکتی۔ بچہ بڑوں پر توکل  کرتاہے عافیت میں رہتا ہے۔ بڑا ہو کر ہاتھ پاوں مارنے لگتا ہے تو مشکل میں پڑ جاتا ہے ۔  شیر نے کہا توکل مجبوربناتا ہے۔  نخچیروں نے عرض کیا توکل میوہ دار درخت کے نیچے سونا ہے ۔ میوہ خود بخود نیچے گرتا ہے۔ دنیا میں قسمت سے زیادہ نہیں ملتا  اس لئے جد وجہد بے کار ہے۔ جناب نے صحیح فرمایا مکر بھی جد و جہد کا دوسرا نام ہے۔ مکر سے  بھی کچھ نہیں ملتا۔ کوشش صرف وہم ہے۔

شیر بحث کا عادی نہیں تھا۔ بات لمبی ہوئی تو دھاڑا۔ نہیں، سب کو کوشش سے ہی ملتا ہے۔ قسمت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کا نام نہیں۔ کوشش تقدیر سے جنگ نہیں کوشش بھی تقدیر الہی ہے۔ تدبیر اور مکر بری بات نہیں۔ دنیا قید خانہ ہے، مکر اس میں سرنگ لگا کرآزاد ہونے کا نام ہے

درندے لاجواب ہو گئے۔ لومڑی، خرگوش، ہرن اور گیدڑ کو نخچیروں سے ہمدردی ہونے لگی۔ لومڑی نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ جناب والا اس فلسفیانہ بحث سے کیا فائدہ۔ حضور اس بات پر غور کریں آپ کا کس میں فائدہ ہے۔ آپ کو گھر بیٹھے آپ کا حصہ ملنے میں یا روزانہ بھاگ دوڑ اور شکار میں۔ شیر کو یہ دلیل پسند آئی۔ نخچیروں نے کہا ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جناب جو مقرر کریں ہم آپ کا  وہ حصہ روزانہ آپ کو پہنچایا  کریں گے۔ ہم آپ کے بہی خواہ ہیں ۔ شیر نے خوش ہوکر سر ہلا دیا۔

واپس آ کر درندوں نے جانوروں کو جمع کرکے بہت برا بھلا کہا۔ تم نے شیر کے فا ئدے کا سوچا لیکن یہ نہ سوچا کہ اس عہد کو ہم کیسے پورا کریں گے۔ حصہ کون طے کرے گا، کون پہنچائے گا۔ تند و تیز بحث کو ہرن نے ختم کیا کہ ہر روز قرعہ ڈال کر جانور کا نام طے کریں اور وہ جانور خود چل کر  دوپہر کو شیر کے پاس پہنچ جائے۔ اس وادی کے امن کے لئے پہلی قربانی میری۔ سب جانور خوشی خوشی گھروں کو چل دئے۔

سلسلہ چلتا رہا۔ جانور شیر کی خدمت میں جاتے اور شیر اس کا شکار کرکے مزے کی نیند سو جاتا۔  آخرخرگوش کی باری آئی تو اس نے شور مچا دیا۔ یہ ظلم ہے۔ سب نے کہا یہ ظلم نہیں وعدے کی پاسداری ہے۔ خرگوش نے کہا مجھے مہلت دو کہ میں کوئی ترکیب سوچتا ہوں۔  یقین کرو میں جنگل کے بھلے کی سوچوں گا۔ نخچیر ہنسے۔ تو نام سے آدھا  خر یعنی گدھا ہے تو کیا سوچے گا۔ تیرا آدھا نام  گوش یعنی کان ہے تو صرف سننے کے لئے پیدا ہوا ہے۔ سوچنے کی تکلیف نہ اٹھا۔ اپنی اوقات میں رہ تدبیریں سوچنے کی بجائے عہد سے وفا کر اور سب کو مصیبت میں نہ ڈال۔ خرگوش نے کہا کسی کو کمتر نہ سمجھو خدا شہد کی مکھی کو بھی الہام کرتا ہے۔

مولانا روم کہتے ہیں کہ خرگوش کے قصے کو دھیان سے سنو۔ گدھے کے کان نہیں خرگوش کے کان لگا کر۔

نخچیروں نے کہا بتاو تم نے کیا تدبیر سوچی ہے۔ بتا و تو ہم بھی مشورہ دیں۔ خرگوش نے کہا۔ ہر راز بتایا نہیں جاتا۔ مسافر کو سفر میں تین باتیں  رسم ہیں جوچھپانی لازم ہیں۔  ر سے راستہ جو حافظے میں محفوظ رہے، س سے سونا جو جیب میں سیا ہو اور م سے منزل جو آنکھ کے سامنے رہے۔ ڈاکو ان تینوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔

قصہ مختصر، خرگوش نے اپنا منصوبہ نہ بتایا۔ اس نے شیر کے پاس جاتے ہوئے جان بوجھ کر دیر کردی۔

شیر انتظار میں زمین کھودتا اورغراتا رہا۔ بھوک نے شیر کو چوہا بنا دیا تھا۔ غصے میں اول فول بک رہا تھا۔ کمینوں سے عہد کبھی نہ کرو۔ بادشاہ وعدہ کر کے کمزور ہو جاتا ہے۔ ُسستی بیماری ہے جو موت تک پیچھا کرتی ہے اورقبر میں پہنچا کر دم لیتی ہے۔ شکست کی تاویلیں کمزوری کی نشانی ہیں۔ شہد کی مکھی بغیر پیے اپنے تکبر میں مست ہو جاتی ہے، ذرہ آفتاب نظر آتا ہے۔ شیر ان جانوروں  اور نخچیروں کو کوس رہا تھا جنہوں نے اس کے ساتھ مکر کیا تھا۔

خرگوش دیر کرتا رہا۔ آخر  ہانپتا دوڑتا  پہنچا تو شیر آگ بگولا تھا ۔ خرگوش کی دیدہ دلیری پرغصے میں بے قابو۔ ایک تو گائے اور ہرن کی بجائے ایک چھوٹا سا خرگوش اس کی بھوک کیا  مٹائے گا۔  اوپر سے تاخیر۔

خرگوش آتے ہی رونے لگا۔  شیر دھاڑا۔ رونا بند کرو۔ ایک پنجے کی مار ہو۔ بتاو دیر کیوں کی۔ خرگوش نے دیر کی معافی مانگی اور عرض کیا  جناب  بادشاہ، میں غلام۔ میری جرات کہاں کہ اصل وجہ بتاوں۔ بس مجھے معاف کر دیں حساب کتاب نہ مانگیں۔  شیر نے کہا تو اور تیرا عذر۔ تیری اوقات کیا ہے کہ تو عذر پیش کرے۔ میں بے وقوف نہیں تو جو تیرے عذر کا انتظار کروں۔ خرگوش نے کہا۔ میں جانتا ہوں کہ ایک خرگوش سے بادشاہ کی بھوک نہیں مٹ سکتی ۔ میں اپنے ساتھ ایک اور خرگوش بھی لا رہا تھا ۔ ہم بھاگے آرہے تھے کہ راستے میں ایک شیر نے روک لیا،ہم نے بہت کہا  کہ ہم اس جنگل کے بادشاہ کی مقرر خوراک ہیں اوراسی کی طرف جا رہے ہیں لیکن اس نے ایک نہ سنی۔ اس نے کہا جنگل کا بادشاہ کون ہوتا ہے میں اسے بھی  چیر پھاڑ ڈالوں گا۔ میں نے اس کی منت کی کہ تم میرے ساتھی کو گروی رکھ لو۔ میں بادشاہ کے پاس پہنچ جاوں ورنہ وہ سارا جنگل  کھا جائے گا۔ میں سچ کہ رہا ہوں۔ اس شیر نے سارے راستے روک دئے ہیں میں بڑی مشکل سے تم تک پہنچا ہوں۔ اب کوئی اور جانور یہاں نہیں پہنچے گا۔ میں نے وعدہ پورا کردیا لیکن باقی جانوراب وہ شیر کھائے گا۔

شیر نے دھاڑتے ہوے کہا مجھے دکھاو  کس میں اتنی جرات ہوئی کہ مجھ سے دشمنی مول لے۔ تم آگے چلو میں تمہارے پیچھے ہوں اگر مکر کیا تو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ چل سو چل۔ خرگوش ایک  کنویں تک لے گیا۔ جسے وہ پہلے دیکھ گیا تھا کہ کنواں بہت گہرا ہے اور اس میں آئینے کی طرح شفاف پانی ہے۔ کنویں کے قریب پہنچے تو خرگوش ایسے چلنے لگا جیسے اس کی جان نکل رہی ہو۔ شیر سے کہنے لگا مجھ میں  آگے جانے کی ہمت نہیں ۔میرے ہاتھ پاوں لرز رہے ہیں۔ شیر نے کہا کیوں اس نے کہا یہ کنواں  اسی شیر کا قلعہ ہے وہ اسی کے اندر رہتا ہے۔ شیر نے اسے گود میں اٹھا لیا اورکنویں میں جھانکا۔ دیکھا تو ایک شیر نظر آیا جس کی گود میں خرگوش تھا۔ خرگوش رونے لگا کہ یہ میرا ساتھی ہے جو اس کی گود میں ہے۔  یہ دیکھتے ہی شیر زور سے اچھلا  خرگوش کو ایک طرف پھینکا  اور کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ خرگوش سر پٹ بھاگا اور پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔

خرگوش کمزور ضرور تھا لیکن اس نے موسی کی طرح فرعون کو دریائے نیل تک پہنچا دیا۔ انسان طیش میں ہو تو اپنے عکس کو بھی دشمن سمجھتا ہے۔ جنگل کے جانوروں تک یہ خبر پہنچی تو سارا جنگل خوشی سے ناچنے لگا۔ شیر کو خرگوش نے شکست نہیں دی اس کی ہار کسی مکر اور تدبیر کا نتیجہ نہیں تھی۔

تعجب اس پر ہے کہ شیر کی اس شکست سے لوگ عبرت نہیں پکڑتے بلکہ سب قصہ گو  اسےخرگوش کے مکر کا قصہ کہ کر سناتے ہیں۔

شرح جدید المعروف آگے کی کہانی

پہلے زمانوں میں کہانی یہاں ختم ہو جاتی تھی کیونکہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے تھے۔ مجرم کیفر کردار کو پہنچتے تھے، بدی کو شکست ہو جاتی تھی اور کمزور جیت جاتے تھے۔ اب جھوٹ کے پاوں نکل آئے ہیں۔ سچ سر پر تو چڑھ جاتا ہے لیکن بولتا نہیں ہے۔ بولتا ہے تو سچ نہیں لگتا۔ زبان پر آتا ہے تو پلٹ جاتا ہے۔

اب کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ خرگوش کو جلسہ تشکر میں پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے اس لئے وہ یہ نہیں دیکھ سکتا کہ شیر تھوڑی دیر میں کنویں سے باہر نکل آجاتا ہے۔ خرگوش کو پتا نہیں لگتا کہ جب اس نے نخچیروں کو اپنا منصوبہ نہیں بتا یا  تو وہ شیر کے پاس گئے کہ خرگوش نے کوئی منصوبہ بنایا ہے جو اس نے انہیں نہیں بتایا۔ انہیں خرگوش پر اعتبار نہیں رہا۔ شیر نے کہا تم نے بے وقوفی کی انتہا کردی کہ خرگوش پر بھروسا کیا مجھ پر اعتماد نہیں تھا۔ تم لوگ وظیفوں پر قناعت کرتے ہو اس لئے توکل کے چکر میں پھنسے ہو۔ میں تمہیں ایسے منصوبے بتانا چاہتا تھا کہ تم  کیا تمہاری سات نسلوں کے وارے نیارے ہو جائیں۔ اب نیا معاہدہ کرو جس میں پچھلا حساب معاف اور نیا شروع ہو۔ نیا منصوبہ اس وقت بتاوں گا جب تم کوئی ایسی تد بیر کرو کہ خرگوش اسی خوش فہمی میں رہے کہ وہ کامیاب رہا۔  نخچیروں نے کہا لیکن ہمیں تو پتا نہیں کہ اس کا منصوبہ کیا ہے۔ شیر نے کہا یہ کیا بات ہوئی لومڑی اور ہرن خرگوش کے رازدار ہیں۔ میٹھی میٹھی باتیں کرو تو سب اگل دیں گے۔

باقی کہانی آپ خود سوچ سکتے ہیں۔ بس اتنا بتا دیں کہ وادی میں اب جانور کم انسان زیادہ ہیں۔ نئے معاشی بندو بست میں جانوروں کو اچانک انسانوں کا درجہ دے کر شیروں نے اس قدر مقروض کر دیا کہ وہ احسان کا بوجھ اتارنے کے لئے دوسری وادیوں میں محنت مزدوری کے لئے چلے گئے۔یوں تو نخچیر اور شیر  بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ لیکن اس لئے کہ وہ پردہ نشین ہو گئے ہیں۔ سیاہ پردوں کی گاڑیوں، ہیلی کاپٹروں اور پروٹوکول کے پردوں میں چھپے رہتے ہیں۔ ہرن اور شکار کے سارے جانور عرب امارات کے اقامے لے چکے، آج گئے کہ کل۔ درخت کٹ چکے ہیں۔ ان کی جگہ سیمنٹ اور کنکریٹ کا جنگل اگ رہا ہے۔ گھاس کی جگہ سڑکیں اگ آئی ہیں۔ چشموں کا پانی بوتلوں میں ملتا ہے۔ وہ بھی بوتل کے دعوے کی رو سے۔  پرندے سیاسی ہو گئے ہیں۔ کسی ایک جگہ نہیں رکتے۔ موسم اور دانے کا بھی انتظار نہیں اب تو  جال دیکھتے ہی اڈاری بھرنے لگے ہیں۔  البتہ خرگوش وہیں ہے، زمین کے نیچے خواب خرگوش میں۔ کسی دوسرے زمانے کا خواب دیکھتا اور دکھاتا رہتا ہے۔

کہانی بدلنے کے لئے آپ کو کہانی خود بھی سوچنا ہوگی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...