احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر ہونا چاہئے یا نہیں ؟

508

کچھ لوگوں کی یہ رائے کہ احسان اللہ احسان اس انٹرویو کے ذریعےاپنے واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں ۔اس استدلا ل پر کئی رائے دی جا سکتی ہیں تاہم اس کا فیصلہ ملکی قوانین کی روشنی میں اور متعلقہ اداروں کی صوابدید ہے ۔

کالعدم تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی اعترافی وڈیو سامنے آنے کے بعد جیو ٹی وی کے اینکر پرسن سلیم صافی نے ان کا ایک انٹرویو کیا ۔جس کے نشر ہونے سے قبل پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے اس کے  نشر ہونے پر پابندی لگا دی جس کا جواز یہ دیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے انٹرویو نشر کرنے پر پابندی عائد ہے ۔چونکہ تحریک طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس نے ہزاروں پاکستانیوں کا خون کیا ہے ا س لئے اس کا انٹرویودکھانا ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔جبکہ دوسری جانب جیو ٹی وی کا مؤقف ہے کہ پمرا نے یہ انٹرویو روک کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ اس انٹرویومیں کسی عسکری جماعت یا عسکریت پسند کو ہیرو نہیں بنایا جا رہا بلکہ ان کی جانب سے مذہب کے غلط استعمال ،سفاکانہ رویوں اور ملک دشمنی پر مبنی کارروائیوں کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے ۔

یہ درست ہے کہ عسکریت پسندوں نے اپنے نظریات کی ترویج کے لئے میڈیا کو استعمال کیا ہے اور سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں جو ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا وہ ناگزیر تھا اس کے بعد میڈیا نے بھی کافی  ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ تاہم احسان اللہ احسان کا انٹرویو اس ذمرے میں نہیں آتا  کیونکہ وہ تو اس فکر و فلسفہ کے خلاف بات کر رہے ہیں جو طالبان لے کر چل رہے ہیں اس لئے اگر پاکستانی اداروں کے پا س  ایسا  کوئی موقع ہاتھ   آیا ہے جب وہ انہی کے بندے سے ان کے خلاف بات کروا سکتے ہیں تو اس موقع پر سپریم کورٹ کا ضابطہ اخلاق آڑے نہیں آنا چاہئے ۔ ایسے لگتا ہے کہ پمرا کی جانب سے  انٹرویو روکنے کا حکمنامہ سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے ۔

کچھ لوگوں کی یہ رائے کہ احسان اللہ احسان اس انٹرویو کے ذریعےاپنے واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں ۔اس استدلا ل پر کئی رائے دی جا سکتی ہیں تاہم اس کا فیصلہ ملکی قوانین کی روشنی میں اور متعلقہ اداروں کی صوابدید ہے ۔

آپ پمر اکی جانب سے لگائی گئی اس پابندی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ کیا پمر اکافیصلہ درست ہے ؟ یا یہ انٹرویونشر ہونا چاہئے تھا ؟ اس حوالے سے آپ اپنی رائے کاا ظہار کمنٹس میں کریں :

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...