گھر میں اجنبی

کراچی میں رہنے والے بنگالیوں ، برمیوں اور ایرانیوں کے بیچ کیا قدرِ مشترک ہے ؟

1,321

گھر میں اجنبی ، مؤقر جریدے ’’ہیرالڈ ‘‘ کے گزشتہ شمارے سے لیا گیا ایک تحقیقی فیچر ہے جو پاکستان میں بسنے والے بنگالیوں ، برمیوں اور ایرانیوں کے روز مرہ مشکلات کا احاطہ کرتا ہے ۔یہ لوگ جو گزشتہ ایک دو نسلوں سے یہاں آباد ہیں انہیں پاکستان کے شہریت سے متعلقہ قوانین کے تحت شہریت نہیں مل رہی ۔حکومتیں ان لاکھوں لوگوں کے مسائل سے چشم پوشی کرتی آئی ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان لوگوں سے متعلق کوئی پالیسی بنائی جائے اور پاکستان کے موجودہ شہریت کے قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے ۔بلال کریم مغل اور سحر بلوچ کا یہ فیچر یہی تقاضا کرتا نظر آتا ہے ۔(مدیر)

بلال کریم مغل ، سحر بلوچ

اتوار کے روز بھی ابراہیم حیدری بہت مصروف ہے ۔بازار وں میں موٹر سائیکل ،کاروں اور رکشوں کی بھرمار ہے ۔تاجر اور خریدار ہر قسم کی اشیاء اور مچھلی پکڑنے کے آلات کی خرید و فروخت میں مگن ہیں ۔
ادھیڑ عمر کے کریم الدین کی مونچھیں گھنی اور بال بکھرے ہوئے ہیں ۔وہ چائے کی دوکان پر بیٹھا جنوبی کراچی میں مچھیروں کے ایک بڑے سودے کے بارے میں سوچ و بچار میں مصروف ہے ۔اس کی باتوں سے بھی لگتا ہے کہ ا س کا دماغ کہیں اور ہے ۔اس کی ایک آنکھ ان پولیس والوں پر بھی ہے جونزدیک ہی ایک وین میں گشت پر ہیں ۔پولیس والے چائے کی دوکان کے قریب آکررکتے ہیں۔وہ کریم الدین کی آواز پر کان دھرتے ہیں اور پھر لوگوں سے ا س کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ پھر وہ واپس چلے جاتے ہیں ۔پولیس اور کریم الدین دونوں ایک دوسرے کے بار ے میں ہمیشہ چوکنے رہتے ہیں ۔
چند روز پہلے وہ مقامی جیٹی سے اپنے گھر مچھلی لا رہا تھا اس کا گھر بھی ابراہیم حیدری کے گھر کے ساتھ’’ سو کوارٹرز ‘‘ میں ہے جہاں زیادہ تر بنگالی مچھیرے اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔کچھ پولیس والوں نے اسے راستے میں روکا اور کہا کہ وہ انہیں اپنا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ دکھائے۔کریم الدین کے پاس نیا کارڈ نہیں تھا ۔اس نے دعوی ٰ کیا کہ پولیس والوں نے ا س شرط پر اسے جانے کی اجازت دی کہ اگر وہ انہیں کچھ رقم دے ۔لیکن اس نے انکار کر دیا ۔
پولیس والے اسے ایک نزدیکی پولیس سٹیشن لے گئے جہاں اسے حوالات میں بند کردیا ۔لیکن اگلی صبح اسے چھوڑ دیا مگر اس کی مچھلی ضبط کر لی ۔اس کا دعوی ٰ ہے کہ اسے ایک لاکھ کا نقصان برداشت کرناپڑا جس سے وہ قرضے کے بوجھ تلے دب گیاہے ۔کریم کے پاس کار آمد شناختی کارڈ تھا مگر وہ 2013میں زائد المیعاد ہو گیا ۔جب اس نے نادرا سے نئے شناختی کارڈ کے لئے رجوع کیا تو اسے کہا گیا کہ وہ اپنے والدین کی دستاویزات اور نکاح نامہ دکھائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ بنگلہ دیش بننے سے پہلے مغربی پاکستان میں مقیم تھا ۔اس نے وہ دستاویزات دکھائیں جو ذولفقار علی بھٹو کے دور میں 1970میں جاری ہوئی تھیں ۔مگر نادرا کے حکام نے پھر بھی اس کے قومی شناختی کارڈ کی تجدید نہیں کی ۔انہوں نے اسے بتایا کہ وہ پاکستانی نہیں بلکہ بنگلہ دیشی ہے ۔
کمال الدین نے اپنی بات پر زور دے کر کہا’’میں پاکستان میں پیدا ہوا اور اپنی تمام زندگی یہاں بسر کی ہمارا بنگلہ دیش سے کوئی تعلق نہیں ‘‘ ۔
اس نے اپنی کمیونٹی کو درپیش اس قسم کے کئی مسائل بتائے اور کہا کہ نادرا صرف انہیں کارڈ جاری کرتا ہے جو اسے رشوت دیتے ہیں ۔بنگالیوں کے علاقے میں مصروف عمل سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ رشوت پانچ ہزار سے لے کر تین لاکھ تک ہو سکتی ہے ۔ایک مقامی جس کی عمر تیس سال کے لگ بھگ تھی ا ور جو کریم الدین کی باتیں سن رہا تھا اس نے کہا کہ جو رشوت نہیں دیتے انہیں واپس کر دیا جاتا ہے ۔
مچھر کالونی کراچی کی کچی آبادیوں میں سب سے بڑی اور پرانی ہے جس کے ایک جانب ریل کی پٹری دوسری جانب ماڑی پور روڈ اور جنوب میں سمند ر ہے ۔پاکستانی بنگالی ایکشن کمیٹی کے مطابق اس کی آبادی 85000کے قریب ہے ۔اس کے رہائشیوں میں 75فیصد افراد بنگالی ہیں ۔مچھر کالونی کی گلیاں گرد سے اٹی ہوئی اور ناہموار ہیں ۔ہر طرف کوڑا کرکٹ بکھرا پڑا ہے سمندر سے آنے والی نم ہواؤں ،گلی سڑی مچھلیوں ،کھلے مین ہولوں سے ا ٹھنے والے بدبو کے بھبوکوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے اٹھتے ہوئے دھوئیں نے ارد گرد کے ماحول کو بھی تعفن زدہ کر دیا ہے ۔
گزشتہ ہفتے کے آخری مہینے میں مچھر کالونی کے ایک گھر میں پندرہ خواتین اکھٹی تھیں جن کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے جن میں چار سال تک کی عمر کے بچے بھی تھے ۔ہر خاندان کے سامنے برف میں لگے ہوئے جھینگے رکھے تھے ۔وہ سب خواتین اور بچے گھاس پھوس کے بنے ہوئے ایک چھپر کے نیچے بیٹھ کر جھینگوں سے جلد اتار کر ایک ٹوکری میں ڈال رہے تھے ۔ جھینگوں کو دھونے کی وجہ سے فرش گیلا ہو چکا تھا جس کی وجہ سے کیچڑ کی سی صورتحال پیدا ہو گئی تھی ۔درمیانی عمر کی ایک بنگالی خاتون فاطمہ اسی چھپر کے سائے تلے لکڑی کے ایک تختے پر بیٹھی اپنے تین بچوں کے ساتھ مل کر جھینگوں سے چھلکے اتار رہی تھی ۔صبح سے شام تک ان سب کا یہی معمول ہے ۔اس کے سامنے ایک چھوٹا سا پوکر نما پیالہ پڑا تھا جس میں ٹوکن رکھے ہوئے تھے ۔یہ ٹوکن ایک مقامی فش کمپنی کے تھے ۔فاطمہ اور اس کے بچے مل کر جب پندرہ کلو گرام کی ایک ٹوکری صاف شدہ جھنگروں سے بھر دیتے ہیں تو انہیں ایک ٹوکن دیا جاتا ہے جس کی مالیت پچاس روپے ہے ۔شام تک وہ تمام ٹوکن اکھٹے کر کے حساب کرتی ہے اور چار سے پانچ سو روپے کما کر گھر چلی جاتی ہے ۔یہ پیسے شاید ا س کے ایک دن کی ضرورت کے لئے کافی ہوتے ہوں گے ۔برف لگے جھینگوں میں کام کرنے کی وجہ سے اس کے ہاتھوں کی جلد سوکھ کر اکڑ جاتی ہے ہر روز جب وہ شام کو گھر جاتی ہے تو اپنی انگلیاں کچھ دیر کے لئے پھٹکڑی ملے پانی میں ڈبو کر رکھتی ہے تاکہ ان میں بدبو ختم ہو سکے ۔اس کے بعد وہ انگلیوں پر ناریل کا تیل لگاتی ہے اور انہیں کئی منٹ تک گرم کرتی ہے ۔
اگر فاطمہ کا خاوند کام کرتا تو شاید اسے اتنی مشقت کی ضرورت ہر گز نہ ہوتی ۔کیونکہ جب وہ سمندر جا کر مچھلیاں پکڑتا تھا تو اپنے خاندان کی گزر بسر کے لئے پیسے کما لیتا تھا تب فاطمہ کم سے کم کام کرتی تھی اور ان کے بچے سکول بھی جاتے تھے ۔لیکن جب سے میری ٹائم ایجنسی والوں نے شناختی کارڈ چیک کرنا شروع کئے ہیں تواس کا سمندر جانا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ کہیں اسے کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم ہونے کی پادش میں گرفتار نہ کر لیا جائے ۔وہ گزشتہ چھ ماہ سے مچھلیاں پکڑنے کا کام نہیں کر سکا۔ فاطمہ کا کہنا ہے کہ مخدوش مالی حالات کی وجہ سے اس نے اپنے بچوں کو سکول سے اٹھا لیا ہے تاکہ وہ کل وقتی طور پر اس کے ساتھ کام کر سکیں۔مچھر کالونی میں رہنے والے کئی خاندانوں کی کہانیاں بھی ا س سے ملتی جلتی ہیں ۔
دراز قد 19سالہ غلام حسین بھی یہیں رہتا ہے وہ اپنی تعلیم اس لئے مکمل نہیں کر سکا کیونکہ اس کے پا س شناختی کارڈ نہیں تھا ۔گہرے بھورے رنگ کی شرٹ پہنے وہ اپنی عمر سے کہیں بڑا معلوم ہوتا تھا۔وہ اپنی گفتگو میں حالات حاضرہ پر بات کرتے ہوے انگریزی کے لفظ بھی استعمال کررہا تھا۔اس نے پرائیویٹ طور پر انٹر میڈیٹ کا امتحان دینے کا سوچا جہاں فارم ب سے بھی کام چل جاتا ہے مگر کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کے لئے شنا ختی کارڈ پیش کرنا ضروری ہے ۔
غلام حسین نے ا س سال شناختی کارڈ کے لئے درخواست دی مگر ا س سے کہا گیا کہ وہ ثابت کرے کہ اس کے والدین پاکستان کے شہری ہیں ۔اس نے اپنے والدین کا کمپیوٹر رائزڈ شناختی کارڈ ، ڈومیسائل ،اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کا خط جس میں تصدیق کی گئی تھی کہ اس کے والدین کا نام ووٹر لسٹ میں موجود ہے ،پیش کیا مگر نادرا حکام نے پھر بھی اس کی درخواست رد کر دی اور اسے کہا گیا کہ وہ بنگالی ہے ۔غلام حسین اپنے 58سالہ باپ کے ساتھ مچھر کالونی میں مٹھائیوں کی دوکان پر کام کرتا ہے لیکن وہ اپنے روز و شب سے مطمئن نہیں کیونکہ وہ دوکان پر بیٹھنے کی بجائے پڑھنا چاہتا ہے ۔
کراچی میں تقسیم کے وقت تقریباً تین لاکھ بنگالی رہائش پزیر تھے جو زیادہ تر کپڑے کے کارخانوں میں کام کرتے تھے یا باورچی تھے ۔یہ بات خواجہ سلمان کریم الدین نے بتائی جو بنگالی کمیونٹی کی ایک سیاسی جماعت پاک مسلم الائنس کے سربراہ ہیں ان کے والد خواجہ خیر الدین تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنما تھے جو 1960کی دہائی میں جب ڈھاکہ مشرقی پاکستان کا دارالحکومت تھا تو اس کے میئر بھی رہے ۔انہوں نے کہا کہ جب بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہوا تو ہزاروں بنگالی بنگلہ دیش منتقل ہو گئے مگر پھر بھی یہاں رہ جانے والوں کی تعداد جانے والوں سے زیادہ تھی ۔کئی ایسے بھی تھے جو 1971کے بعد کراچی آئے کیونکہ تب بنگلہ دیش کی معاشی حالت پاکستان کے مقابلے پر اچھی نہیں تھی ۔ان مہاجرین کی تعداد اس وقت دو لاکھ کے قریب تھی ۔ا ن کی جماعت کی جانب سے جو سروے کیا گیا ہے اس کے مطابق اس وقت کراچی میں رہائش پزیر بنگالی کمیونٹی کی تعداد 20لاکھ کے قریب ہے ۔جو شہر بھر کے تقریباً 105محلوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔جن میں اورنگی ٹاؤن (ضلع غربی)،ابراہیم حیدری اور بلال کالونی (ضلع ملیر )،ضیاء الحق کالونی اور موسی ٰکالونی (ضلع وسطی )،مچھر کالونی اور لیاری بنگالی میرا (جنوبی ضلع )شامل ہیں ۔یہ آبادیاں یا تو سمندر کے ساتھ ہیں یا صنعتی علاقوں کے قریب ،کیونکہ ان کے زیادہ تر لوگ یا تو مچھلی کے کاروبار سے یا پھر فیکٹریوں میں مزدوری سے وابستہ ہیں۔
کراچی میں رہنے والے ہر بنگالی کا مطالبہ ہے کہ اسے پاکستانی تسلیم کیا جائے جس کے لئے انہوں نے اجتماعی طور پر اس مردم شماری میں ایک حکمت عملی اختیار کی ہے ۔جب مردم شماری کا عملہ ان تک پہنچا تو انہوں نے فارم پر درج 9زبانوں میں سے کسی پر بھی نشان نہیں لگایا بلکہ اپنی مادری زبان کو دیگر کے درجے میں رکھا کیونکہ وہاں بنگالی کا آپشن نہیں ہے لیکن یہ بات زیادہ اہم ہے کہ انہوں نے اپنی قومیت پاکستانی لکھی ۔خواجہ سلمان کے بقول مردم شماری کے عملے نے ان کا یہ دعوی ٰ تسلیم نہیں کیا انہوں نے صرف ان کو پاکستانی شہری تسلیم کیا جن کے پاس قومی شناختی کارڈ ، نکاح نامے یا پھر شہریت کے دیگر ثبوت موجود تھے ۔
پاکستانی بنگالی ایکشن کمیٹی کے صدر شیخ محمد سراج نے کہا کہ ان کو اگر مردم شماری میں پاکستانی تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی یہ ان کی شہریت کی ضمانت نہیں ہو سکتی ۔پچھلی مردم شماری 1998میں بھی ان کے ساتھ یہی ہوا تھا ۔شہریت کے حوالے سے ان کی پریشانیاں جاری ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہیں ۔جس کا ایک حل انہوں نے یہ نکالا کہ پاکستانی دستاویزات حاصل کی جائیں چاہے ا س کے لئے انہیں جو بھی طریقہ اپنانا پڑے وہ طریقہ قانونی ہو یا غیر قانونی ۔جب شناختی کارڈ دستی ہوتے تھے تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں تھا اور تقریباً سبھی کے پا س شناختی کارڈ تھے مگر 2000میں جب شناختی کارڈوں کو کمپیوٹرائزڈ کیا گیا تو یہ افراد ایک بار پھر اپنے کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
گزشتہ چند سالوں سے حکومت ایک مہم چلا رہی ہے کہ پاکستانی بنگالیوں سے بنگلہ دیش کے غیر قانونی بنگالیوں کو الگ کیا جائے ۔سراج بھی ان لوگوں میں شامل ہے جن کی جانچ پڑتال کی گئی ۔وہ پاکستان میں 1980میں آیا تھا اور کمیونٹی کے دیگر افراد کی طرح ان کے پاس بھی شناختی کارڈ موجود تھا جو 2014میں زائد المیعاد ہونے تک کار آمد تھا لیکن اس کے بعد حکومت نے ان کے کارڈ کی تجدید سے انکار کر دیا ۔
سماجی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ کئی بار حکام تسلیم شدہ پاکستانی بنگالیوں کو بھی کہتے ہیں کہ وہ خود کو غیر ملکی کے طور پر رجسٹر کروائیں ۔سراج کے بیٹے محمد حنیف نے بھی خود کو 2005میں ’’غیر ملکی ‘‘ کے طور پر رجسٹر کرایا حالانکہ وہ 1998میں پاکستان میں پیدا ہوا تھااور اس کے پاس سندھ حکومت کا جاری کردہ برتھ سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا مگر اسے جو ’’ایلین کارڈ ‘‘ جاری کیا گیا اس پر اس کی قومیت اور شہریت دونوں خانوں میں بنگلہ دیش درج ہے ۔
یہ پاکستانی شہریت کے ایکٹ 1951کی صریحاً خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہر وہ شہری جواس ایکٹ کے نفاذ کے بعد پاکستان میں پیدا ہوگا اسے پیدائشی پاکستانی شہری تصور کیا جائے گا‘‘۔اس ایکٹ کی موجودگی میں حنیف کی پاکستانی شہریت سے صرف دو صورتوں میں انکار کیا جا سکتا ہے اوّل یہ کہ وہ کسی سفارتی اہلکار کے ہاں پیدا ہوا ہواور دوم یہ کہ اس کا تعلق کسی ایسے ملک سے ہو جسے دشمن تصور کیا جاتا ہے ۔
گلشنِ اقبال کے نزدیک رحمتیہ کالونی کے رکشہ ڈرائیور محمد عالم اپنا فارغ وقت سندھ ہائی کورٹ میں گزارتے ہیں جہاں وہ بنگالیوں کو بطور ’’ایلین ‘‘رجسٹر کرواتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ہم بنگلہ دیشی نہیں ہیں تو پھر کسی بھی وقتی شناخت کے لئے ایلین رجسٹریشن کارڈ کیوں تسلیم کر رہے ہیں ‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’یہ تو خود کو غیر ملکی تسلیم کروانے کے متراف ہے ‘‘۔
بنگالیوں کے نام 1998سے ہی ووٹرلسٹوں میں درج ہیں ۔جن کے پاس 2008اور2013کے انتخابات میں ناقابلِ تنسیخ شناختی کارڈ تھے انہوں نے ووٹ بھی ڈالے ۔خواجہ سلمان کی جماعت پاک مسلم الائنس نے2008کے انتخابات میں تین امیدوار بھی کھڑے کئے ایک قومی اسمبلی اور دو سندھ اسمبلی کے لئے (مگر ان میں سے کسی کو بھی چند سو سے زائد ووٹ نہیں ملے)۔2013میں سندھ اسمبلی کے امیدواروں کی تعداد بڑھ کر چھ ہو گئی مگر یہ بھی خاطر خواہ ووٹ حاصل نہیں کر سکے ۔یہ امیدوار پاکستانی شہریت کی دستاویزات کے بغیر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے ۔
سراج کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا کیس بڑا سادہ ہے اگر ہم پاکستانی نہیں ہیں تو پھر 1998کی مردم شماری میں ہمارا شمار نہیں ہونا چاہئے تھا اگر ہمار ا شمار بطور پاکستانی کیا گیا توپھر ہمیں پاکستانی شہری کیوں تسلیم نہیں کیا جارہا ‘‘۔انہوں نے اپنی کمیونٹی کے لئے شہریت کے مزید دلائل بھی دیئے ’’اگر ہم یہاں پر رہتے ہیں اپنی روزی یہاں سے کماتے ہیں کسی دوسرے ملک پیسے بھی نہیں بھیجتے توپھر حکومت ہمیں شناختی کارڈ کیوں نہیں جاری کرتی ؟
نیشنل ایلین رجسٹریشن اتھارٹی جس کا قیام 2000میں عمل میں آیا تھا اور جسے 2015-16میں نادرا میں ضم کر دیا گیا اس کے انتہائی اعلیٰ افسر نے کہا کہ ’’حکومت نے کسی کی بھی شہریت زبان کی بنیاد پر ختم نہیں کی، ہم نے لوگوں سے کہا کہ وہ اپنی پاکستانی شہریت کے ثبوت پیش کریں پاکستانی شہریت کے ایکٹ 1951کے تحت دستاویزات لے کر پیش ہوں اگر کوئی ایسا کرنے میں ناکام رہا تو ہم کیا کر سکتے ہیں ماسوائے اس کے کہ اس کی شہریت منسوخ کردیں ‘‘۔انہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا کیونکہ نادرا میں وہ جس اعلیٰ عہدے پر تعینات ہیں اس میں انہیں صحافیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔نادرا کے حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ’’ ہو سکتا ہے کہ ان سے کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہوں اور بعض کے نام غیر ملکیوں میں غلط طور پر درج ہو گئے ہوں مگر یہ غلطیاں کراچی میں رہنے والے غیر ملکیوں کی تعداد کا صرف ایک فیصد ہوں گی ‘‘۔
2۔ارکن آباد بڑی تعداد میں برما سے آکر بسنے والوں کی آبادی ہے اس جگہ کا نام بھی انہوں نے اپنے آبائی شہر پر رکھا جہاں سے وہ ہجرت کر کے آئے تھے ۔یہ سٹونی پاتھ کے آخر میں جہاں کورنگی سے پہلے ابراہیم حیدری کا علاقہ شروع ہوتا ہے واقع ہے ۔گلیاں کچی مگر کشادہ ہیں گھر چھوٹے بڑے مگر خستہ حال ہیں ۔شائستہ جس کی عمر تیس کے لگ بھگ ہو گی وہ ارکن آباد میں دو کمروں کے ایک گھر میں لوہے کے دروازے کے پیچھے سے بولی ۔اس کے والدین گھر سے باہر ایک چھپر میں بینچ پر بیٹھے ہوئے ہیں جس کی کوئی دیوار نہیں ۔چھت پر گھاس پھوس ڈالی گئی ہے ۔اس خستہ حال کمرے میں صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کی تصاویر آویزاں ہیں اور چھپرکے ایک کونے پر صوفی لعل شہباز کا جھنڈا لہرا رہا ہے جس سے اس خاندان کی صوفیا سے رغبت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ارکن آباد کے تما م شہریوں کی طرح شائستہ بھی اس ملک کی قانونی شہری بننا چاہتی ہے تاکہ نہ صرف اس کی معاشی حالت میں بہتری آئے بلکہ صحت اور اس کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں بھی میسر آ سکیں ۔گزشتہ سال زچگی کے دوران اسے طبی امداد کی ضرورت پڑی تھی مگر جناح پوسٹ گریجویٹ سینٹر کے ڈاکٹروں نے اسے طبی امداد دینے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا اس کے تین بچوں کو بھی ا س لئے کسی سکول نے داخلہ نہیں دیا کیونکہ ان کے پا س مصدقہ برتھ سرٹیفکیٹ نہیں تھا ۔
ارکن آباد کی ایک اور رہائشی بی بی کو بھی اسی نوع کے مسائل درپیش ہیں۔وہ ابراہیم حیدری کے نزدیک ایک بنگلے میں میڈ کے طور پرکام کرتی ہے تاکہ وہ اپنے تین بچوں جن کی عمریں دس سال سے کم ہیں انہیں سکول داخل کروا سکے ۔وہ چاہتی ہے کہ ا س کے بچوں کاآنے والے کل اس سے بہتر ہو مگر یہ
اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس کا شناختی کارڈ نہیں بن جاتا ۔
کراچی میں رہائش پزیر ہزاروں برمی شہریوں کی طرح ان خواتین کے پا س بھی ایک ہی آپشن ہے کہ وہ نادرا حکام کو رشوت دے کر اپنا شناختی کارڈ بنوا لیں ۔شائستہ کی ماں کا کارڈ 2000میں زائد المیعاد ہو گیا تھا اور نادرا حکام نے اس کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ پاکستانی شہری نہیں ہے مگر اس نے ایک ایجنٹ کو 8000روپے رشوت دے کر اپنے کارڈ کی تجدید کروا لی ۔شائستہ کی ماں کا کہنا ہے کہ یہ ایجنٹ ہر وقت نادرا کے دفتر کے باہر موجود ہوتے ہیں ۔
شائستہ اور بی بی دونوں کاتعلق روہینگیا مسلمانوں سے ہے جو کراچی میں ارکن جسے سرکاری طور پر روکھین ریاست کہا جاتا ہے ،سے ہجرت کر کے کراچی آئے تھے ۔یہ علاقہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے ہی افرا تفری کا شکار ہے ۔مسلمانوں کو روکھین ریاست میں بدھ اکثریتی آبادی سے مصائب کا سامنا ہے جن کی روکھین اور برما دونوں میں اکثریت ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ روہنگیا مسلمان در حقیقت بنگالی مسلمان ہیں نہ کہ برمی ،بہت سے روہنگیا مسلمانوں نے قیام پاکستان کے وقت 1947میں مشرقی پاکستان ہجرت کی تھی جو ارکن کے ساتھ ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا رجحان کراچی کی جانب ہو گیا ۔ایوب خان کے دور میں ان کی آمد شروع ہوئی تو پاکستان میں ان کو خوش آمدید کہا گیا تاکہ وہاں انہیں جن مصائب کا سامنا تھا اس سے ان کی خلاصی ہو سکے۔وہ ضیاء الحق دور تک چھوٹے چھوٹے گروہوں میں کراچی آتے رہے ۔
خواجہ سلمان کے مطابق آج کے کراچی میں برمیوں کی تعداد دو سے تین لاکھ ہے ۔خواجہ کا کہنا ہے کہ’’ وہ یہاں دہائیوں سے رہ رہے ہیں مگر کسی بھی مصدقہ دستاویز کے بغیر ‘‘۔حکومت کو نہیں معلوم کہ اس نے ان کے ساتھ کیا کرنا ہے ۔1951کے ایکٹ کے تحت وہ کوالیفائی بھی نہیں کرتے ۔یہ ایکٹ ان تمام افراد کوشہریت دیتا ہے جو برصغیر میں پیدا ہوئے ہوں اور اس قانون کے نفاذ کے وقت پاکستان میں رہائش پزیر ہوں۔گورنمنٹ انڈیا ایکٹ 1935کے تحت برما کو الگ کیا گیا تھا اس لئے روہنگیا مسلمان اس قانون کے تحت پاکستان کے شہری بننے کے اہل نہیں ۔خواجہ سلمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود کو بنگالی کمیونٹی کے ساتھ نتھی کر لیا ہے ۔وہ اب خود کو برمی نہیں کہتے کیونکہ اس طرح ان کا پاکستانی شہری بننے کا کوئی امکان نہیں رہتا ۔اس لئے حالیہ مردم شماری میں وہ خود کو پاکستانی شہری کے طور پر رجسٹر کروا رہے ہیں ۔
یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بنگالی اور برمی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں ۔روہنگیا مسلمانوں کی شہریت کی جانب کوئی راستہ نہیں نکلا اور ہزاروں بنگالی بھی اسی تگ ودو میں ہیں۔
روہنگیا مسلمانوں کے لئے ایک راستہ یہ بچتا ہے کہ وہ ’’ریفیوجی سٹیٹس ‘‘ کے لئے اپلائی کریں اگر یہ سٹیٹس انہیں مل جائے تو بی بی اور شائستہ کو عالمی انسانی فلاحی اداروں کی جانب سے کم از کم میڈیکل کی سہولتیں تو مل سکتی ہیں اور ان کے بچے سکول بھی جا سکتے ہیں لیکن پاکستان اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے مہاجرین کا دستخط کنندہ نہیں ہے ۔اس لئے کسی بھی عالمی قانون کے تحت وہ مہاجرین کو قبول کرنے کا پابند نہیں ہے ۔اس طرح UNHCRصرف افغان شہریوں کوپاکستان میں مہاجر کا سٹیٹس دیتا ہے ۔
56سالہ مولا بخش جو کہ کورنگی کے قریب ناوا لین کا رہائشی ہے وہ صحافیوں سے بات کرنے سے خائف ہے ا س لئے ا س نے کہا کہ وہ جو معلومات دے رہا ہے اسے مخفی رکھا جائے اسے خطرہ ہے کہ اگر حکومت کو پتہ چل جائے تویہ معلومات اس کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں ۔دو اور ایرانی باشندوں نے بھی انٹرویو سے معذرت کر لی کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے سامنے آنے سے حکومت انہیں ڈی پورٹ کر دے گی یا پھر ان پر ایران کے لئے جاسوسی کا الزام بھی لگ سکتا ہے اور قانون کے تحت ان کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے ۔
ان کا یہ خوف بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ چند روز پہلے ہی لیاری گینگ کے سربراہ عزیر بلوچ کا اعترافی بیان سامنے آیا تھا جس میں اس نے عوام کے سامنے آکر یہ تسلیم کیا کہ اس کے پا س دوہری شہریت ہے اور اس کے مراسم ایرانی خفیہ اداروں سے ہیں ۔عزیر بلوچ کا یہ بیان میڈیا میں 24اپریل2017کوآیا ۔جس کے بعد اس پر فوجی عدالت میں مقدمے کاآغاز ہوا ہے اور اس پر کراچی میں حساس تنصیبات کی مخبری کا الزام ہے ۔
تقریباً 50ایرانی خاندان کراچی کے علاقوں کمہارواڑہ،چکیاواڑہ اور میرانکا میں رہائش پزیر ہیں ۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کے خاندانی اور تجارتی روابط ایران سے ہیں ۔یہ لوگ ایران اور کراچی کے درمیان متواتر سفر بھی کرتے رہتے ہیں یہ عمل پاکستان بننے سے پہلے بھی جاری تھا ۔وہ پاکستان سے پلنگ پوش ، پردے ،چاول ، دالیں اور سبزیاں بر آمد کرتے ہیں جبکہ ایران سے ڈرائی فروٹ ، مٹھائیاں ، اچار اور قالین در آمد کرتے ہیں ۔یہ تجارت قانونی راستے سے ہوتی ہے لیکن کچھ دیگر لوگ ایران سے غیر قانونی طور پر پٹرول سمگل کرتے ہیں اور پاکستان سے لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے ایران بھجواتے ہیں ۔
محمد حسین کا خاندان اپنا فارغ وقت جماعت اسلامی کے فلاحی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن کے لئے صرف کرتاہے ۔اس کے دادا کاتعلق ایران کے علاقے سرباز سے تھا 1950کی دہائی میں جب وہ ابھی بچہ تھا تب یہ پاکستان منتقل ہو گئے تھے ۔ 19سال کی عمر میں جب اس کی گریجویشن ہو گئی تو یہ ایران گیا جہاں اس کی شادی چچا زاد سے کر دی گئی اب بھی ا س کے کئی چچا زاد اور خالہ زاد ایران کے علاقے سیستان اور بلوچستان میں رہائش پزیر ہیں ۔اس کے بچوں ،بیٹے اور بیٹی کی شادی بھی ایران میں ہوئی ہے۔ یہ تینوں خاندان جن میں بخش اور حسین کے خاندان بھی شامل ہیں انہوں نے ٹیلی ویژن سکرینوں پر عزیر بلوچ کے اعترافات سنے ۔بخش کے بقول ’’یہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اسے ایک ایسے ملک کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جسے پاکستان کادوست ملک سمجھا جاتا ہے ۔اس صورتحال نے ہم سب اور پاک ایران سرحد کے دونوں جانب بسنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے ‘‘۔
بخش کے والد محمد علی ایران کے صوبے سیستان اور بلوچستان سے 1970میں آکر کراچی کے علاقے ناوا لین میں آ کر آباد ہو گئے تھے اس نے اپنے سات بچوں میں سے چار کے شناختی کارڈ بھی بنوا لئے جبکہ ا س کے باقی تین بچے 1990میں بحرین میں جاکر آباد ہوگئے تھے ۔اسے کبھی یہ گمان نہیں گزرا کہ ایک روز اس کی شہریت کے حوالے سے مسائل پیدا ہو جائیں گے ۔بخش نے کہا کہ اگر ایسا شائبہ بھی ہوتا تو وہ یہاں آتا ہی کیوں ؟ مگر اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں ۔
ایران اور پاکستان دونوں ہی اپنی سرحدوں پر کنٹرول سخت کرتے ہوئے شہریت کے قوانین پر بھی سختی کر رہے ہیں ۔بخش کو گزشتہ تین سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان سفر کرتے ہوئے مشکلات کا سامنا ہے ۔بخش کے مطابق اب ایران جانے کی ’’راہداری ‘‘ صرف پندرہ دن کے لیے ملتی ہے جبکہ ا س سے پہلے وہ دو ماہ تک قیام کر سکتے تھے ۔جو لوگ مقررہ وقت سے زائد قیام کریں ایرانی حکومت ان سے 30ہزار ایرانی تومان یا ایک ہزار پاکستانی جرمانہ وصول کرتی ہے مگر آج کل ان ایرانی خاندانوں کو بھی انٹری نہیں دی جارہی جن کے پاس مکمل سفری دستاویزات ہوتی ہیں۔
ان پابندیوں کا پس منظر یہ ہے کہ ایران کو شبہ ہے کہ تہران مخالف عسکریت پسند پاکستان کے راستے ایران میں داخل ہو رہے ہیں۔صرف اس سال 26اپریل کو پاکستان کے راستے آنے والے دہشت گردوں کی فائرنگ سے دس ایرانی گارڈز مارے گئے ۔اسی طرح کے دو واقعات 20اپریل 2015اور اکتوبر 2013 کو بھی ہو چکے ہیں جبکہ دوسری جانب جو ایرانی لیاری اور بلوچستان میں رہائش پزیر ہیں اور جن کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے انہیں حال تک کسی مسئلے کا سامنا نہیں تھا مگر یہ صورتحال 21مئی2016کو اس وقت بدل گئی جب طالبان رہنما ملا منصور اختر ایران سے پاکستان سفر کے دوران ایک ڈرون حملے کا نشانہ بن گیا ۔
ایک واقعہ اس سے قبل بھی ہوا تھا جس کی وجہ سے پاکستان میں رہنے والے ایرانیوں کے بارے میں خدشات نے جنم لیا تھا ۔یہ واقعہ 10اکتوبر2015کو رونما ہوا جب ایف آئی اے کے انسانی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے ونگ نے پنجگور سے نادرا کے ایک افسر عبد القدیر کو گرفتار کر لیا ۔اس پر الزام تھا کہ اس نے غیر ملکیوں کو پاکستانی دستاویزات فراہم کرنے میں مدد فراہم کی جن میں وہ ایرانی بھی شامل تھے جو علاج کی غرض سے پاکستان آئے تھے جنہیں دس ہزار روپے فی فرد کے حساب سے دستاویزات دی گئیں ۔ایرانی کمیونٹی کو خدشہ ہے کہ حکام اب ان کی بھی جانچ پڑتال کریں گے ۔
گزشتہ سال ایران کے راستے پاکستان میں آ کر گرفتار ہونے والے کلبھوشن یادیو اور عزیر بلوچ کے اعترافات نے اس بات کا خدشہ بڑھا دیا ہے کہ اب عام شہریوں کی جانچ پڑتال ہو گی ۔جب طالبان رہنما ملا منصور کی ہلاکت کے وقت ان کے پاس ولی محمد کے نام کا شناختی کارڈ نکلا تھا اس کے بعد حکومت نے لیاری میں مقیم کئی ایرانیوں کے شناختی کارڈ کینسل کر دئے تھے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ایرانی بلوچوں سے ہے ۔مولا بخش کا خیال ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران لیاری ، بلوچستان کے علاقوں پسنی اور پنجگور میں رہنے والے 40فیصد ایرانیوں کے شناختی کارڈ کینسل ہو چکے ہیں ۔
لیاری کے صحافی ابوبکر کہتے ہیں ’’چونکہ پاکستان کا ایران کے ساتھ دوہری شہریت کا معاہدہ نہیں ہے اس تناظر میں وہ افراد جن کے دادا یا نانا ایران میں پیدا ہوئے تھے اب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ یہاں پیدا ہوئے تھے ۔اس کے لئے نادرا کے دفتر میں لمبی لائن لگی ہوئی ہے اور بہت سے لوگ خود کو پاکستانی شہری ثابت کرنے کے لئے دستاویزات جمع کروا رہے ہیں ۔
اس سال 15اپریل کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں سب
سے اہم موضوع شہریت کا تھا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 174184افراد کے شناختی کارڈ کینسل کر دیئے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ پاکستانی نہیں ہیں۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کس ملک کے شہری ہیں لیکن یہ بتایا کہ ان میں سے 3641افراد نے رضاکارانہ طور پر پاکستانی شناختی کارڈ واپس کئے جن میں بھارتی ،بنگلہ دیشی ،افغانی اور عراقی شامل تھے ۔چوہدری نثار علی خان نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے ساڑھے تین لاکھ شناختی کارڈ بلاک کئے ان میں125000 افغانی ہیں۔ شاید ان میں سے کچھ کراچی میں رہنے والے بنگالی، برمی اور ایرانی بھی ہوں ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جو لوگ 60دن کے اندر اپنی شہریت کے ثبوت پیش نہیں کریں گے ان کے شناختی کارڈ کینسل کر دئے جائیں گے ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریت کے لئے جو دستاویزات درکار ہیں ان میں ملکیتی زمین چاہے وہ کم ہو یا زیادہ ، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ شجرہ ،تعلیمی سرٹیفیکیٹ ،پاسپورٹ ،شناختی کارڈ ،اسلحہ لائسنس ،یا پھر حکومت کی جانب سے جاری کردہ کوئی اور دستاویز جس کی تصدیق حکام نے کی ہو ۔ان دستاویزات کے لئے یہ ضروری ہو گا کہ وہ 1978سے پہلے کی ہوں ۔
کراچی میں کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر ان شہریوں کے کارڈ بھی کینسل کئے گئے جنہوں نے پاکستانی شہریت کے ثبوت پیش کئے تھے ۔سندھ ہائیکورٹ کے وکیل اور ایک غیر سرکاری تنظیم Initiator Human Development Foundation کے صدر رانا آصف کہتے ہیں کہ شناختی کارڈ بلاک کرنے سے آپ کراچی میں رہنے والے غیر ملکیوں بالخصوص بنگالیوں ،برمیوں سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اتنی بڑی تعداد میں رہائش پزیر ہیں کہ ان کو ملک بدر کرنا ممکن نہیں ۔پاکستان نے 1995-96میں ہزاروں بنگالیوں کو ملک بدر کرنے کی کوشش کی مگر بنگلہ دیش نے انہیں واپس لینے سے انکار کرد یا ۔پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے بھی اس ملک بدری کی مخالفت کی تھی ۔
وہ شہریت کے کیسوں میں اکثر سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوتے رہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ حکومت کو جلد یا بدیر ایک پالیسی بنانی پڑی گی تاکہ انہیں پاکستانی شہری تسلیم کیا جائے ۔انہوں نے کہا بحیثیت بنگلہ دیشی پاکستان میں رہنا جرم ہے مگر اس کے مقابلے پربحیثیت بنگالی پاکستانی ہونا کوئی جرم نہیں ہے ‘‘۔
(شناخت خفیہ رکھنے کے لئے کئی نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں )
(بشکریہ ہیرالڈ ، ترجمہ : سجاد اظہر )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...