مکالمہ بین المذاہب کی راہ میں چند مشکلات اور ان کا حل

1,615

ڈاکٹر رشید احمدشیخ زائد اسلامک سنٹریونیورسٹی آف پشاور میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں ۔بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی آپ کے خاص موضوعات ہیں ۔عالمی سطح پر کئی کانفر نسوں اور سیمینارز میں شرکت کر چکے ہیں۔ڈاکٹر رشید احمد نے زیر نظر مضمون میں ایک خاص نکتے پر اظہارِ خیال کیا ہے ۔اس وقت دنیا میں بین المذاہب مکالمہ کئی شکلوں میں جاری ہے ۔اس کے مؤثر ہونے میں کون سے مسائل درپیش ہیں ۔ان کا جائزہ ڈاکٹر رشید احمد نے بڑی باریک بینی سے لیا ہے ۔(مدیر)

آج کے انسان کو اگر ایک طرف زندگی گذارنے کے لئے بہت سی سہولیات حاصل ہیں تو دوسری طرف اس کوبہت سے مسائل کا سامنا بھی ہے۔ ان میں ایک بڑا مسئلہ تکثیریت پر مبنی پرامن معاشرے کا قیام ہے۔ آج کا انسان دوسروں سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ایک مسلمان کو مسلم معاشرے میں اور بعض اوقات دوسرے غیر مسلم معاشروں میں زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ وہ اگر ایک ایسے معاشرے میں رہتا ہو جہاں سب کے سب مسلمان ہوں تو شائد اس کوپوری زندگی میں مکالمہ بین المذاہب کا موقع ملتا ہے اور نہ اس کی ضرورت ہوتی ہے تاہم اگر وہ ایک ایسی جگہ رہتا ہو جہاں اس کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکار بھی ہوں تو اس صورت میں پرامن بقائے باہمی کے لئے مکالمہ بین المذاہب ایک موثر ذریعہ ہو سکتا ہے۔
دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ ہم آہنگی کی ابتدا مکالمہ سے ہوتی ہے جس کا بنیادی مقصد مفاہمت اور آخری نتیجہ پرامن معاشرے کا قیام ہوتا ہے۔ مکالمہ ایک ایسا عمل ہے جس کی بنیاد خو د اللہ تعالیٰ نے رکھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی تو سب سے پہلا مکالمہ تخلیق آدم کے بارے میں اللہ تعالی اور فرشتوں کے درمیان ہوا اور اس کے بعد جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ سے انکار کیا تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان مکالمہ ہوتا ہے۔ اگر انبیاکرام کی تبلیغی کاوشوں پر نظر ڈالی جائی تو وہاں بھی ہمیں یہ سلسلہ مستقل نظر آتا ہے کہ ہر نبی اور رسول نے مکالمہ کی بنیاد پر دعوت کے کام کا آغاز کیا اوراسلامی تاریخ تواس حوالے سے بھری پڑی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ پر جب پہلی وحی آئی تو سب سے پہلے ایک مسیحی ورقہ ابن نوفل نے آپ ﷺ کی نبوت کی تصدیق کی ۔ قرآن پاک بھی دعوت اسلامی پہنچانے کے لئے پرامن طریقہ سے دعوت دینے کا حکم دیتا ہے۔
مثلاً ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے۔
النحل :125))
“اے پیغمبرؐآپ اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور عمدہ نصائح کے ذریعہ سے دعوت دیجئے اور ان کے ساتھ بہترین طریقہ پر بحث کیجئے، بے شک آپ کا رب ہی اس شخص کو خوب جانتا ہے جو راہ یافتہ ہے۔”
دین کی قبولیت یا عدم قبولیت کے حوالے سے واضح پیغام دیا گیا کہ اس میں کوئی جبر نہیں ہے۔
البقرہ: 256))
“دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں یقیناًہدایت کی راہ گمراہی سے نمایاں اور ممتاز ہوچکی ہے سو جس شخص نے تمام معبودان باطلہ کا انکار کیا اور اللہ تعالی پر ایمان لایا تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ پکڑا جس کو کبھی ٹوٹنا نہیں اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔”
اور
الکافرون:6))
“تمھارے لئے تمھاری راہ اور میر لئے میری راہ”
پرامن بقائے باہمی کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کے عقائد کا مزاق نہ اڑایا جائے۔ ارشاد ہوتا ہے۔

الانعام: (108)
اور مسلمانوں! تم ان کو برا نہ کہو جن کی یہ مشرک خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اپنی جہالت کے باعث حد سے تجاوز کرکے خدا کی شان میں گستاخی کرنے لگیں ہم نے اسی طرح ہر فرقے کے اعمال اس کی نگاہ میں خوش نما کردئے ہیں پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف واپس جانا ہے اس وقت ان اعمال کی حقیقت سے آگاہ کردے گاجو وہ کیا کرتے تھے۔”
رسول اللہﷺ کی سیرت سے بھی یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ کوشش کی کہ پرامن طریقے سے دعوت کو پھیلائیں مکی زندگی تو پوری کی پوری اسی سے عبارت ہے اور جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لاتے ہیں تو یہاں بھی مکالمہ اور مفاہمت سے ابتدا فرماتے ہیں جس کے نتیجہ میں میثاق مدینہ وجود میں آتا ہے۔ اور جب اطراف و اکناف سے مسیحی وفود کی صورت میں مدینہ آتے ہیں تو ایک طرف ان کی بھر پور مہمان نوازی کی جاتی ہے اور دوسری طرف ان کو ان کے طریقے پر عبادت کی اجازت بھی دی جاتی ہے۔
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ چاہے خلفائے راشدین کا دور ہو یا بعد کے ادوار ، بحیثیت مجموعی اسلامی ریاست کے غیر مسلم باشندوں کے ساتھ اچھا رویہ اپنایا گیا اور مکالمہ اور مفاہمت کی بنیاد پر ان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار تھے۔ اس کی ایک مثال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فلسطین کے مسیحیوں کے ساتھ وہ معاہدہ ہے جس کی رو سے ان کی جان و مال کی حفاظت اور ان کی مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی۔ معاہدہ کے متن کا مفہوم کچھ اس طرح ہے۔
“یہ وہ امان نامہ ہے جو امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے ایلیا والوں کو دیا ہے۔ ایلیا والوں کی جان ، مال، گرجے، صلیب، بیمار، تندرست سب کو امان دی جاتی ہے اور ہر مذہب والے کو امان دی جاتی ہے۔ان گرجوں میں سکونت کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے۔یہاں تک کہ ان کے احاطوں کو بھی نقصان نہ پہنچایا جائے گا۔ نہ ان کی صلیبوں اور مالوں میں کسی قسم کی کمی کی جائے گی۔ نہ مذہب کے بارے میں کسی قسم کا کوئی تشدد کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کوئی کسی کو ضرر پہنچائے گا ‘‘۔تاریخ اسلام، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی،مکتبہ خلیل لاہور،(331)
تاہم یہ بھی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے کہ عصر حاضر میں ایک طرف جب قومی ریاستوں کا قیام عمل میں آیاتو دوسری طرف اقوام متحدہ اور اس جیسی دیگر تنظمیں وجود میں آگئیں جب کہ ریاستیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ اور بین الاقوامی طور پر معاہدوں کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوگئیں تو ان حالات میں مذہبی رہنماں کے لئے بھی مواقع پیدا ہوئے کہ پرامن تکثیری معاشرے کے قیام میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اسی کی اہمیت کے پیش نظر اقوام متحدہ ہو ، وٹیکن سٹی ہو، یا دیگر اسلامی ممالک، ہر ایک میں سرکاری اور نجی طور پر مکالمہ بین المذاہب کے نا م سے ادارے عمل میں لائے گئے۔
ایک طرف اگر اس قسم کے اداروں کے بہت سے فوائد سامنے آئے تو دوسری طرف اس سے کچھ نئی مشکلات بھی پیدا ہوئیں اور یہ اس بات کاتقاضا کرتی ہیں کہ ان مشکلات کا حل ڈھونڈا جائے تاکہ اس سے مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہو۔
-1 اہداف کا تعین:
مکالمہ بیں المذاہب کے بارے میں عموماً جب اجتماعات ہوتے ہیں تو ان کا کوئی متعین نکتہ اور ہدف نہیں ہوتا اس کی وجہ سے کئی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ مکالمہ اگر عقائد پر بات کر نے لئے ہوتا ہے تو اس میں بعض اوقات ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جن کی ان امور میں دلچسپی نہیں ہوتی یا اس میدان کے ماہر نہیں ہوتے جس کی وجہ سے اجتماع کا مقصد پورا نہیں ہو پاتا۔
-2 مکالمہ برائے تفہیم:
مکالمہ بعض اوقات مناظرہ کی شکل اس لئے اختیار کرتا ہے کہ اس قسم کے اجتماعات میں بعض اوقات مذہبی اختلافی مباحث ہوتے ہیں جس کی وجہ سے تفہیم کی بجائے اختلافات اور بھی بڑھ جاتے ہیں
-3 غیرمحتاظ زبان:
بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ شرکا اپنی زبانوں پر قابو نہیں رکھ پاتے اور ایسی باتیں کہ جاتے ہیں جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو تی ہے۔

-4 متخصصین اور ماہرین کی عدم شرکت:
مکالمہ بین المذاہب ایک حساس معاملہ ہے لیکن بدقسمتی سے بعض اوقات ان اجتماعات میں ایک طرف سے غیر متخصص لوگ شریک ہوتے ہیں جب کہ دوسری طرف سے اپنے مذہب کے متخصص نمائندگی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے شرکا ایک دوسرے کی بات کو کما حقہ سمجھ نہیں پاتے۔
-5 مسلم اور غیر مسلم تعلقات
اس حوالے سے مسلمانوں کو ایک اور قسم کا مسئلہ درپیش ہے۔ اگر ہم اپنے فقہی ذخیرہ پر نظر ڈالیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اکثر جب مسلم اور غیر مسلم کے تعلقات کی بات کی جاتی ہے تو عموماً ان میں اسلامی ریاست کے اندر ان کے باہمی تعلقات کی بات کی گئی ہوتی ہے۔ اور ظاہر ہے اس وقت دنیا دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرب میں منقسم تھی ۔تمام مسلمان دار الاسلام کے شہری تھے جب کہ آج کے دور میں مسلمانوں کی ایک کافی تعداد غیر مسلم ممالک میں رہائش پذیر ہے اور یہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے حالات کو مد نظر رکھ کر اجتہادی انداز میں مسلم اور غیر مسلم کے تعلقات اور اس حوالے سے ان کو درپیش مسائل کا شرعی حل ڈھونڈا جائے۔
-6 اقلیتوں کو درپیش مسائل:
ہر وہ معاشرہ کہ جس میں دوسرے مذاہب کے لوگ رہتے ہوں ان کو اپنی تشخص کے حوالے سے کئی تحدیات کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات اگر اکثریت کے لئے لازمی ہے کہ وہ اقلیت کے حقوق کی حفاظت کریں تو دوسری طرف اقلیت کا بھی فرض بنتا ہے کہ ان امور کے ارتکاب سے اجتناب کریں جو دوسرے مذہب کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال ہندوستان کا معاشرہ ہے کہ جس میں مختلف مذاہب کے لو گ رہتے ہیں اب یہ اکثریتی گروہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائے اور دوسری طرف اقلیتوں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ اکثریتی فرقہ کے مذہبی جذبات کا خیال رکھیں۔
اس حوالے سے ظہیرالدین بابر کی اپنے بیٹے ہمایوں کو وصیت قابل توجہ ہے ۔ یہ وصیت جس طرح اس وقت کے لئے کارگر تھی اسی طرح اس کی اہمیت آج بھی ہے۔ ا س کے الفاظ یہ ہیں۔
” ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور یہ اللہ تعالی کی بڑی عنایت ہے۔ کہ اس نے تمہیں اس ملک کا بادشاہ بنایا۔ اب تمہیں چاہئے کہ حسب ذیل باتوں کا خیال رکھو۔
ا : مذہبی تعصب کو اپنے دل میں جگہ مت دو اور لوگوں کے مذہبی جذبات اور مذہبی رسوم کا خیال رکھتے ہوئے رو رعایت کے بغیر سب قوموں کے ساتھ پورا انصاف کرو۔
ب: گاؤکشی سے خاص طور پر پرہیز کرو تاکہ اس کے ذریعہ تمہیں لوگوں کے دلوں میں جگہ ملے اور دل سے تمہاری اطاعت کریں، بادشاہ اور رعایا کے تعلقات خوشگوار رہیں اور ملک میں امن و امان قائم رہے۔
ج: تمہیں کسی قوم کی عبادت گاہ کو مسمار نہیں کرنا چاہئے اور ہمیشہ سب کے ساتھ پورا انصاف کرنا چاہیے۔
د: شیعہ سنی اختلافات کو ہمیشہ نظر انداز رکھو کیونکہ اس سے اسلام کمزور ہوجائے گا۔
ر: اسلام کی اشاعت ظلم و ستم کی تلوار کے مقابلہ میں لطف و احسان کی تلوار سے زیادہ بہتر طریقہ پر ہوسکے گی۔
ز: اپنی رعایا کی مختلف خصوصیات کو سال کے مختلف موسم سمجھو تا کہ حکومت بیماری اور ضعف سے محفوظ رہ سکے (مسلمانوں کا عروج و زوال، مولانا سعید احمد اکبر آبادی ،ادارہ اسلامیات لاہور، ص: 310 )
-7 اصطلاحات کے استعمال میں احتیاط
مکالمہ بین المذاہب کے حوالے سے ایک اور مشکل جو عموماً درپیش آتی ہیں وہ شرکا کی ان اصطلاحات کے استعمال سے عدم واقفیت ہوتی ہے جس کی وجہ دوسرے فریق کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ۔ اس لئے اس قسم کی اصطلاحات کا جاننا ضروری ہوتا ہے تاکہ اس کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی پیدا نہ ہو۔
-8 آداب الاختلاف سے عدم واقفیت
مکالمہ بین ا لمذاہب کے اجتماعات کا بنیادی مقصد تفہیم اور پر امن بقائے باہمی کا جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے اس کا مقصد دوسرے شریک کو اپنے مذہب میں لانا نہیں ہوتا ۔ آج کے دور میں آداب الاختلاف ایک باقاعدہ فن کی صورت اختیا کر چکا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے کے آداب معلوم ہوسکیں کہ اختلاف عقائد کے باوجود ایک دوسرے کے وجود کو کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ کہ پر امن معاشرے کے قیام کے لئے کس طرح ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے اس قسم کے اجتماعات کو بارآور کرنے کی خاطر آداب الاختلاف کا متعارف کرانا مفید رہے گا۔
ان سب مشکلات کے باوجود مکالمہ بین المذاہب کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کو اگر صرف الاہیاتی اور کلامی مباحث کی بجائے عالم انسانیت کو درپیش مسائل کے حل لئے استعمال کیا جائے تو اس کے دور رس مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ آج عالم انسانیت کو بہت سے مسائل درپیش ہیں مثلاً ماحول کی آلودگی، پانی سے متعلق مسائل،عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، وبائی امراض، اور ان کا سد باب، ہمہ گیر تباہی مچانے والے اسلحہ کا انسداد، دہشت گردی کا سد باب، امن عالم کا قیام، ازالہ ظلم اور قیام عدل، غربت کا خاتمہ، بنیادی انسانی حقوق کا ملنا، تمام اقوام کے لئے ترقی کے یکساں مواقع پیدا کرنا، اور دنیا کو نیوکلیائی، حیاتیاتی اور کیمیائی اسلحوں سے پاک کرنا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایسے مسائل ہیں جن کا حل ریاست اور بین الاقوامی تنظیموں کے بغیر ممکن نہیں، تا ہم یہ بھی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے کہ ان مسائل کے حل میں مذہب سے وابستہ افراد ایک مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے مکالمہ بین المذاہب کے اجتماعات کو احسن طریقہ سے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...