سی ڈی اے کہیں موجود بھی ہے ؟

550

سپریم کورٹ عمران خان کی گوشمالی سے پہلے سی ڈے اے والوں کے کان کھینچے اور ان سے پوچھے کہ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو سی ڈی اے کہاں تھا؟

اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے  پیر کو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جس میں چیرمین تحریک انصاف عمران خان کے بنی گالہ میں قائم گھر کی تعمیرات کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ سی ڈی اے کی فہرست کے مطابق بنی گالہ کے علاقے میں اب تک 122 غیر قانونی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جہاں غیر قانونی تعمیرات میں عمران خان کے گھر کا 92 نمبر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیری ٹیری ریگولیشن 1992کے مطابق اسلام آباد کے زون تھری اور فور میں سی ڈی اے سے منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے علاوہ کسی بھی قسم کی تعمیرات پر پابندی ہے ۔رپورٹ کے مطابق زون تھری میں راول ڈیم اور اس سے ملحقہ علاقے کو نیشنل پارک ڈیکلئر کیا گیا ہےجہاں تعمیرات پر پابندی ہے ۔

یہ سی ڈی اے بھی عجیب ادارہ ہے ۔اس کا کام خلاف ورزیاں روکنا نہیں بلکہ ان کو مانیٹر کر نا رہ گیا ہے ۔چند ماہ پہلے اسلام آباد ایکسپریس وے کے گرد  جہاں کبھی لہلہاتے کھیت ہوا کرتے تھے مگر یہاں کوئی قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی بھی نہیں بنی پھر بھی محلے کے محلے آباد ہو گئے ۔دس دس منزلہ پلازے اور وسیع و عریض شادی ہال بھی وجود میں آگئے ۔یہی حال بنی گالہ کا ہے ۔کاغذوں میں راول ڈیم کے دو کلومیٹر تک تعمیرات نہیں ہو سکتیں مگر آبادی ڈیم کے اندر تک پہنچ چکی ۔کئی گھروں کے بیک یارڈ تک کشتیاں جاتی ہیں اور امرا نے یہاں گھر بنا کر ذاتی بوٹس رکھ لی ہیں ۔اس وقت سی ڈی اے کہاں تھا ۔ عمران خان نے 1992 میں یہاں گھر بنایا آج پچیس سال گزرنے کے بعد سی ڈی اے جاگا ہے ۔ اگر معاملہ یہی رہا تو اسلام آباد کی مارگلہ ہلز پر بھی گھر بننے میں دیر نہیں لگے گی اور دیکھتے دیکھتے یہاں بھی تعمیرات ہو جائیں گی ۔اسلام آباد شہر کے اندر سی ڈی اے کی خالی جگہیں جنہیں صرف باغیچوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ان پر بھی اب نہ صرف تعمیرات ہو چکی ہیں بلکہ کمرشل سرگرمیاں بھی ہو رہی ہیں ۔اس لئے سپریم کورٹ عمران خان کی گوشمالی سے پہلے سی ڈے اے والوں کے کان کھینچے اور ان سے پوچھے کہ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو سی ڈی اے کہاں تھا؟اس حوالے سے اگر آپ اپنی رائے دینا چاہیں تو کمنٹس میں درج کریں

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...