بعد از اسلام ازم اور روایتی علماء کی ناکامی

ڈاکٹر حسن الامین کی کتاب پر تبصرہ

بڑھتے ہوئے نظریاتی اختلافات اورپاکستان میں مختلف النوع مذہبی انتہا پسند تحریکوں کے گھمبیر سماجی و سیاسی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔یہ  سماجی تبدیلیاں پاکستان کوکہاں لے جائیں گی  ، مفکرین  کی آرا اس پر مختلف ہیں  ۔

پاکستان کا مذہبی منظر نامہ مسلکی حوالے سے  تو متنوع ہے لیکن فکری حوالوں سے  تغیر سے محروم ہے ۔ نظریاتی رجحانات میں یکسانیت سے قطع نظر تاریخی طور پردو رجحانات واضح رہے ہیں ایک روایتی مذہبی سیاسی اور دوسرا اسلام ازم ۔اگرچہ ان دونوں رجحانات کے حامل لوگوں میں متشدد اور غیر متشدد اظہار پائے جاتے ہیں لیکن ان اسلامی تحریکوں میں عقلی رجحانات  بھی نظر آتے ہیں ۔یہ عقلی رجحانات  مجموعی طور پر ملک میں مذہبیت کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں ۔ایک طرف علما اپنی تحریکیں  اور ادارے  قائم کر رہے ہیں اور دوسری جانب ان کے اثر رسوخ سے یا ان کے رد عمل میں روایت پسند اور اسلام پسند اپنی حکمت عملیوں میں ترمیم  بھی کررہے ہیں ۔تاہم علما  ملک میں مذہبی منظر نامے کومکمل طور پر  تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ان کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ خواہش رکھتے ہیں کہ مذہبی تناظر میں وہ ممتاز نظر آئیں ۔یہ امر حیران کن ہے کہ جنوبی ایشیا کے فکری منظرنامے میں صف اوّل کے مسلم مفکرین نے  نمائندہ تحریکوں کا حصہ بننے کی بجائےاپنی تحریکوں کی بنیاد رکھی ۔

مفکر ، محقق اور پروفیسر ڈاکٹر حسن الامین اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں کہتے ہیں کہ علماکوئی عوامی طریقہ کار کیوں نہیں اختیار کر سکے ۔وہ اس کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں  جس میں ملک کا مخصوص سماجی ڈھانچہ بھی شامل ہے ۔علما کواشرافیہ سے تعلقات میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آتی اور سب سے اہم بات یہ کہ علما کی توجہ درمیانی طبقے پر ہے اور وہ ادارے قائم کرنے میں  دلچسپی رکھتے ہیں۔یہ  نتائج ِ فکریہ تاثر دیتے ہیں کہ علما اپنی حکمت عملی میں ناکام رہے ہیں ۔لیکن کوئی یہ سوال اٹھاسکتا ہے کہ ان کی مجموعی فکر شاید مغرب سے مستعار لی گئی یا پھر معاصر سماجی و    سیاسی ماحول سے متاثر ہوئی کیا اس کا تعلق  علمی روایات یا پھر اسلامی تصورا ت  کے احیا  ء سے ہے ۔

متبادل جدیدیت کی جستجو میں علما نے فقہ اور جمہوریت سے مطابقت پیدا کر لی ہے ۔ڈاکٹر حسن الامین    انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وابسطہ ہیں اور اسلامی تحریکوں پر گہری نظر رکھتے ہیں انہوں نے حالیہ  محرکات کا جائزہ اپنی کتاب Post-Islamism: Pakistan in the Era of Neoliberal Globalization  میں لینے کی کوشش کی ہے ۔یہ در حقیقت ایک اہم کام ہے جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ معاصر معاشروں میں مسلم فکری تحریکیں کیسے جنم لیتی ہیں ۔انہوں نے جاوید احمدغامدی کا بھی حوالہ  بھی ایک کیس سٹڈی کے طور پر دیا ہے تاکہ صورتحال کا کماحقہ احاطہ کیا جا سکے  مگر اس کے لئے انہوں نے علما کے لئے ما بعد از اسلام کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔

مابعد از اسلام ایک نئی اصطلاح نہیں ہے فرانسیسی مفکر اولیور رائے Olivier Royکے ساتھ ایرانی آصف بایاطAsef Bayat نے بھی  مابعد از اسلام کی اصطلاح کو رواج دیا ہے  جو جنگ عظم کے بعد مشرق ِوسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا  میں اٹھنےوالی اسلامی تحریکوں  کے تناظر میں   سامنے آئی ۔وہ آصف    ڈاکٹر حسن الامین کےمقالے کے  تصوراتی ڈھانچے سے بھی آگے یہ تسلیم کرتے ہیں مگر ڈاکٹر حسن الامین ا س کو ذرا مختلف انداز میں میں بیان کرتے ہیں ۔ڈاکٹرحسن الامین یہ یقین رکھتے ہیں کہ مابعد از اسلام سے مراد اسلامی سیاسی تحریکوں کا خاتمہ نہیں ہے ۔اور نہ ہی ا س سے مراد خلاف اسلام یا پھر آزاد خیالی ہے  مگر  اس سے مراد  ریاست اور معاشرےکی مثالیت پسندی  ضرور ہے ۔مابعد از اسلام ایک ایسا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جہاںسیاسی اصلاحات کا تعلق مذہبی اصلاحات سے ہے ۔جہاں اسلامی جماعتیں اپنی توجہ اقلیتوں ،نوجوانوں اور صنفی خدشات پر مرکوز کریں اور ان کے حقوق اجاگر کریں ۔در  حقیقت یہی عملی طور پر مابعد از اسلام  ازم کا ظہور ہے ۔

جہاں تک  اسلام ازم کی تحریکوں کاتعلق ہے ڈاکٹر حسن الامین  انہیں نشاۃالثانیہ کی تحریکیں  سمجھتے ہیں اور وہ اس کے تین عوامل بیان کرتے ہیں جو کہ :

۱۔مذہب کی سیاسی توجیح بیان کرنا اوراس تناظر میں ذاتی اور اجتماعی فرائض کا تعین کرنا ۔

۲۔شریعت کے نفاذ کے لئے سماجی اور سیاسی جدوجہد ، ریاست کے اداروں کےذریعے اسلام کا نفاذ اور اسلام کو سماجی تبدیلی کے طور پر پیش کرنا ۔

۳۔اسلام کی تبلیغ کے لئے پراپیگنڈہ کے تمام جدید ذرائع بالخصوص پرنٹ ، الیکٹرانک  اور سوشل میڈیا کا استعمال

اس تناظر میں مابعد از اسلام ایک سماجی تحریک ہے جو اسلامی ریاست کے قیام کےلئے متحرک ہے یا شاید یہ مسلمانوں کے ذہنوں میں عالمگیریت کا رد عمل ہو ۔غامدیکی تحریک بھی ا س کی عمدہ مثال قرار دی جا سکتی ہے  جو پاکستان کے اندر ایکمتبادل کمیونٹی کے لئے کمر بستہ ہے  جو آزادی اور جمہوریت پر یقین رکھتی ہے ۔

یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ غامدی کے تصورات کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کےدور میں فروغ ملا جو خود بھی روشن خیالی کے دعویدار تھے ۔کچھ لوگ اسے جبری  روشن خیالی کا منصوبہ کہتے ہیں جسے سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا  گیا اورجو ایک فوجی حکومت کا سفارتی ایجنڈا بھی تھا  ۔

ڈاکٹر حسن الامین اسی لئے کہتے ہیں کہ ’’غامدی اور اس کی فکر کے لوگوں کو  نئے قائم ہونے والے ٹی وی چینلز پر خاطرخواہ کوریج دی گئی‘‘ ۔انہیں 2006میں اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر بنا دیا گیا وہ دوسال تک اس عہدے پر رہے ۔اگرچہ وہ اپنے  مذہبی بیانات میں جمہوریت پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں  تاہم ان سے یہ سوال شاید ہی پوچھا گیا ہو کہ انہیں  جس عہد آمریت   میں پھلنے پھولنے کا موقع ملا  ا س کی اپنی حیثیت کیا تھی ؟

یہ بات بھی دلچسپ  ہے کہ غامدی برصغیر میں مروجہ مکاتب ِ فکر کی پیروی نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے قائم کردہ ’’دبستان ِ شبلی ‘‘  کے پیرو کار ہیں ۔ڈاکٹر حسن الامین کویقین ہے کہ یہ تصوراتی مکاتب فکر غامدی کی تحریک کی کئی طریقوں سے معاونت کر رہا ہے ۔’’یہ انہیں دو مشہور سمتوں کے وسط میں رکھتا ہے جن میں دیوبندی اورسرسید کے مکاتب فکر شامل ہیں ۔غامدی نے  مودودی سمیت اسلام پسندوں کے اسلامی ریاست کے تصور کو چیلنج کیا ہے جو کہ شریعہ  کوتمام سماجی ، سیاسی اور مذہبی معاملات میں برتر مانتے ہیں ۔

ڈاکٹر حسن الامین نے  ملک کی موجودہ مذہبی  تحریکوں کا بھی جائزہ کتاب کےتیسرے باب ‘Islamism Without Fear میں لیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ  جمیعت علمائےاسلام ف کے مقابلے پر جماعت اسلامی پاکستان میں ایک مضبوط اور منظم جماعت  ہےاور وہ ملک میں اسلامی حوالے سے رہنمایانہ کردار ادا کر رہی ہے ۔جمیعت علمائےاسلام ف مذہبی اقلیتوں کے لئے زیادہ کشادہ ہے اور اس کے سیاسی تصورات بھی کھلےڈلے ہیں ۔جس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اپنی روایتی شناخت سے ہٹ کر جے یو آئی ف مابعد از اسلام ازم تصورات کے حوالے سے زیادہ لچک رکھتی ہے ۔

زیادہ واضح فکری عمل دخل رکھنے کے با وجود مابعداز اسلام ازم تحریکیں مقبول سماجی تحریکوں کی شکل اختیار نہیں کر سکیں ۔ڈاکٹر حسن الامین نا امید نہیں ہیں وہ بیاط سے متفق ہیں کہ مابعد ازاسلام ایک متحرک تصور ہے جو کہ اسلام کو سماجی،سیاسی اور فکری میدانوں میں درپیش نئے چیلنجوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے مصروف ہے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اپنے اندر جھانکنے کی روایت بھی ڈال رہاہے اگرچہ اس کے اثرات بہت  آہستہ آہستہ مرتب ہو رہے ہیں ۔

ڈاکٹر حسن الامین نمایاں  مفکر ہیں جنہیں کئی عالمی فورمز پر بات کرنے کا موقع ملاہے اور ان کی زیر نظر کتاب سے پاکستان میں ایک نئے مکالمے کا راستہ کھلے گا ۔

 (بشکریہ ڈان ، ترجمہ :سجاداظہر )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...