ریاستی قوانین کی شرعی حیثیت

2,221


ریاستی قوانین کی شرعی حیثیت، ایک وسیع و عریض موضوع ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ یقینی طور پر بعض ایسے ریاستی قوانین ہوتے ہیں کہ جو علماء کے فہم شریعت سے متصادم ہوتے ہیں۔ ایسے قوانین کے بارے میں تو علماء یہی کہیں گے کہ ان کو تبدیل کیا جائے لیکن بیشتر ریاستی قوانین ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے بارے میں علماء کی رائے مثبت ہوتی ہے یا پھر وہ اس کے خلاف رائے نہیں رکھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے بارے میں تو ہمارے اس نقطۂ نظر سے سب اتفاق کریں گے۔ تاہم ہر ملک کے اپنے قوانین ہوتے ہیں اور کئی حوالوں سے ہمارے ہاں کے قوانین سے مختلف ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ایسے ممالک جن کے بارے میں وہاں کے علماء کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ ان کی حکومت اسلامی ہے، ان کے قوانین کے بارے میں ان کی رائے ایسے ممالک سے یقیناً کئی پہلوؤں سے مختلف ہوتی ہے جن کی حکومتوں کو وہ اسلامی یا شرعی نہیں سمجھتے۔ البتہ اس سلسلے میں کچھ ایسے کلیات ضرور ہیں جن پر اتفاق رائے کیا جاسکتا ہے اور وہ ہر طرح کی ریاست کے حوالے سے کارآمد ہو سکتے ہیں۔ 
گذشتہ دنوں ہم نے اسی موضوع پر ایک مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا جس میں مختلف طرح کی آراء سامنے آئیں۔ بعض امور پر بظاہر لفظی اتفاق ضرور تھا لیکن ہماری رائے میں جب مرحلہ تطبیق اور تفصیل کا آئے گا تو وہاں بھی اختلاف رائے ظاہر ہوگا۔ مثلاً اس پر تو سب کا اتفاق تھا کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہو سکتی۔ اب قرآن و سنت کے فہم کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس فہم میں بھی بہت ساری چیزیں مشترک ہیں تاہم بعض چیزیں ضرور مختلف ہیں اور مختلف مسالک کا ہونا اس کی شہادت کے لیے کافی ہے۔ 
بیشتر فقہا کی رائے یہ ہے کہ جن امور میں قرآن و سنت کا حکم موجود ہے ان کے علاوہ ایسے بہت سے شعبے ہیں جہاں فقہ صرف اصول فراہم کرتی ہے اور ریاست کو قانون سازی کا حق دیتی ہے۔ ہم مثال کے طور پر معروف فقیہ استاد جوادی آملی کا نظریہ پیش کرتے ہیں جو یقینی طور پر قابل ملاحظہ ہے:
’’ریاستی قانون کا اصلی محور جزئی موضوعات ہیں جن کے بارے میں فقہ نہایت کم بحث کرتی ہے۔ فقہ خاص ابواب میں عبادی موضوعات کو بیان کرتی ہے جو سماجی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، زرعی وغیرہ کی مانند نہیں ہیں۔ قانون مساقات(آبیاری)، قانون مزارعہ (زرعی)، قانون مغارسہ(شجرکاری) اور دوسرے سینکڑوں قوانین فقہ میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کی جزئی شرائط کیا ہیں؟ قانون مغارسہ کے موارد کون سے ہیں؟ مغارسہ کیا ہے؟ مزارعہ کیا ہے؟ دسیوں قانونی شقیں ہیں جنھیں فقہ نے بیان نہیں کیا۔ انھیں بنائے عقلاء کے سپرد کیا ہے یعنی عام طور پر عقلاء اس کے بارے میں جو رائے رکھتے ہیں اسی کو فقہ نے قبول کرلیا ہے اور یہ شریعت کے تائید شدہ مسائل میں سے ہیں۔ اگر یہ سب بنائے عقلاء یا شریعت کی تائید کی وجہ سے ہے توفقہ کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے کہ مساقات(آبیاری) میں کتنے پانی سے سیراب کیا جائے، کتنے دن پانی دیا جائے، کب پانی دیں۔ اسی طرح مغارسہ(شجرکاری) اور مزارعہ میں بھی ہے۔ آپ کو ایک یا دو مثالیں بھی نہیں ملیں گی کہ فقہ نے مغارسہ کے بارے میں کہا ہو کہ شراکتی ہو۔ سرمایہ ایک گروہ کا اور کام دوسرے گروہ کا۔ غرس، مساقات(آبیاری) سے جدا ہے۔ مساقات یعنی آبیاری، مزارعہ یعنی فصل اٹھانا۔ یہ سب عقلی قوانین ہیں۔ یہ مسائل لوگوں کو پیش آتے ہیں، ان سب کے لیے قانون چاہیے لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی فقہ میں موجود نہیں ہے۔ آپ قانون مغارسہ کو کہاں سے اخذ کریں گے؟ لیکن ان شقوں کی تحقیق فقہی قوانین کی حدود میں ہوتی ہے کہ یہ قوانین فقہی اپنے بنیادی اصولوں کو ماخذ سے اخذ کرتے ہیں۔‘‘
ہم دیگر چند شعبوں کی بھی نشاندہی کرتے ہیں جن کے بارے میں فقہ نے جزئیات بیان نہیں کیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم یہ کہیں کہ انھیں فلاں فقہی قاعدے کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے۔ تاہم جزئیات پھر بھی عقل انسانی کو خود اخذ کرنا ہوں گی۔ مثلاً شہر سازی اور ٹاؤن پلاننگ کے اصول و قواعد۔شہروں کے اندر اور شہروں اور ملکوں کے مابین سفر کے قوانین۔ ٹریفک اور ڈرائیوننگ کے قوانین و ضوابط۔ ملک سے باہر مال لے جانے اور لے آنے کے قوانین یعنی بین الاقوامی تجارت سے متعلق قوانین۔ یونیورسٹیوں،کالجوں اور سکولوں کے قیام اور انھیں چلانے کے قوانین۔ اساتذہ کے انتخاب کے معیارات اور طریق کار۔فوج اور سرکاری اداروں میں بھرتی کے قوانین۔ سمگلنگ اور منشیات کی نقل و حمل سے متعلق قوانین۔ 
ان تمام شعبوں میں جو قانون سازی کی جائے گی ان کی پھر شرعی حیثیت کیا ہوگی۔ ان میں بیشترایسے شعبے ہیں جن کے بارے میں اسلامی اور غیر اسلامی سب حکومتوں کو قانون سازی کرنا ہوتی ہے۔ بعض جزئی امور میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شریعت کی رائے یہ ہے مثلاً منشیات کے استعمال میں شریعت اپنا ایک نظریہ رکھتی ہے لیکن اس کے بارے میں قوانین بہت وسیع اور متنوع ہیں، عالمی بھی ہیں اور ریاستی بھی۔ 
قرآن حکیم نے رسولوں کو بھیجنے کا مقصد ایک مقام پر یوں بیان کیا ہے:
(حدید:۲۵)
ہم نے اپنے رسولوں کو بینات اور واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان بھی نازل کی تاکہ وہ انسانوں کے اندر قسط و عدل قائم کریں۔’
بعض پہلوؤں سے قسط و عدل کافہم مختلف ہو سکتا ہے لیکن قانون کے مساویانہ نفاذ کو یقینی طور پر عدل کی روح قرار دیا جائے گا۔ اگرچہ خود قانون کیا ہو اس پر بھی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔

ہمیں انسانی معاشرے میں اس حوالے سے عدل و قسط کی حقیقت اور قانون کے نفاذ کے مابین ہم آہنگی دریافت کرنا ہوگی۔

بعض قوانین ہم فقہ میں مروج بعض قواعد کے تحت بھی بیان کر سکتے ہیں۔ مثلاً قواعد استنباط میں ایک قاعدہ’’لاضرر ولا ضرار‘‘ بھی ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ٹریفک اور ڈرائیونگ کے قوانین اس قاعدے کے تحت قرار پاتے ہیں۔ 
دین نے بعض اخلاقی احکام بھی دیے ہیں۔ ان میں سے بعض کے لیے ممکن ہے کوئی حد یا تعزیر بیان نہ کی گئی ہو البتہ حکومت جہاں ضروری سمجھے وہاں قانون سازی کر سکتی ہے یعنی ایسے امور میں جہاں شریعت نے پہلے سے کوئی قانون نہ بنایا ہو اور شریعت کی منشاء سے متصادم نہ ہو بلکہ ممکن ہے کہ اس کی منشاء سے ہم آہنگ ہو، قانون سازی کی گنجائش سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 
ہم اپنے اس سوال پر واپس آتے ہیں کہ پھر اہل شریعت ایسے امور میں جائز و ناجائز کا حکم بیان کریں گے یا نہیں۔ہم ذاتی طور پر تو بہت سی جگہوں پر رائج مذہبی اصطلاحات کا استعمال ضروری نہیں سمجھتے لیکن وہ افراد جو ہر جگہ پر ایک فقہی اور شرعی رائے کا وجود ضرور سمجھتے ہیں انھیں بہرحال ایسے سوالوں کا جواب دینا چاہیے:
۔ جن چیزوں کی خرید و فروخت شریعت نے حرام قرار نہیں دی کیا ان کی سمگلنگ جائز ہے؟
۔ کیا ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی جائز ہے؟
۔ کیا حکومت کو انفرادی ملکیت میں اجتماعی مقاصد کے لیے تصرف کا حق حاصل ہے۔ 
یہ اورایسے بہت سے سوالات ہیں۔ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اگر پہلے دو سوالوں کا جواب ’’ہاں‘‘میں دے دیا جائے تو معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی اس ’’ہاں‘‘ پر خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔ ان مسائل کی تفصیلات ہیں لیکن ہم یہاں فقط اشارہ کررہے ہیں۔ اسی طرح تیسرے سوال کا جواب اگر نفی میں ہو جائے تو بہت سے اجتماعی منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ حدود و قیود تو ہر مسئلے کی ہوتی ہیں اور بہت سے مسائل میں استثنات بھی ہوتے ہیں تاہم ان سوالوں کا واضح جواب دیاجانا ضروری ہے۔ کیا فقہا یہ کہیں گے کہ سمگلنگ ہر نوع کی اور ہر چیز کی حرام ہے کیونکہ اس سلسلے میں بنائے گئے قوانین معاشرے اور ملک کے تحفظ کے لیے ہیں۔ اسی طرح سے کیا اہل شریعت یہ کہیں گے کہ ٹریفک کے قوانین جان اور مال کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں اس لیے ان کی خلاف ورزی شرعاً ناجائز ہے۔ 
اس موضوع پر ہمیں اور بھی بہت کچھ کہنا ہے یکن آج کی نشست میں اتنا ہی ہی کافی سمجھیے۔ 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...