ملا منصور کی ہلاکت اور خطے کا امن

742

نوٹ : آپ کی رائے جامع، واضح ، با مقصد اور مختصر ہونی چاہئے۔اپنی رائے اور الفاظ کے استعمال میں انتہائی احتیاط کیجئےتاکہ کسی بھی فرد کے جذبات مجروح ہونے کا خدشہ نہ ہو ۔

ملا محمد اختر منصورہفتے کو بلوچستان میں ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ۔اس خبر کی تصدیق طالبان نے بھی کر دی ہے ۔ تباہ ہونے والی گاڑی سے ایک پاکستانی ولی محمد ولد شاہ محمد کا پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی ملا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ تفتان سرحد سے پاکستان میں داخل ہوا۔جہاں اس نے ایک گاڑی کرائے پر حاصل کی ۔ان کے ڈرائیور کا نام محمد اعظم تھا جس کی لاش شناخت کے بعد ان کے رشتہ داروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ جبکہ تیسری لاش کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ طالبان امیر ملا منصور کی ہے ۔

امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ ملا منصور کی موت سے ایک ایسی تنظیم کے سربراہ کا خاتمہ ہوا ہے جو امریکی اور اتحادی افواج پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتی اور انھیں سرانجام دیتی رہی ہے اور اس نے افغان عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔امریکہ ملا منصور کی ہلاکت کو ایک جنگی اور جنونی شخص کی موت قرار دے رہا ہے جو مزاکرات کی میز پر آنے میں ایک بڑے رکاوٹ تھا ۔جبکہ دوسری جانب مبصرین اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ ملا منصور کی ہلاکت سے مزاکرات کا امکان ختم ہو کر رہ گیا ہے ۔

اس سے قبل گزشتہ برس جب مزاکرات کی میز سجائی جا رہی تھی اس وقت ملا عمر کی موت کی خبروں سے یہ مزاکرات معطل ہو گئے تھے ۔اب ایک بار پھر طالبان کے نئے امیر ملا منصور کی ہلاکت کی خبر آگئی ۔ اس سے قبل اسلام آباد میں گزشتہ ہفتہ افغان امن مزاکرات کے حوالے سے پاکستان ، افغانستان ، امریکہ اور چین کے مزاکرات ہوئے تھے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ امن کوایک موقع ضرور دیا جائے ۔لیکن اس عندیہ کے چار روز بعد ہی طالبان کے امیر کو ڈرون حملے میں مار دیا گیا ۔

اس نئی صورتحال میں کئی سوالات نے جنم لیا ہے ۔ سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا امریکہ طالبان کے امیر کومزاکرات کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا تھا۔جیسا کہ صدر اوبامہ نے اپنے بیان میں کہا بھی ہے ۔اور کیا نئے امیر جن کا نام ابھی تک سامنے نہیں آیا ان سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے پیش رو سے مختلف ثابت ہوں گے ۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کی سرزمین پر سر انجام دی گئی ہے ۔پاکستان نے اسے اپنی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔یہ کارروائی دوپہر کے وقت ہوئی جبکہ امریکہ کے سیکرٹری خارجہ جان کیری نے رات کے دس بجے وزیر اعظم پاکستان سے فون پر رابطہ کر کے اطلاع دی ۔کیا اس واقعہ سے پاک امریکہ تعلقات میں بھی کھچاؤ آ ئے گا ۔یہ سوالات اور ان جیسے دیگر سوالات جو آپ کے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کے جوابات کے لئے آپ اپنی رائے دیں جو انہی صٖفحات پر شائع کی جائے گی ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...