علی حیدر گیلانی کی بازیابی اور ٹیرر فنانسنگ

386

نوٹ : آپ کی رائے جامع، واضح ، با مقصد اور مختصر ہونی چاہئے۔اپنی رائے اور الفاظ کے استعمال میں انتہائی احتیاط کیجئےتاکہ کسی بھی فرد کے جذبات مجروح ہونے کا خدشہ نہ ہو ۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے، علی حیدر گیلانی افغانستان سے تین سال بعد بازیابی ایک اچھی خبر ہے۔یہ بازیابی افغان اور امریکی فورسز کے ایک مشترکہ آپریشن میں غزنی صوبے سے ہوئی ہے۔علی حیدر القاعدہ سے منسلک ایک گروہ کے قید میں تھے۔ شہباز تاثیر جو چند ماہ پہلے پاکستان پہنچے، وہ بھی القاعدہ سے منسلک ایک وسط ایشیائی تنظیم کی قید میں تھے۔

القاعدہ اور اس سے منسلک گروپ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں ۔ 2007 سے 2013 کے درمیان ایسی وارداتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ جو لوگ اغوا ہوئے ان میں پاکستان اور غیر ملکی سفیر،غیر ملکی سیاہ اور امدادی تنظیموں کے کارکن بھی شامل تھے۔تاجر اور صنعت کار ان کے اہم ٹارگٹ رہے ہے۔جرائم پیشہ سرگرمیاں اور اغوا برائے تاوان دہشت گرد گروہوں کے ذرائع امدن کا اہم ذریعہ رہا ہے۔گذشتہ تین سالوں میں ایسی وارداتوں میں کمی ،آپریشن ضرب غضب اور ریاست کے دیگر اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ان اقدامات میں مزید بہتری کی گنجائش ہے خاص طور پر پشاور اور اس کے گرد و نواح میں یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

انسداد دہشت گردی کا ایک اہم ہدف جرم اور دہشت گردی کے رشتے کو کمزور کرنا اور دہشت گردی کے لیے دستیاب وسائل کو روکنا ہوتا ہے ۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کام کر رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ محکمے دیگر خاص اداروں کی مدد سے اغوا برائے تاوان جیسے وارداتوں کے لیے خصوصی یونٹ تشکیل دیں،تاکہ دہشت گردی کے لیے دستیاب وسائل کے ایک بڑے ذریعے کو بند کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ آپ کیا تجویز کریں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...