سعودیہ ایران کشمکش اب افریقہ میں

567

براعظم افریقہ 54 ممالک پر مشتمل دوسرا بڑا براعظم ہےجن میں سے 17 ممالک کا سرکاری مذہب اسلام ہے جو کہ افریقہ کے مغرب میں واقع ہیں۔

یہ خطہ جہاں ایک طرف گیس،پیٹرول،سونا اور یورینیم  جیسے قدرتی وسائل  اور معدنیات سے مالامال ہے تو دوسری طرف اس کی اکثر آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ  مختلف ادوار میں مختلف طاقتیں  غربت مٹانے کے نام پر اس خطے کا استحصال کرتی رہیں  اور اپنے مفادات کشیدکرتی رہیں۔

یہ جنگ طاقت اور  اسلحے سے زیادہ حکمت ، تدبیر  اور اعصاب کی جنگ ہے،

ماضی قریب میں یہ کشمکش سمٹ کر  لیبیا ،مراکش،الجزائر،چین،ایران اور اسرائیل تک محدود ہو گئی تھی جبکہ   گزشتہ ایک برس سے اس کادائرہ اور بھی محدود ہو گیا ہے اور اب یہ خطہ سعودیہ ایران کشمکش کا مرکز بن چکا ہے۔

مغربی افریقہ میں    اکثریت  صوفیاء و مشائخ  اور ان کے سلسلوں کے پیرکاروں کی ہے   اس لیے وہاں   سلفیت کے لیے جگہ بنانا مشکل ہے،اس لیے ساٹھ کی دہائی میں  جب سعودیہ نے موریطانیہ   میں اپنی ثقافتی اور دعوتی سرگرمیوں کا آغاز کیا   اورتصوف و مزارات پر تنقید کی تو شروع دن سے ہی اسےمزاحمت کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ مغربی افریقہ میں امام   محمد بن سعود یونیورسٹی سے ملحق تعلیمی اداروں اوروہابی ازم کے خلاف مظاہرے  بھی ہوئے،اس لیے کہ افریقی مسلمان  کے نزدیک اسلام کی وہی  درست تصویر ہے جس میں  مزارات کو تقدس حاصل ہے اور تصوف کے سلسلے رائج ہیں،اس کے برعکس ایران ،  لیبیا اور چین  کو وہاں پذیرائی ملی۔

 کہ  سعودیہ غیر اعلانیہ طور پر  ایران کے خلاف  افریقہ میں مورچہ زنی کر رہا ہے،اور مسقبل قریب میں کچھ افریقی ممالک ایران سے سفارتی تعلقات کے خاتمے کا اعلان کر دیں گے۔

 ایران  نے اپنی سرگرمیوں کی ابتدا اپنی ثقافت یا دینی تعبیر کی تبلیغ سے نہیں کی بلکہ اس عمل کو بظاہر ثانوی حیثیت دیتے ہوئے زیادہ توجہ رفاہی کاموں پر دی، تعلیم و صحت کے مراکز قائم کیے،الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بلاسود قرضے جاری کیے جس سے 130095 افراد نے استفادہ کیا جن میں سے 87305 افراد  مالکی سے اثناعشری ہو گئے، ایرانی نفوذ سے مسلک تبدیل کرنے والوں میں سب  سے زیادہ تعداد نائجیرنز  کی ہے۔

ایرن نے اپنے توسیعی عزائم کو عملی جامہ پہناے کے لیےافریقہ میں آباد لبنانی شیعہ کمیونٹی کو ساتھ ملایا اور بڑے منظم انداز سے  پرائیویٹ اداروں،ثقافتی مراکز،اقتصادی منصوبوں اور کامیاب  ڈپلومیسی  سے اپنے اثرورسوخ کو بڑھایا ، گذشتہ دو عشروں میں  ایرانی صدور نے پے در پے   مغربی افریقہ کے دورے کیے اس طرح بہت جلد ایران نائجیریا سے یورینیم  اور دیگر خام مواد لینے میں کامیاب ہو گیا عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود  ایران نے اپنی مصنوعات  کی منڈیاں لگا ئیں،جو ایرانی تیل عالمی منڈیوں میں نہیں جاسکتا تھا وہ افریقہ میں فروخت ہوا، اس کے ساتھ ساتھ افریقہ کے لوگ  رفتہ رفتہ   دینی حوالے سے بھی  ایران کے  ہم مشرب  بنتے چلے گئے۔

دوسری طرف لیبیا نے بھی اسی انداز سے اپنا اثرورسوخ بڑھایا اور   فاہی کاموں کا نیٹ ورک بچھا دیا،صرف یہی نہیں بلکہ قذافی  نے مزارات  کے لیے باقاعدہ بجٹ مقرر کیا،طرابلس میں صوفیاء و مشائخ کو خصوصی پروٹوکول ملتا جو کہ بسا اوقات افریقی سربراہان و حکام  سے بھی زیادہ ہوتا،جس سے قذافی کو   افریقہ کے اکثریتی صوفی طبقے میں پذیرائی ملی اور وہ  سیاسی طور پر مستحکم ہوئے،اور تقریبا  پورے مسلم افریقہ نے قذافی کو اپنا رہنما تسلیم کر لیا۔

2011 میں قذافی کے قتل کے بعد مراکش نے  خطے پر حکمرانی کے لیے اپنی سی کوششیں کی لیکن وہ جلد ہی  ایران کی ہمہ جہت پالیسیوں اور کوششوں  میں دب کر رہ گئیں،اور ایران افریقہ میں بھی ایک بڑی قوت کے طور پر ابھرنے لگا۔

اس سارے عرصہ  میں عرب ممالک بشمول سعودیہ میٹھی نیند سوتے رہے یہاں تک کہ شاہ سلمان سعودیہ کے فرمانروا بنے اور انہوں نے دیکھا کہ ایران  سعودیہ کے دروازے تک پہنچ چکا ہے، جس پر سعودی فرمانروا نے دو  اہم فیصلے کیے:

1:یمن میں ایران کی حمایت یافتہ قوتوں کو پوری طاقت سے کچلنا

2: عرب دنیا اور گردو پیش میں ایران کے بڑھتے ہوئے نفوذ کو کم کرنا

اسی ضمن میں سعودیہ نے دو غیراعلانیہ اتحاد قائم کیے،ایک” سعودیہ موریطانیہ سینیگال اتحاد”اور دوسرا” سعودیہ لیبیا چاڈ اتحاد”، دوسرے اتحاد کا دائرہ کار ابھی تک طے نہیں ہو سکا لیکن پہلا اتحاد ترتیب و تنسیق کے مرحلے سے گزشتہ برس اپریل میں  اس وقت ہی گزر چکا تھا جب موریطانیہ اور سینیگال  حوثی مخالف اتحاد میں شامل ہوئے تھے۔

حال ہی میں سعودی وزیر خراجہ عادل الجبیر نے بیشتر افریقی ممالک کا دورہ کیا اور انہیں اعتماد میں لیا،جس کے نتیجے میں سوڈان نے ایرانی ثقافتی مراکز پر پابندی عائد کر دی،نائجیریا اور سینگال  نے  اعلان کیا کہ  وہ تہذیبی ، ثقافتی اور دینی حوالے سے سعودیہ کے قریب ہیں اور  کسی قسم کی جارحیت پر سعودیہ کے ساتھ ہیں  جس سے صاف نظر آرہا ہے کہ  سعودیہ غیر اعلانیہ طور پر  ایران کے خلاف  افریقہ میں مورچہ زنی کر رہا ہے،اور مسقبل قریب میں کچھ افریقی ممالک ایران سے سفارتی تعلقات کے خاتمے کا اعلان کر دیں گے۔

ادھرجنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے بھی 27 مارچ کو سعودی عرب  کا دورہ کیا  جس میں دو  معاہدوں پر دستخط کیے اور دہشت گردی کے خلاف   جنگ میں سعودیہ کا ساتھ دینے پر اتفاق کیا

سعودیہ کےجنوبی افریقہ کو اپنا ہمنوا بنانے کو عرب میڈیا سعودیہ کی بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے کیونکہ یہ   افریقہ کا سب سے مستحکم ملک ہے اور اس کےایران کے ساتھ بھی دیرینہ تعلقات ہیں،اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد   ان تعلقات پر کیا اثر ات مرتب ہوتے ہیں اور یہ کہ جنوبی افریقہ شام کے بارے میں اپنی پالیسی وہی رکھتا ہے یا تبدیل کرتا ہے؟

اس سارے سیناریو  سے دونوں ممالک(ایران اور سعودیہ) کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،اتنا یقینی ہے کہ یہ جنگ طاقت اور  اسلحے سے زیادہ حکمت ، تدبیر  اور اعصاب کی جنگ ہے،

سو جو جیتے وہی سلطان ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...