کیا قومی مفاد متعین ہوتا ہے ؟

330

،”قومی مفاد اور عوامی بہبود کے مقاصد ہمیشہ ایک دوسرے کے تابع نہیں ہوتے۔کسی ایک کی جستجو دوسرے کیلئے بڑے پیمانے پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے

پاکستان کے سابق سفیر توقیر حسین نے 16مارچ 2016کو ڈپلومیٹ میں پاکستان امریکہ تعلقات پر لکھا :”پاکستان کو چاہئے وہ اپنے اس وہم کو چھوڑ دے کہ امریکہ پاکستان کو چھوڑ نہیں سکتا،امریکہ کو بھی چاہئے کہ وہ اس تصورپر مٹی ڈالے کہ پاکستان امریکہ کی امداد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا یا پھر امریکہ کی جانب سے امداد کا سلسلہ بند ہو جانے پر پاکستان شکست وریخت سے دو چار ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفاد کے خلاف کچھ کرنے کی بجائے امداد کو چھوڑدے گا۔

حسین نے دو مفروضے پیش کئے ہیں،ایک امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی مستقل نہیں ہے،اور کہیں نہ کہیں یہ بدل کر سزا کی صورت اختیار کر جائے گی،اور دوسرا پاکستان کا قومی مفاد غیر تغیر پذیر ہے،وہ امریکہ کے دور رہنے سے آنے والی صعوبتیں تو برداشت کر لے گا ،بجائے اس کے وہ اپنے قومی مفاد کو چھوڑ دے یا اس پر نظر ثانی کرے۔ایک ہی صورت میں پارٹی کا قومی مفاد ردعمل کے ساتھ مشروط ہے ،جبکہ دیگر میں یہ غیر متغیر ہے۔

یہاں یقینی طور پر وہ ایک پارٹی _____امریکہ ہے___جو سزا دینے کی گنجائش رکھتی ہے اور دوسری__پاکستان ہے ___جو اس تکلیف کو برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہے۔واضح طور پر اس غیر مساوی تعلق میں امریکہ کے پاس پاکستان کی نسبت زیادہ اختیارات ہیں،اگرچہ یہ پارٹی کمزور ہے اور اس کے پاس بھی انتخاب میں فراوانی ہونی چاہئے۔تاہم حسین کا یہ بیان ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی کمزور کی دھمکی ہو جسے غیر حقیقی انداز میں طاقت ور تک پہنچایا گیا ہو۔سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کو ہی صعوبتیں برداشت کر نا ہیں تو یہ اپنے قومی مفاد میں ہی کو ئی لچک کیوں نہیں پیدا کر لیتا؟حسین کو پتہ ہے کہ قومی مفاد کیلئے آنے والے عذا ب کا سامنا حکمرانوں کو تو نہیں کرنا پڑے گا البتہ اس سے عوام کے سامنے طویل مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے سابق نگران وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے سابق نائب صدرشاہد جاوید برکی نے محض تین دن قبل ایکسپریس ٹریبیون میں لکھا تھا ،”قومی مفاد اور عوامی بہبود کے مقاصد ہمیشہ ایک دوسرے کے تابع نہیں ہوتے۔کسی ایک کی جستجو دوسرے کیلئے بڑے پیمانے پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ سب سے اہم سبق ہے جو ہم نے بیسویں صدی کے پہلے نصف میں خونی مقابلوں کی تاریخ سے سیکھا ہے۔رواں صدی کی پہلی دہائیوں کے آغاز پر ہم پھر سے یہ سب دیکھ رہے ہیں،کہ مذہبی شدت پسند ی عروج پر ہے اور دنیاکے مختلف حصوں میں انسانوں کی بڑی تعداد اور معیشت کو اپنے ساتھ بہا لے گئی ہے۔اسی لئے قومی مفاد سے زیادہ انسانی فلاح و بہبود کو فروغ دینا ، پالیسی سازوں کا سب سے اہم مقصد ہو نا چاہئے۔“برکی نوبل انعام یافتہ جون ناش کی معاشیات کی ایک تھیوری کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔

کچھ سیاسی ماہرین،عملیت(عملی معاملات)کی قسم کھاتے ہیں اور ”قومی مفاد“ کو دھوکہ سمجھتے ہیں۔کسی بھی ریاست کا واحد مقصد اس کی بقا ہو نا چاہئے،جس میں طاقت ور ہدایات دیں گے،کمزور کو لچک دکھا نا ہو گی۔اگر آپ ایک قبائلی معاشرے میں رہ رہے ہیں،تو مضبوط احمق اور کمزور ہو شیار بننے کی کو شش کریں گے۔تمام قومیں سمجھتی ہیں کہ ان کی ریاست خودمختار ہے ،دوسرے لفظوں میں وہ اتنے مضبوط ہیں کہ جبر

کے خلاف مزاحمت کر سکتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ قومیں مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوتی ہیں۔

کمزور ریاستوں کا قومی مفاد کیا ہونا چاہئے؟اس کے برعکس کہ قوم کیا چاہتی ہے،ذیل میں بیان کیا جارہا ہے،یہ کیسا ہونا چاہئے:

اس کی مخالفت یا مزاحمت نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی دیگر ریاستوں کی طاقت ور پروجیکشن سے اسے نقصان پہنچے،اتحادیوں کی تلاش جاری رکھنا تاکہ دشمن کوتنہا کر کے کامیابی سے نقصان پہنچایا جاسکے،ہر قسم کے بیرونی دباﺅ سے بچنے کیلئے داخلی اصلاحات کو بہتر بنانا،بین الاقوامی سطح پر تنہائی سے بچنا تا کہ دوسری ریاستیں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پربین الاقوامی قوانین کو استعمال کر تے ہوئے اسے نقصان پہنچانے کیلئے متحد نہ ہو جائیں۔یہ واضح ہو نا چاہئے کہ اقوام متحدہ کے نظام کے تحت ،سوائے سیکورٹی کونسل کے ووٹ کے دوسرا کوئی نظام نہیں ہو گا ،جس کا مقصد ہی یہ ہے کہ کوئی بھی ریاست سزا سے بچنے کیلئے علیحدگی سے بچے گی۔

مارچ میں اس سے قبل افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ محمد نے ایک پالیسی تجویز کی تھی،جو کہ پاکستان کے مفاد میں تو تھی لیکن صد افسوس پاکستان کے ” قومی مفاد“میں نہیں تھی۔وہ افغانستان اور بھارت کے مابین باہمی تجارت کیلئے زمینی راستہ دینے سے پاکستا ن کے انکار کی بات کر رہے تھے۔ایکسپریس ٹریبیون میں لکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا ”پاکستان کابھارت کی بنیاد پر نقطہ نظر بنیادی طور پر ایک منفی تصور ہے،وہ افغانستان میں بھارت کے کردار کو محدود کرناچاہتا ہے۔پاکستان کے کابل کے ساتھ گہرے اور دوستانہ تعلقات ہیں،اس کے باوجود افغان بھارت دو طرفہ تعلقات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔سب سے اہم بات یہ کہ بیشتر افغانی بھارت کو اپنے دوست اور اتحادی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

سیاسی ماہرین مقررہ قومی مفاد کی تھیوری پر سے یقین کھو چکے ہیں۔ریاستیں لچکدار مفاد رکھتی ہیں،عام آدمی کی فلاح و بہبود اور تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے عملیت پسند ی کو دھکیلنا پڑتا ہے۔لیکن قومیں ،قوم پرستی کے نشے میں ،خود کو نقصان پہنچانے کیلئے خود پر مستقل قومی مفاد عائد کر لیتی ہیں ،اس سے چاہے عوام کو تکلیف ہی کیوں نہ پہنچے۔

رابندرناتھ ٹیگور،جنوبی ایشیا میں ایک ہی شخص تھا جو قومیت پرستی سے نفرت کر تا تھا ،اس نے تب نوبل انعام جیتا جب یورپ قومیت پرستی اور جنگوں میں گھرا ہوا تھا جن کے نتیجے میں لاکھوں لوگ ہلاک ہوئے۔لیکن ہمیں اس حقیقت میں رعایت برتنا پڑے گی اور یہ قبول کرنا ہو گا کہ جس خطے میں رہتے ہیں،وہ قومی ریاستوں کو کاروباری ریاستوں میں نہیں بدل سکتا ،جو ایک دوسرے سے تجارتی تعلقات رکھتی ہوں نہ کہ غریبوں کی دیکھ بھال کرنے کی بجائے وقتاََ فوقتاََ جنگ لڑنے کیلئے فوجوں کا انتظام چلاتی ہوں ۔

(بشکریہ :انڈین ایکسپریس، انگریزی سے ترجمہ : احمد اعجاز)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...