پاک سر زمین پارٹی کی قیادت عشرت العباد کریں گے

322

آنے والے وقت میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ہی دراصل مصطفی کمال اینڈ کمپنی کی قیادت کریں گے

19 اپریل کوڈیفنس کراچی کے خیا بان سحر میں ایک اور پریس کانفرنس کی گئی جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما افتخار رندھاوا ، مصطفی کمال اور ان کے رفقاءکی کشتی میں سوار ہوگئے۔ایک روز قبل 18 اپریل کو بھی پریس کانفرنس بلائی گئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی اشفاق منگی نے پاک سر زمین پارٹی(پی ایس پی) میں شمولیت کا اعلان کیا تھا ۔اشفاق منگی مصطفی کمال کی نو مولود سیاسی جماعت پاک سر زمین میں شامل ہونے والے ایم کیو ایم کے چوتھے رکن اسمبلی ہیں ۔کراچی میں ہونے والی سیاسی تبدیلی کے بارے میں ملک بھر میں چہ میگوئیاں شروع ہوچکی ہیں۔

سارے معاملے پرجلتی پر تیل اس وقت پڑا جب 18 مئی 2013 کو نائن زیرو پر کارکنان کی جانب سے بعض رہنماں جس میں انیس قائم خانی ، حماد صدیقی ، مصطفی کمال سمیت دیگر پر تشدد کیا گیا اور گرانڈ پر اس واقعے کو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کنٹرل کر رہے تھے۔

کچھ لوگوں کا مؤقف ہے کہ مصطفی کمال کی پارٹی میں شامل ہونے والوں کو متحدہ قومی موومنٹ نے پہلے ہی سائڈ لائن کردیا تھا تو دوسری جانب یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ کیا سندھ کی دوسری اور ملک کی چوتھی بڑی جماعت اب اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے؟7 اپریل کو کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 245 اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 115 میں ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔ یہ دونوں نشستیں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر اور ریحان ہاشمی کی جانب سے لوکل باڈیز الیکشن لڑنے کی وجہ سے خالی کی گئیں تھیں۔قومی اور صوبائی اسمبلی کی ان نشستوں پر متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بالترتیب کمال ملک اورفیصل رفیق کو نامزد کیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم نے دونوں نشستوں پر باآسانی کامیابی حاصل کرلی مگر ماضی کے مقابلے میں کم ووٹ حاصل کئے بالخصوص اگر اس کا موازنہ ایک سال قبل اپریل 2015میں این اے 246 میں ہونے والے ضمنی الیکشن سے کیا جائے جس میں متحدہ کے امیدوار کنور نوید جمیل نے ریکارڈ 95000 سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے۔

ایک سابق اعلی سیکورٹی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتا یا کہ حقیقتاً یہ لڑائی انیس قائم خانی اور عامر خان کے درمیان ہے ۔ اعلی سیکورٹی افسر نے کراچی میں کئی سال انتہائی اہم عہدے پر خدمات انجام دیں اور ایم کیو ایم کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت میں بھی اہم کردار ادا کرچکے ہیں

این اے 246 کی نسبت حیرت انگیز طور پرحال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کسی بھی جماعت کی جانب سے کوئی قابل ذکر انتخابی مہم بھی نہیں چلائی گئی۔ دلچسپ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب انتخاب سے ایک روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوارامجد اللہ خان نہ صرف پی ٹی آئی کی نشست سے دستبردار ہوگئے بلکہ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پہنچ کر اس میں شمولیت کابھی اعلان کردیا ۔پی ٹی آئی کے رہنما عمران اسماعیل نے اسے پارٹی کے لئے دھچکا قرار دیا تھا۔دوسری جانب پاک سر زمین پارٹی نے 24 اپریل کو مزار قائد کے ساتھ واقع باغ جناح میں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کررکھا ہے ۔اسی سلسلے میں مصطفی کما ل اور انیس قائم خانی نے کراچی کے مختلف علاقوں کے دورے شروع کردیے ہیں۔وہ عوام کو راغب کررہے ہیں کہ وہ اس جلسے میں شرکت کریں اور ان کی پارٹی میں شمولیت بھی اختیار کریں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ پی ایس پی کا جلسہ بہت سے حقائق سامنے لائے گا ۔دوسری طرف ایم کیو ایم میں کچھ لوگ شمولیت اختیار کررہے ہیں ۔ ذرائع کی جا نب سے دعوی کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم بھی سیاسی شخصیات کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دے رہی ہے  اور حال ہی میں ایم کیو ایم کے ایک منحرف رہنما نبیل گبول سے متحدہ نے دوبارہ رابطہ کیا ہے اور انہیں نہ صرف پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے بلکہ انہیں سینیٹر یا ایم این اے بھی منتخب کروانے کا وعدہ کیا ہے ۔

انیس قائم خانی نے کہا کہ میرے پاس تین سے چار ایم این ایز اور ایم پی ایز  ہیں جو آپ کی پارٹی کے قیام کے اعلان کے فوری بعد آپ سے مل جائیں گے۔ 

18 اپریل کو ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر ندیم نصرت نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے اہم پریس کانفرنس کی اور پاک سر زمین پارٹی کے رہنماﺅں کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئی ایس آئی کے بعض افسران متحدہ کے ارکان پارلیمنٹ اور دیگر رہنماﺅں کو فون پر دھمکیا ں دے رہے ہیں اور نئی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے لئے زور دے رہے ہیں۔ندیم نصرت نے دعوی کیا کہ اگر آرمی چیف جنرل راحیل شریف وقت دیں تو وہ ایجنسی کے ان افسران کے نام ، رینک اورفون نمبرز بتانے کو تیار ہیں جن ان کے ساتھیوں کو پی ایس پی میں شامل ہونے کے لئے ڈراد ھمکا رہے ہیں۔بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ خیابان سحر میں پرورش پانے والی سیاسی جماعت دراصل اسٹیبلشمنٹ کے سائے تلے پنپ رہی ہے لیکن کچھ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اپنی پالیسیوں کی وجہ سے اس حال کو پہنچی ہے جس کے سدھار کے لئے مصطفی کمال وارد ہوئے ہیں ۔

ایک ایم این اے نےان سے کہا کہ انیس قائم خانی نے آپ کے لئے پیغام بھجوایا ہے کہ اگر نبیل بھائی ہمت کریں تو دو تین ایم این ایز اور دو تین ایم پی ایز پارٹی چھوڑنے کے لئے تیار ہیں لیکن لیڈ نبیل گبول کریں گے

نبیل گبول نے تجزیات آن لائن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مصطفی کمال سے پہلے انہیں اس کردار کے لئے منتخب کیا گیا تھا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے منع کردیا ۔ اس بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا جب وہ ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو پارٹی کے دیگر ایم این ایز کے ساتھ پارلیمنٹ لاجز میں بیٹھک ہوتی تھی۔متحدہ کے ارکان پارلیمنٹ الطاف حسین کی جانب سے رہنماﺅں کی بے عزتی پرپریشان رہتے تھے اور ایک دن اسی بارے میں گفتگو ہورہی تھی۔ نبیل گبول کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس وقت اس نشست میں مزید باتیں اگلوانے کے لئے ان اراکین پارلیمنٹ کے سامنے اعلان کیا کہ وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔پھر کچھ دن بعد اس نشست میں موجود ایک ایم این اے نےان سے کہا کہ انیس قائم خانی نے آپ کے لئے پیغام بھجوایا ہے کہ اگر نبیل بھائی ہمت کریں تو دو تین ایم این ایز اور دو تین ایم پی ایز پارٹی چھوڑنے کے لئے تیار ہیں لیکن لیڈ نبیل گبول کریں گے۔ پھر ایک دن نائن زیرو پر انیس قائم خانی اور نبیل گبول کی ملاقات ہوئی جہاں نبیل گبول کے بقول انیس قائم خانی ڈرے ہوئے تھے اورا نہوں نے کہا کہ یہاں بات کرنا مناسب نہیں کیونکہ الطاف حسین نے پورے نائن زیرو کو ٹیپ کیا ہوا اور یہاں ہونے والی ہر بات لندن میں سنی جاتی ہے۔ انیس قائم خانی کے ملک سے باہر جانے سے ایک ہفتہ قبل دونوں کی ملاقات سابقہ شیرٹن ہوٹل (جو اب موون پک ہوچکا ہے )کی لابی میں ہوئی ۔ اس ملاقات میں انیس قائم خانی نے نبیل گبول کو کہا کہ بہت لوگ تنگ ہیں اور اگر آپ ہمت کریں اور لیڈ کریں کیونکہ آپ کے سیاسی لوگوں سے بھی رابطے ہیں ، “کچھ اور لوگ “بھی آپ کو پسند کرتے ہیں ۔ نبیل گبول نے مزید بتایا کہ انیس قائم خانی نے کہا کہ میرے پاس تین سے چار ایم این ایز اور ایم پی ایز  ہیں جو آپ کی پارٹی کے قیام کے اعلان کے فوری بعد آپ سے مل جائیں گے۔ نبیل گبول نے قائم خانی کو جواب دیا کہ جب تک انہیں ٹھوس پیغام اور مظبوط یقین دہانی نہیں ملتی ، وہ اس طرح اس گیم کا حصہ بن کر رسک نہیں لے سکتے ۔نبیل گبول نے انیس قائم خانی کو جواب دینے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی تاہم اسی دوران قائم خانی ملک سے باہر چلے گئے۔

نبیل گبول نے تجزیات آن لائن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مصطفی کمال سے پہلے انہیں اس کردار کے لئے منتخب کیا گیا تھا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے منع کردیا ۔ 

ایک سابق اعلی سیکورٹی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتا یا کہ حقیقتاً یہ لڑائی انیس قائم خانی اور عامر خان کے درمیان ہے ۔ اعلی سیکورٹی افسر نے کراچی میں کئی سال انتہائی اہم عہدے پر خدمات انجام دیں اور ایم کیو ایم کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت میں بھی اہم کردار ادا کرچکے ہیں ۔ اعلی افسر نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ انیس قائم خانی ایم کیو ایم کا دماغ تھا جس کا پارٹی کے بنیادی ڈھانچے یعنی سیکٹر اور یونٹ پرمکمل کنٹرول تھا ۔ انیس قائم خانی کی ہی موجودگی میں سیکٹر اور یونٹ کا کنٹرول عامر خان کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئیں جو انیس قائم خانی کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا۔ اس سارے معاملے پرجلتی پر تیل اس وقت پڑا جب 18 مئی 2013 کو نائن زیرو پر کارکنان کی جانب سے بعض رہنماﺅں جس میں انیس قائم خانی ، حماد صدیقی ، مصطفی کمال سمیت دیگر پر تشدد کیا گیا اور گراﺅنڈ پر اس واقعے کو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کنٹرل کر رہے تھے۔اسی صبح مصطفی کمال کی جانب سے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے رابطہ کیا گیا او ر انہیں سا بق ناظم کراچی نے آگاہ کیا کہ ان کی فیملی کی جان کو خطرات لاحق ہیں اور ان کی مدد کی جائے۔ذرائع نے دعوی کیا کہ گورنر سندھ نے فوری طور پر کراچی کے ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سربراہ سے رابطہ کیا جس کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے مصطفی کمال کی فیملی کو ان کے  گھر سے محفوظ مقام پر منتقل کیا ۔ اس کے بعد مصطفی کمال اور ان کی اہل خانہ کے بارے میں معلومات صرف گورنر سندھ تک محدود تھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور گورنر سندھ نے ہی سابق میئر کو ملک سے نکلنے میں فراہم کی۔سابق اعلی سیکورٹی افسر نے مزید دعویٰ کیا کہ آنے والے وقت میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ہی دراصل مصطفی کمال اینڈ کمپنی کی قیادت کریں گے ۔ 3 مارچ کو مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے کراچی میں لینڈ کرنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ چھوڑنے کا اعلان پر ہجوم پریس کانفرنس میں کیا ۔دوران گفتگو دونوں رہنماﺅں نے اپنی سابقہ جماعت چھوڑنے کی بنیادی وجہ الطاف حسین کی جا نب سے پارٹی رہنماﺅں کی تذلیل قرار دیا تھا نہ کہ پارٹی کے بھارتی خفیہ ایجنسی ” را” کے ساتھ مبینہ تعلقات۔ پاک سر زمین کے رہنماﺅں کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے جرائم پیشہ عناصر کو عام معافی اعلان کیا جائے۔سابق افسر کا مؤقف ہے کہ مصطفی کمال اینڈ کمپنی کا اصل ہدف 2018 کے انتخابات ہیں۔ ایم کیوایم کے بیشتر جرائم پیشہ عناصر سیکٹر اور یونٹ کے رکن ہیں اور جس نے ان کا کنٹرول حاصل کرلیا وہی سکندر ٹہرے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...