کیا اویغر مسلمانوں کے بارے میں چین کی پالیسی بدل رہی ہے ؟

529

گذشتہ سال کے آخر میں سینکڑوں اویغر نے طالبان اوراُزبک اسلامی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان کے شمالی علاقے قندوز پر حملہ کرنے کے لیے جس کی سرحد وسطی ایشیا سے منسلک ہے ،طالبان کا ساتھ دیا۔

چین کی طرف سے اویغر نسل مسلمانوں( جن پر کئی برس سے ظلم ہو رہا ہے)  کے لیے پہلی بار مصالحتی بیان جاری کیا گیا ہے۔اور کیا یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ اُنہیں خوف  اور  احساسِ ندامت سے نکالنا چاہتے ہیں  کہ اویغر عسکریت پسند پوری دنیا میں پھیل کر  اسلام کے سپاہی  بن چکے ہیں ۔

چین کے وزیرِ اعظم لی کے چیانگ نے سنکیانگ صوبہ کے کمیونسٹ پارٹی کے چیف اور وفد سے بات کی۔ایسا لگتا ہے کہ پہلی بار تسلیم کیا گیا  اویغر نوجوانوں میں مایوسی کی وجہ اویغر ثقافت کاخاتمہ او ر صوبے میں ملازمتوں کی کمی ہے ۔

اور ہمسایہ ریاستیں یہ سوال اُٹھارہی ہیں کہ چین کے اندر یہ صلاحیت نہیں کہ وہ اویغر آبادی سے منصفانہ معاملات طے کرسکے اور اس رجحان پر قابو پاسکے۔

چین کے وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس میں بتایا کہ ان لوگوں خصوصاًنوجوانوں کے لیے کچھ کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے لیے روزگار حاصل کر سکیں  ۔اُس نے نجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ سنکیانگ میں سرمایہ کاری کریں ۔ چین کی آبادی اپنے پڑوسی اویغر بھائیوں سے میل جو ل رکھے ۔سنکیانگ میں ترقی اور استحکام ….قومی ،نسلی اتحاداور نیشنل سکیورٹی پر اثر انداز ہو گی۔کئی سالوں سے ایک کروڑ اویغر پر جو سنکیانگ میں رہتے ہیں وہ ظالمانہ اقدامات کی زد میں ہیں۔

سخت کریک ڈان

یہاں مسلم روایات پر سختی کی جاتی ہے ،چین میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ مساجد میں اذان دینے سے روکا جاتا ہے ،رمضان میں روزوں پر پابندی ہے ،جن بچوں کی عمر اَٹھارہ برس سے کم ہے ،اُن کا مساجد میں داخلہ ممنوع ہے اوراویغر کلچر اور زبان کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔نسلی او رمذہبی طور پر ظلم و ستم کئی گنا بڑھ چکا ہے ،یوں اویغر سکیورٹی کے اداروں اورہان چائینز پر حملے کرتے ہیں ۔تاہم بجائے اس کے کہ ذمہ دار عسکریت پسندوں کو سزا ملتی چین نے پوری اویغر آبادی کوسزادی او ر نشانہ بنایا۔چین کے ان اعمال کے بارے  میں پوری مسلم دنیا میں یہ تاثر دیا گیا کہ یہ  اسلام کے خلاف جنگ ہے۔چینی حکام نے یہ دعویٰ کیا کہ اُنہوں نے سنکیانگ میں 2014ء سے دو سو عسکریت پسندوں کا قلع قمع کیا ہے اور49 شدت پسندوں کو پھانسی دی ہے۔

انڈونیشامیں بھی او یغر ہیں جو مقامی عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں ۔جنوری میں انڈونیشی انٹیلی جنس کے آفیسر نے کہاکہ اویغر اسلامک اسٹیٹ میں بھرتی ہورہے ہیں جس کا لیڈر ابووردہ سنتوسوہے،جو ملک کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔

تقریباًدودہائیوں سےاویغر عسکریت پسند افغانستان اور پاکستان میں جنگجویانہ تربیت حاصل کررہے ہیں ۔وہ     طالبان  اور وسطی ایشیا کے چند گروہوں کے ساتھ مل کران ملکوں میں لڑ رہے ہیں ۔یہی چین کے لوگوں کے غصے کی وجہ بنی ہے۔حال ہی میں سنکیانگ میں اویغر نے سکیورٹی فورسز پر کلاشنکوفوں اور دھماکوں کی بجائے چھرے اور ڈنڈوں سے حملے شروع کر دیے ہیں ۔

ہمسایہ ممالک

چین نے اپنے ہمسائیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اویغر آبادی کو سکونت اختیار نہ کرنے دیں ۔پاکستان نےاویغر عسکریت پسندوں کو باہر نکلنے پر تو مجبور کر دیا ہے مگر زیادہ تر سرحد عبور کر کے افغانستان چلے گئے ہیں جہاں وہ طالبان کے ساتھ مل کر حکومت گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

گذشتہ سال کے آخر میں سینکڑوں اویغر نے طالبان اوراُزبک اسلامی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان کے شمالی علاقے قندوز پر حملہ کرنے کے لیے جس کی سرحد وسطی  ایشیا سے منسلک ہے ،طالبان کا ساتھ دیا۔اویغر کی مختلف جہادی تحریکوں  میں موجودگی سے چین خوفزدہ ہے،اویغر عسکریت پسند افغانستان سے شام او رعراق چلے گئے ہیں ،جہاں وہ دیگر بہت سے انتہاپسندوں کے ساتھ ملکر لڑ رہے ہیں ۔

اویغر عسکریت پسندوں کا سب سے پرانا گروہ ،1990 میں ابھر کر سامنے آیا جو خود کو مشرقی ترکستان اسلامک تحریک کا حصہ بتاتے تھے او ر اسامہ بن لادن اور طالبا ن کے ملاعمر کے وفادار تھے۔بن لادن اور ملا عمر دونوں اب اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ۔اویغر نے عرب دنیا میں اپنا نام بدل کر ترکستان اسلامک پارٹی رکھ لیا ہے ۔

شام میں اویغر وں نے اپنے الگ  یونٹ بنارکھے  ہیں اور اس کے ساتھ ان کے دیگر یونٹس الگ ہیں جو کہ ازبک،تاجک،کرغز اور دیگر گروپوں  کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔وہ زیادہ تر القاعدہ کے لیے  لڑتے ہیں جو النصر فرنٹ کے ساتھ منسلک ہیں۔

تاہم اویغر عسکریت پسند تھائی لینڈ اور ملائشیا میں بھی پھیل چکے ہیں جو کہ چین کی قومی سلامتی ،تجارت،سرمایہ کاری اور اچھی ہمسائیگی کے لیے خطرہ ہیں۔گزشتہ اگست میں مبینہ طو رپر او یغر وں نے بنکاک کے ایک مقام پر حملہ کیا جو چائینز سیاحوں سے بھر ا ہوا تھا ،جس میں بیس لوگ مارے گئے،بعد میں دو مشتبہ لوگ پکڑے گئے جو کہ اویغر تھے۔ایک ماہ قبل تھائی حکام نے ایک سو اویغرمہاجرین کو ملک بدر کیا جو کہ تھائی لینڈ میں سیاسی پناہ چاہتے تھے،او ر یہ ماناجاتا ہے کہ وہ حملے اس کے بدلے میں کیے گئے تھے ،جن مہاجرین کو زبردستی چین بھیجا گیا۔

انڈونیشیاءمیں اویغر

انڈونیشامیں بھی او یغر ہیں جو مقامی عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں ۔جنوری میں انڈونیشی انٹیلی جنس کے آفیسر نے کہاکہ اویغر اسلامک اسٹیٹ میں بھرتی ہورہے ہیں جس کا لیڈر ابووردہ سنتوسوہے،جو ملک کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔سولاواسی کے جزیروں پر واقع جنگلات میں اویغر سنتوسو کے ہیڈکواٹر  واقع ہے ۔

16مارچ کو انڈونیشیا کی سکیورٹی فورسز نے سولاویسی میں دو اویغر عسکریت پسندوں کو مارڈالا تھا۔انڈونیشیا اور چین کے حکام کے مابین اُس قریبی تعاون کا فقدا ن ہے کہ جس کے تحت وہ اویغر کی غیر قانونی لہر کو انڈونیشیا میں داخل ہونے سے روک سکیں۔

بدقسمتی سے جنوبی ایشیا میں او یغر کی موجودگی اور عسکریت پسندی اویغروں کی وجہ سے آئی ۔یہ ظلم وستم اور انتقام اُس وقت شروع ہوا جب انھیں  مہاجرین کے طورپراپنے وطن سے بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا۔میزبان ملکوں پر دبا پڑا اور وہ سیاسی پناہ دینے کے قابل نہ رہے تو اُن میں سے کچھ شدت پسند بن گئے۔

چین وسیع پیمانے پر دہشت گردی اور اسلامی شدت پسندی سے نمٹنے  کا تجربہ نہیں رکھتااور یقینی طورپر نہ اس نے اس سے  جان خلاصی  کی کوشش کی ہے۔اب چین کو دونوں طرف سے خطرہ ہے،اور ہمسایہ ریاستیں یہ سوال اُٹھارہی ہیں کہ چین کے اندر یہ صلاحیت نہیں کہ وہ اویغر آبادی سے منصفانہ معاملات طے کرسکے اور اس رجحان پر قابو پاسکے۔چینی حکام کا حالیہ بیان مصالحت کے  رجحان کی جانب ،ایک پیش رفت ہو سکتاہے ۔

(احمد رشید نامور تجزیہ کار  ہیں، پاک افغان اور وسطی ایشیاء کے امور پر پانچ کتابیں لکھ چکے ہیں ۔ ان کا زیر نظر مضمون الجزیرہ کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے )

بشکریہ الجزیرہ :ترجمہ :احمد اعجاز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...