فکری افلاس کے آسیب میں مبتلا سماج

440

پاکستان میں ذرائع ابلاغ سے لیکر ادب، درس و تدریس سمیت سیاسی طرز تفکر کے علاوہ مختلف تحقیقاتی اداروں میں اختیارکے جانیو الے مباحثوں میں فکری افلاس کے آسیب کی جھلک نظر آتی ہے

ان دِنوں امام غزالی کی کتاب تہافتہ فلاسفہ زیر مطالعہ ہے اس شہرہ آفاق کتاب جس میں پہلی مرتبہ یونانی منطق پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے، کئی منطقی مغالطوں کی نشاندہی کی گئی، ابو نصر فارابی اور ابن سینانے فلسفے اور مذہب میں جو میلان پیدا کرنے کیلئے عمار ت کھڑی کی گئی اس پر غزالی نے شدید حملے کئے اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یونانی منطقی ہتھیاروں سے مذہب کی توضع و تشریح نہیں ہوسکتی ۔یہ الگ بات ہے کہ ابن رشد نے اپنی کتاب تہافتہ التہافہ میں ارسطالیسی منطق کے حق اور امام غزالی کے حملوں کے جواب دئیے ۔

ابن رشد مسلمانوں کی تاریخ کا شاید وہ آخر ی بڑا فلسفی تھا جس کی علمی خدمات کا اعتراف مشرق و مغرب نے بلاامتیاز سب نے کیا ۔ اگرچہ نویں صدی عیسوی میں الکندی سے شروع ہوکر بارہویں صدی عیسوی میں ابن رشد تک ختم ہونیوالا مسلمانوں کا فلسفیانہ اور عالمانہ دور کسی بھی طور یونانی دور عروج میں چھوڑے گئے علمی ورثے سے باہر نہیں نکل سکا۔ مسلمانوں نے جہاں یونانی عقلی علوم کے تراجم کئے ،حاشیے لکھے اور انہیں آگے بڑھانے کیلئے طرز استدال میں جدت لائی وہاں یونانی طرز فکر کی بنیاد پر مذہبی علوم کیلئے فکری پیمانے بھی متعین کئے۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے معلوم پڑ تاہے کہ علمی میدان میں رد و قبول کیلئے دیئے جانے والے دلائل کس قدر ریاضت کے متقاضی ہیں ۔

ارسطو نے انسانی فکر کوجس نہج تک پہنچا یا اس کے تقریبا ً ایک ہزار کے لگ بھگ کا دورانیہ فلسفیانہ طور پر بانجھ نظر آتا ہے جبکہ فکر انسانی کی مشعل یونان نے جہاں سے چھوڑی مسلمانوں نے وہی امانت مغرب کو پھر لوٹا دی ۔ یہ حبِ دانش ہی ثمرہ تھاکہ اس دور میں ریاضی ، فلسفہ ،منطق، طبیعات ، مابعدالطبیعات ، لسانیات سمیت عمرانی علوم کا بے بہا خزانہ برآمد ہوا کیونکہ فکری افلاس کے آسیب میں پروان چڑھنے والے بانجھ سماج میں یہ اہلیت نہیں ہوتی کہ دعووں کے ردو قبول کو منظم انداز میں پرکھ سکے ۔

نویں صدی عیسوی میں الکندی سے شروع ہوکر بارہویں صدی عیسوی میں ابن رشد تک ختم ہونیوالا مسلمانوں کا فلسفیانہ اور عالمانہ دور کسی بھی طور یونانی دور عروج میں چھوڑے گئے علمی ورثے سے باہر نہیں نکل سکا۔ 

برصغیر کی تاریخ میں اگرچہ مشرقی دانش اپنی اہمیت حاصل ہے جس کی جڑیں روایات، تہذیب وتمدن کے علاوہ مذہب میں پیوستہ نظر آتی ہیں تاہم کوئی بڑا فلسفی پیداکرنے میں ناکام رہی ہے جس نے عالمی علمی ورثے میں خاطر خواہ حصہ ڈالا ہو جبکہ قیام پاکستان کے بعد فکری زمین قحط زدہ نظر آتی ہے جہاں دور دور تک کسی نابغہ روزگار کا نام ونشان تک نہیں ۔ جس کے ثمرات میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نابغے پیدا ہونا ختم ہو گئے ہیں ۔آپ ضرو ر کہہ سکتے ہیں کہ علامہ اقبال ، ڈاکٹر عبدالسلام ، علی عباس جلال پوری جیسے نابغوں کو نظر انداز کیا گیاہے جب ان سمیت جملہ کئی نامور شخصیات کی تاریخ پیدائش کی کھوج لگائیں تو معلوم پڑے گاکہ وہ تقسیم ہند سے پہلے پیدا ہوئے۔قیام پاکستان کے بعد تشکیل پانے والے سماجی ، سیاسی ،ثقافتی اور علمی ماحول نے کس نابغے کو جنم دیا ہے جس نے عالمی مکالمے کو آگے بڑھایاہو۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ سے لیکر ادب، درس و تدریس سمیت سیاسی طرز تفکر کے علاوہ مختلف تحقیقاتی اداروں میں اختیارکے جانیو الے مباحثوں میں فکری افلاس کے آسیب کی جھلک نظر آتی ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ملک خداد میں معلوم کرنے کی کبھی کوئی منظم کوشش نہیں ہوئی کہ ہم خرد دشمنی میں کیوں مبتلا ہیں؟ اور فکری سطحیت افراد سے لیکر سماج ، ریاستی اداروں سے لیکر حکمران سبھی کی فکر ی ساخت پر کس طرح اثر انداز ہو تی ہے؟بڑی بڑی جامعات میں ہر سال تحقیق کے نام پر سامنے آنے والا چربہ معاشرے میں کسی بہتری کا کیا سامان پیدا کرسکتا ہے ؟فکری سطحیت کی کوکھ سے جنم لینے والا ادب سماجی رویوں میں کیا بہتری لاسکتا ہے؟ کج فہمی میں مبتلا ذرائع ابلاغ سے معاشرتی اصلاح کی کیا توقع ہوسکتی ہے؟ فکری طور پر بنجر سیاسی بیانیے کس نوعیت کی قیادت فراہم کرسکتی ہے ؟

انسانی طرز فکر پر اثر انداز ہونیوالے عوامل میں سماجی رویے تدریسی اداروں کا کر دار سب سے اہم ہوتا ہے لیکن پاکستان میں جامعات کی صورتحال بد ترین معلوم ہوتی ہے۔اس کی تصدیق اس وقت ہوئی جب پاکستان کی صف اول کی جامعہ قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف سے انٹرویو کے ددران میں نے یہ سوال سامنے رکھا کہ اعلی تعلیمی کمیشن کی صف بندی میں قائداعظم یونیورسٹی کا درجہ اول رہتاہے لیکن حیرت ہے کہ یہاں پر فلسفے کا شعبہ ہی موجود نہیں ہے ۔جس کے جواب میں کہنے لگے بھئی یہاں فلسفہ پڑھنے والوں کو مالی کی نوکری بھی نہیں ملے گی۔

جب میں نے دوبارہ پوچھا کہ جناب آپ امریکہ میں 38 سال تدریس کے شعبے میں وابستہ رہے ہیں تو کیا وہاں پر فلسفے کے شعبہ جات بند کردئے گئے ہیں تو کہنے لگے وہاں کی بات کچھ اور ہے پاکستان کا معاملہ کچھ اور ہے ۔یہاں ہمیں انجینئر اور ڈاکٹروں کی ضرورت ہے فلسفیوں کی نہیں ۔ باتیں تو بہت ہوئیں انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ پاکستان میں سماجی علوم تحقیق کا وہ میعارنہیں ہے جو ہونا چاہیے ، جب میں نے اسی اعتراف کو انٹرویوکی شکل میں شائع کیا توقائداعظم کے سماجی علوم شعبوں کے اساتذہ میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ۔

قیام پاکستان کے بعد فکری زمین قحط زدہ نظر آتی ہے جہاں دور دور تک کسی نابغہ روزگار کا نام ونشان تک نہیں ۔ جس کے ثمرات میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نابغے پیدا ہونا ختم ہو گئے ہیں ۔

یہ ایک یونیورسٹی کی بات نہیں ہے ۔ریاستی سطح پر تعلیم نظام میں کہیں بھی معقولات کسی بھی سطح پر تدریس کا حصہ نہیں ہیں ۔ اعلی تعلیمی کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹرمختارکے ساتھ بھی کئی مرتبہ گفتگو ہوئی انہوں نے بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی کمی ہے اس لئے پاکستان میں ہونیوالی تحقیق بین الاقوامی میعار کے مطابق نہیں ہے ۔ یہ سن کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ شاید اسی لئے جامعات میں پی ایچ ڈی کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے اور پاکستا نی جامعات سے فارغ التحصیل نہیں فارغ العقل قرار پا نے والوں سے علمی میدان میں کسی کارنامے اور سماج میں کسی بہتری کی توقع فضول ہے ۔

بین الامی سطح پر جامعات کی درجہ بندی کرنے والے کیو ایس رینکنگ کے مطابق دنیا کی سرفہرست دس عظیم جامعات جو سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت جملہ معاصر علوم کی درجہ بندی میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں ان جامعات کی شعبہ ہائے فلسفہ بھی اعلی ٰ درجات کے حامل ہیں جبکہ پاکستان کی سینکڑوں جامعات میں سے فقط چند ایسی ہیں جہاں فلسفے کے شعبے موجود ہیں جہاں پر فلسفے کے نام پر تاریخ، دینیات اور الالہیات  پڑھائی جارہی ہیں لیکن وفاقی دارلحکومت کی ایک بھی جامع ایسی نہیں ہے جہاں فلسفے کا شعبہ موجود ہو۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں فلسفے پر کوئی میعاری کتا ب نظر نہیں آتی ۔گذشتہ دنوں نیشنل بک فائونڈیشن اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے کتاب کے فروغ کیلئے میلے لگے جہاں پر ملک بھر سینکڑوں پبلشرز نے اپنے سٹالز لگائے تاہم فلسفے کے موضوعات پر ایک درجن سے زیادہ کتابیں بھی نکال لانا جوئے شیر کے مترادف ہے ۔کچھ شہرت کے پجاریوں کی جانب سے مشہور زمانہ فلسفیوں کے کتابوں کے تراجم تو نظر آتے ہیں جنہیں پڑ ھ کر صاحب کتاب فلسفی بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں ۔

(نوٹ : الماس حیدر نقوی پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں اور روزنامہ دنیا اسلام آباد کے ساتھ وابستہ ہیں )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...