بات سیاسی کلچر کی ہے

376

مارشل لاؤں کے طویل ادوار نے اسٹوڈنٹس یونین پر 1984ء سے پابندی لگا رکھی ہے ۔مارکیٹ اکانومی نے ٹریڈ یونین کی اسپیس بھی سکیڑ رکھی ہے ۔مقامی حکومتوں کا نظام بھی آتا جاتا رہتا ہے ۔گویا سیاست سیکھنے کی تمام نرسریاں بند ہیں ۔

آغاز تو ہمارا بھی خوب تھا ۔ 10 اگست 1947 ء کو جب پاکستانی کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ہوا تومنصب ِ صدارت پر دلت رہنما جوگیندر ناتھ منڈل بیٹھے تھے ۔چلیں اگر یہ علامتی تھا تو 1951 کے لاہور چلتے ہیں جہاں ایک مزدور رہنما مرزا ابراہیم احمد ،سعید کرمانی کے مقابلے میں صوبائی الیکشن لڑتے ہیں ۔فیض احمد فیض اور مظہر علی خان ان کی مہم ایسے چلاتے ہیں کہ اس وقت کے ڈپٹی کمیشنر ایس ایس جعفری کو ووٹوں کی گنتی اتنی بار کرانا پڑتی ہے کہ مزدور رہنما کے اڑھائی ہزار ووٹ مسترد ہو جائیں اور ان کا حریف جیت جائے ۔اس وقت میڈیا مینجمینٹ سیل اور سپن ڈاکٹروں کا تصور نہ تھا اس لئے اگلے روز اخبارات نے سرخی جماعی “جھرلو پھر گیا “۔

1954 کے مشرقی پاکستان میں بھی کیا خوب ہوا ۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علم راہنما خالق نواز خان نے وزیر اعلیٰ نور الامین کو صوبائی الیکشن میں شکست دے دی ۔پھر کیا تھا ہم ووٹ کی قوت سے گھبرا گئے اور “الیکٹورل کالج کو نام پر بنیادی جمہوریت کی فصل کاشت کرنے لگے ۔

1985ء کے غیر جماعتی انتخابات نے پولیٹیکل ورکر کو پولیٹیکل مزدور اور دیہاڑی دار بنا دیا ۔سیاسی محنت اور ذہانت کی جگہ دولت نے لے لی ۔

کنٹرولڈ جمہوریت کا یہ ہتھیار اتنا مؤثر تھا کہ مادر ملت  فاطمہ جناح بھی الیکشن ہار گئیں۔1970ء میں بالغ رائے دہی کا حق ملا تو عوام نے کئی روایتی مہرے پچھاڑ دیئے اور مڈل کلاس کے کئی لوگ ایوانوں تک جا پہنچے ۔سب سے بڑی مثال بلوچستان کے قبائلی سماج میں ڈاکٹر حئی بلوچ کی جیت تھی ۔1977ء میں ووٹ کی قوت ایک بار پھر متنازعہ ہو گئی تو مارشل لاء آگیا ۔تاہم 1977ء کےا نتخابات میں پہلی بار ایک خاتون بیگم نسیم ولی خان نے بھی براہِ راست الیکشن جیتا ۔نئے مارشل لاء نے الیکٹورل کالج تو نہ بنایا لیکن وہ کام کیا جس کی قیمت ہم آج بھی ادا کر رہے ہیں ۔1985ء کے غیر جماعتی انتخابات نے پولیٹیکل ورکر کو پولیٹیکل مزدور اور دیہاڑی دار بنا دیا ۔سیاسی محنت اور ذہانت کی جگہ دولت نے لے لی ۔خیر جب 1988ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں ہم سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر الیکشن کی طرف پلٹے بھی تووہاں بھی “جیتنے والے گھوڑوں کا راج ” قائم ہو گیا۔تاہم کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم عام آدمی کو سامنے لائی ۔پی پی پی کے کئی کارکنوں نے بڑے بڑے پیروں اور میروں کو شکست دی ۔کئ  مذہبی جماعتوں کے عام لوگ بھی اکا ادکا اسمبلیوں میں پہنچے پھر 2002ء میں متحدہ مجلس ِ عمل نے کئی عام لوگوں کو الیکشن جتوا دیا ۔چند غریب غرباء کی انتخابی جیت کو مجموعی سیاسی منظر نامے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ آٹے میں نمک کے برابر تھے اور شاید آج بھی ہوں وگرنہ سیاسی کلچر کا غالب حصہ دولت اور وراثت کی سیاست سے بنا ہے ۔

مارشل لاؤں کے طویل ادوار نے اسٹوڈنٹس یونین پر 1984ء سے پابندی لگا رکھی ہے ۔مارکیٹ اکانومی نے ٹریڈ یونین کی اسپیس بھی سکیڑ رکھی ہے ۔مقامی حکومتوں کا نظام بھی آتا جاتا رہتا ہے ۔گویا سیاست سیکھنے کی تمام نرسریاں بند ہیں ۔ایسے میں اگر کوئی عام آدمی ایوانوں تک پہنچ بھی جائے تو اسے خوشگوار حادثہ ہی کہا جا سکتا ہے ۔

ڈپٹی کمیشنر ایس ایس جعفری کو ووٹوں کی گنتی اتنی بار کرانا پڑتی ہے کہ مزدور رہنما کے اڑھائی ہزار ووٹ مسترد ہو جائیں اور ان کا حریف جیت جائے ۔اس وقت میڈیا مینجمینٹ سیل اور سپن ڈاکٹروں کا تصور نہ تھا اس لئے اگلے روز اخبارات نے سرخی جماعی “جھرلو پھر گیا “۔

یہ ساری کہانی اس لئے سنانا پڑی کہ آج کئی پاکستانی صادق خان کی بطور  لندن کے میئر کی جیت پر خوب خوش ہیں ۔دنیا بھر کا میڈیا بھی لکھ رہا ہے کہ پاکستان سے ہجرت کر جانے والے بس ڈرائیور کا بیٹا آج دنیا کے اہم ترین شہر کا میئر ہے ۔ویسے تو برطانوی سیاست میں صادق خان پہلے رکن ِ پارلیمنٹ اور وزیر بھی رہے ۔سعیدہ وارثی اور سجاد کریم کی کہانی بھی ملتی جلتی ہے اور وہ بھی وہاں سیاست میں کامیاب ہیں ۔آج بھی ہاؤس آف کامنز میں 10 پاکستانی نژاد ممبر ہیں ۔جبکہ9 ہاؤس آف لارڈز میں بھی ہیں ۔یہ کمال ہے مساوات پر مبنی شہریت کے اصول اپنانے والے معاشرے کا ، جہاں صلاحیت ہر سپیڈ بریکر کراس کر لیتی ہے ۔کاش ہم نے پاکستان میں بھی ایسی ہی روش اپنائی ہوتی تو آج ہمارے اداروں میں بھی کئی خالق نواز خان اور مرزا ابراہیم بیٹھے ہوتے ۔اور ہمیں سیاسی خوشیاں ادھر ادھر سے ادھار نہ لینی پڑتیں ۔

آخری بات :

غالباً 2003ء کی بات ہے کہ پلڈاٹ کے ایک سیمینار میں اس وقت کے چار پاکستانی نژاد برطانوی اراکین ِ پارلیمنٹ موجود تھے ۔مجھے ان سے ایک معصومانہ سوال پوچھنے کا موقع ملا کہ اگر وہ اور ان کے خاندان پاکستان میں ہی رہتے توکیا وہ ایسی سیاسی کامیابیاں پاکستان میں حاصل کر پاتے ؟سبھی کا جواب تھا شاید کبھی نہیں ۔تو بات سیاسی کلچر کی ٹھہری ۔اسے شمولیت کے تصورات سے عبارت ہونا چاہئے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...