دولت کی منتقلی کے چور راستے

486

پاکستان قومی خزانے کومحدود شراکت کے ساتھ ٹیکس ایمنسٹی سکیم متعارف کرانے کی تاریخ کا حامل ہے۔نئی ایمنسٹی سکیم اُن دولت مند پاکستانیوں کا حوصلہ بڑھا رہی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے فنڈز کو واپس لے آئیں اور حقیقی سیکٹرز میں سرمایہ کاری کریں تاکہ معاشی ترقی کی نمو ہوسکے۔

پانامہ پیپرز میں انکشافات نے پرانی بحث کہ کیسے طاقتور لوگ اپنا پیسہ  بدعنوانی،ٹیکس چوری اور دھوکہ دہی کے ذریعے کیسے  بیرون ملک منتقل کرتے ہیں ؟اس کو دوبارہ موضوع ِ بحث بنا دیا ہے ۔اس قدر ہائی پروفائل شخصیات کے نام غیر ملکی اکاﺅنٹس میں ظاہر ہونے سے ہنگامہ خیزی برپا ہو گئی ۔ تاہم اکاﺅنٹس اورپیسے کے قانونی و غیر قانونی منتقلی سے متعلق سوالات اور ماخذات کے بارے  میں محدود کوششیں کی گئی ہیں۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان فنڈز کو وہاں سے  واپس لایا جاسکے،جیسے برطانوی ورجن آئس لینڈ،کک آئس لینڈ،سنگا پور،یواے ای اور سوئٹزرلینڈ وغیرہ ۔دوستانہ کاروبار کی سند کی بجائے وہ ناجائز دولت کے میزبان جانے جاتے ہیں۔جب سے مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی ہے ،اس پر بہت بات ہورہی کہ پاکستانیوں کے دوسوبلین امریکی ڈالر سوئس بنکوں میں ہیں ۔درحقیقت وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار وہ دولت واپس لانے کے اقدام کا اعلان کر چکے ہیں ۔دوسا ل قبل اُنہوں نے پارلیمنٹ سے کہا تھا کہ کوششیں ابھی شروع ہی نہیں کی گئیں۔گذشتہ ہفتے پارلیمنٹ کی ایک رپورٹ میں وزیرِ خزانہ اسحق ڈار کاکہنا تھا کہ پاکستان دو نئے عالمی قوانین کے ذریعے دو طرح کی تفصیلات کے بارے میں جان سکتا تھا۔پاکستان بین الاقوامی اسپانسر اقدامات،جیسے شفافیت کے لیے عالمی فورم او ر قبل از باہمی انتظامی معاونت کے لیے ٹیکس معلومات کے تبادلے اور کثیر جہتی کنونشن، کا ممبر بن سکتا تھا۔ایسی ممبر شپ اس قابل بنائے گی کہ ملک کو خودکار نظام کے تحت معلومات وصول کرنے اور بھیجنے کا تبادلہ اور ٹیکس فراڈ اور بین الاقوامی سطح پر ٹیکس چوری سے لڑنے کے لیےمضبوط سگنل مہیا کیے جائیں گے۔یہ بہت سے اہم بنک اکاﺅنٹس کی نگرانی کرنے میں مددگار ہوسکتا تھا،منافع،شرح سود اور ملکیتی اثاثوں کی معلومات مل سکتی تھیں،نہ صرف سوئٹزرلینڈبلکہ ٹیکس کے دیگر محفوظ ٹھکانوں سے بھی۔اور اُس کے مطابق ٹیکس لگ سکتا تھا۔

2014ءمیں حکومت نئی سوئس پالیسی کو دیکھ رہی تھی،جس نے اب ابتدائی درجہ بندی کی اجازت دی ہے۔خفیہ معلومات ،ناجائز رقوم کے بارے میں جو سوئس بنکوں میں زیرِ گردش ہیں ۔ٹیکس کی معلومات کا تبادلہ ایک نیا نظام ہے جس کے تحت ٹیکس چوری کرنے والوں کو پکڑا جاسکتا ہے۔اس کے مطابق ،حکومت نے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا موجودہ اے ڈی ڈے اے کا۔(Avoidance of Double Taxation Agreement)خاص طور پر معلومات کے تبادلے کی شق کا۔

2013ءمیں کابینہ  نے،اس معاہدے پر دوبارہ گفت و شنید کرنے پر سمری کی منظوری دے دی ۔اگست 2014ءمیں اس مسئلے پر گفت و شنید کا انعقاد ہوا۔دوبارہ سے گفت وشنید کی خاص بات،معلومات کے تبادلے کی پرانی شق 26کامعلومات کے تبادلے کی نئی شق کے ساتھ تبادلہ تھا،جو کہ بین الاقوامی تسلیم کیے گئے معیارات کی عکاسی کرتی تھی۔نئی شق سوئس حکام کو راضی کرے گی کہ معلومات کی تمام درخواستوں کا تبادلہ کیا جائے،اس کے ساتھ پہلے سے چلے آنے والے خفیہ بینک اکاﺅنٹس کی معلومات بھی  پاکستان سوئس معاہدے سے مل سکتی ہیں۔دسمبر 2014میں پاکستان نے گفتگو کے دوسرے مرحلے کی درخواست کی ،جس کا انعقاد ہونا ابھی باقی ہے ۔نہ صرف سوئٹزر لینڈ ،ملائشیا ،یواے ای او ر برطانیہ  کی حکومتوں نے پاکستان کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کی پاکستان کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ۔جو وہاں پاکستان کی ناجائز دولت زیرِ گردش ہے،حتیٰ کہ اسلام آباد نے منی لانڈرنگ کے خلاف تجاویز کو قبول کیا۔کالے دھن اور سرمایہ کاری کے متعلق حکومت کا معلومات کے تبادلے کے معاہدے کے لیے اقدام ،شفافیت اور معلومات کے تبادلے کا بین الاقوامی فورم کی ڈھال کے نیچے ابھی اسے بہت وقت درکار ہے۔

اس کے لیے سرمایہ کاری پر رضاکارانہ طو رپر بہت سی معلومات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔اس نظام کو بین الاقوامی قانونی تحفظ ہوگااور اس کا 2017ءمیں لاگو ہونے کی امکان ہے۔جوکہ ایک طویل عمل ہے،حکام مختلف ملکوں کے ساتھ مل کر اے ڈی ٹی اے میں ترامیم کروانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ او ای سی ڈی ماڈل کے ٹیکس کنونشن میں معلومات کے تبادلے کو شامل کیا جاسکے۔اس باہمی تعاون سے شہریوں کے بنک اکاﺅنٹس اور ا ن کے اثاثے جو کہ مختلف ملکوں میں ہیں ،تک رسائی میں مدد ملے گی۔اس کا انحصاراس چیز پر ہے کہ دوسرے موجودہ معاہدے کے لیے تیار ہیں یا نہیں ،یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ غیر ملکی ایسے ہوں گے جن کا کالادھن پاکستان میں زیرِ گردش ہو،موازنے کے طورپر پاکستانی بھی ہیں جن کا پیسہ اور اثاثے باہر ہیں ۔

بدقسمتی سے جنیوا اور لندن ،بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ٹیکس چھپانے کے لیے بہت پرجوش ہو کر تحفظ فراہم کرتے ہیں اور خفیہ بینکنگ سے دنیا کے فنڈز کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔اس میں غریب ممالک بھی شامل ہیں ۔تاہم سوئس حکام نے دوسال پہلے اپنے قوانین میں نرمی کی اور ملکوں کو کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد معلومات تک رسائی دی۔ان قانونی تبدیلیوں کے بعد مبینہ ملزمان کے بارے میں یقین ہے کہ وہ پہلے ہی اپنے اثاثے کہیں اور منتقل کر چکے ہیں ۔ٹیکس مقاصد کے لیے ایف بی آرکوشش کر رہا ہے کہ ملائشیا ،یوکے،یواے ای ،تھائی لینڈ اور آسٹریلیا سے پاکستانیوں کی ان ملکوں میں سرمایہ کاری سے متعلق معلومات لے سکے۔

پاکستان قومی خزانے کومحدود شراکت کے ساتھ ٹیکس ایمنسٹی سکیم متعارف کرانے کی تاریخ کا حامل ہے۔نئی ایمنسٹی سکیم اُن دولت مند پاکستانیوں کا حوصلہ بڑھا رہی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے فنڈز کو واپس لے آئیں اور حقیقی سیکٹرز میں سرمایہ کاری کریں تاکہ معاشی ترقی کی نمو ہوسکے۔

بہ شکریہ ڈان:ترجمہ احمد اعجاز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...