کراچی کی سیاست ،نظروں کا محور ایک بار پھر لندن

325

پاک سرزمین پارٹی، مزارقائد جلسے کے بعد مایوس ،تحریک انصاف میدان چھوڑ کر بھاگ چکی ،بلاول کو بھی دلچسپی نہیں

3 مئی کومتحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے کوارڈنیٹر آفتاب احمد رینجرز کی حراست کے دوران جاں بحق ہوگئے۔ آفتاب احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم کے 35 سے 40 فیصد حصے پر نیل کے چھوٹے بڑے نشانات تھے۔گردن پر کوئی زخم نہیں تھا تاہم بازووں، ٹانگوں، اور سینے پر نہ صرف خراشیں پائی گئیں بلکہ تشدد کے نشانات بھی تھے۔کئی مقامات پر سوجن پائی گئی جبکہ جسم کے بعض حصوں پر کھرنڈ بھی جما ہوا تھا ۔ سر پر 2 سینٹی میٹر کے زخم کے نشانات بھی موجود تھے۔ڈان نیوز ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی سندھ رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے آفتاب احمد پر دوران حراست تشدد کی تصدیق کی ۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایم کیو ایم کے کارکن آفتاب احمد کی رینجرز میں حراست کے دوران تشدد سے موت کی آذادانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ ڈائریکٹر ایشیا ہیومن رائٹس واچ بریڈ ایڈمز کا کہنا تھا کہ حکومت آفتاب احمد کی موت کی آزادانہ تحقیقات کرائے جس میں پاکستان رینجرز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے اورآفتاب احمد کے کیس میں فوج بھی آذادانہ تحقیقات کی توثیق کر ے۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا جس کے بعد رینجرز کے 5 اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے تاہم اس سلسلے میں رینجرز کی جانب سے ابھی تک پولیس سےکوئی رابطہ نہیں کیا گیا ۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق آفتاب احمد کو سندھ رینجرز کے عبداللہ شاہ غازی ونگ نے گرفتار کیا تھا اور ان سے ڈاکٹر فاروق ستار سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی تھیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے آفتاب احمد ، ڈاکٹر فاروق ستار کے اہم رازوں سے واقف تھے اور ان کے بارے میں جتنی معلومات آفتاب احمد کے پاس تھیں وہ شاید ان کے گھر والے اور ان کی جماعت کے پاس بھی موجود نہیں تھیں۔

۔ کمال ہاس میں پیر کے روز ہونے والی نیوز کانفرنسوں کا سلسلہ بھی کئی ہفتوں سے منقطع ہوچکا ہے جس میں متحدہ قومی مومنٹ کے عہدیدار اپنی شمولیت کا اعلان کرتے تھے۔انیس قائم خانی جسے متحدہ قومی موومنٹ کا دماغ کہا جاتا تھا وہ بھی اپنی افادیت نہیں دکھا پارہے ہیں

سیکورٹی ذرائع نے اس بات کو تسلیم کیا کہ آفتاب احمد کے واقعے سے رینجرز کو کافی نقصان ہوا ۔آفتاب احمد کی ہلاکت ،حال ہی میں قائم ہونے والی پاک سر زمین پارٹی کے لئے بھی دھچکے سے کم نہیں تھی۔ پی ایس پی کے رہنماﺅں نے پریس کانفرنس میں واقعے کی مذمت کی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے قبل پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال اور ان کے دیگر ساتھیوں کو اس وقت بھی شدید مایوسی ہوئی جب 24 اپریل کو مزار قائد کے سامنے واقع گراﺅنڈ میں جلسے کا انعقاد کیا گیا تھا ۔اس جلسے کے بارے میں پی ایس پی کے رہنماﺅں کی جانب سے بڑے بڑے دعوے کئے گئے تھے کہ یہ جلسہ کراچی کی سیاست کا تاریخی جلسہ ہوگا۔ پی ایس پی کے رہنما انیس قائم خانی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس جلسے میں ایک لاکھ افراد نے شرکت کی تھی مگر حقیقت اس وقت آشکا ر ہوگئی جب مختلف قانون نافذ کرنے اداروں نے اپنے اعلیٰ حکام کو رپورٹ ارسال کی جس میں جلسے کے شرکا ءکی مجموعی تعداد 5 ہزار سے 9 ہزار کے درمیان بتائی گئی تھی۔اطلاعات ہیں کہ مصطفیٰ کمال کو خود بھی اس جلسے سے مایوسی تھی جس کی جھلک ان کی بعد میں ہونے والی پریس کانفرنسوںمیں بھی نظر آئی۔ کمال ہاﺅس میں پیر کے روز ہونے والی نیوز کانفرنسوں کا سلسلہ بھی کئی ہفتوں سے منقطع ہوچکا ہے جس میں متحدہ قومی مومنٹ کے عہدیدار اپنی شمولیت کا اعلان کرتے تھے۔انیس قائم خانی جسے متحدہ قومی موومنٹ کا دماغ کہا جاتا تھا وہ بھی اپنی افادیت نہیں دکھا پارہے ہیں ۔انیس قائم خانی متحدہ کے سب سے بنیادی اوراہم تنظیمی ڈھانچے کی کمانڈ کرتے تھے جس میں یونٹ سیکٹرز اور کراچی تنظیمی کمیٹی شامل ہوتی ہے ۔انیس قائم خانی کا تعلق حیدرآباد سے ہے جہاں ان کا طوطی بولتا تھا لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ وہ بغیر پولیس موبائلز اپنے علاقے میں بھی نہیں نکل سکتے ۔ حیدرآبا د کی عوام فی الحال انیس قائم خانی کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ صورتحال پر نظر رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ مصطفی کمال نے ” اپنے لوگوں” کو کافی مایوس کیا ہے اور اب انہیں کچھ ماہ کا وقت دیا گیا کہ وہ اپنی سیاسی حیثیت کو ثابت کریں۔

دوسری طرف ” کچھ لوگوں ” نے برطانیہ میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کیس سے بھی امیدیں وابسطہ کی ہوئی ہیں لیکن ابھی تک وہاں سے بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آرہی

دوسری طرف ” کچھ لوگوں ” نے برطانیہ میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کیس سے بھی امیدیں وابسطہ کی ہوئی ہیں لیکن ابھی تک وہاں سے بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آرہی۔پا ک سر زمین پارٹی کی آمد کے بعد مہاجر قومی موومنٹ کے چیئر مین آفاق احمد کو بھی اپنے مستقبل کے بارے میں فکر لاحق ہوگئی اور انہیں یہ محسوس ہورہا ہے کہ کہانی کا اسکرپٹ تبدیل ہوچکا ہے اور بظاہرحالیہ قسط میں ان کا کردار نہیں ہے ۔ خطرے کی بو سونگتے ہوئے انہوں نے ایک بیان جاری کیا کہ وہ اردو بولنے والوں کے مفاد کے لئے رابطہ کمیٹی سے ملنے متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو جانے کے لئے تیار ہیں لیکن الطاف حسین سے ہاتھ نہیں ملا سکتے۔ رابطہ کمیٹی جو ہمیشہ سے مائنس الطاف فارمولے کو مسترد کرتی آئی نے اس دفعہ بھی آفاق احمد کی پیش کش کو رد کردیا۔ ایم کیو ایم نے ابتدا میں پانا ما لیکس کے مسئلے پر تو متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دیا لیکن وزیر اعظم نواز شریف کے پارلیمنٹ کے خطاب کے اگلے روز ہی متحدہ نے ایک بار پھر قلابازی کھائی اوراعلان کیا ان کی جماعت پاناما لیکس کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کے ساتھ نہیں چل سکتی ۔متحدہ قومی موومنٹ نے یہ فیصلہ اس لئے لیا کیونکہ اس کادعوی ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی جانب سے کراچی آپریشن پر اس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس کے کارکنان کا ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے مگر اپوزیشن کی جماعتوں نے چپ سادھ رکھی ہے ۔اس رویے کے بعد وہ متحدہ اپوزیشن کا ساتھ کیو نکر دیں؟متحدہ قومی موومنٹ نے  اس وقت اپنی بیشتر توانائی 2 جون کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات اورتنظیمی سیٹ اپ کو مظبوط کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔2 جون کو ہو نے والے ضمنی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 106 اور 117 پر انتخابات ہونے جارہے ہیں جو بالترتیب افتخار عالم اور ڈاکٹر صغیر احمد کے پا ک سر زمین پارٹی میں شامل ہو کر استعفی دینے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ ایم کیو ایم پر امید ہے کہ یہ معرکہ وہ باآسانی سر کرلے گی۔دوسری طرف جہاں متحدہ سے ٹوٹ کر لوگ پی ایس پی میں شامل ہورہے ہیں تو دوسری جانب کچھ لوگ متحدہ میں بھی شمولیت اختیار کررہے ہیں ۔بظاہر ایم کیو ایم کو پی ایس پی سے کوئی خطرہ دکھائی نہیں دے رہا ما سوائے اس صورت کہ اگر برطانیہ میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہے ۔

بظاہر ایم کیو ایم کو پی ایس پی سے کوئی خطرہ دکھائی نہیں دے رہا ما سوائے اس صورت کہ اگر برطانیہ میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہے ۔

شہر میں پولیس اور رینجرز کی جانب سے بھی مختلف اوقات میں متحدہ کے ایسے لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے وہ را کے ایجنٹ ہیں ۔زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کے ووٹر کو اس کی جماعت پر انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ تعلقات کے الزامات سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں کیو نکہ اس کا مؤقف ہے کہ ایسا ماضی میں بھی کیا گیا لیکن بجائے اس بات کے واضح ثبوت فراہم کئے جاتے ، الزامات لگانے والوں نے ہی ان کی تردید کردی۔ساتھ ہی ساتھ یہ نکتہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا کبھی کسی اور سیاسی جماعت نے اس کے شہر اور اس کے لوگو ں کی قسمت بدلنے کے لئے کوئی ٹھوس کردار ادا کیا؟

شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں جبکہ پانی اور سیوریج کا نظام تباہ ہوچکا ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کئی سالوں سے شہر کے بلدیاتی نظام کو کنٹرول کررہی ہے ۔ اس کے پاس بہترین موقع تھا کہ وہ ناقدین کے منہ بن کر کے عوامی مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دیتی مگر اس کی کارکردگی جب لاڑکانہ میں نظر نہیں آتی تو کراچی تو بہت دور کی بات ہے ۔ ایسی صورتحال میں کراچی کے عوام کو ماضی کا بلدیاتی نظام یاد آتا ہے جہاں ایم کیو ایم کی جانب سے شہر کا نقشہ تبدیل کردیا گیا تھا ، یہ اور بات ہے اس وقت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے متحدہ اوراس کے ناظم مصطفی کمال پر خاص مہربانیاں کرتے ہوئے 30 ارب مختص کردئے تھے ۔

 تحریک انصاف نے 2013 کے عام انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرکے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف طبل جنگ بجایا تھا لیکن پھر خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی اور پھر پلٹ کر تاحال کوئی خیر خبر نہیں لی ہے۔

اس سب کے باجود دراصل اس کھیل کے کھلاڑیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین کا ہی دوسرا نام ہے ۔ کراچی کے اردو بولنے والوں کے پاس کوئی دوسری ایسی شخصیت متبادل کے طور پر موجود نہیں جو الطاف حسین کی تین دہائیوں پر محیط سیاست کے سائے کی جگہ لے سکے ۔پہلے تو خود متحدہ قومی موومنٹ نے اس شہر میں کسی کو قدم نہیں جمانے دئے تو دوسری جانب پاکستان کی کسی اور سیاسی جماعت نےاس شہر کی سیاست میں داخل ہونے کی نمایاں اوربھرپور کوشش بھی نہیں کی ۔پاکستان تحریک انصاف نے 2013 کے عام انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرکے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف طبل جنگ بجایا تھا لیکن پھر خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی اور پھر پلٹ کر تاحال کوئی خیر خبر نہیں لی ہے۔ اس لئے پی ایس پی آنے والے انتخابات میں ایم کیو ایم کو کوئی گزند پہنچائے یا نہ پہنچائے لیکن پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کو ضرور دھچکا دے گی۔

تجزیہ کار سمجھتے ہیں اگر برطانیہ میں کوئی بڑی تبدیلی آجائے اور پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ پر پا بندی لگا دی جائے تو ایسی صورت میں صورتحال یکسر تبدیل ہوسکتی ہے لیکن اہم ترین کردارکراچی کے اس باسی کا ہوگا جس نے 2018 کے عام انتخابات میں گھر سے نکل کر ووٹ ڈالنا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...