ہمیں تعصب عزیز ہے ،رواداری نہیں

835

تعصب تنگ نظری کی بنیاد ٹھہرتا ہے۔تنگ نظری تخلیقی عمل کی دُشمن ہے۔تخلیقی عمل رُک جائے تودیگر مسائل جہاں جنم لیتے ہیں وہاں آزادی کا تصور بھی معدوم ہو جاتا ہے

یہ سچ نہیں کہ ہمارے ہاں جب کوئی گروہ ، فرقہ یا جماعت دھرتی پر ظلم برپا کرتے ہیں تو اس کے افراد ظلم کو ظلم نہیں کہتے ؟کیا یہاں تعصب کا منفی جذبہ کارفرما نہیں ہوتا؟ تعصب صرف پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں یہ دنیا کے بیشتر انسانوں کا مسئلہ ہے البتہ پاکستانی اس منفی جذبے کو بہت عزیز جانتے ہیں۔ تعصب ہی وہ منفی جذبہ ہے جو ہمیں شناخت کے بحران کے حوالے کر چکا ہے ،ہمیں جان لینا چاہیے کہ تعصب‘ تشدد کے لئے راہ ہموار کرتا ہے کیونکہ یہ نفرت پیدا کرتا ہے اور نفرت تشدد کے لئے اُ بھارتی ہے۔ ہم محسوس کریں یا اس احساس کو جھٹک دیں لیکن یہ حقیقت اٹل درجہ رکھتی ہے کہ ہماری سماجی زندگی کے نظام میں سب سے زیادہ گنجائش تعصب کے لئے رکھی گئی ہے،یہ کئی زاویوں سے پھوٹتا ہے مگر نظریاتی زاویے سے پھوٹنے والا تعصب سب سے خطرناک ہے۔ یہ تعصب ہی ہے جو دوسروں کی جانیں لے لیتا ہے اور املاک کو آگ لگوا کر خاکستر کر دیتا ہے۔ ہمارے دیہات میں،پرانے زمانے اوران دنوں بھی جب گندم کی فصل تیار ہو کر گٹھوں کی صورت ایک جگہ اکٹھی کر دی جاتی ہے تو راتوں رات اس کو آگ لگا دینے کا واقعہ کہیں نہ کہیں رُونما ہو جاتا ہے۔ کسی متوسط طبقے اور محنتی کسان کی اُس سال بھر کی کمائی کوآگ مقامی بڑا کسان یا جاگیردار نہیں لگواتا، تعصب لگواتا ہے۔یہ اَمر ذہن نشین رہے کہ تیار فصل کو لگنے والی آگ کے شعلے کھیتوں سے عموماً باہر نہیں نکل پاتے مگر کسی مذہبی مقام سے پھوٹنے والی تعصب کی معمولی سی چنگاری شہر کے شہر جلا کر بھسم کر دیتی ہے اور یہ چنگاری وقتی طور پر مدہم توپڑ جاتی ہے مگر کبھی بجھتی نہیں۔ تعصب کا کام فیصلہ سنانا ہے اور مکالمے کا در بند کرنا ہے۔ تعصب دوسرے کی آزادی اور رائے کو لغو گردانتا ہے ،یہ خوشی اور عزت کا ازلی دشمن ہے۔

تعصب وہ کتا ہے جس کے گلے میں گھنگرو پڑے ہوئے ہیں جو چوری سے  بھی کاٹتا ہے اوراپنی موجودگی کا احساس دلا کربھی وار کرنے سے نہیں چُوکتا(مگر اُس کے گلے میں پڑے گھنگرﺅں کی آواز سننے کوکوئی تیارنہیں)۔ یہ دوسرے کی ذاتی یا اجتماعی شناخت کو تسلیم نہیں کرتا ،یہ ثقافتی گھٹن سے جنم لیتا ہے۔ تعصب چونکہ ہماری مجموعی ثقافت کا حصہ ہے ، یوں ہم اس کے فروغ میں شامل رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں تعصب نے مذہبی پلیٹ فارم سے بھی جنم لیا ہے اور سیاسی پلیٹ فارم سے بھی(سیاسی پلیٹ فارم سے پھوٹنے والے تعصب کے مظاہر موجودہ سیاسی کشمکش میں بہت واضح ہیں) ۔یہ ہماری موجودہ نوجوان نسل کا خطرناک ہتھیار بن چکا ہے، یہ ہتھیار زنگ آلود بھی نہیں۔محض دائیں بازو کی حامل سیاسی جماعتوں نے تعصب کو راہ نہیں دکھلائی ،یہ بائیں طرز کی سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارموں سے بھی پھوٹتا رہا ۔مگر بائیں طرز کی سیاسی جماعتوں کا کلچر زیادہ بہتر جمہوری انداز کا رہا ہے ،یوں تعصب کو پنپنے کی زیادہ گنجائش نہ مل سکی۔شاید یہی وجہ ہے کہ ملکی ا نتخابات کی تاریخ میں مذہبی سیاسی جماعتیں کوئی بڑا معرکہ نہ مار سکیں ،اگرچہ وہ مذہبی پیشوائی کا روایتی فریضہ سرانجام دیتی رہیں مگر عوام نے انھیں سیاسی محاذ پرمؤثر پذیرائی نہیں دی۔چونکہ مذہبی پیشوائی او ر انتخابی سیاست کا طرزِ فکر دو مختلف نوع کے شعبہ جات ہیں جو بہ یک وقت انسانی زندگی میں بہ رُوئے کار تو رہتے ہیں مگر دو جُداگانہ جہتوں میں ۔

پاکستانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں مناظر تشکیل دیے جاتے رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے تاریخ مسخ ہو گئی ۔سماجی زندگی شعور اور تخلیق سے کٹ کر بہت پیچھے رہ گئی ۔غیر حقیقتیں معتبر درجہ اختیار کر گئیں ۔سچ جھوٹ میں بدل گیا ۔مکالمے کا دَر بند ہو گیا۔

جب ایک فرد یا گروہ کا تعصب کسی دوسرے فرد یا گروہ پر اثر انداز ہوتا ہے تو اس فرد یا گروہ کی ثقافت عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہے اور یوں وہ جب کسی عقیدے کا سہارا لے کر مزاحمت کرتی ہے تو ساتھ ہی ظلم برپا ہو جاتا ہے۔ (اس ضمن میں 2013محرم الحرام کے دنوں سانحہ راولپنڈی کی مثال دیکھیں) تعصب رواداری کا متضاد رویہ ہے۔ تعصب منفی جبکہ رواداری مثبت جذبہ ہے۔ تعصب فکری اختلاف کو اپنے ہاں گنجائش نہیں دیتا جبکہ رواداری اختلاف فکر کے لئے اپنے بازو وا کر دیتی ہے۔ رواداری میانہ روی اور اعتدال جبکہ تعصب انتہا کا نام ہے، رواداری سیاسی و مذہبی جنون کو ختم اور تعصب بڑھاوا دیتا ہے۔ تعصب دوسرے فرد یا گروہ کو حقیر ترین گردانتا ہے جبکہ رواداری اسے برابر کا درجہ دیتی ہے ۔تعصب دہشت گردی اور تشدد کی اَور بڑھتا ہے جبکہ رواداری اخوت اور بھائی چارے کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔واضح رہے کہ تعصب سماجی ناانصافی سے جنم لیتا ہے اور غیر جمہوری کلچر میں فروغ پاتا ہے، یہ اس منفی جذبے ہی کی اجارہ داری کا نتیجہ ہے کہ ہماری سماجی زندگی کے تمام رویوں میں تشدد سرایت کر چکا ہے، ہم کسی کے فرقے یا مسلک کا احترام کرتے ہیں نہ کسی کے اعلیٰ کارناموں کو برداشت کر سکتے ہیں، کسی کی عزت کو قبول کرتے ہیں نہ ہی کسی کی آزادی ہمیں گوارا ہوتی ہے ۔ حتیٰ کہ اگر ہمارے اردگرد کوئی اچھا،مناسب کھاپی اور پہن رہا ہو تو ہمیں اس سے نفرت سی ہو جاتی ہے اور اندر ہی اندر کڑھتے رہتے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ ہمارا ملک تعصب اور عدم رواداری کی بدولت تشدد کی مؤثر کاشت کے لئے بہترین کھیت بن چکا ہے جہاں تشدد کی بے شمار فصلیں تیار ہو کر پکتی رہتی ہیں، اس منفی جذبے کی بدولت کاشت کی جانے والی تشدد کی ایک فصل سانحہ ماڈل ٹاﺅن لاہور میں کاٹی تھی۔ یہ تعصب ہی تھا جس نے خون بہایا،اپنے جیسے انسانوں پر گولی چلائی۔مذکورہ دلخراش سانحہ سیاسی تعصب کا اُبھار تھا۔ تعصب گروہ،قبیلے ،قوم کو تقسیم کرتا ہے اور وحدت کے تاثر کو دھجی دھجی کر دیتا ہے۔ہمارے ہاں یہ منفی رویہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہورہا ہے۔

تعصب دہشت گردی اور تشدد کی اَور بڑھتا ہے جبکہ رواداری اخوت اور بھائی چارے کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔واضح رہے کہ تعصب سماجی ناانصافی سے جنم لیتا ہے اور غیر جمہوری کلچر میں فروغ پاتا ہے

تعصب تنگ نظری کی بنیاد ٹھہرتا ہے۔تنگ نظری تخلیقی عمل کی دُشمن ہے۔تخلیقی عمل رُک جائے تودیگر مسائل جہاں جنم لیتے ہیں وہاں آزادی کا تصور بھی معدوم ہو جاتا ہے ۔واضح رہے کہ تخلیقی قوت ہی آزادی کی راہ پر گامزن کرنے کا سبب بنتی ہے ۔تنگ نظری جامد صورتِ حال پیدا کرکے معروضی حقائق کو دُھندلادیتی ہے۔چونکہ تنگ نظری عقل کے کواڑکھٹکھٹانے نہیں دیتی یوں حقیقتوں پر پڑی گرد حقیقتوں کو مسخ کرکے اُنہیں کوئی اور رُوپ دے دیتی ہے۔تنگ نظری کی بدولت حقیقت ،حقیقت نہیں رہتی ۔ہمارے سامنے وقوع پذیر ہونے والے حقیقی واقعات مبہم ہو نے کے ساتھ ساتھ غیر حقیقی ہو کر اپنا اعتبار کھو دیتے ہیں۔مثال کے طور پرملالہ یوسف زئی پر شدت پسند ہمارے سامنے حملہ آور ہوتے ہیں ،حملے کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں ،ملالہ یوسف زئی کا ملک اور بیرونِ ملک کئی ماہ علاج ہوتا ہے ،علاج کے بعد اُس کے چہرے پر حملے کے اثرات بھی نظر آتے ہیں مگر ایک بڑی آبادی اس حقیقت کو غیر حقیقت سمجھتی ہے بلکہ غیر حقیقت کو اعتبار بخشنے کا متشددانہ جتن بھی کرتی ہے ،اس کوشش میں وہ قانون کو ہاتھ میں بھی لے لیتی ہے اور سماجی اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیتی ہے ۔ایسا کیوں ہوتاہے؟ایسااس لیے ہوتا ہے کہ وہ ساری آبادی تنگ نظری کے سائے میں زندگی بِتارہی ہوتی ہے ۔دوسرا پہلو یہ کہ اگر الف تنگ نظر نہیں اور ب تنگ نظر ہے تو الف ،ب کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے گا کہ وہ حقیقت کو غیر حقیقت سمجھ رہا ہے ۔کیونکہ ب کے سامنے الف کی ساری دلیلیں بے وقعت رہتی ہیں۔تنگ نظر کا استدلال،منطق اور عقل پسندی سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا۔یوں تعصب کی کمان سے نکلا ہوا تنگ نظری کا تیر عقل کواپنا نشانہ بناتا ہے ۔

کسی متوسط طبقے اور محنتی کسان کی اُس سال بھر کی کمائی کوآگ مقامی بڑا کسان یا جاگیردار نہیں لگواتا، تعصب لگواتا ہے۔یہ اَمر ذہن نشین رہے کہ تیار فصل کو لگنے والی آگ کے شعلے کھیتوں سے عموماً باہر نہیں نکل پاتے مگر کسی مذہبی مقام سے پھوٹنے والی تعصب کی معمولی سی چنگاری شہر کے شہر جلا کر بھسم کر دیتی ہے

تعصب سے پھوٹنے والی تنگ نظری کا معاملہ کسی گروہ ،قبیلے ،مسلک اور جماعت سے مخصوص نہیں ،ایسا بھی نہیں کہ تنگ نظری صاحبانِ عقل کو چھو کر نہ گزری ہوا،کسی بھی نظریے سے جڑا انتہا پسند اس کے زیرِ اثر رہتا ہے۔دائیں انداز کا انتہا پسند یا بائیں طرز کا ہردَو تعصبات کے حامل ہوتے ہیں ۔ہر طرز کا تنگ نظر صورتِ حال کو اپنے انداز سے دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے۔یوں حقیقت کے دائرے کے اُس طرف اُس کی اپنی ایک حقیقت ہوتی ہے جس کا وہ تابع رہتا ہے ۔اُس کے اس عمل سے حال جامد ہوجاتا ہے ،سفر تھم سا جاتا ہے ،چیزیں دُھندلا سی جاتی ہیں،مناظر غیر واضح ہو جاتے ہیں ۔جب سب کچھ غیر واضح اور غیر حقیقت ہو جائے تو تنگ نظر اپنا ایک سچ گھڑ لیتا ہے اور اُس سچ کے سائے میں زندگی بسر کرتا ہے ۔مگر زندگی تو دَرحقیقت اُجڑ چکی ہوتی ہے ۔وہ اپنا منظر تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔پاکستانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں مناظر تشکیل دیے جاتے رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے تاریخ مسخ ہو گئی ۔سماجی زندگی شعور اور تخلیق سے کٹ کر بہت پیچھے رہ گئی ۔غیر حقیقتیں معتبر درجہ اختیار کر گئیں ۔سچ جھوٹ میں بدل گیا ۔مکالمے کا دَر بند ہو گیا۔مکالمے کے دَر بند ہونے سے کائناتی حقیقتوں پر پڑا پردہ ہٹایا نہ جاسکا۔یہی وجہ ہے کہ زندگی کے دُشمنوں کے لیے دلوں میں رحم دَر آیا۔انسانی زندگی نظریے کے سامنے بے مول بن گئی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...