ڈیورنڈلائن کی قانونی حیثیت

امیر عبدالرحمن نے اَٹھارہ سو اَٹھاسی میں وائسرائے آف انڈیا ، لارڈ ڈفرن کو خط لکھا،ہند افغان سرحد کو حل کرنے کے لیے کابل کے مشن کی درخواست کی.

جب بھی پاک افغان تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں ،ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کا میزبان، پاکستان ہزاروں افغانیوں کو روازنہ داخل ہوتے دیکھتا ہے۔۔۔ ،بنیادی طورپر طورخم اور چمن چوکیوں اور بے ضابطہ داخلی راستوں کے ذریعے بھی۔تصورات کے برعکس ڈیورنڈلائن معاہدہ 1893ء،افغانستان پر ایک الگ تھلگ تاریخی معمول سے ہٹ کر برطانوی راج کی طرف سے زبردستی عائد نہیں تھا۔واقعات کا ایک تسلسل ،جن میں انگریز افغان جنگوں ،فارورڈ پالیسی ،روس کی وسطی ایشیاء کی طرف پیش قدمی او ر ایرانی سرحدوں کی تقسیم ،یہ گریٹ گیم کے کچھ واقعات ہیں۔ڈیورنڈ لائن معاہدے سے بہت سی داستانیں جڑی ہیں جیسا کہ اس کا سوسال تک قابلِ قبول ہونا،مزید کہ اس پر دباؤ کے تحت دستخط ہوئے تھے اور یہ پاکستان کے لیے قابلِ اطلاق نہیں ہے۔
اَٹھارہ سو تہتر میں برطانیہ نے روس سے بدخشان او روخان سے متعلق جواب طلب کیا۔اَٹھارہ سو اَٹھاسی میں روسو اینگلو مشترکہ سرحدی کمیشن نے روس افغان سرحد تیار کی تھی۔روس کی پیش قدمی پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی تھی،برطانیہ نے روس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ ایران کے ساتھ سرحد کی تقسیم کرے،برطانیہ نے ان کی تجاویزات کو قبول کیا اور اَٹھارہ سو تراسی کے معاہدے پر دستخط کردیے۔اب روس کی باری تھی کہ برطانیہ افغانستان کے جنوبی علاقے تقسیم کرے۔روس برطانیہ کی خواہشات اور اپنے شمال مغرب میں توسیع کے ارداے پر شک میں مبتلا تھا۔
امیر عبدالرحمن نے اَٹھارہ سو اَٹھاسی میں وائسرائے آف انڈیا ، لارڈ ڈفرن کو خط لکھا،ہند افغان سرحد کو حل کرنے کے لیے کابل کے مشن کی درخواست کی۔اَٹھارہ سو ترانوے کو راولپنڈی میں امیر عبدالرحمن اور مرٹمر ڈیورنڈ کے مابین طویل مذاکرات کے بعد ڈیورنڈ لائن پر دستخط ہوگئے۔
یہ ذکر کرنا ضرور ی ہے کہ اَٹھارہ سو اَٹھہتر میں برطانیہ نے افغانستا ن پر حملہ کر دیا اور ایک سال بعد اُن کی خود مختاری چھین کر اُنہیں Gand173amak معاہدے پر مجبور کر دیا۔افغانستا ن اپنے غیر ملکی تعلقات برطانیہ کی خواہش کے مطابق بناتا تھا۔ڈیورنڈلائن افغانستان اور برطانیہ کی اَسی سالہ جنگوں ،سفارتکاری ،فتوحات اور تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جو اَٹھارہ سو نو میں الفسٹون مشن کے پشاور آنے سے شروع ہوئیں۔ڈیورنڈلائن معاہدے پر دستخط کرنے سے افغانستان کو گولہ بارود خریدنے اور درآمد کرنے کی اجازت ملی اور امیر کی سبسڈی میں تین گنا اضافہ ہوگیاتھا۔
ڈیورنڈلائن معاہدے میں کہیں بھی سوسالہ مدت کا ذکر نہیں ہے ۔یہ ایک وقت کی کارروائی نہیں تھی؛اس میکانزم کے مطابق ،فعال سرحد کی تقسیم اُنیس سو آٹھ اور اس کے بعد تک جاری رہے گی۔
بہت سے افغانی اور کچھ بھارتی لکھاری یہ بحث کرتے ہیں کہ ڈیورنڈلائن کا معاہدہ برطانیہ کے ساتھ ہوا تھا ،پاکستان کے ساتھ نہیں ۔اُن کا کہنا ہے کہ اُس معاہدے پر دستخط امیر نے اپنی ذاتی حیثیت میں کیے تھے ،اس لیے یہ دوملکوں کے مابین نہیں تھا۔وہ انیس سو اکیس کے افغان معاہدے کا حوالہ دیتے ہیں ،جو کہتا ہے کہ اس کے صوبے تین سال کے لیے فوج کے زیرِ اثر رہیں گے۔
ان اعتراضات کا جائزہ ظاہر کرتا ہے ،جیساکہ برطانیہ نے Gandamak معاہدے کے تحت افغانستان کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیاتھا،بہرحال ڈیورنڈ لائن معاہدہ پر عبدالرحمن نے افغان حکومت کے سربراہ کے طور پر دستخط کیے تھے۔اُنیس سو پانچ میں امیر حبیب اللہ نے اس کی توثیق کی تھی اور افغانستان کی آزادی برطانیہ نے تسلیم کر لی تھی ۔اُنیس سو اُنیس کا امن معاہدہ واضح طور پر اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ عبدالرحمن نے بھار ت افغان سرحد قبول کر لی تھی،انیس سو اکیس کے معاہدے کامرکزی نقطہ اچھے تعلقات بنانا اور تجارتی مراعات تھیں،جن سے افغانستان ابھی تک ،افغان پاکستان آمدروفت اور تجارت کے دوہزار دس کے معاہدے کی شکل میں لطف اندوز ہو رہا ہے۔کابل کے اس پر دستخط یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن ایک بین الاقوامی سرحد ہے۔
ڈیورنڈلائن ایک آزاد معاہدہ ہے جس کی توثیق افغان حکومتوں نے مسلسل اُنیس سو پانچ ،انیس سو اُنیس اور اُنیس سو اکیس میں کی۔شاہ ولی خان نے افغان سفارت کی حیثیت سے اُنیس سو تیس میں لند ن ،اُنیس سو اکیس کے معاہدہ کا اعادہ کیا۔اس طرح کے دوطرفہ معاہدے یک طرفہ طور پر منسوخ نہیں کیے جاسکتے۔
پاکستان مفادات کے حوالے سے برطانوی راج کا جانشین ہے ۔اور ریاستوں کی جانشینی کے معاہدوں سے متعلقہ ویانا کنونشن میں بھی یہی اصول درج ہے جو علی لااعلان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس قسم کے معاہدوں کے ذریعے ریاستوں کی جانشینی بین الاقوامی حدوں پر اثر انداز نہیں ہوگی۔بشمول ان حقوق فرائق کے جو اس قسم کی ریاستوں سے متعلقہ ہیں۔
اسی طرح آئی سی جے بین الاقوامی سرحدوں کو محفوظ کرنے کے اصولوں کو برقرار رکھتی ہے ۔۔۔نوآبادیاتی طاقتوں کے مابین یا بین الاقوامی سرحدوں کی وضاحت کے ساتھ دوطرفہ معاہدے آزاد ریاستوں کے جانشین سے پاس شدہ ہوتے ہیں ۔پاک ایران سرحد جو دونوں ملکوں نے قبول کی ،وہ بھی برطانیہ نے ہی بنائی تھی۔اگر ہم اس کے برعکس قبول کرتے ہیں اورنوآبادیاتی حکومتوں کی بنائی گئی سرحدوں کو دوبارہ سے کھولتے ہیں ،تقریباًدنیا کا پورا سیاسی نقشہ پھر سے بناناپڑے گا۔ڈیورنڈلائن معاہدہ اور بعدازاں معاہدوں کے نتیجے میں افغانستان آزاد قوم کے طور پر سامنے آیااور پاکستان کی طرف سے آمدورفت اور تجارت کی مراعات دی گئیں۔
یہ درست ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے ،سختی سے بات کی جائے تو وہ برطانوی راج کا حصہ نہیں تھے۔جبکہ محدود حکمرانی کے حوالے شاہانہ ریاستیں اور قبائلی علاقے چودہ اگست انیس سوسینتالیس کو غلطی پر تھیں۔یہ ریاستیں اور علاقے رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شامل ہوگئیں۔قبائلی منتخب نمائندے ہمارا آئین بنانے والے ہیں ۔یہاں متنازع اور غیر حدبندی سرحدی علاقوں کے مابین فرق کرنے کی ضرورت ہے ۔
ڈیورنڈ لائن معاہدے میں حد بندی کے لیے میکانزم پہلے سے موجود ہے ؛جب کہ کچھ حصوں کی ابھی تک حد بندی نہیں کی گئی،اُن میں سے شاید ہی کوئی متنازع قراردیاگیا ہے۔ یہ غیر حد بندی علاقوں کے حل کے لیے واضح میکانزم بھی مہیا کرتا ہے ۔جو اپنے دستخطوں کے ساتھ بلندی پر چلا گیا۔اور بعد والے معاہدے ایک مشترکہ کمیشن کے ذریعے ڈیورنڈلائن کو بہت زیادہ ممکنہ درستی کے نقشے پر دکھایا گیا۔
بہ شکریہ ڈان:ترجمہ احمد اعجاز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...