رمضان صارفین کی منڈی بڑھا دیتا ہے

624

تمام علاقوں اور طبقوں کے باورچی خانوں کے بجٹ کے حجم میں اضافے کے باعث ایک اندازے کے مطابق امسال رمضان میں550ارب روپوں کا کا روبار ہوا۔

ہمیشہ کی روایت برقرار رکھتے ہوئے،اس رمضان میں بھی کھانے پینے کی اشیاءکی زائد قیمتوں کی وجہ سے گھریلو ماہانہ اخراجات کی سطح بلند ہی رہی۔تمام علاقوں اور طبقوں کے باورچی خانوں کے بجٹ کے حجم میں اضافے کے باعث ایک اندازے کے مطابق امسال رمضان میں550ارب  روپوں کا کا روبار ہوا۔

اگر ہم اس تصور کو قبول بھی کرتے ہیں تو اس سے جنم لینے والے سوالوں کاجواب دینا آسان نہیں ہوگا۔اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟کیا پاکستانی خاندان اپنی معمول کی پوری آمدنی کو صَرف کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟

رمضان میں معیشت کے حجم اور اس کے مالیاتی ذرائع کا اندازہ لگانے کی یہ کوشش ہمیں اس بات پر یقین کرنے پر اکساتی ہے کہ ذاتی آمدنی اور بچتوں کے باوجود نقدی کے اس بہاﺅ میں گھریلو اخراجات ،بیرون ملک کی ترسیل زر،زکواة،کارپوریٹ سیکٹر کی پیشگی تنخواہوں ،ملازمین کے بونس اورقرضہ جات اوربینک کے قرضہ جات نے اہم کردار ادا کیا۔

محصولاتی فروخت ،رسد اور کھپت کے اعدادو شمار کی عدم موجودگی کی وجہ سے مجوزہ 550ارب روپے کے اعداد وشمار ،2014ءمیں رمضان المبار ک کے دوران اضافی اخراجات کے 500ارب روپوں میں 50ارب روپے شامل کر کے حاصل کئے گئے ہیں۔

2014ءکے اعدادوشمار ترسیلات زر کی آمد میں کُل سے دو تہائی کو رمضان کے اخراجات (کُل 250ارب  رو پو ں میں سے 170ارب  روپے)کی جانب موڑ کر اور حاصل جمع کر کے حاصل کئے گئے تھے،مہینے میں بینک کے کُل ذخائر کی2pcنقد رقم کی واپسی)کُل 8کھرب روپوں کے160ارب روپے)پیشگی کریڈٹ(25ارب روپے)،کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے پراویڈنٹ فنڈ کے مقابلے میں بونس اور قرضوں کی کُل مالیت(15ارب روپے)اور غیر اعلانیہ پیسہ جو سطح پر رہا(130ارب روپے)تھا۔

سٹیٹ بینک کے حکام ذاتی طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ اس مقدس مہینے میں پیسے کی فراہمی اور اس کی گردش دونوں اوسط سے زیادہ رہے۔رسمی طور پر ان اعداد وشمار پر جو سوال اٹھا یا جاتا ہے وہ رمضان کے کچھ ہفتوں میں پیسے کی فراہمی اور گردش کی کمی کی نشاندہی کر تا ہے،گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اسے ہچکچاتے ہوئے قبول کیا گیا،البتہ اس رپورٹ کی تیاری کے دوران ان کی جانب سے کو ئی ردعمل موصول نہیں ہو ا ۔

پرائیویٹ کمپنیاں اپنے ہفتہ وار فروخت کے اعدادوشمار تک رسائی کی اجازت نہیں دیتیں ،اس لئے اس پر عمل ناممکن ثابت ہوا۔قبل ازیں لیور برادرز اور پروکٹر اینڈ گیمبل وغیرہ سے معلوما ت حاصل کرنے کی کوششیں بےکار ثابت ہوئیں۔

پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے چیف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ندیم جا ویدان حالات میں 2014ءکے اعدادوشمار کو معقول حد تک قابل اعتماد پاتے ہیں۔سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر مفتاح اسما عیل انہیں اندازے سے بھی کم تر سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر ندیم جاوید نے اسلام آباد سے ٹیلی فون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،”ہم اپنے ذاتی تجربات سے جانتے ہیں کہ رمضان میں ایک گھر کے اخراجات میں اضافہ ہو جا تا ہے،کیونکہ اس مہینے میں ہماری کھانے کی ترجیحات بدل جاتی ہیں،میرے خیال میں اگر رمضان میں ملک گیر پیمانے پر550ارب روپے کے زائد اخراجات ہوئے ہیں تو یہ قابل یقین ہے۔“انہوں نے ملک کی سماجی و اقتصادی رجحانات کی بہتر تفہیم کیلئے خصوصی مواقع پر اقتصادی سرگرمیوں کی مختلف حالتوں میں پیمائش کی ضرورت کو تسلیم کیا۔

انہوں نے مزید کہا،”دستاویزات کی عدم موجودگی اور معتبر حساب کتا ب محدود ہے “لیکن انہوں نے رمضان معیشت کے حجم تک پہنچنے کی ایک اور تجویز دی،”قمری کیلنڈر کے اس عرصے کے دوران اشیائے خوردونوش کی فروخت میں نامعلوم اندازوں کے تحت اضافے سے مارکیٹ میں توسیع کے پیمانے کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔“

تجویز کردہ اس طریقہ کار کے ساتھ بہت سے مسائل ہو سکتے ہیں،چونکہ پرائیویٹ کمپنیاں اپنے ہفتہ وار فروخت کے اعدادوشمار تک رسائی کی اجازت نہیں دیتیں ،اس لئے اس پر عمل ناممکن ثابت ہوا۔قبل ازیں لیور برادرز اور پروکٹر اینڈ گیمبل وغیرہ سے معلوما ت حاصل کرنے کی کوششیں بےکار ثابت ہوئیں۔

ایک اوسط درجے کے خاندان کی رمضان بجٹ کی تشکیل کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی تاکہ باورچی خانے کے اخراجات کے ایک نمونے کا بہتر تصور حاصل کیا جا سکے ۔عموماََایسا لگتا ہے جیسے لوگ نہ صرف باورچی خانے پر زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں بلکہ زیادہ وقت بھی باورچی خانے میں ہی گزارتے ہیں۔گھروں میں کھانے کی تیاری پر زیادہ توجہ دی جانے لگتی ہے۔

اور اس طرح رمضان کی خصوصی مصنوعات جیسا کہ کھجلا /پھیونیاں بھی اس مہینے میں مقبول ہو جاتی ہیں او ر ان کی فروخت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔مارکیٹ میں لوگوں سے سروے کے دوران بات چیت کی گئی تو اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ تمام اشیائے خوردونوش کی طلب میں یکساں اضافہ نہیں ہو تاالبتہ کچھ مصنوعات کی فروخت میں کئی گنا اضافہ ہو جا تا ہے۔

کراچی تھوک اور سبزی فروش ایسوسی ایشن کے چیئرمین ،انیس مجید نے ڈان کو بتا یا کہ بیسن اور کابلی چنوں کی فروخت میں کئی گنا اضافہ ہو جا تا ہے اس کے علاوہ برصغیر کے کھانوں میں لذت اور خوشبو کیلئے استعمال ہو نے والے بنیادی مصالحہ جات کی مانگ میں بھی نمایاں اضا فہ ہو جا تا ہے۔انہوں نے کہا کہ دن میں ہو ٹل اور کھانے پینے کی کئی جگہیں بند ہوتی ہیں تو چینی کی مانگ میں کمی ہو جا تی ہے البتہ گھروں میں اس کا استعمال بڑھ جا تا ہے ،یوں اس کی تلافی ہو جا تی ہے۔وہ مانتے ہیں کہ گھروں میں چینی کی فروخت بڑھتی ہے تو چینی کی کُل فروخت میں معمولی سا اضافہ ہو جا تا ہے۔

ایک اہم اضافہ دود ھ کی کھپت میں بھی دیکھا گیا ہے ،جو کہ دیہی علاقوںکے مقابلے میں شہری علاقوں میں زیادہ ہو تا ہے۔ڈبہ بند دودھ کی خریدوفروخت کرنے والوں کے مطابق رمضان میں انہیں اسی تناسب سے نفع حاصل نہیں ہو تا۔تازہ دود ھ اور دہی کی جانب لوگ زیادہ مائل ہو جاتے ہیں کیونکہ دونوں ہی براہ راست استعمال اور کئی کھانوں کی تیاری میں استعمال ہو تے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ڈبہ بند دودھ کا شیئر 7 فیصد ہو تا ہے جو رمضان میں عموماََ سکڑ جا تا ہے۔

مہنگی اشیا جیسا کہ گوشت کے استعمال میں معمولی اضافہ ہو تا ہے،لیکن پولٹری کو اب سستا سمجھا جا تا ہے تو ا س کی مانگ بھی بڑھ جاتی ہے۔کراچی کے ایک متوسط طبقے کے علاقے میں گوشت کے تاجر کا کہنا ہے ،”ہماری اوسط رسد پہلے سے زیادہ ہو نے کے باوجود سہ پہر تک ہم سب بیچ چکے ہوتے ہیں۔“

تمام موسمی پھل اور سبزیاں مقررہ اوسط کی نسبت کئی گنا زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔گھریلو خاتون نسرین کا مشاہدہ ہے کہ ”رمضان میں کھجوروں کی کھپت تقریباََ90فیصدہے جو کہ ملک کی سالانہ کھپت کے برابر ہے لیکن لوگ پھلوں کے بغیر اپنے افطار کو مکمل نہیں سمجھتے۔“

فروشوں کے مطابق پھلوں کی فروخت زیادہ سے زیادہ200فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔صدر ایریا کراچی کے پھل ذخیرہ رکھنے والے نادر خان کاکہنا ہے ”اکثر شہرکی منڈیوں میں بہت زیادہ پھل آجا تا ہے ،جیسا کہ خربوزے کی قسمیں ،جو قیمت کے توازن کو خراب کر دیتا ہے۔“

روٹی بنانے کی بڑی بڑی برانڈز رمضان میں ڈوب جاتی ہیں اور 40 فیصد کی کم ترین سطح پر آجاتی ہیں۔آٹے کی کھپت میں بھی کمی آجاتی ہے کیونکہ روزہ رکھنے کے باعث لوگ دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے۔جزوی طور پرپکوڑے اور دہی بڑے روٹی کا متبادل بن جا تے ہیں۔

ایک گھریلو خاتون نے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا ،”ہم رو زانہ استعمال کی چیزوں کے بارے میں کیوں سوچتے رہتے ہیں؟میرا یہ ماننا ہے پائیدار مصنوعات جیسا کہ کاروںکی فروخت بڑھ جاتی ہے ،اور اپنے گھر کی شکل سنوارنے کیلئے لوگ فریج،اے سی ،حتیٰ کہ سائیکل،موٹر سائیکل،پردے،قالین ،بیڈ شیٹس،گھر کی سفیدیاں عموماََ رمضان کے دوران ہی کرتے ہیں۔آپ صارفین کے رویوں کی وہی ترجمانی کرتے ہیں جیسی آپ چاہتے ہیں۔“

بہ شکریہ ڈان:ترجمہ….احمد اعجاز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...