داعش میں شمولیت سے روکنے پر جڑواں بھائیوں نے ماں کو قتل کردیا

411

سعودی عرب کے لکھاری محمد علی المحمود کے مطابق ’’یہ سب منشیات کے عادی یا نوجوانوں کی جہالت کی طرف سے آیا ہے اوریہ غیر معمولی نہیں ہے ‘‘’’چونکادینے والا امریہ ہے کہ یہ اسلام کے نام پر عمل کرنے والے مذہبی بچوں کے جوڑے کی طرف سے آیا ہے ‘‘

داعش تکفیری تصورات کو قبول کرتی ہے،وہ اکثر ابن تیمیہ کے حوالے دے کر اپنے پیروکاروں کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو بشمول اپنے رشتہ داروں کے جو مرتدین دکھائی دیتے ہیں ،قتل کریں

سعودی عرب میں انتہا پسند عقائد کے زیرِ اثرجڑواں بھائیوں نے مبینہ طور پر اپنی ماں کو قتل کردیا،وہ شام میں اُنہیں داعش میں شمولیت سے روک رہی تھی،اس معاملے میں غم و غصے سے بھراہوا سعودی عرب بڑھتی ہوئی اسلامی شدت پسندی کے متعلق پریشان ہے۔24جون کو اُس ملک میں ہلاکتیں ہوئیں جہاں بڑوں کی عزت کو معاشرے کی بنیاد کے طو رپر دیکھا جاتا ہے۔
سعودی وزراتِ داخلہ کے ترجمان جنرل منصور الترکی نے کہا دونوں پر قتل کا شبہ تھا۔منصور الترکی کے مطابق ’’صرف ایک ہی چیز ہے کہ وہ تکفیری نظریے پر عمل پیرا ہوں‘‘ایک جملے کا استعمال کرتے ہوئے جس میں سعودی حکام اسلامی دہشت گردی کا حوالہ دیتے ہیں ۔وزارتِ داخلہ کے ترجمان ،جس نے مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا ، کے مطابق ’’معاملے کی تحقیقات ابھی ہو رہی ہیں ‘‘
رائیٹرز ،بیس سالہ جڑواں بھائیوںیااُن کے وکلاء یا خاندان کے افراد سے رابطہ کرنے میں قاصر تھااور آزادانہ طور پر یہ تصدیق نہیں کرسکا تھا کہ مبینہ قتل داعش یا مذہبی نظریات سے متاثر ہو کر کیا گیا ۔۔۔ یا ماں نے حقیقت میں کیا کہا۔

حملے کے بعد ایک بیان میں ،وزراتِ داخلہ نے کہا کہ جڑواں بھائی ،خالد اور صالح العرینی کو سڑسٹھ سالہ ماں حائلہ،تہتر سالہ باپ اور بائیس سالہ بھائی کو چھرامارنے کے شبہ میں اُن کے اپنے آبائی گھر دارالحکومت ریاض سے گرفتار کیا گیا۔سعودی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ماں جو زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوئی تھی، نے اپنے بیٹوں کی شام میں داعش کے جہادیوں کی شمولیت پر اعتراض کیا تھا۔
میڈیا کے مطابق ،باپ اور بیٹا ہسپتال میں تشویش ناک حالت میں ہیں ،جبکہ مبینہ حملہ آو ر یمن کی سرحد کو بھاگ کر عبور کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔رائیٹرز اُن کے خاندان کے افراد کی موجودہ حالت یا مشتبہ حملہ آوروں کے ٹھکانے کو بیان کرنے سے قاصر تھا۔

سعودی عرب کے لکھاری محمد علی المحمود کے مطابق ’’یہ سب منشیات کے عادی یا نوجوانوں کی جہالت کی طرف سے آیا ہے اوریہ غیر معمولی نہیں ہے ‘‘’’چونکادینے والا امریہ ہے کہ یہ اسلام کے نام پر عمل کرنے والے مذہبی بچوں کے جوڑے کی طرف سے آیا ہے ‘‘

آن لائن سعودی نیوز ویب سائٹ اخبار 24 کی چھبیس جون کی رپورٹ ہے کہ گذشتہ سال جولائی سے اب تک مشتبہ دہشت گردوں کی طر ف سے خاندان کے افراد کا یہ پانچواں قتل ہے ۔
یہاں داعش کے اراکین کی طرف سے قریبی رشتہ داروں کے قتل کے اسی طرح کے مقدمات ہیں ،جنوری میں ایک وسیع پیمانے پر رپورٹ کیے گئے واقعہ سمیت ، مشتبہ دہشت گرد نے سرعام اپنی ماں کو شام کے شہر رقہ میں قتل کردیاتھا۔کیونکہ اُس کی ماں نے گروپ کو چھوڑنے پر ،اُس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔یہ معاملہ جذباتی بحث کی وجہ بنا کیونکہ اسلام بڑوں کی دیکھ بھال کو بہشت کا راستہ بتاتا ہے۔
بعض سکالر ز اور میڈیا کے مبصرین نے پوچھا کہ اگر یہ ابنِ تیمیہ کی تعلیمات تھیں ،جودمشق سے تعلق رکھنے والے تیرھویں صدی کے اسلامی سکالرتھے اور اپنے فتاویٰ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔تکفیر کے متعلق نوجوان شدت پسند اُس کے پیچھے تھے ،جو خاندان کے افراد کو قتل کررہے تھے،اُن کے نزدیک وہ مرتدین کے طور پر شما رہوتے تھے۔

داعش تکفیری تصورات کو قبول کرتی ہے۔وہ اکثر ابن تیمیہ کے حوالے دے کر اپنے پیروکاروں کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو بشمول اپنے رشتہ داروں کے جو مرتدین دکھائی دیتے ہیں ،کو قتل کریں۔تکفیر کا لفظ عربی لفظ کافر سے نکلا ہے،جس کے معنی نہ ماننے والے کے ہیں ۔یہ ابنِ تیمیہ تھا جو اَٹھارہویں صدی عیسوی کے شیخ محمد ابن عبدالوہاب ، وہابی ازم کے بانی کو متاثر کرگیا۔وہابی ازم ،اس مذہبی تحریک کی تائید سعودی حکمرانوں کی طرف سے کی جاتی ہے ،یہ کٹرپن کا مطالبہ کرتی ہے اور اسلام کو اُس کے اصل طریقوں کے طور پر دیکھتی ہے اورجدید خیالات کو رَد کرتی ہے۔ان رابطوں کے ساتھ ساتھ ایسی مخلوط سرگرمیاں اور سرقلم کرنے کا استعمال انجام دہی تک پہنچانے کے طریقے ہیں،بعض مغربی مبصرین ریاض پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ شدت پسند گروہوں جیسا کہ داعش ،جس کا عراق اور شام کے علاقوں پر تسلط ہے ، کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے ۔تاہم مغربی اتحادی ریاض کہتا ہے کہ ابنِ عبدالوہاب ایک مصلح تھا۔سعودی حکومت مسترد کرتی ہے ،ایسے کسی تعلق پر بات کو جو اُس کے پیغام اور جدید جہادیوں کے مابین ہے اور داعش اور القاعدہ کے بطور دہشت گرد اور مذہبی بدعت کی مذمت کرتی ہے۔

کنگ سعودی یونی ورسٹی ،سوشیالوجی کے پروفیسر اور معروف سکالر عبدالسلام نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر لکھا ’’بعض مجھ سے ابن تیمیہ کی میراث کی نشاندہی پر کہ اُس کا مذہبی تشدد ہمیں صاف کررہا ہے ،پر ناراض ہیں‘‘،’’شیخ السلام ابن تیمیہ کے لیے ،اُس کی وراثت واضح کرتی ہے کہ انسانی زندگی ارزاں ہے‘‘معروف سکالر کا احترام کرتے ہوئے ،اُس نے مزید کہا کہ اُنہوں نے اپنے عقائد کی بدولت کافی وقت جیل میں گزارا اور منگول حملہ آوروں کی مزاحمت کی۔عبدالسلام کہتے ہیں ،جبکہ ابن تیمیہ اپنے وقت کے ثمر بار سکالر تھے،اُس کے فتوے اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک بیٹے کو اپنے مرتد باپ کو قتل کرنے کی اجازت ہے ،ایسا کہہ کرو ہ اسلام کے جوہر سے متضاد بات کرتے ہیں۔

یہ معاملہ سعودی مذہبی اُمور کے وزیر صالح بن عبدالعزیز کی مداخلت کی طرف متوجہ کرتا ہے ،جنہوں نے یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا کہ ابنِ تیمیہ کا فتویٰ ایک بیٹے کو اپنے باپ کے قتل کی اجازت دیتا ہے ،سیاق و سباق سے دور لے جاتا ہے۔’’شیخ السلام کا بیان ،خدا نے اُس پر رحم کا ارادہ کیا ہے ،اگر وہ جنگ میں ملیں جس میں بیٹا ایمانداروں کی جانب ہو اور باپ مرتدین کی جانب ہو‘‘۔اُنہوں نے راشد بن عثمان الظہرانی کی طرف سے حوالہ دیا،جوالیکٹرونک اسلام اکیڈمی کے ڈپٹی چیئرمین ہیں ،کہتے ہیں ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا صرف اس صورت میں ہے اور یہ آیت جس کی تردید نہیں کرتی:وہ ماں باپ پر مہربان ہوں‘‘مذہبی اُمور کے وزیر نے مزید تبصرہ کیا ،جو الحیات،الجزیرہ اور دوسرے سعودی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوا۔رائیٹرز سعودی وزیر کے بیان کی تصدیق کے لیے ،اُن سے رابطہ کرنے سے قاصر رہا ۔

اس معاملے پر بحث میں شامل ہونے والے مختلف لکھاری اور سکالر کہتے ہیں ،یہ وقت ہے کہ روایتی مذہبی تقدیس کو دُور کیا جائے جو ایسے عمل کی اجازت دیتی ہے۔قدیم تعلیمات جدید دور میں ہمیشہ اپنائی نہیں جاسکتیں۔قتل کے بعد کالم نگار محمد الشیخ نے جائزہ لینے کے لیے ٹویٹر پر لکھا’’ابن تیمیہ کے دینی ورثے کا ہمارا علم،یہ وضاحت کہ اس کا تعلق،مختلف اوقات اور مختلف حالات و واقعات کے لیے ہے۔ورنہ دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا‘‘المحمود کہتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کے نظریے کے خلاف جنگ میں سب سے پہلا قدم،ابن تیمیہ کی تعلیمات کو بحث کے لیے پیش کرنا ہوگا۔’’’ اس دلدل سے نکلنے کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ورثے پر تنقید کے دروازے وا کردیے جائیں۔لکھاری المحمود کہتے ہیں ’’ان تعلیمات پر اعتماد کو متزلزل کرنے کیلئے اس امر کی ضرورت ہے جو ماضی بعید سے کشید کی جارہی ہیں‘‘

بشکریہ ’’دی نیوز‘‘ترجمہ :احمد اعجاز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...