ڈیرہ اسماعیل خان کی شماریات بدلنے کی سازش

532

مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی نے ڈیرہ کو سرائیکیوں کی بجائے پختونوں کا شہر بنا دیا

پاک افغان بارڈر پہ بڑھتی کشیدگی کے علاوہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں وسیع سیاسی حمایت کی حامل اور مرکز و صوبوں میں شریک اقتدار جے یو آئی،پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور اے این پی کی طرف سے مہاجرین کے پر امن انخلاءکی مخالفت نے افغان مہاجرین کو ملک کے مستقبل کےلئے مہیب خطرہ بنا دیا لیکن ان خطرات سے نمٹنے کے لئے جس نوع کی سیاسی ہم آہنگی درکار تھی وہ ابھی تک مفقود ہے،ہمارا فعال میڈیا،بپھری ہوئی اپوزیشن اور پس چلمن حلقوں نے اگر گورنمنٹ کو یونہی دباو میں رکھا تو متذکرہ بالا تینوں جماعتیں حکومت کی سیاسی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

قوم پرست جماعتوں کی ہوشیار لیڈر شپ نوازشریف کی جمہوریت کو دوام دینے کی خواہش کو ایکسپلائیٹ کر کے پہلے ہی ایوان اقتدار میں جگہ بنا چکی ہے،حالات کا یہی جبر ،شاید وفاقی حکومت کو،محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے مہاجرین کی وطن واپسی کی کھلی مخالفت پر،کوئی فیصلہ لینے سے روک رہا ہے،واضح رہے کہ قوم پرستوں کی جانب سے افغان مہاجرین کے پرامن انخلاءکی مخالفت انسانی ہمدردی یاکسی اصولی اختلاف پہ مبنی نہیں بلکہ اس میں پاکستان کے شمال مغربی علاقوں پہ افغانیوں کے حق کا سوال اور علیحدگی کا پیغام پنہاں ہے جو قومی سلامتی کے لئے مہلک ثابت ہو گا۔ ان آوازوں کی اگر بروقت حوصلہ شکنی نہ ہوئی تو یہی التباسات حقائق کو مسخ کر کے عوام کو گمراہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

1972ء کی مردم شماری میں ڈیرہ اسماعیل خان میں سرائیکی بولنے والوں کی تعداد 95 فیصد تھی لیکن بدقسمتی سے مذہبی بنیاد پر سیاسی مینڈیٹ حاصل کرنے والے افغان نژاد مولویوں نے اقتدار تک رسائی پانے کے بعد مقامی آبادی کی تہذیبی شناخت کا استحصال کر کے یہاں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی شعوری کوشش کی

اگر حقائق کے ادراک کی خاطر واقعات کو تاریخی تناظر میں دیکھیں تو یہ وہی جماعتیں ہیں جنہوں نے 1970ئ کی دہائی میں افغانستان کی روس نواز حکومتوں کی ایماءپہ صوبہ سرحد (خیبر پختون خوا) اور بلوچستان میں پختون قوم پرستی کی بنیادوں پہ علیحدگی کی تحریکیں برپا کر رکھیں تھیں،ولی خان جس نے اپنی پیٹھ پہ جمہوری نظام کے زخم کھائے اور محمود خان کے والد صمد اچکزئی گریٹر پشتونستان کی منزل مقصود پانے کی راہ میں جان کی بازی ہار بیٹھے لیکن اس عہد میں مقتدرہ اتنی متنازعہ تھی نہ قوم پرستوں کو وسیع عوامی حمایت میسر تھی،اس وقت عالمی حالات بھی قوم پرستوں کے مقاصد سے ہم آہنگ نہیں تھے چنانچہ علیحدگی پسند عناصر کو پاوں تلے روند کے آگے بڑھنا آسان تھا مگر پچھلے چالیس سالوں میں پلّوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ گیا،اب مقتدرہ مقبول ہے نہ عالمی حالات سرد جنگ کے زمانہ جیسے ہیں،اس وقت خطہ میں ریجنل نیشنل ازم کو دبانا آسان نہیں ہو گا۔

1979ءمیں روس کی فوجی مداخلت کے بعد عالمی حمایت سے افغانستان میں مذہبی بنیاد پہ جب مسلح مزاحمت شروع کی گئی تو وقت کی بے رحم لہروں نے قوم پرستی کے رجحانات کو دیوار سے لگا دیا تھا،جے یو آئی سمیت تمام پختون قوم پرست جماعتیں،جو اب افغان مہاجرین کے پشتی بان بن کے ابھری ہیں،اس وقت کیمونزم کے خلاف جہادی تحریک کے حامی افغانوں کو پناہ دینے کی مخالف تھیں۔خان عبدالولی خان،محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمٰن افغان مجاہدین کو اس لئے ”اشرار“ کہتے رہے کہ افغانوں کے پان اسلام ازم کے پلیٹ فارم پہ منظم ہونے سے نسل پرستی اور علیحدگی پسندی کے رجحانات کی نفی ہوتی تھی،بلاشبہ مذہبی بنیادوں پہ افغانوں کی مزاحمتی تحریک نے وقتی طور پہ قوم پرستی کے رجحانات کو دبا کے قوم پرست لیڈر شپ کو حالات کی گرد میں دفن کر دیا تھا۔

جب تک افغانستان کے طول و ارض میں جہادی مزاحمت عروج پہ تھی اور کابل پہ مذہبی گروہوں کا غلبہ رہا، پختون قوم پرستی کا تصور ملتبس رہا لیکن نائن الیون کے بعد براہ راست امریکی جارحیت کے ذریعے غیر ملکی فوج کی چھتری تلے افغانستان میں ایک سیکولر نیشنلسٹ حکومت قائم کرکے قوم پرستی کے رجحان کو توانائی بخشی گئی تو شمال مغربی سرحدی علاقوں میں پیش پا افتادہ قوم پرستوں کو نئی زندگی مل گئی۔ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پہ پہلے جے یو آئی کو اقتدار ملا تو اس نے سرحد صوبہ کے مضبوط انتظامی ڈھانچہ کو مضمحل کر ڈالا،دوسری بار اے این پی کو اقتدار تفویض کیا گیا تو اسفندیار ولی نے صوبہ کے نام کی تبدیل کے وسیلے اپنی شکستہ آزووں کو آسودگی فراہم کی،صمد اچکزئی کے بیٹے محمود خان اچکزئی جن کے سینے میں دہکنے والے انتقام کے شعلے ابھی سرد نہیں ہوئے تھے کہ تقدیر انہیں بلوچستان میں صریر آرائِ اقتدار لے آئی،وہ اپنے والد کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے اب پھر گریٹر پختونستان کے قیام کی جدوجہد کےلئے جواز تراشنے لگے ہیں۔

پرویزخٹک کے دادا بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں جلال آباد سے ہجرت کر کے نوشہرہ آئے اس عہد میں افغانستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے نمایاں افراد میں سلیم سیف اللہ کے دادا فیض اللہ خان غزنی خیل بھی شامل تھے

1980ءکی دہائی میں روسی جارحیت کے خلاف مزاحمت کے دوران ہماری اسٹبلشمنٹ کو علاقائی قوم پرستی کی تیز دھاروں کو کند کرنے کے مواقع حاصل تھے لیکن بوجوہ علیحدگی پسندوں کی الزام تراشیوں سے صرف نظر کر کے ہموار قومی سوچ کی آبیاری سے پہلوتہی کی گئی،مقتدرہ اگر چاہتی تو افغانوں کو مذہبی بنیادوں پر وطن کی آزادی کی جدوجہد پر کمربستہ کرنے کے دوران پاکستانی معاشرے کو ایسی یکساں تہذیبی بنیادیں فراہم کر سکتی تھی جو ہمارے مسائل کی پیچیدگیوں پہ حاوی ہو جاتیں لیکن عوامی حمایت سے محروم،خوفزدہ، آمریت نے تعمیر ملت کی جامع اور ہمہ گیر حکمت عملی اپنانے سے گریز کیا،ارباب بست و کشاد اس وقت کے حالات کو ملک کے داخلی استحکام کے لئے بھی کار آمد بنا سکتے تھے۔ مطلق العنان فوجی حکومت اگر مہاجرین اورافغان مجاہدین کی عسکری تنظیموں کو کھلی چھوٹ دے کر ملک کے اقتصادی نظام،سیاسی تمدن، تہذیبی اقدار اور داخلی انتظامی ڈھانچے میں سرایت کی مہلت نہ دیتی تو، افغان مہاجرین، آج ہماری سلامتی کے سامنے مشکلات کے ناقابل عبور پہاڑ بن کر کھڑے ہوتے نہ ہمارا معاشرہ علاقائی شناختوں کے آشوب میں مبتلا ہوتا۔

حیرت ہے،وقت کی صرف ایک کروٹ نے ضیاءالحق کی داخلی سلامتی اور خارجی تعلقات پہ مبنی پالیسیوں کو بیکار بنا ڈالا۔کیمونیزم کے خلاف مسلم مملکتوں کی سیاست کو مذہبی نظریات سے مزین کرنے والی مغربی طاقتوں کے مفادات بدلے تو انہوں نے نسل پرستی کے مدفن نظریات کو مٹی سے نکال کے ایک بار پھر ہمیں ذہنی تقسیم کے عمل سے گزارنے کی ٹھان لی ہے کیونکہ ہماری ابلاغی مہارت اپنے طاقتور اتحادیوں کو ملکی سرحدات کی حرمت کا احساس نہیں دلا سکی ،یہ امریکی انگیخت ہی ہے جو علاقائی قوم پرستی کے مسخ شدہ نظریات کو قومی وحدت کے خلاف صف آراءکرنے کی جسارت کر رہی ہے۔

محمود خان اچکزئی کی جانب سے خیبرپختونخواہ کو افغانوں کا خطہ قرار دینے سے قطع نظر مذہبی لبادوں میں قوم پرستی کو پروان چڑھانے والے مولانا فضل الرحمن نے وزیرداخلہ چوہدری نثار کو فون کر کے نادرا کی طرف سے ڈیرہ اسماعیل خان کے ”پختونوں“ کے شناختی کارڈز بلاک کرنے پہ احجاج کیا،حالانکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پختون نہیں بلکہ صدیوں سے سرائیکی بستے ہیں جو وادی سندھ کی گداز تہذیب کے وارث ہیں،جہاں رام ڈھیری میں سات ہزار سال پرانی تہذیب کے کھنڈرات ملے ہیں،جن کے بارے سروے آف انڈیا کا کہنا کہ ایودھیا نہیں بلکہ یہی رام ڈھیری ہی رام چندر جی کی جنم بھومی ہو سکتی ہے۔ 1972ء کی مردم شماری میں ڈیرہ اسماعیل خان میں سرائیکی بولنے والوں کی تعداد 95 فیصد تھی لیکن بدقسمتی سے مذہبی بنیاد پر سیاسی مینڈیٹ حاصل کرنے والے افغان نژاد مولویوں نے اقتدار تک رسائی پانے کے بعد مقامی آبادی کی تہذیبی شناخت کا استحصال کر کے یہاں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی شعوری کوشش کی ،مولانا فضل الرحمن جو افغان مہاجرین کی آبادکاری کے سب سے موثر حامی ہیں، نے اپنے سرائیکی حامیوں کی آنکھوں پر مذہبی تعصبات کی پٹی باندھ کے وسیع پیمانے پر غیر ملکیوں کی آباد کاری کو منزل مقصود بنا رکھا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کی خاطر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ یہاں فرقہ وارانہ تشدد کے بازار کو گرم رکھ کے مقامی لوگوں کو شیعہ سنی اور دیوبندی، بریلوی میں تقسیم کر کے افغان مہاجرین اور قبائلیوں کے لئے آسان راستے تراشتے جاتے ہیں،محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کی خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ اس وقت خیبرپختونخواہ میں پرویز خٹک وزیر اعلیٰ ہیں جو مہاجرین کے انخلاءکے بلند آہنگ بیانات کی گونج میں ہی جے یو آئی اور این این پی جیسی جماعتوں کو آسودگی کے اسباب مہیا کرتے ہیں،محمود اچکزئی نے سچ کہا کہ پرویز خٹک بھی افغان ہیں،شاید لوگوں کو معلوم نہیں کہ پرویزخٹک کے دادا بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں جلال آباد سے ہجرت کر کے نوشہرہ آئے اس عہد میں افغانستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے نمایاں افراد میں سلیم سیف اللہ کے دادا فیض اللہ خان غزنی خیل بھی شامل تھے جنہیں سیاسی ضرورتوں نے اب فخر مروت بنا دیا،پرویز خٹک کے والد میرہستم خان اکا خیل مٹی کھدائی،بھرائی کے بڑے ٹھیکیدار اور برصغیر میں ”خرکاری“ کے مخصوص انسٹیٹیوشن کے بانی تھے جس میں مقروض مزدورں سے جبری مشقت لی جاتی تھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...