ڈھول بجانے والے کی کہانی سے اقتباس

823

ایک عام آدمی جس کا باپ بھی غربت کا ڈھول بجاتے ہوئے ،قبر اُوڑھ چکا تھا ،سیاست اور مذہب کا مقدمہ لڑرہا تھا۔عام آدمی کو اپنا اسیر بنانے میں سیاست دانوں اور مذہب کو سیاسی مقاصد کے طور پر استعمال کرنے والوں کے لیے مبارک باد توبنتی ہے۔

کچھ مدت اُدھر ،ایک ڈھول بجانے والے سے ملاقات ہوئی۔وہ سرگودھا کے کسی گاؤں کارہنے والا تھا۔مگر ڈھول بجانے کے لیے راولپنڈی میں اپنے سات افراد کے گروپ کے ساتھ ایک کمرے میں رہائش پذیر تھا۔کمرہ بظاہر کافی کشادہ تھا مگر سات لوگ رات کو سونے کے لیے آتے تو وہ بھر جاتا۔فرش پر ترتیب وار بستر لگے ہوئے تھے ،جن سے غربت کی سڑاند اُٹھ رہی تھی۔ایک طرف سب کی جوتیاں اور کھانے پینے کے آلودہ برتن پڑے تھے۔ایک پرانا ٹی وی ٹوٹی پھوٹی میز پر دھرا پڑا تھا۔جس پر کوئی سیاسی ٹاک شو آرہا تھا۔گرمیوں کے دِن تھے،ایک نکڑ میں سردیوں میں استعمال کی جانے والی رضائیاں اور گدے موجود تھے،جن پر نظر پڑتی تو گرمی کا احساس دوچند ہوجاتا۔سگریٹ کا دھواں ایک نکڑپر پڑے ڈھولوں پر منڈلا رہا تھا،یوں لگ رہا تھا جیسے ڈھول جل رہے ہوں۔صبح سویرے روزی روٹی کی تلاش میں جانے کے لیے جب سات زندگیاں ایک ساتھ بیدار ہوتیں تو باتھ روم پر شامت آجاتی۔ایک عجیب منظر ہوتا۔ایک نکل رہا تو دوسرا جارہا ہے اور تیسرا باہر کھڑا اپنی باری کا انتظار کھینچ رہا ہے۔
ڈھول بجانے والا جس کو مَیں ڈھونڈتے ہوئے اُس کے کمرے تک گیا،دن بھر بے نظیر ہسپتال کے سامنے (راولپنڈی)اپنے ساتھیوں سمیت بیٹھتا تھا۔ایک طرف ڈھول بجانے والوں کا گروپ تو دوسری طرف پرائیویٹ ایمبولینس ڈرائیوروں کا گروپ بیٹھا ہوتا۔دونوں اپنے گاہکوں کابے تابی سے انتظار کھینچتے۔سائرن کی آواز ڈھول والوں کو اور شہنائی کی آواز ایمبولینس ڈرائیوروں کو پسند نہ آتی۔دونوں کے بیچ زندگی اور موت کا درمیانی فاصلہ پڑتا تھا۔تاہم مجھے ڈھول بجانے والے میں دلچسپی تھی۔مَیں جاننا چاہتا تھا کہ اُس اور اُس کے قبیلے کی زندگی کس ڈھب پر جارہی ہے؟ڈھول بجانے والے ختم کیوں ہوتے جارہے ہیں ؟اُنہیں آمدنی کتنی ہوتی ہے؟اُن کے بال بچے سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں ؟وہ اپنے بچوں کو کم عمری میں بیاہ تو نہیں دیتے؟اُن کی ضروریات کے ساتھ ساتھ خواہشات کی بھی کبھی تکمیل ہوتی ہے یا نہیں ؟مگر ڈھول بجانے والے نے مجھے حیران کر دیا۔
پوچھا:کہاں کے رہنے والے ہو؟
بولا:سرگودھا کے ایک گاؤں کے۔کچھ عزیز و اقارب ،خوشاب اور کچھ جھنگ میں رہتے ہیں ۔ہمارا زیادہ تر خاندان پی پی پی کا جیالا ہے۔
پوچھا:کتنے عرصے بعد گھر جاتے ہو؟
بولا چھ مابعد۔ہر ماہ نہیں جاسکتا۔ہزار روپیہ کرایہ لگ جاتا ہے۔پانچ ماہ نہ جا کر پانچ ہزار کی بچت کرلیتا ہوں۔یہ پیسے گھر کام آجاتے ہیں۔پچھلی بار تو ان پیسوں سے گاؤں میں پی پی پی کا جلسہ کروایا تھا۔
پوچھا:گھر والے یاد نہیں آتے۔بچے ہیں ۔بیوی ہے۔بوڑھے ماں باپ ہیں ۔چھ ماہ بعد جو جاتے ہو؟
بولا:کبھی کبھی تو کوئی گاہک نہیں آتا۔پیسے نہیں ہوتے۔کیسے جاؤں۔اس کمرے کا کرایہ اور اپنا خرچ بڑی مشکل سے پورا ہوتا ہے۔(ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے۔آصف علی زرداری نے خوب سیاست کی ہے۔پی پی پی کی حکومت اپنی مدت ضرور پوری کرے گی)
پوچھا:آپ کے بچے سکول وغیر ہ جاتے ہیں ؟
بولا:جاتے ہیں ۔بڑا بیٹا تو دسویں جماعت میں اچھے نمبر لے کر پاس ہوا۔آگے کالج میں نہیں جاسکا۔اتنا خرچ نہیں اٹھایا جاسکتا۔اب وہ نوکری کی تلاش میں ہے۔پیپلز پارٹی نوکریاں تو بہت دیتی ہے ۔اور اس بار تو پچاس فیصد تنخواہیں بھی بڑھا ئی ہیں ۔یہ خصوصیت ہے پیپلز پارٹی کی ۔’’کیا خیال ہے آپ کا‘‘اُس نے میری رائے لینا چاہی۔
پوچھا:آپ کی بیٹی کل کلاں جب شادی کی عمر کو پہنچ جائے گی تو کیسے کرو گے اُس کی شادی ،کوئی پیسے وغیر ہ جوڑے ہیں ،اُس کے لیے؟
بولا:اللہ مدد کرنے والا ہے۔پریشانی تو ہوتی ہے مگر قسمت میں جو کچھ ہوتا ہے ،وہ مل کر رہتا ہے۔اُس کے جو نصیب میں ہو گا ،اُ س کو ملے گا۔
ڈھول بجانے والے سے دوگھنٹے گپ شپ رہی۔اُس نے جو گفتگو کی ،وہ سیاسی اور مذہبی رنگ کی حامل تھی۔اُس کو اپنے مسائل سے زیادہ سیاست اور مذہب کی فکر لاحق تھی۔حالانکہ وہ پانچ جماعتیں پاس تھا۔لیکن ٹی وی پر زیادہ تر مذہبی اور سیاسی پروگرام دیکھتا تھا۔اخبار کے رنگین صفحات بھی اسی طرز کے پڑھتا اور دیکھتا تھا۔
میرے لیے یہ حیران کن تھا۔ایک عام آدمی جس کا باپ بھی غربت کا ڈھول بجاتے ہوئے ،قبر اُوڑھ چکا تھا ،سیاست اور مذہب کا مقدمہ لڑرہا تھا۔
عام آدمی کو اپنا اسیر بنانے میں سیاست دانوں اور مذہب کو سیاسی مقاصد کے طور پر استعمال کرنے والوں کے لیے مبارک باد توبنتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...