المیہ کا سفر

762

‘المیہ کا سفر’ نام دے کر اشفاق سلیم مرزا صاحب نے اپنی کتاب کے لیے آئندہ ہونے والی گفتگو کو خود ہی ایک سمت دینے کا اہتمام کیا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیائے ادب میں المیہ کا آغاز یونانی ڈرامہ کو مانا جاتا ہے۔ جب کہ یہ کتاب یونانی کلاسیک ڈراموں کے اردو تراجم پر مشتمل ہے۔یہ یونانی ڈرامہ نگار ہی تھے جنھوں نے اپنی تخلیقات میں المیہ کے عنصر کو متعارف کروایا اور اصل میں انھوں نے عالمی ادب میں المیہ کی روایت کی داغ بیل ڈالی۔ اس سے پہلے عالمی ادب میں المیہ کا کوئی تصور نہیں تھا۔ یونان ہی میں ہمیں ہومر اور ہیسوئڈ کی اعلی ترین تخلیقات ملتی ہیں جوطویل نظموں پر مشتمل ہیں۔ ان دونوں عظیم شاعروں نے اپنی نظموں میں دیوتاؤں کے کارنامے، محبتوں اور نفرتوں اور آپسی شورشوں کے گیت گائے ہیں، جب کہ بابل و نینوا کی اسطوریاتی نظمیں دیوتاؤں کی جرات، قہرمانی، جارحیت اور رومان جیسے موضوعات پر قائم کی گئی تھیں۔ دیوتاؤں کے ہاں المیہ کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ لافانی زندگی میں یہ تصور محال ہے۔ ڈرامہ دیکھنے والوں کی تفریح کے لیے ڈرامہ نگار دیوتاؤں کی زندگیوں کے اتار چڑھاؤ کو پیش کیا کرتے تھے۔

استادان فن ڈرامہ اسکائی لس، سوفوکلیز اور یوری پڈیز پہلی بار انسان کو ایک کردار کے طورپر اپنے ڈراموں میں لائے۔ انسان کے ساتھ فانی زندگی کا بھی ان ڈراموں کی کہانیوں میں دخل ہوا ۔تو اس سے المیہ کے بیچ پھوٹے کیوں کہ زندگی کا فنا پذیر ہونا ہی المیہ کا اصل بنیاد ہے۔ دیوتاؤں کی زندگیوں میں چوں کہ فنا کا دخل ناقابل تصور ہے، اس لیے ان کے گرد گھومتی کہانیوں میں المیہ پیدا کیا جانا ممکن نہیں تھا۔ صرف ایک مثال پرومیتھیس کی یونانی دیومالا میں ایسی ہے جس کی کہانی کے ساتھ المیہ کا عنصر نتھی کیا جاتا ہے۔ جب کہ اس مثال میں بھی بار بار فنا ہونے کا عمل ایک اذیت ناک لامختتم سلسلہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔یہ سزا اس دیوتا کو انسانوں کی مدد کرنے کے جرم میں بھگتنی پڑتی ہے۔

اسکائی لس، سوفوکلیز اور یوری پڈیزدنیائے ادب میں المیہ ڈرامے کی روایت قائم کرنے والے بانیان میں شمار ہوتے ہیں بلکہ ڈرامہ ہی کی صنف کے بنیاد گزاروں میں ان صاحبان کے نام لیے جاتے ہیں۔ ان کا زیادہ تر کام تو دست برد زمانہ کی نذر ہوگیا، لیکن جو کچھ بچا وہ انھیں ڈرامہ نگاری کی مسند اعلی پر بٹھانے کے لیے کافی ہے۔ سوفوکلیز کے 123ڈراموں میں سے بس سات ہی بچ پائے۔ جب کہ یہی صورت حال اسکائی لس کے معاملے میں بھی ہے جسے حقیقی معنوں میں المیہ کا باپ قرار دیا جاتا ہے،اس کے سات ہی ڈرامے ہم تک پہنچ پائے۔

اشفاق سلیم مرزا صاحب نے ان تینوں عظیم ڈرامہ نگاروں کی تخلیقات کے تراجم کے ساتھ ساتھ ایک عمدہ کام یہ کیا کہ ان کے تفصیلی شخصی و تاریخی خاکے بھی کتاب کے شروع میں پیش کیے ہیں جن میں نہ صرف ان استادان فن کے حالات زندگی مفصل لکھے گئے ہیں بلکہ اس دور کے عصری حالات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ اس دور کی یونانی تہذیب کے تعارف کے بعد قاری کے لیے ڈراموں کے متن کی تفہیم میں زیادہ سہولت اور آسانی پیدا ہو۔لیکن صرف اتنی بات ہی اس کتاب کے لیے کہہ دینا کافی نہیں ہوگا۔ ان ماہرین ڈرامہ کی بہترین تخلیقات کو، جنھیں دنیائے ادب میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے، اردو کے ڈھال کر اشفاق سلیم مرزا نے ایک گراں قدر خدمت سرانجام دی ہے۔

اشفاق سلیم مرزا فلسفہ کے طالب علم ہیں۔ آپ اسلام آباد میں ایک عرصہ سے فلسفہ کی تفہیم کے لیے لیکچرز کا سلسلہ جاری کیے ہوئے اور فلسفہ کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں۔ آپ کی اس سے پیشترایک قابل ذکر کتاب ‘فلسفہ کی نئی تفہیم’ کے نام سے منظر عام پر آچکی اور قارئین و ناقدین سے داد سمیٹ چکی ہے۔

زیر نظر کتاب کے ترجموں میں قابل داد خوبی ان کی زبان کی سہل الفہمی ہے اور مترجم کی یہ مخلصانہ کوشش ہے کہ قاری اور معنی کے درمیان فاصلے کو ممکنہ حد تک کم اور فوری کیا جا سکے۔ ڈرامے کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے ایک طرح کی دہری ذمہ داری کا بار مترجم کے کندھوں پر آپڑتا ہے کہ ایک تو اسے زبان کی عمومیت کے مزاج کو بھی برقرار رکھنا ہے کیوں کہ یہ پڑھنے سے زیادہ سٹیج پر پرفارم کیے جانے والے مسودے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے عوام میں بولی جانے والی زبان کے نزدیک ترین ہونا چاہئے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ چوں کہ ایک ادبی شاہ پارہ بھی ہے تو اس کی زبان میں ادبی زبان کی چاشنی اور رفعت بھی برقرار رہنی چاہئے۔ یہ ایک نہایت مشکل چیلنج ہے جو اشفاق سلیم مرزا نے قبول کیا اور کیا خوبی سے اسے نبھایا ہے کہ اس کی داد دیے بغیر نہیں بنتی۔

المیہ کا سفر

مترجم: اشفاق سلیم مرزا

دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...