بچے روبوٹ نہیں ہیں

195

سکول کا اصرار ہے کہ بچہ تو بہت چھوٹا ہے یہ تو خود کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ اسے سکھانا ہے تو صرف ہم ہی نے سکھانا ہے۔ اس لیے نصاب تشکیل دیا جاتا ہے۔ پورے نصابی خاکے میں بچہ ایک بے جان پرزہ ہوتا ہے

بچہ 4 سال کے بعد جب سکول میں داخل ہوتا ہے تو سیکھنے کا ایک نیا پیٹرن اس کا منتظر ہوتا ہے۔ بالکل نیا اور الگ۔ بچہ اس کو جانتا ہے اور نہ  ہی وہ اس کی شخصیت سے تال میل کھاتا ہے۔ سکول کے پیٹرن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سکول بچے کی سیکھنے کی فطرت سے واقف ہی نہیں۔ اسے کچھ بھی پتہ نہیں کہ بچے کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے۔ اس کے سیکھنے کا اسلوب کیا ہے۔ وہ سیکھنے کا عمل کس طرح شروع کرتا ہے اور کیسے اسے کمال تک پہنچاتا ہے۔

سب سے پہلے سکول کی دانش اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی کہ بچہ خود سیکھ سکتا  ہے۔

سکول کا اصرار ہے کہ بچہ تو بہت چھوٹا ہے یہ تو خود کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ اسے سکھانا ہے تو صرف ہم ہی نے سکھانا ہے۔ اس لیے نصاب تشکیل دیا جاتا ہے۔  پورے نصابی خاکے میں بچہ ایک بے جان پرزہ ہوتا ہے۔ بچے کا خود سیکھنے کا عمل نصابی خاکے میں اشارتاْ بھی مذکور نہیں ہوتا۔ کیا سرگرمیاں، کیا متن اور کیا جائزہ۔ نصابی خاکے کاایک جزو بھی اس نقطہ نظر سے تشکیل نہیں دیا جاتا کہ بچہ خود کچھ سیکھ سکتا ہے۔

بچہ سکول میں داخل ہوتا ہے تو آپ اس سے سیکھنے کا کنٹرول چھین کراس کی آزادی پر حملہ کر دیتے ہیں۔ آپ بغیر کسی فطری ترغیب کے اس کو وہ کچھ سیکھنے پر مجبور کرتے ہیں جو وہ نہیں سیکھنا چاہتا۔ اور وہ کچھ اسے سیکھنے نہیں دیتے جو وہ سیکھنا چاہ رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بچہ تصاویر دیکھنا چاہتا ہے آپ اس کے ہاتھ سے تصاویر کی کتاب لے کر اس کو حروف تہجی کی کتاب تھما دیتے ہیں۔ بچہ اس مداخلت پر ڈسٹرب ہوجاتا ہے۔ اس طرح آپ بچے کو ریاضی کے کچھ ہندسے دلچسپ مثالوں کے ذریعے سکھاتے ہیں وہ یہ ہندسے سیکھ لیتا ہے۔ آپ دوسرے دن پھر وہی ہندسے پڑھاتے ہیں، بچہ بادل نخواستہ دوسرے دن بھی وہ ہندسے پڑھتا ہے لیکن وہ کچھ اور سیکھنا چاہتا ہے کچھ نیا جو اس کے متجسس اور تخلیقی ذہن کی تسکین کا سامان کرسکے۔ لیکن آپ کا  تعلیمی کیلنڈر آپ کو مجبور کرتا ہے کہ آپ یہ ہندسے پورا ایک ہفتہ پڑھاتے رہیں۔ بچے کی سیکھنے کی جبلت اسے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے لیکن آپ اسے راستہ نہیں دیتے۔ اس کی یہ جبلت بھٹک جاتی ہے۔

آٹھ گھنٹے ایک ماحول میں ساکت ہوکر اور چپکے ہوکر بیٹھے رہنا اس کے لیے عذاب بن جاتا ہے۔ وہ کلاس سے باہر کسی اور دنیا میں پہنچ جاتا ہے ، سوجاتا ہے یا غیر متعلق ہوجاتا ہے۔ یہ عمل ایک عرصے تک جاری رہتا ہے حتیٰ کہ سکول اس کے لیے کشش کھودیتا ہے۔ سکول سے بڑھ کر غیر دلچسپ جگہ اس کے لیے دنیا میں کوئی نہیں۔ سکول سے چھٹی اس کے لیے رہائی کے مترادف ہوتی ہے۔ چھٹی کا دن عید سے کم نہیں ہوتا۔ چھٹی کے دنوں کو وہ باقاعدہ  سیلیبریٹ کرتا ہے۔

بچے کے سامنے مضامین کی کوئی حدود نہیں ہوتیں۔ لیکن آپ اسے مضامین کی حدود  میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ بچے کو پڑھاتے ہیں ‘بھ’ بھیڑ۔ بچہ بھیڑ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ کہ کوئی خاص شے ہے۔ اس کی توجہ ‘بھ’ سے زیادہ بھیڑ کی طرف ہے۔ یہ بھیڑ کیا ہوتی ہے؟ یہ کیا کرتی ہے؟ کیا کھاتی ہے؟ اس کا کوئی گھر ہوتا ہے؟ ماں باپ اور دوست ہوتے ہیں؟ بچے کے ذہن میں یہ سوالات اٹھ رہے ہوتے ہیں لیکن آپ کے لیے تو بچے کے یہ سوالات  غیر متعلق اور بے معنی ہیں۔ آپ کی دلچسپی تو بھیڑ سے زیادہ ‘بھ’ پر ہے جو آپ نے اسے پڑھانی ہے۔ بھیڑ کیا ہوتی ہے اور کیا نہیں۔ یہ تو سائنس کے استاد نے اسے بتانا ہے یا معاشرتی علوم یا جغرافیے کے استاد نے۔ لیکن بچہ تو سیکھنے کو ایک اکائی کے طور پر لے رہا ہوتا ہے۔ اس کے سامنے مضامین کی کوئی تقسیم نہیں ہوتی۔ وہ ایک لمحے میں زبان سیکھ رہا ہوتا ہے تو دوسرے لمحے سائنس سے فلسفے کی طرف چلا جاتا ہے۔ بچے کے غیر متعلق سوالات اور اس کا  تجسس بظاہر آپ کے سبق کے لیے سازگار نہیں۔ اس لیے آپ اس کے سوالات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ دراصل آپ اس کے سوالات نظرانداز نہیں کرہے ہوتے بلکہ اس کے تجسس کو بے وقعت قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ تجسس جو اس کے اندر جاننے کے عمل کو متحرک کرتا ہے، اس کے ذہن میں حقیقی سوالات اٹھاتا ہے اور جو سیکھنے کی کلید ہے۔ لیکن بچے کے نہ سیکھنے سے آپ کو فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ آپ کی کامیابی کی کلید تو بچوں کے اچھے نمبر اور گریڈ ہیں۔ جو آپ کو سکول انتظامیہ کے سامنے سرخرو کر دیتے  ہیں۔ اس لیے آپ تکرار کرتے ہیں اور بچے سے تکرار کرواتے ہیں۔ بھ بھیڑ، بھ بھیڑ، بھ بھیڑ، بھ بھیڑ۔

غرض ایک بھیڑ چال ہے جو تعلیمی نظام میں نظر آتی ہے۔ دنیا بھر میں ایک ہی تعلیمی ماڈل کی پیروی کی جاتی ہے۔ جس میں بچہ ایک روبوٹ ہے۔ آپ تعلیمی نظام کے ریموٹ سے  جس کی حرکات و سکنات کا تعین کرتے ہیں۔ اس ماڈل میں بچے کا کام صرف اطاعت کرنا ہے۔ ایک اطاعت شعار بچہ ہی اچھا طالب علم ثابت ہوسکتا ہے ۔ اطاعت شعاری پر اسے انعام ملتا ہے اور حکم عدولی پر سزا۔ بچے کی اسی اطاعت شعاری میں اس کو تعلیم یافتہ بنانے کی حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔ آپ کے تعلیمی سٹرکچر میں بچہ مجبور ہوکر آپ کے معیارات کے راستے پر چلتا ہے۔ وہ درجہ بدرجہ آگے بڑھتا ہے، پاس ہوتا ہے، نمبر حاصل کرتا  ہے، سند اور سرٹیفیکیٹ وصول کرتا ہے۔ لیکن وہ کچھ بھی نہیں سیکھ رہا ہوتا۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ مضامین میں نمبر حاصل کرنے اور ان کا علم حاصل کرنے میں بہت فرق  ہوتاہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...