اردو، ناول اور غزل:چند خیالات

827

پہلا باقاعدہ ناول مراة العروس کو مانا جاتا ہے جو 1869ء میں شائع ہوا۔یہی مرزا غالب کا سال وفات بھی ہے۔ یوں اردو نثر اور ناول کی کم و بیش ایک ہی عمر مانی جا سکتی ہے اور یہ ڈیڑھ سو برس سے زیادہ نہیں ہے۔

اردو میں لگ بھگ ڈیڑھ سو برسوں پر پھیلی تاریخ کی حامل اس صنف ناول میں ہم عالمی معیار کے شاید اتنے ناول بھی پیدا نہیں کرپائے جتنی انگلیاں ہمارے ہاتھوں میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے برعکس عام دلچسپی کے ناول جنھیں کمرشل فکشن کا نام دیا جاتا ہے، اردو میں اتنی تعداد میں شائع ہوئے کہ جیسی فراوانی سے اردو کی کوئی بھی دوسری صنف محروم ہے۔ سنجیدہ فکشن کی معاملے میں اردو کی یہ فرومائگی گہری تحقیق و تجزیے کی متقاضی ہے۔

اردو کا شمار کم عمر زبانوں میں ہوتا ہے۔ پہلا صاحب دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ کو مانا جاتا ہے جس کا دورسترھویں صدی کی اولین دہائی تک دورانیے پر مشتمل ہے۔ جب کہ پہلا مستند شاعر ولی دکنی ہے ، جو 1667سے 1707عیسوی کے درمیان ہوا۔ یہ تو ہوئی شاعری کی عمر، نثر میں تخلیقی اظہار کی تاریخ اس سے بھی مختصر ہے۔ غالباً یہ مرزا غالب ہی تھے جنہوں نے پہلی بار اپنے خطوط  کے ذریعے نثر میں تخلیقی اظہار کی راہ ڈھونڈی۔آپ اردو کے اولین نثّار ہیں۔

پہلا باقاعدہ ناول مراة العروس کو مانا جاتا ہے جو 1869ء میں شائع ہوا۔یہی مرزا غالب کا سال وفات بھی ہے۔ یوں اردو نثر اور ناول کی کم و بیش ایک ہی عمر مانی جا سکتی ہے اور یہ ڈیڑھ سو برس سے زیادہ نہیں ہے۔

اردو کا پہلا باقاعدہ اور مکمل ناول ‘امراؤ جان ادا’ کو کہا جا سکتا ہے جو مراة العروس سے 32سال بعد 1901ء میں شائع ہوا۔ یوں ناول کی اصل عمر ایک سو بارہ سال بنتی ہے۔1869ء سے 1901ء کے دوران بتیس برسوں میں ڈپٹی نذیر احمد، عبدالحلیم شرر اور رتن ناتھ سرشار نے اپنے اپنے طور پر ناول لکھنے کی اولین کوششیں کیں لیکن یوں لگتا ہے ان کا اصل مقصد ناول لکھنا تھا ہی نہیں۔ وہ بہت سنجیدگی کے ساتھ اصلاح معاشرہ، تفریح، یا تاریخ نویسی جیسے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہے تھے اور ناول ان کے لیے داستانوں ہی کی ایک نئی صورت تھی۔ حالاں کہ تب مغرب میں پہلا بڑا ناول ڈان کیخوتے ظہور پذیر ہوئے تین سو سال گزر چکے تھے۔اردو میں ناول کی صنف نے اپنا اظہار پانے میں تین صدیوں کا طویل انتظار کیا۔

مرزا ہادی رسوا سے پہلے کے ناولوں میں کرداروں کی تہہ داری، پیچیدہ ذہنی عوامل کی کارفرمائی اورحقیقت کو ملٹی ڈائمنشنل یعنی کثیر الجہتی تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی  کوشش ناپید دکھائی دیتی ہے ۔پینٹنگ کے برعکس فوٹو گراف کی طرح کے یہ ایک ہی ڈائمنشن میں لکھے گئے ناول زندگی کے بارے میں کسی گہرے تجزیے سے تہی ہیں اور ان میں ظاہری پرت کے نیچے زمین سخت ہے جس میں کسی تخلیقی بیچ کی آبیاری ممکن نہیں۔

مرزا ہادی رسوا نے پہلی بار ناول نگاری کے فنی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے امراؤ جان ادا تحریر کیا اور یہی وجہ ہے کہ یہ ناول اپنے عصری منظرنامے میں بہت درخشاں اور ایک اور ہی دنیا کی خبر دیتا معلوم ہوتا ہے۔ ہم چاہیں تو اسے ناول نگاری میں تخلیقی اور غیر تخلیقی ناول نگاری کے مابین پہلی واضح تفریق بھی قرار دے سکتے ہیں۔

ناول نگاری ہمارے ہاں کبھی ایک مقبول صنف کی حیثیت حاصل نہیں کر پائی۔ شاعری کا جادو تو خیر پوری دنیا میں پڑھنے والوں کو اپنا اسیر بنائے رہا لیکن مغربی دنیا میں سولھویں صدی کے بعد سے کہانی اور خاص طور پر ناول نے ایک مقبول صنف کی حیثیت سے ادبی منظر نامے میں اپنے لیے جگہ بنانی شروع کردی تھی۔

اٹھارھویں صدی کے صنعتی انقلاب نے اس عمل کو مہمیز کیا۔جوں جوں مغرب اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں ٹیکنالوجی اور صنعت کی ترقی نے راہ پائی، شہری ہجرت میں اضافہ ہوا، یا قصبوں نے زیادہ سے زیادہ شہری تہذیب کی صورت میں ڈھلنا شروع کیا، تو ان شہری مراکز میں جن اصناف نے غیر معمولی تیزی سے فروغ پایا ان میں ایک ناول ہے۔ افسانے کی جدید صورت بھی انھی اصناف میں شمار کی جا سکتی ہے۔ جدید نظم اور ناول جیسی ترقی یافتہ ادبی اصناف خاص طور پر شہری تہذیب کی مرہون منت ہیں۔

اس بات سے انکار ممکن نہیںہے کہ آج دنیا بھر میں ناول ادب کی سب سے معروف صنف بن چکا ہے اور عام طور پر فکشن نگار سے مراد ایک ناول نگار ہی لی جاتی ہے۔ اگر نوبل ادبی انعام کو عالمی ادبی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کا ایک اشارہ مان لیا جائے تو بات زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ 2001سے 2015تک پندرہ  نوبل ادبی انعامات دیئے گئے جن میں سے گیارہ انعام صرف ناول نگاروں کے حصے میں آئے۔2013کا نوبیل ادبی انعام ایلس مینرو کو ملا جو دنیا بھر میں ایک خوش گوار اور غیر متوقع تبدیلی مانی جا رہی ہے کیوں کہ بہت عرصہ کے بعد ایک افسانہ نگار پر اس ہما کا سایہ ہوا ہے۔

عالمی ادب میں ناول کے فروغ کے مختلف النوع اسباب مانے جاتے ہیں۔ مارکیٹ کے دباؤ کو بھی خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔زندگی کے باقی شعبوں کی طرح ادب مارکیٹ اکانومی کے اثرات سے مبرا نہیں ہے۔ کتابیں زیر غور اور زیر بحث آئے ہوئے ایشوز کی بنیاد پر بکتی ہیں اور مارکیٹ ان ایشوز کا تعاقب کرتی ہے۔ اس تعاقب میں ادب میں شامل ہے۔

تاہم جس امر نے ناول کو عہد جدید کا نباض اور اس کے حقیقی ترجمان کا مرتبہ تفویض کیا، وہ حقیقت کی نئی تفہیم ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی ، اور ترقی یافتہ مہذب معاشرے میں جدید انسانی زندگی اور معاصر صورت حال کی پیچیدگی کے پیش نظر ممکن ہوئی۔یہ حقیقت اُس سادہ حقیقت سے بہت مختلف ہے، جس کو بیان کرنے کا فریضہ ہمارا ادب اب تک خوش اسلوبی سے ادا کرتا رہاہے۔ نئی انسانی پیچیدہ صورت حال کے بیان کے لیے وسیع تر امکانات اور زندگی سے زیادہ پھیلاؤ والے بیانیے کی حامل صنف کی ضرورت ہے جو حقیقت کو تمام تر ممکنہ پہلوؤں سے جانچنے اور سمجھنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ ناول نے نسبتاً بہت کم عرصے میں اپنے امکانات کو واضح کیا اور اپنا جوہر منوایا ہے۔

عالمی منظر نامے کے برعکس اردو میں ناول نگاری کی صورت حال ناگفتہ بہ رہی۔ اس زوال اور انحطاط کے اسباب کی کھوج ضروری ہے۔ تاہم یہاںمزید آگے بڑھنے سے پہلے تفہیم کی آسانی کے لیے بہتر ہوگا کہ خام انداز میں ہی سہی مگر اصناف ادب کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کرلیا جائے۔

وضاحتی پیرایہ اظہار کی حامل اصناف،

اختصار پسند پیرایہ اظہار کی حامل اصناف۔

قصیدہ، مثنوی، مرثیہ وغیرہ شاعری میں اور ناول، تنقید، سماجی علوم، وغیرہ نثر میں وضاحتی پیرایہ اظہار کی حامل اصناف ہیں۔جب کہ اختصار پسند پیرایہ اظہار کی حامل اصناف میں غزل اور افسانہ اہم مانی جا سکتی ہیں۔یہ بالکل منی ایچر مصور اور کسی بھی عام مصور کے درمیان موجود فرق جیسی بات ہے۔ کہ صرف برش کا سٹروک دونوںکے فن کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے نہ کہ وہ منظر جسے تصویر کیا گیا ہو۔

علوم و فنون اور ادب کی ایسی تقسیم لکھنے اور پڑھنے والوں کے تاریخی و تہذیبی پس منظر اور مزاج کو سمجھنے میں مدد گار ہوسکتی ہے۔ جیسے چھوٹے اور بڑے سانس کے کھیلوں کی طرف میلان ہونا، کھلاڑی کی انفرادی جسمانی و ذہنی اہلیتوں، مزاج اور جسمانی ساخت ہی کا آئینہ دار نہیں ہوتا بلکہ اس کے جغرافیائی، تہذیبی و سماجی پس منظر کی بھی چغلی کھاتا ہے۔

جہاں مختصر پیرایہ اظہار کی اصناف فوری نوعیت کے جذبات و احساسات کے لیے موزوں اور ایسی ہی طبیعتوں کے حامل افراد و اقوام کے مزاج کے موافق مانی جاتی  ہیں، تو وہاں اس کے برعکس وضاحتی پیرایہ اظہار کی اصناف ایک طرح کے سائنسی اور حقیقت پسندانہ مزاج کو راس آتی ہیںجو فنی تحمل کو کام میں لاتے ہوئے ٹھہر کراور، تفصیل اور جزئیات کے ساتھ فکر و تحقیق کا جوئندہ ہو۔

برصغیر میں خصوصاً مسلمانوں کے مجموعی غیر سائنسی اور غیر حقیقت پسندانہ مزاج نے انھیں وضاحتی پیرایہ اظہار کی حامل تمام اصناف سے دور رکھا اور وہ اس بے اعتنائی کے نتیجے میں بتدریج زوال کا شکارہوئیں۔وہ یا تو سرے سے ناپید ہوگئیں جیسے داستان، مثنوی وغیرہ ، یا اگر باقی رہیں بھی تو ایسی شکستہ حالت میں کہ بے اثر ہوگئیں، جیسے مرثیہ گوئی، سماجی علوم اور ناول۔ تنقید کی حالت بھی کبھی قابل رشک نہیں رہی، نہ اب ہے۔

اردومیں مجموعی طور پر اختصار پسند اصناف ہی کا بول بالا رہا۔ناول کے برعکس مختصر افسانہ کے باب میںقابل ذکر تخلیقات سامنے آئیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افسانے کے میدان میں ہماری معرکہ آرائیاں قابل صد افتخار اور عالمی ادب میں اعتماد کے ساتھ پیش کیے جانے کے لائق ہیں۔ اسی طرح شاعری میں بھی وضاحتی پیرایہ اظہار کی حامل اصناف جیسے مثنوی، مرثیہ وغیرہ نہیں پنپ سکیں اور مقبولیت کا تاج ہر دور میں غزل ہی کے سر پر رکھا گیا۔

اس نہایت مختصر اور کافی مبہم تصویر میں کیا ہمیں کوئی نقطہ سجھائی دیتا ہے؟ تصویر کو مزید واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اردو زبان کے آغاز و ارتقاء کی کہانی کو ایک بار پھر سے دیکھا جائے اور اُس دور کے بالخصوص برصغیر کے مسلم معاشرے کے مخصوص سماجی و تہذیبی عناصر پر غور کیا جائے جب اردو پروان چڑھی اور اس کے ابتدائی خدوخال واضح ہوئے۔

برصغیر کی ادبی فضا اگرچہ نظموں کے لیے کہیں زیادہ سازگار رہی کہ یہاں بیشتر ادبی سرمایہ نظموںہی پر مشتمل تھا۔مہابھارت، رامائن، اور حتی کہ ہندوؤں کی مذہی کتابیں جیسے وید، اپنشد اور قدیم صوفی شعراء کا کلام چھوٹی بڑی نظموں ہی کے مجموعے ہیں۔(جاری ہے)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...