دینی مدارس کے طلباء کامستقبل: چند چبھتے سوالات

533

کیا دینی مدارس کے ان طلباء کو عصری تعلیمی ادارے قبول کرنے پر راضی برضا ہیںیا کوئی ایسا ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے جو ان طلباء کو مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جدید تعلیمی نظام کی طرف کھینچے۔؟

وطن عزیز پاکستان میں جہاں بہت سے تعلیمی ادارے اپنا وجود رکھتے ہیںوہیں ان میں بہت بڑی تعداد دینی مدارس کی بھی ہے۔اس بات سے قطع نظر کہ وہ دینی مدارس اپنی اپنی جگہوں پر رہتے ہوئے دینی کے ساتھ ساتھ دنیاوی اور معاشرتی طور پر کس حد تک اپنا فعال کردار ادا سکے یا ناکام رہے ہیں۔بہر کیف !اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔

ان دینی مدارس کے طلباء کی ظاہری طور پر تین اقسام ہیں۔

(١)۔ پہلی قسم ان طلباء کی ہوتی ہے جن کے والدین مذہبی ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں۔اور اسی ذہنیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو ابتدائی تعلیم سے ہی دینی مدارس کی راہ دکھاتے ہیں۔

(٢)۔دوسری قسم ان طلباء کی ہوتی ہے جن کا فکری رجحان عصری تعلیم کی نسبت مذہبی تعلیم کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔اور وہ اپنی مرضی سے دینی مدارس کا رخ کرتے ہیں۔

(٣)۔تیسری قسم ان طلباء کی ہوتی ہے جن کے والدین معاشی مجبوریوں کی وجہ سے کم عمری میں ہی یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بچوں کا تعلیمی میلان کس طرف ہے انہیں مدارس کے سپرد کر دیتے ہیں۔اور دینی مدارس ان کے رہن سہن کے بندوبست کے علاوہ علاج معالجے تک کی ضروریات کو بغیر کسی فیس کے پورا کرتے ہیں۔

دینی مدارس میں طلباء کو عالم و مفتی(دینی تعلیم کی ڈگریز) بنایا جاتا ہے۔جبکہ ایک عالم کی تعلیم آٹھ سال کے عرصے میں مکمل ہوتی ہے ۔اور اس بعد دو سال کی مزید تعلیم حاصل کرکے مفتی کا درجہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس آٹھ سے دس سال کے دورانیہ میں انہیں کیا کیا پڑھایا جاتا ہے؟کون کون سی کتب ان کے نصاب تعلیم کا حصہ ہیں اور کون سی نہیں؟ان کا تعلیمی نظام جدید عصری تقاضوں کے مطابق ہے بھی یا نہیں؟ یا مدارس کا نصاب طلباء کو کس سمت لے جارہا ہے یہ بالکل الگ اور طویل مباحث ہیں۔لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مدارس کے طلباء کا مستقبل کیا ہے۔؟

کیاآٹھ سے دس سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہمارا معاشرہ انہیں تسلیم کرتا ہے۔؟

کیا دینی مدارس کے ان طلباء کو عصری تعلیمی ادارے قبول کرنے پر راضی برضا ہیںیا کوئی ایسا ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے جو ان طلباء کو مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جدید تعلیمی نظام کی طرف کھینچے۔؟

کیا ریاست کی طرف سے ان طلباء کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔؟

کیا ہماری حکومتوں نے جہاں جدید تعلیمی اداروں کے طلباء کو ملکی تعمیر و ترقی میں اپنی خدمات پیش کرنے کا موقع دیا وہیں دینی مدارس کے طلباء کو بھی دست راست بننے کا موقع دیا۔؟

اور سب سے اہم سوال کہ کیا دینی مدارس کے تمام بورڈزکے سربراہان کی کارکردگی کو جانچنے کا پیمانہ وجود میں لایا گیا۔؟

یہ وہ چند اہم سوالات ہیں جن کے جوابات ہی نہیں بلکہ ان کی عوام تک آگاہی بھی مستند و معتبر فکری اذہان رکھنے والی شخصیات کے کندھوں پر ہے۔

المیہ تو یہ بھی ہے کہ جب دینی مدارس کے طلباء اپنی تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو کئی کئی ماہ کی مہم جوئی کے بعد اپنی اسناد کو HEC سے تصدیق(جو کہ امتحانی بورڈز کا کام ہے نہ کہ ایک طالب علم کا) کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔اس امتحان کے بعد اگر کوئی خوش قسمت طالب علم کسی عصری تعلیمی ادارے کا رخ کرے تو چند ایک اداروں کے سوا تمام یونیورسٹیزان طلباء کو یا تو ویسے ہی لینے سے گریزاں ہیں یا پھر ان کے پاس دینی مدارس کے طلباء کو جدید تعلیمی نظام کاحصہ بنانے کا بہتر دائرہ کار سرے سے موجود ہی نہیں۔

کیا یہ بہتر نہیں کہ شدت پسندوں یا مذہبی انتہاپسندوں ہاتھوں استعمال ہونے کا ڈھونڈرا پیٹنے سے پہلے ہی جان بوجھ کر بے روز گار کئے جانے والے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں طلباء کو ابھی اور آج ہی سے قومی دھارے میں شامل کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے جائیںتا کہ کوئی بھی قوت ان کی بے روزگاری، غربت و افلاس یا دیگر مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں استعمال نہ کر سکے۔

ہر سال دینی مدارس سے پڑھ کا فارغ ہونے والے طلباء کی تعداد کم و بیش دو سے ڈھائی لاکھ کے قریب ہے۔ اسے حالات کی ستم ظریفی سمجھ لیجئے یا قسمت کے کھیل،اگر آپ لاہور سے جنوبی پنجاب اور اس کے قر ب و جوار بہاولپور ، صادق آباد تک کے مدارس کا دورہ کریں تو وہاں موجودانہی دینی مدارس سے فارغ شدہ طلباء کا معیار زندگی تکلیف دہ منظر کی صورت نظر آئے گا۔جو وہاں پر اب 3000 سے شروع ہو کر 6000 تک انتہائی کم تنخواہ میں گزر بسر کرنے والے آئمہ و خطباء ،اسی طرح 7000 سے 12000 تک پڑھانے والے مدرس کی صورت میں ہر جگہ نظر آئیں گے۔اور جن کو یہ بھی نصیب نہ ہو وہ مذہبی و عسکری تنظیموں کا حصہ بن کر اپنا گزر بسر کرتے نظر آتے ہیں۔

بہر کیف ۔ ۔ ۔ جیسے کیسے بھی ان مدارس تک پہنچنے والے تینوںاقسام کے طلباء کا آٹھ سے دس سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد کیا مستقبل ہے۔؟

تمام مدارس کے بورڈز ہونے کے باوجود ان کی تعلیمی اسناد کیا حیثیت رکھتیں ہیں۔؟

ان کے معاشی مسائل کا حل کہاں ہے۔؟

مسٹر اور ملا کی تفریق میں پستا ہوا ”انسان”آخر کب تک کھلونا بنا رہے گا۔؟

یقینا ان جیسے درجنوں سوالات کے جوابات سوائے لفاظی اور عداد و شمار کی کھینچا تانی کے سوا کسی بھی ذی شعور کے پاس نہیں ہیں اور ادھر دل ناداں ہے کہ تسکین قلب کے لئے سوال پر سوال کئے دیتا ہے۔ ۔۔!

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...