اردو، ناول اور غزل:چند خیالات(آخری حصہ)

478

ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ اور بالخصوص مسلم اشرافیہ کو غزل ہی موافق آئی جس کے موضوعات تب اور اب بھی بیشتر خاص طور پر سیاست اور مسلمانوں کی علمی، تہذیبی اور ذہنی پسماندگی سے غیر متعلق رہے۔

زبانیں اپنی بقا کے لیے تشکیلی عمل میں گرفتار رہتی ہیں اور یہی گرفتاری جسے ہم ارتقاء یا وسعت پذیری کا نام دے سکتے ہیں، ان کی اثرانگیزی اور تازہ کاری کی ضامن بھی ہوتی ہے۔ اردو میں وسعت پذیری کے رویے کے بجائے اس کے خالص پن پر اصرار کو معیار بنایا گیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

خالص پن سے کیا مراد ہے یہ بات ایک ‘میل شاونسٹ’ معاشرے میں سمجھنا کچھ زیادہ دشوار نہیں ہے۔ رامائن میں سیتا کو اگنی پرکشا سے گزرنا پڑا تھا کیوں کہ اس کے خالص پن پر شک کیا گیا تھا۔ اردو کی عصمت کو خاص طور پر ہندی اثرات سے پاک رکھنے کے لیے اسے مقامیت سے دور رکھنے کا خاص اہتمام کیا گیا جیسے اشرافیہ خود کو عوام الناس کا حصہ بننے سے بچانے کے لیے خاص اہتمام کرتی ہے، اپنے خالص پن کو بحال رکھنے کے لیے۔ تو ایسا ہی اس نے اپنی زبان کے ساتھ بھی کیا۔ اور اس کا اثر ویسا ہی ہوا جیسے دھوپ گھڑی کو ڈھانپ دینے سے اس کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔

یہ زبان تو تھی ہی مقامیت کی پروردہ۔ اسی لیے تو اردو کہلائی۔ اسے مقامی اثرات سے دور کرنے کا مطلب اسے خالص رہنے دینے کا اہتمام نہیں تھا، بلکہ اسے مردہ کردینے اور اس کا گلاگھونٹ دینے کے مترادف تھا۔ مقامی زبانوں کی آمیزش سے متشکل ہونے والی اس زبان کو اس کے سب سے اہم جوہر یعنی’ مقامیت’ سے محروم کرکے اسے ‘خالص’ بنانے کی غیر فطری کوشش کی گئی۔ خان آرزو اور ناسخ وغیرہ نے تو اردو کی تطہیر کا کام اصرار اور اہتمام کے ساتھ کیا اور اس میں سے مقامی زبانوں کے الفاظ کو چن چن کر باہر نکالا۔

ہر طرح کے موسمی اور مقامی اثرات سے محفوظ اردو ایسی یوٹوپیائی تنہائی میں پروان چڑھی جس میں دھند کا منظر نامہ تھا اور ہر شے عمومیت اور ابہام کی تہہ میں لپٹی ہوئی تھی۔ وہاں وضاحتوں اور تفصیلات کی کیا جا، اور اصطلاحوں اور عصری علامتوں کی کیا گنجائش۔ایسی صورت میں ادب میںکون صنف ایسی ہوسکتی تھی جو ان بندشوں کے ساتھ پھل پھول سکے، کیچڑ میں کنول کے سمان کھل سکے۔یہ غزل ہی تھی، اشرافیہ کے مزاج کے موافق اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے مطلوبہ حد تک بے ضرر۔سو وہ اصناف جو ان اجزا کے بغیر سانس نہیں لے سکتی ہیں، حبس دم کا شکار ہوگئیں۔

نثر میں داستان کا حلقہ زندگی تنگ ہوا۔اردو میں آخری داستان جعفر علی شیون کی طلسم حیرت ہے جو انیسویں صدی کے آخری ربع میں منظر عام پر آئی۔ اسی طرح مثنوی کی شہرت کا سورج بھی بیسویں صدی میں برصغیر کے مسلمانوں کی زبوں حالی کی تاریکی میں گم ہوگیا۔آخری سب سے اہم مثنوی گلزار نسیم تھی۔ حفیظ جالندھری کی شاہنامہ اسلام اردو میں مثنوی کی روایت کا اختتام قرار دیا جا سکتی ہے۔

1857کے بعد جب حکومت برطانیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے اور متحدہ ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کی تو یہ اس بات کا بھی ایک واضح اور حتمی اشارہ تھا کہ اب انگریز حکومت ایک طویل عرصے کے لیے یہاں اپنے قدم جماچکی ہے۔ مسلمانوں کو جو ذرا سی امید پھر سے اپنا کھویا ہوا اقتدار پانے کی باقی تھی، وہ چراغ بھی ایک واقعہ کی ہوا نے گُل کردیا اور برصغیر میں مسلمانوں کو گہری مایوسی کی اتھاہ گہرائی میں دھکیل دیا۔ سرسید احمد خان کی تحریک اسی اتھاہ گہرائی سے باہر نکلنے کی ایک کوشش تھی۔ لیکن تاریکی میں یہ ایک جگنو کتنی روشنی کرسکتا تھا۔

درباری سرپرستی نے مشاعروں کا چلن عام کیا۔ دربار اور اشرافیہ کے ایوانوں سے یہ روایت عوامی حلقوں میں بھی اپنی جڑیں گہری کرتی چلی گئی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ اور بالخصوص مسلم اشرافیہ کو غزل ہی موافق آئی جس کے موضوعات تب اور اب بھی بیشتر خاص طور پر سیاست اور مسلمانوں کی علمی، تہذیبی اور ذہنی پسماندگی سے غیر متعلق رہے۔یہ صنف مسلم اشرافیہ کی اپنی ذہنی پسماندگی کو راس آنے کے ساتھ ساتھ، حکومت وقت کے لیے بھی بے ضرر قرار پائی کیونکہ بالفرض اگر کوئی اپنے عصری سیاسی، و علمی و تہذیبی مسائل کو غزل کے شعروں میں بیان کرنے کا چارہ کرتا تو اس صنف کی جمالیات اس اظہار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طورپر سامنے آتی ہے کہ آپ اسے پھاند ہی نہیں سکتے ہیں۔ یہ جمالیات ایسی ناز ک ہے کہ براہ راست اظہار کی متحمل نہیں ہوپاتی، نہ ہی قافیہ ردیف اور بحرکی بندش شاعر کو اتنی گنجائش دیتی ہے کہ وہ ایک حد سے زیادہ اظہار کے دائرے کو پھیلائے یا اظہار کو مؤثر بنانے کے لیے اس میدان میں نئے تجربات کا سہارا لے۔ باقی رہ جاتی ہے عمومیت اور تجریدیت۔ تو یہی اس کے ساتھی رہے۔ جب کہ عمومیت کے پیرایے میں کہی گئی بات ایسی ہی ہے جیسے زہر نکال لیے جانے کے بعد سانپ۔

وضاحتی پیرایہ اظہار کی حامل اصناف جیسے مثنوی، داستان، مرثیہ وغیرہ میںزندگی کی تصویر تجریدی نہیں ہوتی۔ علامت کو بھی خود کو زمین پر ٹکانا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے اور اپنا جواز پیش کرے۔ کہانی چاہے تخیل ہی میں کیوں نہ ہو، پھر بھی ایک منطقی دنیا تشکیل دینی پڑتی ہے۔ بازار کہہ دینا کافی نہیں ہوتا، اس میں دکانیںتعمیر کرنی پڑتی، اشیا دکھانی اور گاہکوں کی چہل پہل بتانی پڑتی ہے۔ اشیاء کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے عام انسان کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو بھی واضح کرنا پڑتا ہے۔

کردار کی سائیکی میں اترنے سے پہلے اس کا ایک جسم بنانا پڑتا ہے اور جسم بنانے کے لیے آپ کو اپنے آل دوال کو جینا پڑتا ہے۔ آسمان سے لے کر زمین تک سارے منظر نامے میں ہر شے آپ کی جزئیات کی ذیل میں آجاتی ہے۔ چاہے یہ فطرت ہو، انسانی سوچ ہو، یا واقعات۔ اس کے لیے وضاحتی پیرایے کی ضرورت ہے جس میں جدید علوم سے مستفید ہونے اور نئی اصطلاحات اور تراکیب کو سمونے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ جبکہ یہ سب کچھ ایسی ادبی فضا میں ممکن نہیں ہے جس کا خمیر تجریدیت اور عمومیت سے اٹھا ہو۔

اس تھیسز سے یہ مراد بھی ہرگز نہیں لی جانی چاہئے کہ یہاں غزل کے فروغ کو اردو میں ناول کے نہ پنپنے کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ غزل کا فروغ اس مخصوص عوامی رویے اور ذہنیت کی موجودگی کی طرف ایک اشارہ ہے، جس کے باعث اردو میں سائنسی اور علمی مزاج نہیں پنپ سکا، وضاحتی پیرایہ اظہار کی حامل کوئی صنف نمو نہ پاسکی اور ہمارے ہاں معروضیت اور سائنسی طرز فکر کو پنپنے کی راہ نہ ملی۔ یہاں موضوع بحث وہ خاص مزاج اور رویہ ہے، جو ہمارے ہاں ادب میں چند اصناف کی ترویج و ترقی کا باعث بنا تو چند ایک کے لیے زہر قاتل۔ اور جس کے اثرات آج بھی بہت نمایاں ہیں۔

اردو میں ناول کے فروغ کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے ہمیں دنیا کے علمی، سائنسی اور فکری منظرنامے میں ہونے والی تبدیلیوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

پچھلی چند صدیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت سبھی شعبہ ہائے علم میںہونے والی غیر معمولی ترقی اور انسانی سماج میں آنے والی تبدیلی نے حقیقت کے بارے میں ہمارے فہم میں بھی گہرائی اور وسعت پیدا کی ہے۔ پہلے چاند کو رات کا سورج تصور کیا جاتا تھا، آج ہم جانتے ہیں کہ ہمارا نظام شمسی کائنات کے ان گنت ستاروں میں سے ایک حقیر ستارے کے گرد بنا ہوا جال ہے۔1918میں پھیلنے والی  انفلوئنزا کی وبا سے دنیا بھرمیں پانچ کروڑ کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔آج انفلوئنزا کی علامات کو رفع کرنے والی دوا جنرل سٹوروں تک میں دستیاب ہیں۔ ہم انسانی ڈی این اے کو ڈی کوڈ کرنے اور جینیاتی انجیئنرنگ سے جادوئی کمالات دکھانے کے سفر پر رواں دواں ہیں۔

آج حقیقت ایسی سادہ نہیں رہی جو ڈان کیخوتے لکھتے ہوئے سولھویں صدی کے انسانی سماج کی تھی، نہ صرف انسان بلکہ فطرت کا شعور بھی اب سادہ نہیں رہا کہ اسے کسی طور یک پرتی انداز میں بیان کیا جا سکے۔ اس پیچیدہ انسانی صورت حال کے مناسب اظہار کی ذمہ داری کا بوجھ ناول اور نظم ہی کے کاندھوں پر رکھا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دونوں مستقبل کی سب سے مقبول ادبی اصناف ہیں۔

شاعری تو ہمیشہ سے فکشن کی دلدادہ رہی۔ فکشن نے بھی شعری مزاج کو کسی حد تک اپنانے کی کوشش کی ہے۔ مارکیزین طلسماتی حقیقت نگاری اور کافکائی عالم نیم خواب، ہمیں شعری تخیل کے زیادہ قریب معلوم ہوتے ہیں۔ وجودیت کی تحریک نے بھی شاعری سے مخصوص بہت سے موضوعات کو اپنے احاطے میں لینے کی کوشش کی ہے۔

دوسری طرف بابلی عہد کی گل گامش پر نظم سے لے کر ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ اور حسن کوزہ گر تک بڑی نظمیں فکشن ہی کی تیکنیک میں لکھی گئی ہیں۔تمام تر قدیم شاعری جو دیومالاکی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے، نظموں ہی پر مشتمل ہے اور فکشن کے وقوعے کے ذریعے اس بیانیے تک پہنچنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے جس کی معراج آج ناول کی صورت میں ہم دیکھ رہے ہیں۔اس امر کا واضح امکان موجود ہے کہ مستقبل میں شاعری اور نثر کے مابین مبہم سی ہی ایک علامتی حد باقی رہ جائے گی۔شاعری اور نثر کی صدیوں سے چلی آرہی درجہ بندی آئندہ اتنی ضروری اور بامعنی نہیں رہے گی جیسی یہ اب ہے۔

جدید سائنسز اور ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ فروغ، عالمی ادب کے تراجم کی زیادہ مؤثر اور وسیع تر کوششیں، اور زبان کے پھیلاؤ کے لیے اس میں علاقائی آہنگ اورلغت کی آمیزش۔یہ ایسی سفارشات ہیں جو اردو میں جدید اصطلاحات اور عصری حالات کو ان کی تمام تر جزئیات اور سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرنے کی روایت کو فروغ دے گی اور وضاحتی پیرایہ اظہار کی حامل اصناف کے تن نیم جان میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے کا باعث بنے گی۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ناول کے سوا کوئی دوسری صنف ادب ایسی نہیں ہے جو عصری پیچیدہ زندگی کی تصویر اپنی تمام تر ممکنہ جزئیات اور تفصیلات کے ساتھ کامیابی سے پیش کرسکے۔سو ناول کا فروغ ہمارے لیے اس بات کا بھی اشارہ ہوگا کہ ہم میں اپنے موجود سے جڑنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں منصوبہ بندی کرنے کا شعور بڑھ رہا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...