دہشت گردی کی نوآبادیاتی تعریف

1,362

تحریر: حبیب کریم

“مسٹر بن مہدی! کیا خواتین کے سودا سلف والی ٹوکریوں میں دھماکہ خیز مواد لے کر لوگوں کو قتل کرنا ایک بیہودہ عمل نہیں ہے؟”

الجیرین تحریک پر مبنی فلم “دی بیٹل آف الجائرز” میں ایک نیوز ریپورٹر مذکورہ بالا سوال پوچھتا ہے۔ اس کے جواب میں بن مہدی کہتا ہے کہ؛ “کیا دیہاتوں پر بمباری کر کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانا آپ کو بڑی بیہودگی نہیں لگتی؟ زیادہ بہتر ہوتا اگر ہمارے پاس بھی بمبار طیّارے ہوتے۔ اگر خواتین کی ٹوکریوں کو دھماکہ خیز مواد کے لیے استعمال کرنا اتنا ہی برا عمل ہے تو یہ ٹوکریاں تم لے لو اور اپنے بمبار طیّارے ہمیں دے دو۔”

یہ مختصر مکالمہ مابعد نوآبادیاتی تناظر میں اس حقیقت کی غمّازی کرتا ہے کہ دنیا میں شدّت پسندی اور دہشت گردی کی رائج الوقت تعریف وہی ہے جو طاقتور کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ اس متنازع اصطلاح کی کوئی ایسی قانونی تعریف بھی وجود نہیں رکھتی کہ جسے قبولِ عام کا درجہ حاصل ہو۔ قانون کی کتابوں میں دہشت گردی کی جتنی بھی تعریفیں درج ہیں، وہ قانونی سے زیادہ سیاسی حیثیت کی حامل ہیں اور سیاسی مفادات کے گرد ہی گھومتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے قرارداد نمبر 1566 میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی تعریف کی گئی ہے۔ یہ تعریف عام شہریوں کے خلاف کسی شدت پسند گروہ کی مجرمانہ کارروائیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ اسی طرح کسی بھی ریاست یا بین الاقوامی تنظیم کے خلاف بھی کسی گروہ کے مجرمانہ سرگرمیوں کو دہشت گردی کی تعریف میں شامل کرتی ہے۔ اِس قرارداد میں درج دہشت گردی کی تعریف دراصل اس سیاسی بیانیے پر مہر ثبت کرتی ہے کہ دہشت گرد ہمیشہ غیر ریاستی گروہ ہی ہو سکتے ہیں۔ کبھی کوئی ریاست کسی دہشت گردانہ عمل کا مرتکب نہیں ہو سکتی۔ ایسا کہنا کتنا مضحکہ خیز ہے، اس کا اندازہ لگانا سیاست اور تاریخ کے کسی طالبعلم کے لیے مشکل نہیں ہے۔

بعینہٖ یہ مُلکی اور بین الاقوامی سیاسی بیانیے ہی ہیں کہ جن کے تناظر میں کسی کو دہشت گرد کہا جاتا ہے تو کسی کو جہد کار۔ جب مجاہدین سوویت یونین کے دستوں کو نشانہ بنا رہے تھے تو رونالڈ ریگن کے یہاں وہ حریت پسند سپاہی تھے۔ مارگریٹ تھیچر کے بقول “آزاد دنیا” کے دل کی دھڑکنیں ان مجاہدین کے ساتھ دھڑکتی تھیں۔ اور وائٹ ہاؤس میں مغرب کے ان حریت پسندوں کا شایانِ شان استقبال کیا گیا۔ مقصد پورا ہوا تو یہی مجاہدین بعد میں طالبان کی صورت میں شدّت پسند بن گئے، اور بیس سال تک ان پر بمباری میں امریکہ نے دو کھرب ڈالر لُٹا دئیے۔ کل کو یہی طالب پھر سے حریت پسند بنا دیے جاویں تو حیرانی کی بات نہ ہوگی۔ سو، جو تعریف طاقتور پیش کرے، وہی تسلیم شدہ ہے۔ اکیڈمیا اور عوام کی اکثریت اسی کو قبول کرتی ہے۔

اسی طرح ہمارے خطّے میں بھی طاقتور کی طرف سے پیش کردہ شدت پسندی کی تعریف کو بھی سماج کے قریب تمام طبقات نے من و عن تسلیم کر لیا ہے۔ کسی ایک ریاست کے لیے بھی کوئی گروہ اس کے لیے حریت پسند تو دوسری ریاست کے لیے انتہا پسند ہو سکتی ہے۔ جبکہ اس درمیان خود اس گروہ کا مؤقف غائب ہوتا ہے۔ اس کی غالب وجہ یہی ہے کہ وہ گروہ یا قوم بہ نسبت دونوں حریف ریاستوں کے کم طاقتور ہے۔

مجھے یاد ہے کہ قریب سال قبل ایک ترقی پسند دوست نے ایک واقعے کے پسِ منظر میں ریاست سے تمام قومی مزاحمتی تحریکوں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن کے ذریعے انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اُسی واقعے کی مذمت کرتے ہوۓ بھارت کے معروف ترقی پسند مصنف وجے پرشاد نے بھی سخت الفاظ میں ایک مذمّتی ٹویٹ داغی تھی۔ وجے پرشاد چونکہ میری پہنچ سے باہر تھے تو میں نے اُس ترقی پسند دوست سے سوال کیا کہ پہلے یہ بتایا جاۓ کہ کسی بھی “شدّت پسند” گروہ کو ختم کرنے کے لیے خود ریاست کے پاس کیا اخلاقی جواز ہے؟

کیا ریاست سے زیادہ خطرناک اور ثابت شدہ کوئی شدّت پسند طاقت وجود رکھتی ہے؟ کیا جسے آپ شدّت پسند گروہ کہہ رہے ہیں، اس نے شہروں، دیہاتوں، گلی، کُوچوں میں کارپٹ بمنگ کی ہے؟ ہزاروں لوگوں کو ماوراۓ عدالت اغوا اور قتل کیا ہے؟ قصبوں، دیہاتوں کو جلا کر لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا ہے؟ کسی اور کی زمین پر جا کر زبردستی اسے اپنے تصرّف میں لیا ہے؟ اگر یہ سارے جرائم اس گروہ کے بجاۓ خود ریاست کے کھاتے میں درج ہیں تو پھر ریاست کے پاس اس گروہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا کیا اخلاقی جواز ہے؟ سواۓ طاقت کا منبع ہونے کے، کیا کوئی ایسے اخلاقی اصول ہیں کہ جس کے تحت کسی ثابت شدہ شدّت پسند ریاست کی اس کارروائی کو جائز قرار دیا جا سکے؟ چند کمنٹس کے تبادلے کے بعد سوشل میڈیا پہ ہم دونوں کا رابطہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔

یوں، جو تعریف طاقتور پیش کرے، وہی تسلیم شدہ ہے۔ اکیڈمیا اور عوام کی اکثریت اسی کو قبول کرتی ہے۔ شعوری یا لاشعوری طور پر یہ ذہن میں بٹھا لیا گیا ہے کہ دہشت گرد صرف وہی ہو سکتا ہے جو محدود اسلحہ اور کم افرادی قوّت کے ساتھ جدید ترین دفاعی ساز و سامان سے لیس کسی ریاستی طاقت کے ساتھ حالتِ حرب میں ہو۔

با الفاظ دیگر، شدّت پسند وہ ہے جس کے پاس بم تو ہے مگر فضائی فوج نہیں ہے۔ یا پھر جب کوئی مخالف گروہ کسی ریاست کو اسی کی زبان میں ہی جواب دینے پر اتر آۓ تو اسے پُر تشدّد عمل مانا جاتا ہے۔ محض عسکری لحاظ سے کسی کمزور حریف کے پُرتشدد جواب کو دہشت گردی اور انتہا پسندی قرار دینا جابر کی نفسیات ہے۔ اس نفسیات کو ڈیرک جینسن نے اپنی کتاب “دی پرابل آف سیویلائزیشن” میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے؛ “سیاسی، سماجی درجہ بندی میں برتری رکھنے والے کی جانب سے کی جانے والی تشدد لوگوں کو نظر نہیں آتی۔ یا جب یہ تشدد نظر آۓ تو اس کی کوئی نہ کوئی توجیح پیش کر کے اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن جب اس درجہ بندی میں کم اہمیت رکھنے والے کی جانب سے تشدد کا مظاہرہ کیا جاۓ تو اسے خوف اور دہشت کے طور پر لیا جاتا ہے۔”

یعنی کہ ہر خطے میں شدت پسند عموماً اسی کو سمجھا جاتا ہے جسے عسکری، سفارتی اور اقتصادی لحاظ سے طاقتور گروہ یا ریاست شدت پسند قرار دیتا ہے۔ فرانسیسیوں کے لیے شدت پسند الجیرین مزاحمت کار تھے۔ اطالویوں کے لیبئین شدت پسند تھے۔ انگریزوں کے لیے ہندوستانی مزاحمت کار شدت پسند تھے۔ اسرائیلیوں کے لیے فلسطینی انتہا پسند ہیں تو ترکوں کے یہاں کرد مزاحمت کار شدت پسند ہیں۔

ماضی اور حال کے ایسے تمام مزاحمت کاروں کو دہشت گرد قرار دینے کی وجہ یہی رہی ہے کہ انہوں نے بیرونی حملہ آور کو اسی کی زبان میں جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اگر طاقت کے تناسب کے فارمولے کے مطابق دیکھا جاۓ تو یہ دہشت گردی رہی ہے۔ جبکہ تاریخ میں عسکری لحاظ سے ان کم طاقتور فریقین کا نقطہ نظر جانا جاۓ تو وہ یکسر مختلف ملے گا۔

لیکن اس سارے بحث کا مقصد یہ بھی نہیں کہ عسکری لحاظ سے کم طاقتور گروہ کبھی شدت پسند نہیں ہو سکتا۔ مدعا محض یہ ہے کہ صرف طاقت کا تناسب یا ریاستی و غیر ریاستی طاقتوں کی دوئی شدّت پسندی کا پیمانہ نہیں ہو سکتیں۔ اس فارمولے کا استعمال کرتے ہوۓ طاقتور کی جانب سے بہتر پروپیگنڈا کر کے اپنے حق میں راۓ عامہ تو ہموار کیا جا سکتا ہے مگر حقیقی مسائل کی تہہ تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

سو، دہشت گردی یا شدت پسندی کی رائج الوقت تعریف در حقیقت طاقتور کی جانب سے کی جانے والی شدت پسندی کو جواز فراہم کرنے کے لیے تراشی گئی ہے۔ جدید قومی ریاستوں کو اس مروجہ تعریف سے پیچھے تو نہیں ہٹایا جا سکتا۔ البتہ اگر کوئی آزاد اکیڈمیا وجود رکھتی ہے تو اس پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کہیں بھی شدت پسندی کی نشاندہی وہاں کی مروجہ تعریف کو مد نظر رکھ کر کرنے کے بجاۓ غیر جانبدار تحقیق اور بالخصوص محکوم اقوام کے نقطہ نظر کو جانچنے کے بعد کرے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...