بلوچ قوم پرست پارٹیوں میں انتخابی اتحاد کی بازگشت اور ماضی کی تلخیاں

381

تاریخی پس منظر
سن 1970 میں جب بلوچستان کو صوبائی حیثیت ملنے کے بعد ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے تو بلوچستان سے نیشنل عوامی پارٹی بلوچ علاقوں اور جمعیت علمائے اسلام پشتون علاقوں میں کامیاب ہوئی۔ اس وقت بلوچ علاقوں میں نظریاتی سیاست عروج پر تھی اور قوم پرستوں کا طوطا بولتا تھا۔ تاریخی پس منظر سے اگر دیکھا جائے تو بلوچ علاقوں میں قوم پرست اور پشتون علاقے میں جمعیت ہمیشہ جیتتی آ رہی ہے۔

نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت صرف نو ماہ تک برسر اقتدار رہی اور اقتدار کے خاتمے کے بعد نیپ کے قائدین کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے بند کیا گیا اور بلوچستان میں ایک خود ساختہ جمود طاری کیا گیا۔ بلوچستان میں جب ذوالفقار بھٹو نے نیپ حکومت کا خاتمہ کیا تو موجودہ کے پی کے میں برسر اقتدار جمعیت علمائے اسلام نے احتجاجاً استعفی دیا۔ جمعیت بلوچستان میں نیپ حکومت کی بھی اتحادی تھی ۔

سال 1988 میں ایک بار پھر بلوچستان نیشنل الائنس کے پلیٹ فارم پر بلوچ قوم پرست یکجا ہوئے اور اسی پلیٹ فارم پر الیکشن لڑی گئی اور بلوچ علاقوں میں بلوچستان نیشنل الائنس کے زیادہ تر امیدوار کامیاب ہوگئے اور نواب اکبر بگٹی بلوچستان کے وزیر اعلی منتخب ہوگئے۔

وقت گزرتا گیا اور بلوچ قوم پرست پارٹیاں ایک دوسرے سے اتحاد اپنی جگہ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہیں اور مختلف ادوار میں بلوچستان میں بھاری اکثریت سے نہیں جیت پائیں۔1997 کے الیکشن میں بلوچستان میں سیاسی بہتری آئی۔ بی این پی بلوچ حلقوں میں ایک بڑی قوم پرست سیاسی جماعت بن کر ابھری اور بلوچستان کے زیادہ تر سیاست دان اسی پارٹی کا حصہ تھیں۔ 1997 کے الیکشن میں جیتنے کے بعد بی این پی اور نواب اکبر بگٹی کے درمیان شراکت اقتدار کا ایک فارمولا طے پایا کہ ڈھائی سال بی این پی کے اس وقت سربراہ سردار عطا اللہ مینگل کے صاحب زادے اور بی این پی مینگل کے موجودہ قائد سردار اختر مینگل بلوچستان کے چیف ایگزیکٹو جبکہ ڈھائی سال نواب اکبر بگٹی کے صاحب زادے وزیر اعلی ہوں گے۔

ستم ظریفی یہ رہی کہ بی این پی اندرونی اختلاف کے بعد دو سال بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور یہ حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکی۔ بی این پی کا ایک دھڑا موجودہ بی این پی مینگل بن گئی، جبکہ بی این پی عوامی اور بی این ڈی پی بن گئے۔

بی این ڈی پی جس کی قیادت مرحوم میر حاصل بزنجو اور سردار ثناءاللہ زہری کے پاس تھی، بعد میں بی این ایم کے ساتھ انضمام کے بعد نیشنل پارٹی کی شکل میں ایک نئی پارٹی بن گئی۔ اس کی قیادت سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کے پاس ہے۔ 12 اکتوبر 1999کو جب پرویز مشرف نے نواز کا تختہ الٹایا تو ملک سمیت تمام صوبوں کے اسمبلیاں بھی توڑی گئیں۔ اس وقت بی این پی عوامی تین دھڑوں میں تقسیم ہے۔ ایک دھڑے کے سربراہ میر اسداللہ ہیں، جبکہ دوسرے کے میر اسرار زہری اور تیسرے کی قیادت سید احسان شاہ کے پاس ہے اور سیاسی حلقوں کے مطابق یہ اپنے حلقہ انتخاب تک محدود ہیں۔

نئی انتخابی اتحاد کی باز گشت

نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل کے قائدین کا کوئٹہ میں نیشنل پارٹی کے رہنما میر کبیر محمد شہید ہاؤس میں ایک بیٹھک منعقد ہوا جس میں دونوں پارٹیوں کے اہم رہنما شریک رہے، اجلاس میں آنے والے عام انتخابات میں دونوں پارٹیوں نے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا عندیہ دینے کے ساتھ بلوچستان کے قومی مسائل پر مشترکہ جدو جہد کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

قوم پرستوں کے انتخابی اتحاد کے کیا نتائج نکلیں گے؟

بلوچ قوم پرست سیاسی پارٹیاں مکران ،قلات، رخشاں ڈویژن سمیت نوشکی، بارکھان، کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور کوئٹہ کے بلوچ آبادی والے علاقوں سمیت نصیر آباد میں سیاسی اثر رکھتی ہیں۔ جبکہ نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل کے انتخابی اتحاد میں دونوں پارٹیوں کو ایک بڑا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کے ووٹ تقسیم ہونے سےبچے گا اور جن حلقوں میں یہ پارٹیاں معمولی فرق سے ہارتی آرہی ہیں وہاں ان کی نشست پکی ہوگی اور خاص کر کوئٹہ کے بلوچ اکثریت والے حلقوں میں، جہاں ووٹ تقسیم ہونے کا فائدہ دوسری پارٹیاں اٹھاتی تھیں۔

کیا اتحاد ممکن ہوگا؟
دونوں سیاسی پارٹیاں چونکہ بلوچ اکثریت والے علاقوں میں سیاسی اثر رسوخ رکھتی ہیں اور ماضی میں ان کا مقابلہ بھی بلوچ حلقوں میں ہوتا آرہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوگا کہ ان کے امیدوار اپنے مخالفین کو برداشت کریں گے اور اتحاد ہونے کی صورت میں پارٹی فیصلے پر لبیک کہہ کر تسلیم کریں گے۔ اس وقت چونکہ مذاکرات کا ایک دور ہوا ہے، کیا یہ مذاکرات آگے چل کر اس طرح جاری رہیں گے یا ماضی کی طرح یہ فائنل راؤنڈ میں پہنچنے سے پہلے ختم ہوں گے۔ کیونکہ ماضی قریب میں بی این پی اور نیشنل پارٹی کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ شروع ہوئی تھی اس میں بی این پی کے قائدین بھی شریک تھے۔

نیشنل پارٹی اور جمعیت میں انتخابی اتحاد
نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان بھی سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کے حوالے سے مذاکرات کا دور شروع ہوا ہے اور اس حوالے میں کوئٹہ میں نشست ہوئی ہے اور جمعیت چونکہ اس وقت بلوچ حلقوں میں خاصی مقبول ہے اور گزشتہ انتخابات میں بلوچ حلقوں میں جمعیت نے کامیابی بھی حاصل کی تھی۔ اس انتخابی اتحاد کے فائدے بھی دونوں پارٹیوں کو ہوں گے کیونکہ بلوچ حلقوں میں جمعیت کی ایک اچھی ووٹ بینک موجود ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...