ہمارے ہاں تعلیمی قابلیت کا معیار

508

بچوں کے مستقبل کا سوال ان کے حقیقی ٹیلنٹ اور ذہانت کی دریافت سے جڑا ہوا ہے ۔ جب تک ان کی حقیقی ذہانت دریافت نہیں ہوپاتی اس وقت تک آپ ان کے کیرئیر کا درست فیصلہ نہیں کر سکتے۔

ہمارا نظام تعلیم صرف دو انسانی ذہانتوں کو مخاطب کرتا ہے :ریاضیاتی ذہانت(Mathematical Intelligence) اور زبان دانی کی ذہانت (Linguistic Intelligence)۔ باقی انسانی ذہانتیں اس کے دائرہ کارسے خارج ہیں ۔ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ نظام دراصل دور حاضر کی صنعتی ضروریات کے پیش نظر تشکیل دیا گیا تھا جس کا مقصد صنعتی ضروریات کے مطابق ایک خاص نوعیت کی ورک فورس (Work Force) تیار کرنا تھا۔ اس ورک فورس کے لیے جس ذہانت کی ضرورت تھی اسی کو اہمیت دی گئی اور اسی کے مطابق مضامین کی حرارکی بنائی گئی۔ سرفہرست سائنس اور ریاضی کے مضمون رکھے گئے ، اس کے بعد زبان اور اورسماجی سا ئنس اور آخر میں آرٹس ۔ ریاضیاتی ذہانت رکھنے والے افراد کو تو ذہین قرار دیا گیا لیکن حرکی حس کی حامل ذہانت(Kinesthetic Intelligence) یا دیگر ذہانت والے افراد کو کند ذہن۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ نامورکھلاڑی کند ذہن ہوتے ہیں ؟ قطعاً نہیں ۔ یہ اعلیٰ ذہانت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر یہ ذہین نہ ہوتے تو اپنے میدان میں کبھی صلاحیت کے جوہر نہ دکھا سکتے۔

حال ہی میں سائنس دانوں نے  فٹ بال کے کھلاڑیوں کی ذہانت کی پیمائش کے ٹیسٹ کیے ہیں ۔ یہ ٹیسٹ IQ ٹیسٹوں سے کہیں زیادہ جامع ہیں ۔ یہ کھلاڑیوں کی تخلیقی صلاحیت ، ذہنی لچک ، ورکنگ میموری اور پروسسنگ سپیڈ کا احاظہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی  اعلیٰ ترین ذہانت کے مالک ہوتے ہیں ۔ اس مطالعہ  میں شریک ایک سائنسدان  Torbjõrn Vestberg, نے بتایا کہ فٹ بال کھیلنے کے لیے جسمانی صلاحیت اور رفتار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ جسمانی صلاحیت اور رفتارکس کام کی اگر کھلاڑی کے پاس دماغ ہی نہ ہو جو اسے بتا سکے کہ اب کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے؟

سکول کا ایک ہی مقصد ہے کہ بچے میں تعلیمی قابلیت (Academic Ability)پیدا کی جائے ۔ تعلیمی قابلیت میں ذیل کی مہارتیں شامل کی جاتی ہیں: لکھنے کی مہارت،پڑھنے کی مہارت، ریاضی کے سوال حل کرنے کی مہارت، زبانی اور لکھائی کے ذریعے معلومات کی ترسیل کی مہارت، مسائل حل کرنے کی مہارت ، تنقیدی سوچ کی مہارت، یاد داشت کی مہارت وغیرہ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا موجودہ نظام بچے میں یہ تعلیمی قابلیتیں پیدا کررہا ہے۔اس کا جواب بہت زیادہ مثبت نہیں ہے۔ عملاً یہ صرف لکھنے، پڑھنے اور ریاضی کے سوال حل کرنے کی مہارت پیدا کر رہا ہے۔ لیکن فرض کریں کہ اگر یہ تعلیمی قابلیت پیدا کر بھی رہا ہو تو یہ انسانی ذہانتوں کے تنوع سے کبھی مخاطب نہیں ہوتا، اس کے دائرہ کار میں صرف لفظ ، ہندسے اور منطق آتی ہے۔یعنی وہ زبان دانی اور منطی ذہانت سے مخاطب ہوتا ہے۔اس کی فراہم کردہ تعلیمی قابلیت کی پوری عمارت کاغذ اور پنسل کے ستونوں پر کھڑی  ہے۔ کا غذ اور پنسل سیکھنے، سکھانے اور ذہانت جانچنے کا ذریعہ ہیں ۔ انسانی جسم، تصورات، احساسات ، جذبات، آوازیں تعلیم کے عمل کا حصہ نہیں ہیں۔

یہ عجیب بات ہے کہ ہمارا بنایا گیا نظام تعلیم تو تمام انسانی ذہانتوں کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں لیکن ہم عملی زندگی میںذہانت کا تنوع دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری کرکٹ ٹیم میں بہت اچھے کھلاڑی ہوں ، ہماری بھی فٹ بال ٹیم ہو جو دنیا میں ہمارے ملک کا نام روشن کرے،اور ہمارے اردگرد خوب صورت تعمیرات ،سریلی آوازیں، اچھے ڈیزائن ، فن تعمیر کے شاہکار اور مصوری کے رنگ بکھرے ہوں۔ لیکن ہم سکول ایسے بناتے ہیں جہاں ان ذہانتوں کے حامل افراد کو رد کردیا جاتاہے اور ان کے ساتھ ناانصافی شروع ہوجاتی ہے۔ ہمارا سکول ایک کھلاڑی کو سائنس دان اور ایک مصور کو ریاضی دان بنانے پر تل جاتا ہے ۔ طالب علم بصری میڈیم میں سوچنا چاہتا ہے اور سکول اسے غیر بصری میڈیم میں کھینچ کر لانے کی کوشش کرتا ہے۔ ظاہر ہے سکول اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوتا اور ایسے طالب علم کو اوسط ، کمزور یا کند ذہن قرار دیتا ہے۔

بچوں کے مستقبل کا سوال ان کے حقیقی ٹیلنٹ اور ذہانت کی دریافت سے جڑا ہوا ہے ۔ جب تک ان کی حقیقی ذہانت دریافت نہیں ہوپاتی اس وقت تک آپ ان کے کیرئیر کا درست فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ سکول  اس ضمن میں بچے کی بالکل رہنمائی نہیں کرتا ۔رہنمائی تو درکنار وہ اسے کنفیوز کردیتا ہے۔ بچہ بہت چھوٹا ہوتا ہے ، وہ شعور کی منزلیں طے کر رہا ہوتا ہے ، وہ اپنے متعلق فیصلہ نہیں کرپاتا، ہم اسے مجبور کردیتے ہیںکہ غیر متعلقہ میدانوں میں ٹکریں مارتا اور سر کھپاتا رہے۔ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی حقیقی ذہانت کی دریافت میں اس کی مدد کریں۔  بچے کی ذہانت کی پہچان اس کے مشاغل اور دلچسپی کے کاموں سے بآسانی ہوجاتی ہے۔والدین بچے کے ذہانت کے مطابق اس کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کریں ۔یوں بچہ خاندان اور ملک و ملت کا قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...