اسٹیفن ہاکنگ: الحاد کا متکلم (دوسری قسط)

418

اسٹیفن ہاکنگ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ کلاسیکی طبیعیات میں کائنات کے آغاز کے لیے تین چیزوں کی ضرورت تھی۔ مادہ، توانائی اور خلا۔ بیسویں صدی میں آئن سٹائن نے بتایا کہ دراصل مادہ اور توانائی ایک ہی ہے اور ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں تو اب کائنات کی تعمیر کے لیے صرف دو عنصر باقی رہ گئے توانائی اور خلا۔ اُس کے خیال میں Big Bang کے وقت خلا اور توانائی اچانک پیدا ہوئے۔ ساری کائنات اپنے خلا سمیت وجود میں آئی اور چاروں طرف پھیلنے لگی جیسا کہ غبارے میں ہوا بھری جائے تو وہ چاروں طرف یکساں پھیلتا ہے۔ اُس کے خیال میں اس عظیم اور بسیط کائنات کو دیکھتے ہوئے خدا دوبارہ تصویر میں داخل ہوتا ہے۔ یہ خدا ہے جس نے خلا اور توانائی کو پیدا کیا ہے۔ Big Bang تخلیق کا لمحہ تھا۔ ہاکنگ اس خیال کو عقلی انداز میں ردّ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا جواب بھی ہمیں سائنسی قوانین کی وضاحت سے مل جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب جنگ عظیم کے دَور میں وہ جوان ہو رہا تھا تو یہ خیال عام تھا کہ عدم سے کچھ بھی وجود میں نہیں آتا۔ وہ کہتا ہے کہ اب وہ عمر بھر کے کام کے بعد یہ کہ سکتا ہے کہ ایسا سوچنا درست نہیں۔ عدم سے پوری کائنات وجود میں آ سکتی ہے مگر کیسے اس کا جواب وہ مثالوں اور تمثالوں سے دیتا ہے اور اُس کا ہر جواب اُسے پھر اُسی مقام پر لاکھڑا کرتا ہے جہاں سے اُس نے بات کا آغاز کیا تھا کیوں کہ اُس کی ہر دلیل اور مثال خود اپنے اندر تضاد رکھتی ہے۔ وہ مثال تو دیتا ہے مگر مثال میں موجود تضاد کویا تو دیکھ نہیں پاتا یا جان بوجھ کر اس سے صرفِ نظر کر جاتا ہے۔ آئیے اُس کی مثالوں کا تجزیہ کرتے ہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ اس بات کو مانتا ہے کہ یہ ایک عظیم اسرار ہے کہ Big Bang کے وقت توانائی اور خلا سے بھرپور عدم سے کیسے وجود میں آگئی۔ اس کا جواب وہ ایک یہ دیتا ہے کہ ایسا ہونے کے لیے طبیعیات کے قوانین کے مطابق ’’منفی توانائی‘‘ کا وجود ضروری ہے۔ اب اپنی بات کی وضاحت وہ ایک خوب صورت مگر ناقص مثال سے کرتا ہے:

To help you got your head around this wired but crucial concept. Let me draw on a simple analogy. Imagine a man wants to build a hill on a flat piece of land. The hill will represent the universe. To make this hill he digs a hole in the ground and uses that soil to dig his hill. But of course he’s not just making a hill – he’s also making a hole, in effect a negative version of the hill the stuff that was in the hole has now become the hill, so it all perfectly balance out . this is the principal bind what happened at the beginning of the universe. (P: 32)

]’’اس پُراسرار مگر مرکزی تصور کو آپ کے ذہن میں وضع کرنے کے لیے مجھے ایک سادہ تمثل تراشنے دیں۔ تصور کریں کہ ایک آدمی ہم وار زمین پر ایک پہاڑی کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ پہاڑی یہاں کائنات کو ظاہر کر رہی ہے۔ اس پہاڑی کو بنانے کے لیے وہ زمین میں ایک گڑھا کھودتا ہے اور اُس سے حاصل ہونے والی مٹی کو پہاڑی بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ لیکن یقیناً وہ صرف پہاڑی نہیں بنا رہا۔ وہ ایک گڑھا بھی بنا رہا ہے جو دراصل ایک منفی رخ ہے۔ وہ مواد جو گڑھے میں تھا اب پہاڑی بن چکا ہے۔ اس لیے یہ مکمل طور پر متوازن ہو گیا۔ یہ ہی اصول پس پشت کارفرما ہے کہ کائنات کے آغاز میں کیا کچھ ہوا تھا۔ ‘‘(ترجمہ : راقم[(

دیکھیں اس مثال میں دو تناقضات ہیں پہلا منطقی ہے اور دوسرا زیادہ بنیادی۔ پہلے ہم منطقی تناقص کی طرف آتے ہیں۔ اگر کائنات میں آغاز کے وقت مثبت توانائی کے برابر منفی توانائی بھی پیدا ہوئی تو منفی توانائی نے مثبت توانائی کو متوازن کر دیا تو پھر اُس توانائی اور خلا کے لیے مواد کہاں سے آیا جس نے کائنات کی تعمیر کی۔ دوسرا اس سے بھی بنیادی نقص یہ ہے کہ ہاکنگ اس تمثیل کو یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے کہ کائنات کی تخلیق میں خدا کی کارفرمائی کہیں نہیں ہے۔ مگر مثال پر غور کریں وہ تصویر فرض کر رہا ہے جس سے مثبت توانائی پہاڑی کی شکل میں اور منفی توانائی گڑھے کی شکل میں ڈھل رہی ہے تو ا س کے لیے وہ دو چیزیں فرض کر رہا ہے۔ ایک آدمی جو یہ کام کر رہا ہے اور دوسرا زمیں کی ہم وار سطح جس پر یہ کام ہو رہا ہے۔ کائنات کے آغاز میں اگر عدم تھا تو یہ ہم وار زمین او رآدمی کیسے آگئے۔ آپ چاہیں تو یہاں ہاکنگ کی بچگانہ مثال پر قہقہہ لگا سکتے ہیں۔

ایسا نہیں کہ ہاکنگ کو ان تناقضات کا بالکل احساس نہیں۔ جہاں تک پہلے نقص کا تعلق ہے وہ کہتا ہے کہ مثبت توانائی، منفی توانائی سے برابر ہو گی تو حاصل صفر آیا۔ اِسے بھی وہ قانونِ فطرت کہتا ہے۔ پھر وہ سوال اٹھاتا ہے کہ منفی توانائی کہاں ہے۔ وہ بڑا سادہ جواب دیتا ہے کہ یہ منفی توانائی خلا میں ہے۔ وہ خود مانتا ہے کہ ایسا عجیب ہے مگر اُس کے مطابق کشش ثقل اور حرکت ،جو سائنس کے پرانے قوانین ہیں ،یہ توانائی خلا میں موجود ہے۔ یہاں وہ اس بات میں پناہ لیتا ہے کہ اگر آپ کو کافی ریاضی نہیں آتی تو یہ سمجھنا مشکل ہے۔ ٹھیک ہے کہ مجھے اور بہت سے لوگوں کو ریاضی نہیں آتی۔ مگر نظری طبیعیات او رکونیات سے وابستہ دوسرے ماہرین کو تو یقیناً آتی ہوگا۔ ان میں سے کتنے ہیں جنھوں نے ہاکنگ کے ان تصورات کی تصدیق کی۔ اگر زیادہ نے کی ہوتی تو اُسے شاید طبیعیات کا نوبل انعام مل گیا ہوتا۔

اب وہ اسی ناقص تمثال اور مثال کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ :

“So what does this mean in our quest to find out if there is a God? It means that if the universe adds up to nothing, then you don’t need a God to create it. The universe is the ultimate free lunch.” (P: 33)

] ’’تو ہماری اس تلاش کے کیا معنی ہیں کہ کیا خالق موجود ہے؟ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے، تو آپ کو خالق کی ضرورت نہیں۔ کائنات بالکل مفت میں ہاتھ آئی ہے۔ ‘‘(ترجمہ : راقم[(

کیا واقعی کوئی چیز عدم سے وجود میں آ سکتی ہے۔ کیا اب تک سائنس اپنی تمام ترقی اور ایجادات کے باوجود عدم سے کسی چیز کو وجود میں لانے کے امکان کو ثابت کر سکی ہے۔ میرے خیال میں مادیت پر سب سے بڑا اور بنیادی اعتراض جس کا جواب کسی مادیت پسند کے پاس نہیں، یہی رہا ہے کہ کائنات عدم سے وجود میں نہیں آ سکتی۔ اور اس بات کو مانے بغیر مادیت باقی نہیں رہ سکتی۔

آگے چل کر اسٹیفن ہاکنگ ایک اور مثال کا سہارا لیتا ہے اور میری رائے میں وہ اپنی بات پھر ثابت کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے کہ اگر ہم کافی پینا چاہتے ہیں تو ایسا ممکن نہیں کہ ہم کہیں اور کافی تیار ہو جائے ہمیں کافی بنانے کے لیے کافی کے دانے، پانی اور شاید دودھ اور چینی کی ضرورت پڑے گی۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہم کافی کے دانوں اور دودھ کے ذرات میں مزید گہرا سفر کریں اور (Sub-atomic level) تک چلے جائیں تو وہاں عدم سے وجود میں آنا ممکن ہے، کم از کم تھوڑی دیر کے لیے۔ کیوں کہ اس پیمانے پر ذرات جیسے پروٹون، قوانین فطرت کے تحت عمل کرتے ہیں، اِس قانون کو ہم کوانٹم میکانزم کہتے ہیں۔ وہ کبھی ظاہر ہوتے ہیں، ایک لمحہ یہاں دکھائی دیتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں کہیں اور دوبارہ ظاہر ہونے کے لیے۔ اب آپ بتائیں کہ اگر ایک ذرہ ہمیں نظر آتا ہے پھر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے تو کیا اُس ذرّے کو معدوم مانا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ خود ہاکنگ کوبھی اس کا خیال آتا ہے وہ اپنی بحث میں پھر اُسی نکتہ پر پہنچ جاتا ہے۔ جہاں سے اُس نے بحث کا آغاز کیا تھا:

“But of course the critical question is raised again: did God create the quantum laws that allowed the big bang to occur? In a nutshell, do we need a God to set it up so that the Big Bang could bang? I have no desire to off and anyone of faith, but I think science has more compelling explanation than a dimire creator.” (P: 34)

]  ’’لیکن یقیناً بنیادی سوال دوسرا سامنے آتا ہے: کیا کوانٹم قوانین خدا نے تخلیق کیے جن کے بعد Big Bang ہوا۔ مختصراً ہم کہ سکتے ہیں کیا واقعی ایک خدا کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے عظیم دھماکہ ہو سکا تھا؟ میری کوئی خواہش نہیں کہ میں کسی اہل عقیدہ کو ناراض کروں، لیکن میرا خیال ہے کہ سائنس کے پاس زیادہ موثر وضاحت موجود ہے بہ مقابلہ الٰہی خالق کے۔‘‘(ترجمہ : راقم[(

ہاکنگ صاحب بڑی مثبت خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اہلِ عقیدہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ مگر اہل عقیدہ تو تب ناراض ہوتے جب ہاکنگ صاحب اپنی بات کو سائنس کے طریقے سے ثابت کرتے۔ وہ صرف اتنی دلیل دیتے ہیں کہ اُن کے خیال میں کائنات کے آغاز کے بارے میں سائنس کے پاس کسی خالق کی موجودگی سے زیادہ موثر وضاحت موجود ہے۔ کیا سائنس میں کسی فرد کی سوچ دلیل بن سکتی ہے چاہے وہ کتنا بھی بڑا سائنس دان ہو۔ یہاں ہاکنگ خود کو مقتدرہ (Authority) کے درجے پر فائز کر رہے ہیں جو سائنسی طریقہ میں سمِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے تو الگ بات ہے۔ یہاں مذہب، اور الٰہیات میں مقتدرہ بہ طور ذریعہ مسلم مانا جاتا ہے۔ تو کیا انسانی تاریخ کے سب سے اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے ہاکنگ اُس ساری عقلی اور تجربی فکر سے دست بردار نہیں ہو گیا جس کی بنیاد پر وہ مذہب اور کائنات کے کسی خالق کی تخلیق ہونے کے خیال کو ردّ کرنے نکلا تھا۔

اپنے خیال کو ثابت کرنے کے لیے ہاکنگ پھر ایک مثال تراشتا ہے۔ اس بار وہ پھر کہتا ہے کہ تصور کریں۔ ایک دریا پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ دریا کیسے پیدا ہوا۔ شاید بارش سے۔ پھر بارش کیسے ہوئی۔ جواب سورج کی گرمی سے سمندر سے بخارات اٹھے۔ بادل بنے۔ پہاڑوں پر برسے تو سورج کا چمکنا کیسے ممکن ہوا۔ ایسا فیوژن سے ممکن ہوا جس میں دو ہائیڈروجن ایٹم مل کر ہیلیئم بناتے ہیں اور توانائی کی بہت زیادہ مقدار خارج کرتے ہیں۔ ہائیڈروجن کہاں سے آئی۔ جواب عظیم دھماکے سے۔ عظیم دھماکہ عدم سے پیدا ہوا۔ یہاں وہ اپنی کمک کے لیے آئن سٹائن کا نام استعمال کرتا ہے کہ کیسے کائنات میں زمان و مکان ایک دوسرے سے گندھے ہوئے ہیں۔ وقت کے ساتھ عظیم دھماکے کے وقت کچھ بہت شان دار ہوا تھا۔ وقت کا اپنا آغاز۔ یہاں بات پھر وہی ہے ہاکنگ ہو یا آئن سٹائن سائنس کسی مقتدرہ کو تسلیم نہیں کرتی۔ آئن سٹائن نے وقت کو مکان کی چوتھی جہت ضرور قرار دیا تھا لیکن اُس نے کسی عظیم دھماکے سے کائنات کے پیدا ہونے کی بات نہیں کی تھی۔ عظیم دھماکے سے کائنات کی تخلیق کا نظریہ کہیں بعد میں پیدا ہوا۔ دراصل ہاکنگ ایک طرف تو عظیم سائنس دان کے حوالے سے اپنی دلیل کے نقص کو ڈھانپ رہا ہے دوسرا وہ اپنے تشکیل کردہ نظریے کہ عمومی نظریہ اضافیت اور کوانٹم نظریات دراصل ایک ہے، کو ثابت کر رہا ہے۔ ظاہر ہے اس نظریے کے سائنسی طور پر ثابت ہونے کا ابھی انتظار ہے۔

اس سے آگے ہاکنگ بھی ایک ’’عظیم الشان نظریے‘‘ کی طرف پلٹتا ہے اور ’’بلیک ہول‘‘ کے مظہر کی وضاحت کرتا ہے کہ کیسے اگر کوئی گھڑی بلیک ہول میں گرے تو اُس کا وقت رک جائے گا۔ وہ بلیک ہول میں مادے اور وقت کے غائب ہونے سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ :

“We have finally found something that does not have a cause, because there was no time for a cause to exist in. For me this means that there is no possibility of a creator, because there is no time for a creator to have existed in.” (P: 38)

] ’’ہم نے آخر کار کچھ ایسا پا لیا ہے جس کا کوئی سبب نہیں، کیوں کہ یہاں کوئی وقت نہیں جو سبب بن سکے۔ میرے لیے اس کا مطلب ہے کہ خالق کے ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ کیوں کہ کوئی وقت ہی نہیں جس میں خالق وجود رکھ سکے۔ ‘‘(ترجمہ : راقم[(

یہاں پھر ہاکنگ کی دلیل کا تناقض سامنے آ جاتا ہے اُس کے خیال میں خالق کے موجود ہونے کے لیے وقت کا ہونا ضروری ہے اور کائنات کے عدم سے عظیم دھماکے سے وجود میں آنے سے پہلے چوں کہ وقت موجود نہیں تھا تو خالق کا وجود بھی ممکن نہیں۔ اب آگے آئیں ایک سادہ سوال پوچھا کہ خالق تو تعینات سے ماورا ہے اور اُسی نے یہ سب زمان و مکاں پیدا کیے ہیں۔ تو کیا خالق کے وجود کے لیے وقت کا ہونا لازمی آتا ہے۔ ظاہر ہے ہاکنگ یا کسی بھی سائنس دان کے پاس اس سوال کا سائنسی جواب موجود نہیں۔ عقیدے کی بات دوسری ہے اگر الحاد کسی کا عقیدہ ہے تو وہ ہاکنگ کی دلیلوں کے بنیاد پر بغلیں بجا سکتا ہے کہ اُس نے خدا کے ہونے کے امکان کو ختم کر دیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...