سقایۃ الحاج

337

سعودی عرب دنیا کے خشک ترین خطوں میں سے ہے۔ یہاں بارشیں شاذ و نادر ہی ہوتی ہیں اس لیے کوئی مستقل دریا، ندی نالہ نہیں بہتا۔ زیر زمین پانی بھی نہایت کمیاب ہے۔ آپ سینکڑوں میل چلتے جائیں، سبزے یا درخت کا نام و نشان نہیں ملے گا۔ مکہ تو ایک سنگلاخ زمین ہے اس لیے یہاں کبھی کبھار ہونے والی بارش بھی زمین میں جذب ہونے کے بجائے سیلاب بن کر بہہ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں یہاں پینے کا پانی سب سے قیمتی چیز ہے۔ شدید گرمی میں پانی نہ ملے تو انسان چند گھنٹوں میں مر سکتا ہے۔

قدیم زمانے میں جب لوگ حج کے لیے مکہ آتے تھے تو ان کے لیے پانی کا حصول بہت مشکل امر ہوتا تھا۔ ان حالات میں مسافروں خصوصآً حاجیوں کو پانی پلانے کا کام بہت بڑی نیکی قرار پائی۔ قریش جو کعبہ کے متولی تھے، ان کے دو خاندان اس بارے میں خصوصی امتیاز رکھتے تھے۔ ایک خاندان کے پاس کعبہ کی کلید ہوتی تھی تو دوسرا حاجیوں کو پانی پلانے کا شرف رکھتا تھا۔ آغاز اسلام میں پانی پلانے کی ذمے داری بنو ہاشم کے پاس تھی اور حضورؐ کے چچا عباسؑ اس کے مہتمم تھے۔ یہ ایک قابل فخر کام تھا اور بہت بڑی نیکی شمار ہوتی تھی۔ حاجیوں کو زمزم کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی پانی پلایا جاتا تھا اور دیگر مشروبات سے بھی تواضع کی جاتی۔

اسلام آنے کے بعد حضورؐ نے حضرت عباسؓ کو اس ذمے داری پر برقرار رکھا۔ یہ روایت بعد میں چلتی آئی اور عہد جدید کے آغاز تک جاری رہی۔ عباسی خلیفہ ہارون رشید کی ملکہ زبیدہ نے حج کے موقع پر پانی کی قلت کا مشاہدہ کیا تو باہر سے نہر لانے کا حکم دیا۔ ان کی زیر نگرانی بیس بچیس میل دور ایک وادی سے نہر کھدوا کر مکہ پہنچائی گئی جس سے پانی کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوگیا۔ ترکوں کے عہد میں نہر کی تجدید ہوئی، تاہم پچھلی صدی میں پمپ لگا کر زیر زمین پانی نکلانے سے نہر کا منبع خشک ہوگیا اور اب یہ متروک ہے۔ نہر کے کچھ حصے اب بھی مزدلفہ میں سڑک کے قریب دیکھے جا سکتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کافی شاندار منصوبہ تھا۔ اس نہر کا منبع کیا تھا، یہ کتابوں میں پوری طرح واضح نہیں۔ مجھے شک پڑتا ہے کہ یہ کاریز قسم کا کوئی سٹرکچر تھا جس میں ڈھلوان جگہ کنواں کھود کر پانی کو افقی سرنگ کے ذریعے سطح زمین پر لایا جاتا ہے۔ چونکہ کاریز کا طریقہ ایران میں وسیع پیمانے پر رائج تھا اور عباسیوں پر ایرانی اثرات گہرے تھے، اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ منصوبہ ایرانی کاریگروں کے ذریعے مکمل کیا گیا ہو۔

حاجیوں کو پانی پلانے کا روایتی نظام اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کے 1980 کی دہائی میں سعودی حکومت نے اس کام کو ایک باقاعدہ ادارے (زمزمہ بیورو) کی شکل دے کر حرمین کی انتظامیہ کے تحت کر دیا۔ اس ذمے داری سے متعلق روایتی خاندانوں کو بھی اس ادارے میں شامل کر دیا گیا۔ زمزم کے کنواں کی صفائی اور مرمت کر دی گئی اور پانی کو پمپوں کے ذریعے ٹینکوں میں اور وہاں سے مختلف سبیلوں تک پہنچانے کا بندوبست کیا گیا۔

اس وقت حرمین کے اندر ہر چند قدم پر کولروں کی قطار نظر آتی ہے جن میں زمزم کا پانی ہر دم تازہ رہتا ہے۔ کارکن کولروں کو خالی ہوتے ہی بھرے ہوئے کولروں سے تبدیل کر دیتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں کولروں کے خالی ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا جاتا۔ حرم کے باہری صحنوں میں دیواروں پر ٹھنڈے پانی کی مشینیں لگی ہوئی ہیں۔ زمزم کے پانی کی بوتلیں حاجیوں کی رہائش گاہوں پر بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ہوٹل کی لابی اور ہر فلور پر ان بوتلوں کے کارٹن ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ زمزم کے ساتھ پہلا واسطہ جدہ سے آتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے جہاں بس روک کر مسافروں میں زمزمہ بیورو کی طرف سے بوتلیں اور خواراک کے پیکٹ تقسیم کیے جاتے ہیں۔

زمزم کے علاوہ عام پانی بھی وسیع پیمانے پر مفت دستیاب ہے۔ حرم کے دروازوں کے باہر بوتلیں تقسیم کرنے والے کھڑے ہوتے ہیں جو آنے جانے والوں کو تھماتے جاتے ہیں۔ اسی طرح بس سٹیشن کے پلیٹ فارم پر پانی کے بوتلوں کے ٹرک کھڑے تقسیم کر تے رہتے ہیں۔ مختلف اداروں کی طرف سے خوراک کے جو پیکٹ تقسیم کیے جاتے ہیں ان میں بھی پانی کی بوتل موجود ہوتی ہے۔ ایک بار سڑک پر چلتے ہوئے ایک کار رکی اور اس میں سے ہاتھ باہر نکلا جس میں پانی کی بوتل اور کھجوروں کا پیکٹ تھا۔ عام مسجدوں کے اندر بھی دیواروں کے ساتھ فریج لگے ہوتے ہیں جن میں بوتلیں بھری رہتی ہیں۔ حج کے ایام میں منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اور کوئی مسئلہ ہو نہ ہو، پانی کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ پیدل چلنے کے راستوں پر میلوں تک قدم قدم پر ٹھنڈے پانی کی مشینیں لگی ہیں۔ پیتے جاؤ اور سر پر ڈالتے جاؤ۔ منیٰ کے کیمپوں میں کچھ لوگ واشرومز پر انتظار کرنے کے بجائے پینے کے پانی کی بوتلوں سے وضو کرتے رہے جس کی وجہ سے وقتی طور پر کچھ قلت پیدا ہو جاتی۔ پینے کے پانی کے علاوہ واشرومز کا نظام بھی بہت وسیع اور عمدہ ہے۔ یہاں بھی پانی کی ہمیشہ فراوانی رہتی ہے۔

العرض اس بے آب و گیاہ ملک میں حج سیزن میں سب سے زیادہ فراوانی پانی کی ہوتی ہے، جو ایک معجزے سے کم نہیں۔ یہ سب عربوں کی اس خوبصورت روایت کی وجہ سے ہے جسے “سقایۃ الحاج” کہتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...