تبصرہ کُتب: اِن سرچ آف لاسٹ گلوری

336

تبصرہ نگار: پروفیسر میتھیو اے کُک

ترجمہ: عابد سیال

اسماء فیض کی کتاب “اِن سرچ آف لاسٹ گلوری: سندھی نیشنلزم اِن پاکستان” پاکستان کے صوبہ سندھ کی سیاسی تاریخ کا بیان ہے۔ یہ قوم پرست گروہوں، نظریات، سیاسی جماعتوں اور انتخابی مسابقت پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہ کتاب جماعتی سیاست اور ووٹر کے رویے پر مبنی بیانیے اور اقدامات کے ذریعے پاکستانی ریاست کے ساتھ سندھی قوم پرستی کے روابط اور اختلافات کی تفہیم کی جستجو کرتی ہے۔ اسماء فیض کا استدلال ہے کہ پاکستانی ریاست اور اس کے نظریات وہ اساسی وجوہات ہیں جو “1947 کے بعد کے پاکستان میں خود مختاری اور شناخت کے لیے سندھی جدوجہد کے اہداف اور طریقہ کار کو متشکل کرتے ہیں”۔(ص190)

ان سرچ آف لاسٹ گلوری” کی تحریر کا مقصد مطالعہ پاکستان کے اس خلا کو پُر کرنا ہے جو سندھی قوم پرستی کے معاملے کو توجہ کی نظر سے نہ دیکھنے پر پیدا ہوا ہے۔ پاکستان میں دیگر نسلی گروہوں کے بارے میں کیے گئے مطالعات کے برعکس، اسما فیض کا خیال ہے کہ سندھیوں میں قوم پرستی ایک ایسا مظہر ہے جو مطالعے کے فقدان کا شکار ہے۔ (ص189) وہ کہتی ہیں: “سندھی قوم پرستی، اپنی کھوئی ہوئی عظمت کی تلاش میں ایک طبقے کی سیاسی اور نظریاتی خواہشات کا اظہار ہے۔ “(ایضاً) یہ کتاب نوآبادیاتی ہندوستان میں اس کے ابتدائی مراحل سے لے کر 2020 تک کے تاریخی ارتقاء کا جائزہ لے کر سندھی قوم پرستی کی سیاست اور نظریات پر روشنی ڈالتی ہے، اور پاکستان کی تاریخ کے اہم سیاسی واقعات (جیسے تقسیم کے بعد کی آبادکاری، وَن یونٹ اسکیم اور ایوب خان، 1971 کی بنگلہ دیش جنگ، ذوالفقار علی بھٹو کا عروج و زوال، ضیاء الحق کی آمریت اور جمہوریت بحالی کی تحریک) کے گرد ایک بیانیہ تیار کرتی ہے۔ تاہم، ان واقعات کو دیگر کتابوں کے برعکس، اسماء فیض نے انہیں سندھ کی صوبائی سیاسی تاریخ کے تناظر میں دیکھا ہے۔ کتاب کے مباحث کا ایک اہم محور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ہے۔ اسماء فیض کا کہنا ہے کہ اس سے قبل پی پی پی کے زیادہ تر تجزیے سندھ سے باہر کے نقطہ نظر سے کیے گئے ہیں (ص 3)۔ اس کے برعکس، وہ سندھ میں نسلی قوم پرستی کے حوالے سے پی پی پی کا مطالعہ کرتی ہیں۔ ان کی تحقیق قومی اور صوبائی ہر دو سطح سے معاملے کو دیکھتی ہے۔ اس صوبے کے بارے میں مصنف کے فیلڈ ورک پر بنیاد رکھتی ہوئی تحقیق کو بین العلومی تجزیے کا طریقہ موجودہ شکل عطا کرتا ہے۔

ان سرچ آف لاسٹ گلوری کا پہلا باب نوآبادیاتی دور اور 1947 سے پہلے کی سندھی شناخت کی تشکیل پر روشنی ڈالتا ہے۔ اسماء فیض بیان کرتی ہیں کہ کس طرح نوآبادیاتی نظام نے “بڑے پیمانے پر تعلیمی، لسانی، تکنیکی، آبی تقسیم، اور آبادکاری کی تبدیلیوں کے ذریعے سندھی شناخت کی بنیاد رکھی” (ص 37)۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں نے سندھ میں شناخت کے شعور کو مضبوط کیا۔ اسماء فیض مزید تجزیہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ 1937 میں بمبئی سے سندھ کی سیاسی علیحدگی میں یہ بڑھتا ہوا شعور کس طرح مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ پہلا باب اس واقعے کو اجاگر کرتا ہے لیکن اسے آل انڈیا پارٹی سیاست کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ سندھ کی علیحدگی کا مطالبہ “سندھ کی پہلی نسلی تحریک” تھی (ص9)۔ سندھی قوم پرستی کے ابتدائی دور کی پیچیدہ تصویر پیش کرنے کے لیے مصنفہ سیاست، نسل اور مذہب کو زیرِبحث لاتی ہیں۔ باب اس بحث کے ساتھ ختم ہوتا ہے کہ تقسیم کی آل انڈیا تحریک نے پاکستان کے قیام کے لیے ایک وسیع تر مسلم قوم پرست لہر پیدا کرنے کے لیے سندھ میں نسلی قوم پرستی کو جنم دیا۔

دوسرا باب 1947 کے بعد کی سیاسی، معاشی، اور آبادکاری کی تبدیلیوں سے متعلق ہے اور یہ کہ انہوں نے سندھ میں نسلی قوم پرستی کو کیسے جنم دیا۔ یہ پاکستانی ریاست کی جانب سے اردو کو قومی زبان کے طور پر نافذ کرنے، کراچی کو وفاقی دارالحکومت میں تبدیل کرنے، اسکولوں کی نصابی کتابوں کو ازسرِنو تحریر کرنے، اور 1955 میں متعارف کرائی گئی ون یونٹ اسکیم میں سندھ کے انضمام پر مرکوز ہے۔ اس باب میں سندھ میں پارٹی سیاست پر بھی بات کی گئی ہے۔ ایوب خان کے مارشل لاء کے دوران اور اس کے بعد اور 1960 کی دہائی کے دوران سندھی قوم پرستی میں ایک “ثقافتی موڑ” کو بھی زیرِبحث لایا گیا ہے۔ اسماء فیض نے ان واقعات کا تجزیہ سندھ میں پاکستانی ریاستی اقتدار کے استحکام کے تناظر میں کیا ہے۔ وہ اس بات کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ کس طرح اس استحکام کے نتیجے میں “صوبے میں پارٹیاں بنانے اور توڑنے میں مسلسل مداخلت” ہوئی(ص71)۔ مصنفہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس مداخلت (یعنی مرکزی اور ریاستی ہم آہنگی کی مہم ) نے تقسیم کے بعد سندھیوں میں نسلی قوم پرستی کو دوبارہ زندہ کرنے میں مدد کی:سندھی قوم پرستی کا ارتقاء بنیادی طور پر پاکستان میں نوآبادیاتی ریاست کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔ ریاست کی نوعیت، ساخت اور پالیسی ایجنڈے نے یہاں(یعنی سندھ میں) قوم پرست طبقے کے عدم اطمینان کو بڑھاوا دیا۔

پاکستانی ریاست کو صوبائی خودمختاری کا نقصان، دوسرے باب میں اسماء فیض کے تجزیے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ نقصان، اردو کو قومی زبان قرار دینے کے ساتھ مل کر، سندھیوں کے لیے اس وقت “ناقابل برداشت” ہو گیا جب ہندوستان سے مسلمان مہاجرین (یعنی مہاجرین) ) نے ریاست کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ان پر ترجیحی معاشی فوائد حاصل کیے(ص40)۔ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح اس کے نتیجے میں سندھ میں نسلی کشمکش میں اضافہ ہوا اور قوم پرست تحریک “زمین کے بیٹے” کا عروج ہوا۔

تیسرا باب پاکستان پیپلز پارٹی کے عروج کا تذکرہ کرتا ہے اور1971 سے 1977 تک کے دور کو بیان کرتا ہے۔ اس میں یہ سوالات قائم کیے گئے ہیں ہیں: باقاعدہ سندھی قومیت پرستوں کی بجائے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو انتخابی فتح کیوں حاصل ہوئی؟ اسماء فیض کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ پی پی پی کی پالیسیوں نے “سندھ کے احساس محرومی”(ص92) کو اپنی طرف مائل کیا۔ وہ استدلال کرتی ہیں کہ اس میلان نے جی ایم سید جیسے سندھی نسلی قوم پرستوں کی مقبولیت کو کم کر دیا۔ اس دلیل کی حمایت میں، تیسرا باب سندھ میں صوبائی سطح پر پی پی پی کے مقبولیت اور مساوات پر مبنی پیغام کا تجزیہ کرتا ہے۔ یہ اس پیغام پر مبنی پالیسیوں (مثال کے طور پر، سندھی کو بطور سرکاری زبان کا تعارف اور مثبت کارروائی کے اقدامات) اور سماجی و اقتصادی عدم مساوات کے خاتمے کے لیے پی پی پی کے طریقہ کار کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ باب اس بات کا بھی جائزہ لیتا ہے کہ ان پالیسیوں نے مہاجروں کو کس طرح الگ کر دیا، جو تقسیمِ برِصغیر کے بعد سیاسی اور اقتصادی طور پر بااثر (اور بنیادی طور پر شہری) کمیونٹی تھی۔ مصنفہ مہاجروں کے درمیان نسلی سیاست کی تشکیل کے لیے اس بیگانگی کو اہم قرار دیتی ہیں(ص74)۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ کس طرح اس معاملے نے اور پی پی پی کے سوشلزم نے مہاجروں کو بھٹو کے خلاف احتجاج کا “سرگرم شریک” بننے پر مجبور کیا(ص84)۔ اس باب کا اختتام 1979 میں بھٹو کی پھانسی، ضیاء الحق کی فوجی حکمرانی اور جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے گہرائی سے تجزیے کے ساتھ ہوتا ہے۔

ان سرچ آف لاسٹ گلوری” کا چوتھا باب سندھی نسلی قوم پرستی کے نظریے، اس کے متحرک ہونے اور اس کی تنظیم کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کا مرکزی سوال یہ ہے کہ 1970 کی دہائی میں پی پی پی کی حکومت پر سندھی قوم پرستوں نے کیا ردِعمل ظاہر کیا؟ مصنفہ کا استدلال ہے کہ اس کا ردِعمل قوم پرستوں کا علیحدگی پسندی کی طرف مڑنا تھا۔ وہ اس موڑ کی تفصیل جی ایم سید کی تحریروں میں دیتی ہیں جنہوں نے پاکستان کو متعدد اقوام کے ملک اور سندھیوں کو ایک “مختلف قومیت” کے طور پر دیکھا(ص109)۔ انہوں نے پاکستانی ریاست اور اس کے نظریے کو سندھیوں کو “غلام بنانے” کے لیے ایک “مصنوعی ڈھانچے” کے طور پر بھی دیکھا(ص110)۔ انہوں نے پی پی پی کی حکومت کو چیلنج کیا کہ اس کی قومی اور صوبائی حکومتیں سندھ پر جبر مسلط کرنے میں شریک ہیں۔ جی ایم سید کی رائے میں، ان حکومتوں کا قیام پی پی پی کے “اپنی بندوقوں کا رخ اپنے ہی رشتہ داروں کے خلاف” کرنے کے مترادف تھا (ص106)۔ جی ایم سید کی جداگانہ سندھو دیش کی وکالت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، اسماء فیض نے طریقہ کار کو قومی اور صوبائی سطحوں سے آگے بڑھایا۔ وہ حیدرآباد شہر میں “عام کام کاج کرنے والے عام لوگوں” کا تجزیہ کرنے کے لیے ایتھنوگرافک نظریے کو اپناتی ہیں(ص104)۔ اس طرح کے زاویہ ہائے نگاہ سندھی قوم پرستوں کی طرف سے پی پی پی اور پاکستانی ریاست کے خلاف مقامی مزاحمت کو سیاق و سباق فراہم کرتے ہیں۔ مصنفہ کے نزدیک “معمولی قوم پرستی” پر یہ توجہ ضروری ہے کیونکہ نسلی سیاست “سندھ میں روز مرہ اور زندہ معنوں میں باقی ہے۔ “(ایضاً)

پانچواں باب اور اختتامیہ اسماء فیض کے سندھ کی سیاست کے تاریخی مطالعہ سے منسلک ہیں۔ پانچواں باب 1988 اور 2020 کے درمیان پی پی پی پر روشنی ڈالتا ہے جس میں ایک بسیط تجزیے میں پارٹی کو نمایاں کیا گیا ہے اور جس میں وسیع سطح پر پاکستان کی سیاست میں سندھ کی گزشتہ 30 سالوں کی سیاسی تاریخ کو ملا کر دیکھا گیا ہے۔ مصنفہ نے اس دور کو “غیر مستحکم توازن” (ص49) کے طور پر بیان کیا ہے۔ اس خصوصیت کو ثابت کرنے کے لیے وہ پی پی پی، سندھی مہاجر تنازعہ، پشتون اکثریتی عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے عروج کا ایک جائزہ پیش کرتی ہیں۔ یہ جائزہ اس امر کا تعین کرتا ہے کہ بھٹو خاندان کی قیادت میں پیپلز پارٹی “مستقبل میں سندھ میں غالباً سب سے غالب فریق رہے گی”(ص86)۔ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ اس حقیقت کو ’’سندھی قوم پرستوں نے بغض کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔ “(ایضاً)۔

کتاب کا ماحصل والا حصہ کتاب کے بنیادی دلائل کا جائزہ لیتا ہے اور دوبارہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستانی ریاست اور اس کا نظریہ سندھ میں سیاست کو کس طرح تشکیل دیتا ہے۔

اسماء فیض ایک “کُلی اور مجموعی” نقطہ نظر کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔ (ص3) اس طرح وہ ریاستی ڈھانچے کی حرکیات پر زور دے کر اور انہیں پاکستانی ریاست اور صوبے کے مابین تعلقات پر منطبق کر کے “پاکستان میں سندھی قوم پرستی کا ایک جامع تجزیہ” (ص2) پیش کرنا چاہتی ہیں:

یوں یہ کتاب مرکز اور صوبے کے مابین تعلقات کے سوال اور قوم پرست اشرافیہ کی تحریکوں اور جماعتوں کی ایجنسی کے حوالے سے سندھی قوم پرستی کے سوال کو پاکستان کی ریاست کے ڈھانچے کے مطالعہ کے ذریعے جانچتی ہے۔ (ص1تا2) اسماء فیض کے تجزیے سے یہ سامنے آتا ہے کہ پاکستانی ریاست اپنے مرکز پسند ڈیزائن اور پروفائل کی وجہ سے ایک ڈھانچے کے طور پر کام کرتی ہے(ص4)۔ جبکہ کتاب کے مطابق صوبائی سیاست اس کے برعکس نمائندے جیسا کام کرتی ہے۔ وہ لکھتی ہیں: “جہاں [پاکستانی ریاست کا] ڈھانچا تناظر فراہم کرتا ہے اور متعلقہ فریقوں کی ترجیحات کو تشکیل دیتا ہے، وہیں [صوبائی سطح پر] نسلی اشرافیہ اور جماعتوں کی شکل میں انسانی نمائندگی کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ (ایضاً) پاکستانی ریاست اور صوبہ سندھ کے درمیان سیاسی تعلقات پر ایک کثیر سطحی تجزیہ کیا گیا ہے جو تجرباتی طور پر تفصیل سے بھرپور ہے۔ ” ان سرچ آف لاسٹ گلوری” بہت جامعیت کی حامل کتاب ہے جس میں محض سندھی قوم پرستی پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی۔ یہ سندھ میں پاکستانی سیاست پر بھی اتنی ہی روشنی ڈالتی ہے جتنی سندھی قوم پرستی کے بارے میں ہے۔ یوں کتاب میں فراہم کردہ تجزیہ اس کے ذیلی عنوان سے زیادہ دور رس اور “مجموعی” ہے۔

بہر حال، مجموعی نقطہ نظر اکثر کامیابی کے بجائے ایک مقصد ہوتا ہے۔ تمام کتابوں کی طرح “ان سرچ آف لاسٹ گلوری” میں بھی بعض مقامات ہیں جہاں ابھی مزید غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اسماء فیض کا ایک قابل ذکر دعویٰ یہ ہے کہ پی پی پی ایک سندھی نسلی جماعت ہے۔ وہ کہتی ہیں: “میں پی پی پی کو سندھ میں بطور نسلی جماعت سمجھنے کے حق میں دلائل رکھتی ہوں۔ “(ص73) پیپلز پارٹی بلاشبہ سندھ اور سندھیوں میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔ تاہم، ایک نسل پرست جماعت کے طور پر اس کی بنیادی شناخت نہیں ہے۔ پی پی پی کی نسلی سیاست کا زیادہ پائیدار نظریاتی تجزیہ کھوئے ہوئے اس جلال کی تلاش میں اضافہ کرے گا جو کتاب کا عنوان ہے۔ اس طرح کا تجزیہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ سندھی قوم پرست، جیسے جی ایم۔ سید، پی پی پی کو اکثر سندھ مخالف قرار دیتے تھے(ص106)۔ اس کی شمولیت بھی اہم ہوگی کیونکہ نظریہ کی بجائے سرپرستی اکثر پاکستان اور سندھ میں سیاست کو آگے بڑھاتی ہے(ص116)۔ پی پی پی کی قابل ذکر پالیسیوں، جیسے سندھی کو سرکاری زبان کے طور پر متعارف کرانا اور مثبت اقدام کی تشریح نسلی سیاست سے نظریاتی وابستگی کے طور پر کی جا سکتی ہے جیسا کہ اس کتاب کی مصنفہ کا خیال ہے۔ تاہم اس سے سندھ میں پی پی پی کے سرپرستی کے نظام اور سماجی و اقتصادی مساوات کے لیے اس کی نظریاتی سوشلسٹ وابستگی کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ پی پی پی کے نظریے کا مزید گہرا تاریخی تجزیہ یہ بہتر طور پر ظاہر کرے گا کہ نسلی قوم پرستی، سوشلزم (اسلامی یا کوئی دوسری صورت) اور سرپرستی پارٹی کے اقدامات کو کیسے اور کب چلاتی ہے۔ ایسا تجزیہ کیا جائے تو یہ “ان سرچ آف لاسٹ گلوری” کو ایک مزید جامع کتاب بھی بنائے گا۔

اچھی کتابیں اکثر ایسے سوالات اٹھاتی ہیں جن کا جواب نہیں ملتا۔ یہ غیر جواب یافتہ سوالات اکثر مستقبل کے ممکنہ تحقیقی منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ زیرِنظر کتاب بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔ اسماء فیض نے اپنی کتاب کا اختتام کئی سوالات کے ساتھ کیا ہے۔ قیادت میں نسل در نسل تبدیلیاں پی پی پی کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہو سکتی ہیں؟ مہاجروں میں کم ہوتی نسلی قوم پرستی سندھ کی سیاست کو کس سانچے میں ڈھال سکتی ہے؟ اقتدار کی منتقلی (18ویں ترمیم کے تحت) پاکستانی ریاست اور صوبائی تعلقات کو کس طرح بدل سکتی ہے؟ خواہ اسماء فیض کی طرف سے یا دیگر کسی مصنف کی طرف سے ان سوالات کو زیرِبحث لایا جائے، اس طرح کے سوالات سندھ اور پاکستان میں مستقبل کی سیاست کے بارے میں گہری سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے لیے اہم ہیں۔ اپنے تفصیلی اور کثیر سطحی تجزیے کے ذریعے”اِ ن سرچ آف لاسٹ گلوری” اسی طرح سندھ اور پاکستان کے بارے میں معلومات کو گہرائی کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ اس طرح، یہ مطالعہ پاکستان کے شعبے میں علمیت کے روزافزوں تنوع میں ایک خوش آئند اضافہ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...