تحریکِ طالبان پاکستان کا موجود خطرہ

669

ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام دہشت گرد تنظیموں کے لیے اپنی نشونما اور خود کو مضبوط کرنے کے لیے بہترین حالات پیش کرتا ہے۔ مسلسل سیاسی انتشار مرکزی دھارے کے مباحثوں پر حاوی ہے اور اس دوران دہشت گرد گروہ اپنے نیٹ ورکس کی تنظیم نو میں مصروف ہیں۔

گزشتہ ہفتے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نئی تنظیم سازی کا اعلان کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ  گروپ مضبوط ہو رہا ہے۔ اب یہ اپنے بازو پھیلا رہا ہے اور ملک کے مذہبی اور نسلی طور پر خطرات سے دوچار خطوں میں نئی ذیلی تنظیمیں قائم کر رہا ہے۔ سلامتی اور قومی ہم آہنگی کے چیلنجوں کو مزید پیچیدہ بنانے کے لیے ملک کے کمزور حصوں کو نشانہ بنانا اس دہشت گرد گروہ کی حکمت عملی ہے۔

ٹی ٹی پی نے بلوچ اکثریتی علاقے قلات اور مکران اور جنوبی اور شمالی پنجاب کے لیے تین نئے ‘انتظامی یونٹس’ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ویب پورٹل ‘خراسان ڈائری’ کے مطابق ملک میں ٹی ٹی پی کے انتظامی یونٹوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے، جن میں سے سات خیبر پختونخوا، ایک گلگت بلتستان اور دو بلوچستان اور پنجاب میں ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی ٹی پی نے ان فارمیشنز کا اعلان اس تنظیم کے اندرونی تنازعے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کے دباؤ کی وجہ سے ان کی صفوں میں مایوسی پھیل رہی ہے، جو ٹی ٹی پی کی حمایت میں اپنے کردار کے اعتراض پر پاکستان کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم دستیاب شواہد یہ طے کرنے کے لیے ناکافی ہیں کہ آیاں افغان طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے یا نہیں۔ درحقیقت کچھ دوسرے ذرائعوں کے مطابق ٹی ٹی پی کے لیے طالبان کی حمایت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹی ٹی پی کی صفوں میں اختلافات کی بڑی وجہ عہدوں اور وسائل کی تقسیم سے جُڑی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی سوات کے مفتی برجان گزشتہ سال جنوری میں ایک جھڑپ میں زخمی ہوگئے تھے جب کہ مسلم یار ہلاک ہوگئے تھے۔ گزشتہ سال مئی میں ایک اور اندرونی جھڑپ میں ٹی ٹی پی سوات کے چند اہم کمانڈر مارے گئے تھے جن میں عثمان، بلال، جنت گل اور حضرت اللہ شامل تھے۔ گزشتہ سال اسی مہینے میں تحریک طالبان باجوڑ کا امیر گوہر اور جون 2022 میں زبر عرف کالا مارا گیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ سال ستمبر میں عسکریت پسند کمانڈر بادشاہ خان اور روشم سمیت چار دیگر مارے گئے تھے۔ اکتوبر 2022 میں ٹی ٹی پی بلوچستان کا کمانڈر بسم اللہ عرف پہلوان مارا گیا۔ لڑائی کے اس طرح کے واقعات حال ہی میں پاکستان اور افغانستان میں بھی رونما ہو رہے ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ آیا افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کمانڈروں کے اندرونی تنازعات کو حل کرنے اور انہیں متحد کرنے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ القاعدہ ماضی میں کئی بار یہ کام کر چکی ہے۔

دریں اثنا، ٹی ٹی پی کی جانب سے نئے گروپوں کو جذب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کالعدم گروپ نے گزشتہ ماہ ایک بیان کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی وزیرستان سے پاکستانی عسکریت پسندوں کا ایک اور گروپ اور کمانڈر یاسر داوڑ نے ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود سے وفاداری کا عہد کر کے اس گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ کم از کم چار نئے گروپوں نے مبینہ طور پر مارچ 2023 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کا اعلان کیا۔ یاسر داوڑ گروپ کا یہ تازہ ترین انضمام جولائی 2020 سے ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کی تعدادکو 28 تک لے جاتا ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان  نیٹ ورک کی توسیع کے متعدد مضمرات ہیں۔ پنجاب کے جنوبی علاقے کو پہلے ہی عسکریت پسندی کے چیلنجز کا سامنا تھا۔ مختلف نوعیت  کے انتہا پسند گروہ وہاں کام کر رہے ہیں۔ پنجاب کے کچے کے علاقے میں حالیہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کو وہاں ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کی موجودگی کے شواہد ملے۔

تاہم، یہ شمالی پنجاب کی تشکیل تھی جو حیران کُن ہے لیکن اپنے قیام کے بعد  سے  ٹی ٹی پی کے لیے  شمالی پنجاب ایک ترجیح رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کا محل وقوع اس کی ایک وجہ ہے لیکن لال مسجد نے بھی ٹی ٹی پی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا اور مسجد میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں سے وفاقی دارالحکومت اور آس پاس کے اخلاع  میں خودکش حملوں کی لہر دوڑ گئی تھی۔یہ مسجد اب بھی ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے ساتھیوں کو متاثر کرتی ہے، اور ٹی ٹی پی کے  شمالی پنجاب کے یونٹ کے نام  میں لال مسجد سے اپنی وابستگی ظاہر کرنے کے لیے ’’غازی‘‘ کا عرف بھی شامل  کیا گیا ہے۔ راولپنڈی 2017 سے 2022 تک نسبتاً پرامن اوقات میں بھی دہشت گرد حملوں سے متاثر رہا۔ بالی اور حاجی گروپوں سمیت ٹی ٹی پی کے بہت سے دھڑے اسلام آباد کے مضافات پر مرکوز رہے۔اس کی  وجہ لال مسجد تھی۔ عبدالرشید غازی وہاں فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے۔ وہ ٹی ٹی پی اور ہم خیال گروپوں کے لیے ایک مشہور شخصیت بن گیا ہے۔ غازی کو جنوبی پنجاب میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

بلوچستان میں ٹی ٹی پی کی نئی تشکیل ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ صوبے میں گروپ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ پچھلے چند مہینوں سے مشاہدے میں رہا  ہے۔ بلوچ علاقوں میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کا اس وقت پتہ چلا جب بلوچستان کے علاقے مکران سے  ایک مقامی بلوچ جہادی گروپ، جس کی قیادت مزار بلوچ کررہا تھا، ٹی ٹی پی میں شامل ہوگیا۔ بعد ازاں قلات اور کوئٹہ سے دو دیگر گروپوں نے ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی جن کی قیادت اکرم بلوچ اور عاصم بلوچ کررہے تھے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ ان گروپوں میں سے ہر ایک کے کتنے ارکان یا عسکریت پسند ہیں، لیکن پھر بھی یہ سیکورٹی فورسز اور حکومت کے لیے ایک تشویشناک پیشرفت ہونی چاہیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروپ اپنی طاقت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، جو بلاشبہ ان علاقوں میں اپنی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا جہاں یہ نئے انضمام شدہ گروپ قائم ہیں۔

کوئٹہ اور پختون پٹی کے اندر اور باہر سیکیورٹی فورسز ٹی ٹی پی کے خلاف کامیاب آپریشن کر رہی ہیں۔ تاہم، بلوچ شورش سے پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں گروپ کی توسیع  ان کے کام کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔ بلوچ علاقوں پر قبضہ کرنا ٹی ٹی پی کی اعلان کردہ پالیسی ہے کیونکہ گروپ کا خیال ہے کہ یہ علاقہ نئی بھرتیوں کے لیے موزوں ہے، خاص طور پر مذہبی اداروں کے نوجوانوں کے بیچ، جن کے بلوچ باغیوں میں شامل نہ ہونے کی سیاسی اور نظریاتی وجوہات  موجود ہیں۔ اگرچہ بلوچ باغیوں اور ٹی ٹی پی کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کے بارے میں اکثر اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن اس مشاہدے کی تائید کے لیے مزید شواہد کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی کے یہ ابھرتے ہوئے رجحانات خیبر پختونخوا  اور سابقہ ​​قبائلی علاقوں میں طالبان عسکریت پسندی اور بلوچستان میں بلوچ قوم پرست شورش کے حوالے سے پاکستان کے مسلسل سیکورٹی چیلنج میں اضافہ کریں گے۔ طویل عرصے تک عدم تحفظ، عسکریت پسندی اور تشدد کا ایسا ماحول سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...