موہٹہ کی کراچی بدری اور قائداعظم

291

شِورتن مہوٹہ قائد کے خیالات سننے کے بعد سکتے میں آگئے کہ ریاست کا سربراہ اس بات کی حیثیت نہیں رکھتا کہ ان کا گھر خالی کروا سکے

موہٹہ کراچی کی ایک انتہائی امیر ترین شخصیت تھی۔ تقسیم ہند کے باوجود وہ کراچی کسی حال میں چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھا۔کراچی چھوڑنے کی بنیادی وجہ کلفٹن کے علاقے میں اس کا محل موہٹہ پیلس تھا۔ اس محل پر قبضہ کر لیا گیا تھا۔ قبضہ کسی اور نے نہیں حکومت پاکستان نے کیا تھا۔موہٹہ ایک مخیر شخص تھا اور اپنے اس محل میں گاہے بہ گاہے آنے والے سوالیوں کی مرادیں پوری کرتا تھا۔ مہوٹہ نے یہ محل کیوں بنوایا؟ اور بالاآخر کیوں خالی کیا؟ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں تقسیم ہند کا کرب نمایاں ہے۔

موہٹہ پیلس آج کل ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ یہ عمارت کراچی کے ایک نامور تاجر اور مخیر شخصیت رائے بہادرشِو ر تن موہٹہ نے تعمیر کرائی تھی۔

شوِ رتن نے موہٹہ پیلس بیوی کو مرنے سے بچانے کے لیے بنوائی تھی۔ عثمان دموہی اپنی کتاب کراچی تاریخ کے آئینے میں لکھتے ہیں؛

’’یہ عمارت ایک ہندو مارواڑی تاجر رائے بہادر شِورتن موہٹہ نے 1933 میں تعمیر کروائی تھی۔ ہندوستان کے معروف نقشہ ساز آغا احمد حسین نے جے پور سے آکر اس کا ڈیزائن تیار کیا تھا۔ انھوں نے جے پور کے فنِ تعمیر کے زیراثر اینگلو مغل انداز میں پیلے گزِری اور گلابی جودھپوری پتھروں کے امتزاج سے یہ محل تعمیر کیا۔اسے تعمیر کرنے کا مقصد کچھ اس طرح بتایا جاتا تھا کہ شیورام موہٹہ کی بیوی ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ ڈاکٹروں نے علاج یہ تجویز کیا کہ اگر مریضہ کو مسلسل سمندر کی تازہ ہوا میں رکھا جائے تو وہ بالکل صحت یاب ہوسکتی ہے۔ چنانچہ شیورام موہٹہ نے یہ قلعہ نما بنگلہ کلفٹن میں تعمیرکروایا تھا۔ گزشتہ صدی میں تعمیر کی جانے والی یہ خوبصورت اور دلکش عمارت ایک بہت بڑے رقبے پر محیط ہے۔‘‘

قیامِ پاکستان کے بعد یہ پیلس قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو دے دیا گیا، ان کے انتقال کے بعد حکومت سندھ نے اسے تحویل میں لے لیا۔تقسیم کے بعد موہٹہ کی ہندوستان ہجرت کے حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما کنور خالد یونس نے روزنامہ ڈان میں لیٹر ٹو ایڈیٹر میں لکھا ہے کہ 2004 میں جب وہ ایک سرکاری دورے پر دہلی گئے تھے تو ان کی ملاقات تقریباً 90 سالہ ایک بزرگ سے ہوئی تھی جنھوں نے موہٹہ کی ہجرت کی کہانی یوں بیان کی:

’’موہٹہ نے یہ طے کیا تھا کہ وہ تقسیم کے بعد کراچی میں ہی رہیں گے۔ لیکن ایک روز ایک بااثر سیاسی شخصیت نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ موہٹہ پیلس خالی کردیں کیونکہ یہ ایک سرکاری دفترکے لیے مطلوب ہے۔‘‘ بزرگ کے مطابق موہٹہ یہ سن کر سکتے میں آگئے اور انھوں نے اسی رات پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور اس کے اگلے دن وہ بمبئی منتقل ہوگئے۔ چابیاں اپنے منیجر کے حوالے کیں اور ایک تحریر بھی دی جس میں لکھا تھا کہ وہ یہ عمارت تحفتاً دے رہے ہیں۔ اس میں عمارت زبردستی خالی کرانے کا ذکر نہ تھا۔

کنور خالد یونس نے ٹیلی فون پر ہمیں اس حوالے سے مزید معلومات دیتے ہوے بتایا کہ مذکورہ بزرگ سے ان کی ملاقات دہلی میں ایک تصویری نمائش کے دوران ہوئی تھی جس میں انھوں نے اس واقعے کا ذکر کیا تھا۔ موہٹہ پیلس کی شاندار عمارت کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد اس عمارت میں وزارتِ خارجہ کا دفتر قائم کیا گیا۔ بٹوارے کے بعد ڈپٹی چیف پروٹوکول آفیسر آغا ہلالی موہٹہ پیلس میں قائم دفتر کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’موہٹہ پیلس شہر سے خاصے فاصلے پر واقع تھا اور ملازمین کی وہاں تک رسائی ایک بڑا مسئلہ تھی۔ اس مسئلے کو ہم نے یوں حل کیا کہ ایمپریس مارکیٹ سے ملازمین کو موہٹہ پیلس لانے کے لیے بسوں کا بندوبست کیا گیا۔ اس وقت کلفٹن کے علاقے میں آبادی نہ ہونے کے برابر تھی۔ سمندرکا پانی تھا اور ریت ہی ریت۔ بعض اوقات تو کلفٹن کی سڑکوں پر 6 انچ کے قریب سمندری پانی کھڑا ہوجاتا تھا۔‘‘

موہٹہ پیلس کی تصویر وزارتِ خارجہ کی جانب سے سالِ نو کے موقع پر چھپنے والے کارڈ پر سرکاری طور پر شائع کی جاتی تھی۔ جب موہٹہ پیلس محترمہ فاطمہ جناح کے نام کیا گیا تو وزارتِ خارجہ نے عمارت خالی کرنے کی پیشکش کی، لیکن محترمہ نے اس پر کوئی توجہ نہ دی، گو کمروں کی مکمل طور پر صفائی کروائی گئی اور پیلس کے اطراف میں لگائی جانے والی خاردار تاروں کی باڑ بھی ہٹادی گئی۔ اس کے ساتھ کبوتروں کے گھونسلے بھی صاف کردیے گئے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح نے موہٹہ پیلس کا انتخاب قائدِاعظم کی بمبئی والی رہائش گاہ کے بدلے کیا تھا۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ایوب خان کے خلاف تحریک کا مرکز بھی موہٹہ پیلس ہی تھا۔ اس عمارت سے محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخابی مہم کا آغاز بھی کیا تھا۔ موہٹہ پیلس میں ایوب خان کے خلاف حکمتِ عملی ترتیب دینے کے لیے اجلاس بھی منعقد ہوتے تھے۔

محترمہ فاطمہ جناح کی وفات بھی پراسرار انداز میں مہوٹہ پیلس کے ایک کمرے میں ہوئی۔ ان کی موت کے حوالے سے بے شمار کہانیاں زبان زد عام ہوئیں کہ کیا یہ طبعی موت تھی یا انھیں قتل کیا گیا تھا۔ کچھ حلقے ان کی پر اسرار موت کو ایوب خان کے خلاف ان کی سیاسی مہم سے بھی جوڑتے ہیں لیکن جیسا کہ ہمارے ملک میں روایت ہے، لیاقت علی خان سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو تک جتنے بھی افراد کی سیاسی اموات ہوئیں، سب ایک معمہ ہی ثابت ہوئیں۔

جب تک محترمہ فاطمہ جناح حیات تھیں، ایوب خان کی انتظامیہ کی جانب سے موہٹہ پیلس کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔ محترمہ فاطمہ جناح قائداعظم کی برسی موہٹہ پیلس میں مناتی تھیں۔ اس موقع پر پیلس کے باغیچے میں شامیانے لگا کر انتظامات کیے جاتے تھے اور ایک مخصوص بوہری سے بریانی کی دیگیں منگوائی جاتی تھیں۔

محترمہ کی وفات کے بعد ان کے ورثا میں موہٹہ پیلس کی ملکیت کا تنازع اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن ہائی کورٹ نے موہٹہ پیلس ان کی بہن شیریں جناح کے حوالے کیا جن کا انتقال 1980 میں ہوا۔ انھوں نے اپنی زندگی میں یہ عمارت خیراتی کاموں کے لیے وقف کردی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ عمارت میں طالبات کے لیے ایک میڈیکل کالج قائم کیا جائے۔شیریں جناح کے انتقال کے بعد ایک بار پھر ان کے ورثا میں عمارت کے حصول کے لیے مقدمے بازی شروع ہوگئی تھی، جس کے بعد عدالت نے عمارت کو سیل کرنے کے احکامات جاری کردیے تھے، اور پھر عمارت سیل کردی گئی تھی۔آئیے اب موہٹہ کی کراچی بدری کے اسباب پر غور کرتے ہیں۔ گو کہ ہو سکتا ہے کہ ہم جو حقائق پیش کرنے جا رہے ہیں اس کے پڑھنے کے بعد آپ کے دل و دماغ میں کئی سوالات پیدا ہوں جن کا جواب آپ کو اپنی عقل، فہم، آگہی اور ادراک کو بروئے کار لاتے ہوئے تلاش کرنا ہوگا۔

سید ہاشم رضا نے اپنی کتاب ہماری منزل مطبوعہ 1991 کے صفحہ نمبر96,97 پر یوں بیان کی ہے۔

’’رائو بہادر شو رتن مہوٹہ بہت زیادہ خوش حال لوگوں میں سے ایک تھے۔ ان کے کراچی میں کئی گھر تھے لیکن وہ کلفٹن میں اپنی رہائش گاہ مہوٹہ پیلس میں رہنا پسند فرماتے تھے۔ اس عمارت کا انتخاب ہمارے وزارت خارجہ کے لیے کیاگیا۔ 14اگست کی شام کو اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد کو گورنر جنرل ہائوس میں مدعو کیاگیا تھا۔ شوا رتن مہوٹہ قائد کی جانب بڑھے اور انھیں گورنر جنرل پاکستان بننے کی مبارک باد دی۔ قائد اعظم نے پرتپاک انداز میں شیو رتن مہوٹہ سے ہاتھ ملایا۔ مہوٹہ یہ سمجھا کہ یہ بہترین موقع ہے کہ اپنے گھر مہوٹہ پیلس کو سرکاری قبضے سے واگزار کروائے ۔ میں قائد کے قریب کھڑا تھا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ انھیں صورت حال سے آگاہ کروں کہ کیسے شیو رتن مہوٹہ کے گھر کا انتخاب کیاگیا ہے ۔ میں نے انھیں بتایا کہ ہم نے صرف ان گھروں کا انتخاب کیا ہے جن گھروں کے مالکان کے پاس ایک سے زیادہ گھر ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ مہوٹہ کے پاس رہنے کے لیے کراچی میں ایک سے زیادہ گھر ہیں جہاں وہ منتقل ہوسکتے ہیں۔ مہوٹہ نے جواباً کہا کہ مہوٹہ پیلس ان کا پسندیدہ گھر ہے۔ انھوں نے قائد اعظم سے درخواست کی کہ ان کے گھر کا قبضہ خالی کیا جائے۔ قائد نے جواباً کہا کہ شیو رتن مہوٹہ میں اس حوالے سے کوئی فیصلہ کن حیثیت نہیں رکھتا۔ میں آپ کے گھر پر قبضہ ختم نہیں کرواسکتا آپ کو چاہیے کہ اس حوالے سے آپ ضرور فیصلہ کن حیثیت رکھنے والوں سے درخواست کریں۔

شیو رتن مہوٹہ قائد کے خیالات سننے کے بعد سکتے میں آگئے۔ کہ ریاست کا سربراہ اس بات کی حیثیت نہیں رکھتا کہ ان کا گھر خالی کرواسکے۔ اسے اس بات کا بالکل اندازہ نہ تھا کہ قائد اعظم ایک عظیم آئین پرست تھے اور ہمیشہ برطانوی راج اور ہندوئوں کے خلاف جدوجہد کے لیے آئینی طریقہ کار کی پیروی کرتے تھے۔

عثمان دموہی اپنی کتاب کراچی کی کہانی میں موہٹہ پیلس کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’اس عمارت میں ایک زیر زمین سرنگ بھی موجود تھی جو عمارت سے شروع ہوکر کلفٹن پر واقع قدیم مندر پر ختم ہوتی تھی۔ اس سرنگ کے ذریعے موہٹہ کے اہل خانہ پوجا پاٹ کے لیے مندر جاتے تھے ۔ بعد ازاں یہ سرنگ اس لیے بند کر دی گئی کہ موہٹہ کی بیٹی اپنے ایک عاشق سے ملنے کے لیے اس سرنگ کے ذریعے مندر تک جاتی تھی ۔‘‘ (ہم نے بڑی کوشش کی کہ دموہی صاحب کے سرنگ کے بارے میں کیے جانے والے دعوے بھی کسی اور ذریعے سے تصدیق کی جاسکے لیکن اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔ ایک دن دموہی صاحب سے ملاقات کے دوران ہم نے ان کے اس دعوے کے بارے میں معلوم کیا تو انھوں نے بتایا کہ برسوں قبل انھوں نے جب اس عمارت پر لکھنے کے لیے اس کا دورہ کیا تھا تو وہاں موجود ایک شخص نے انھیں یہ واقعہ سنایا تھا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا کہ وہ شخص کون تھا تو انھوں نے کہا بس ایک معمولی سا آدمی تھا اس لیے ہم نے اس کا نام بھی معلوم نہیں کیا (‘‘

جہاں تک دموہی صاحب کی سرنگ اور موہٹہ کی بیٹی کی اپنے عاشق سے ملاقات اور اس کےنتیجے میں سرنگ بند کرنے کا انکشاف ہے تو ہم یہ بتائے دیتے ہیں کہ یہ سرنگ موہٹہ پیلس کے زیر زمین سوئمنگ پول کا پانی نکالنے کے لیے بنائی گئی تھی اور اس کا کل حجم چار فٹ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...