بلوچ نوجوانوں کے بارے میں تصورات 

532

بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پاکستان کے شہری علاقوں بالخصوص پنجاب  جو ملک کے سماجی اور سیاسی بیانیوں کو کنٹرول کرتا ہے، میں تشخص کا مسئلہ درپیش ہے۔ سکیورٹی کے اداروں، دانشور، میڈیا اور یہاں تک کہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ لوگ اور سول سوسائٹی نے بھی ان کی ایک منفی تصویر بنا رکھی ہے۔ یہ تصویر کسی غصیلے بلوچ سے  بھی بڑھ کر ہے۔ وہ کسی ایسے قبائلی شخص کی عکاسی کرتے ہیں جو شہری آداب سے نابلد، مذہبی تعلیم سے بے بہرہ اور سیاسی جذبات سے بھرا ہے۔ ایک ایسا شخص جو ریاست کے  ترتیب دیے ہوئے  قومیت کے بیانیے  پر یقین نہیں رکھتا۔ ایسی تصویر کشی بلوچوں خصوصاً تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نقصان پہنچارہی ہے۔ غالباً اس سے پہنچنے والا نقصان اس جبر سے بھی زیادہ ہے جس کا بلوچوں کو سامنا رہا ہے۔

بلوچوں کے متعلق بنائی گئی اس قسم کی خرافات کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔ بلوچ نوجوانوں کا ملک کے دوسرے علاقوں سے رابطہ حالیہ سالوں میں بہت بڑھ گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کا پنجاب کے جامعات میں یا تو میرٹ کی بنیاد پر یا پھر حکومت کےمختص کردہ کوٹہ  کی مخصوص سیٹوں پر داخلہ لینا ہے۔ بلوچستان کے سردار اب بھی اپنے بچوں کو انگریز دور کے اشرافیہ کے اسکولوں اور کالجوں میں بھیجنا پسند کرتے ہیں۔ البتہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین بھی اپنے بچوں کو پنجاب میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں بہتر مواقعوں کی تلاش میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ اپنے علاقوں میں باغیوں اور سکیورٹی اداروں کی نگرانی سے محفوظ رہ سکیں۔

کراچی بلوچوں خصوصاً ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کے لیے دوسرا گھر ہے۔ وہ ایک بڑے شہر میں زندگی گزارنے کا گر جان چکے ہیں۔ کراچی جیسا شہر ہوسکتا ہے کہ ان دقیانوسی تصورات کی پرورش نہیں کرتا ہو مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نے  بلوچوں کے گرد بُنے ان تصورات کی بیخ کنی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

پہلے ہی سے حاشیے پر دھکیلے گئے بلوچ نوجوانوں کی طرف اس قسم کی انگشت نمائی انہیں مزید شناخت کے بحران کا شکار کرتی ہے۔ یہ ان کے سیاسی اختیار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے جائز مطالبے سے بے اعتنائی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

بلوچوں کے متعلق یہ تصور عام ہے کہ وہ سیکولر  خیالات رکھتے ہیں اس لیے زیادہ مذہبی نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ انڈین اور مغربی پراپیگنڈے کا باآسانی شکار ہوجاتے ہیں۔یہ بات شاید کچھ سرداروں یا اشرافیہ سے متعلق درست ہو لیکن ایک عام بلوچ اتنا ہی مذہبی ہے جتنا پنجاب کا کوئی رہنے والا۔ جب ریاستی ادارے مذہب کو  بنیاد بنا کر لوگوں  کی خاکہ نگاری کرتے ہیں تو اس سے لامحالہ “اجنبیت”  کا عمل جنم لیتا ہے۔ بلوچ مذہبی حساسیت اور اس سے جُڑے متشدد اور غیر متشدد انتہا پسندانہ رویوں کے خطرے کا شکار ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کا نہ صرف پختون اکثریتی علاقوں بلکہ بلوچستان کے مغربی علاقوں میں بھی سیاسی اثر و رسوخ ہے۔

کراچی سے کوئٹہ سفر کرتے ہوئے مذہبی جماعتوں بشمول تحریکِ لبیک اور کچھ کالعدم تنظیموں کی بڑے پیمانے پر وال چاکنگ نظر آتی ہے۔ ایک منفی پہلو کے طور پر القاعدہ اور دوسری بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں میں دوسرے لوگوں کے علاوہ کئی بلوچ شامل ہیں مگر یہ حقیقت بھی بلوچوں کے سیکولر ہونے کے تصور کو ختم نہیں کرسکا ہے۔ جب میڈیا بلوچ باغیوں اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان گٹھ جوڑ کی خبر دیتا ہے تو اسے بھی بیرونی طاقتوں کے مہروں  کے  ناپاک اتحاد کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں بلوچستان کے باغی جنوبی ایشیا اور دوسرے خطوں کے علیحدگی پسند تحریکوں کی طرح بائیں بازوں کے رجحانات کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ ان تحریکوں نے بائیں بازوں کے نظریات کو قوم پرستی کے ساتھ ملا دیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غیر مذہبی ہیں۔ قوم پرست سیاست علیحدگی پسند تحریکوں پر اثر ڈالتی ہے مگر بلوچ قوم پرست سیاست پہلی عالمی جنگ کے بعد اپنے آغاز سے لے کر اب تک مسلم قوم پرستی کے  زیادہ زیرِ اثر رہی ہے۔ تاریخ کے اس گوشے کے حوالے سے معروف بلوچ تاریخ دان شاہ محمد مری  ایک  دلچسپ کتاب مرتب کرچکے ہیں۔

مگر یہ تاریخ ہی نہیں بلکہ بلوچوں کے متعلق پاکستان کے شہری علاقوں میں موجود خرافات  کی بات ہے۔ ان فرضی داستانوں کی بیخ کنی دانشوروں کا وہ حلقہ کررہا ہے جو بلوچ نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے زیادہ مطالعہ کرنے والا نوجوان سمجھتا ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر بلوچستان میں منعقد ہونے والے ادبی فیسٹیولز میں کتابوں کی ریکارڈ فروخت کا حوالہ دیتا ہے۔بلوچستان میں موجود کتب خانوں  سے پاکستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ  لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ نوشکی کے چھوٹے قصبے سمیت  بلوچستان کے مختلف علاقوں  کے حالیہ دورے کے دوران لائبریریوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نظر آئی۔ البتہ لائبریریوں کا رُخ کرنے والے نوجوانوں میں ایک بڑی تعداد ان کی ہے جو وہاں  موجود سہولیات سے استفادہ کرکے پیشہ ورانہ اور سول سروس کے امتحانات کی تیاری کررہی ہوتی ہے۔

حوالہ جاتی کتابیں مہنگی ہیں اور چھوٹے قصبوں میں باآسانی  نہیں ملتیں۔ انٹرنیٹ سروس دستیاب نہیں ہوتی اور نوجوانوں کے  پاس کتب خانوں میں زیادہ وقت گزارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا جہاں انہیں طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی نہیں ہوتا کیوں کہ زیادہ تر لائبریریز ضلعی انتظامیہ کے حدود میں ہوتی ہیں۔

تعلیم یافتہ نوجوان بیوروکریسی، سکیورٹی اداروں، اور دوسری پبلک سروسز کی طرف کشش رکھتے ہیں جو انہیں معاشی اور سماجی طور  پر بااختیار بنانے کا ذریعہ ہوتی ہیں جیسا کہ ملک کے دوسرے علاقوں کے نوجوانوں کا بھی خواب ہے۔ مگر جب بلوچ نوجوان  تنقیدی سوال اُٹھاتے ہیں تو  تعلیم اور بہتر زندگی کی تلاش ایک جرم بن  جاتا ہے۔

بلوچستان کے نوجوان ملک کے ترقی پسند دانشوروں کے حلقوں سے شہری علاقوں  کے نوجوانوں  کی نسبت  زیادہ سے رابطہ رکھتے ہیں اور پنجاب کے دانشوروں اور تاریخ دانوں کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ مگر ان اردو کتابوں کا مطالعہ بھی انہیں سکیورٹی اداروں کی نگرانی   سے نہیں بچاتا۔ ترقی پسند سوچ انہیں سیاسی شعور حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے مگر یہ انہیں مرکزی بیانیے کے مطابق سوچنے سے دور  بھی کرتی ہے۔

کسی تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان کی گمشدگی کی خبر زیادہ غم وغصے کا باعث بنتی ہے جو سکیورٹی اداروں کی کارستانی سمجھی جاتی ہے اور بلوچ نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے خلاف عمل سمجھا جاتا ہے۔ سکیورٹی اداروں کو ترقی پسند سوچ، سماجی تبدیلی اور آزادیِ اظہارِ رائے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ بلوچ نوجوانوں کو دو قومی نظریے اور ایک جُفتی سوچ کے باریک نظریاتی عدسے سے دیکھتے ہیں۔

پہلے ہی سے حاشیے پر دھکیلے گئے بلوچ نوجوانوں کی طرف اس قسم کی انگشت نمائی انہیں مزید شناخت کے بحران کا شکار کرتی ہے۔ یہ ان کے سیاسی اختیار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے جائز مطالبے سے بے اعتنائی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ شناخت کا بحران غصہ پیدا کرتا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کوئی مشکل بات نہیں ۔جب مولانا ہدایت الرحمان کی حق دو تحریک اپنی تمام تر مذہبی پشت پناہی اور آئین کے اندر رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کے باوجود ناکام ہوتی ہے اور اسٹبلشمنٹ کا حمایت یافتہ وزیراعلیٰ وفاقی بجٹ  اور نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتا ہے تو بلوچستان کے عوام کو کیا پیغام جاتا ہے؟

معاشی، سماجی اور سیاسی عدم برابری یکساں سوچ کی نشونما نہیں کرسکتی اور یہ بات گوادر اور لاہور دونوں کے لیے درست  ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...