ضیاء محی الدین، شخصیت نہیں ایک جہان

425

دراز قد ،جامہ زیب، خوش گلو، اردو انگریزی کے لب و لہجے کو جیسے با لباس کر دیتے، لفظوں کو چہروں میں ڈھال دیتے، جہاں کھڑے ہوتے جیسے چھا جاتے،  آواز کے پیچ و خم ان پر ختم تھے۔ پاکستان ٹی وی کے ضیا ءمحی الدین شو کے خاکے ریپیٹ نشریات میں دیکھ دیکھ کر ہم نے بچپن گزارا۔ پھر کراچی کے پاک امریکی کلچرل سینٹر میں انکے تحت اللفظ کی شاموں میں جانے اور ان کو قدرے قریب سے سننے کا موقع ملا۔ ای ایم آئی کے وہاں لگے سٹال سے ان کے کیسٹ خریدے جاتے اور ہم ضیا صاحب کی آواز کے سحر میں گھنٹوں ڈوبے رہتے۔

کبھی لگتا ٹوبہ ٹیک سنگھ سامنے کھڑا 47ء کے بٹوارے کو للکار رہا ہے تو کبھی خطوط غالب سے مرزا کی مئے چھلکتی نظرآتی اور کبھی فیض صاحب کی بھیگی زرد دوپہر کی پھوار گرتی محسوس ہوتی۔ کبھی لگتا شیکسپیئر نے ہیملٹ انہی کی زبانی سنے جانے کے لیے تحریر کیا ہو۔

ضیا صاحب کی مریدی کہیں یا  ان کا سحر جس میں ان کے قریبی احباب جیسے جکڑے ہوں۔ وہ چاہے مایہ ناز باذوق موسیقار ارشد محمود ہوں یا ستار نواز نفیس احمد ،یا مجھ جیسا کبھی کبھار ملنے والا صحافی ہم ان کی موجودگی میں جیسے کھو جاتے تھے۔ لیکن ان کی موجودہ اہلیہ عذرا محی الدین کا تجربہ ہم جیسوں سے قطعی برعکس رہا اور رہنا بھی چاہیے۔ ضیا صاحب لفظوں پر حکمرانی کرتے تھے اور عذرا جی ان پر۔ انیتس سال کی رفاقت کو عذرا جی نے جس والہانہ انداز میں بیان کیا ،وہ قابل رشک ہے۔

ان کے بقول بحیثیت شوہر ضیا صاحب میں عام شوہروں والی کوئی رگ نہ تھی۔ بلکہ جس طرح انہوں نے شوہر ہونے کا اعزاز نبھایا وہ مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ انہوں نے کبھی اپنی رفیق حیات پرسماجی رویوں والی بیوی ہونے کی ذمہ داری نہ ڈالی۔ بلکہ بہت خیال اور میانہ روی سے ساتھ نبھایا۔ کوئی ایسی پابندی بھی نہ جو نکاح نامے پر دستخط کے بعد شوہر کو مجاز بنا دیتی ہو۔

بقول عذرا جی اگر مرد حضرات میری ازدواجی زندگی میں ضیا صاحب کا اسلوب جان لیں تو شاید ہم دونوں کو گالیاں دیں۔ وہ ایک معاون محبت کرنے والے اور شخصی خصائل کے آئینے سے ان کو دیکھتے اور ساتھ نبھاتے رہے۔

انکی پدرانہ شخصیت کے بارے میں عذرا جی کا مشاہدہ تھا کہ وہ اپنے کام اور سفری مصروفیات کی بنا پر بچوں کو شاید زیادہ وقت نہیں دے سکے۔ وہ جینے پر تو یقین رکھتے تھے لیکن کبھی کبھی اپنے چلے جانے کا بھی ذکر کرتے اور اسی حوالے سے اہم دستاویزات کی تفصیل بھی اپنی شریک حیات سے بانٹنا ضروری سمجھا۔

ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ ضیا محی الدین شاید مزاج کے درشت ہوں اور غصے کے تیز۔ لیکن جو افراد ان کو جانتے اور پرکھتے تھے ان کا ماننا تھا کہ وہ سطحی گفتگو کو جلا دینے کے بجائے اپنے انداز سے اس کو نا پسند فرماتے۔  بقول ستار نواز نفیس احمد وہ بیکار کی باتیں کرنے والوں یا سفارشی حضرات کو بڑے پر تپاک انداز میں دروازے تک لے جاتے اورپھرسمجھدار کے لیے اشارہ کافی ہوتا۔

وہ کام کے دھنی اور قواعد کے پکے تھے۔ انکا اسلوب بیاں اور اسکے لوازمات سبھی نپے تلے اور باذوق شخصیت کے غماز تھے۔ انکے انداز میں اپنے فن سے پیار جنون کے مترادف ہوتا۔ وہ عام زندگی میں کم گو اور مجمعے سے گریز کرنے والے انسان تھے۔ اور ان کی اس ادا کو لوگ اکثر مزاج دار ہونے سے تشبیہ دیتے۔

نفیس احمد صاحب نے پچیس برسوں کے دوران متعدد محافل میں ضیا صاحب کے رسائٹلز میں ستار نوازی کی زمہ داری نبھائی۔ انکے بقول ضیا صاحب ہر مضمون کی روح کے مطابق ستار کے سر اور لیے طے کیا کرتے، کہاں سے لَے اٹھانی ہے اور کس مقام تک اسے تہہ مضمون کر دینا ہے، وہ ان کے اس طریقہ کار کی بھی داد دیتے ملے۔  گھنٹوں کی ریاضت سے نہ کبھی ان کے ساتھی  اکتائے نہ ان کو منع کرتے بلکہ اپنے معمولات ترک کر دیا کرتے۔

نفیس احمد صاحب سے جب میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ضیا ءمحی الدین کو خود فیض صاحب کی کون سی نظم پسند تھی تو ان کا کہنا تھا، “ایک ذرا سوچنے دو”  وہ اکثر ہی اپنے رسائٹلز میں پڑھا کرتے تھے۔

ارشد محمود صاحب نے اپنی رفاقت کا ذکر کیا تو پتہ چلا کہ پہلی ملاقات ۱۹۸۲ میں ہوئی تھی۔ جب ارشد محمود صاحب ای ایم آئی ریکارڈنگ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ اور ان کی ملاقات زیڈ اے بخاری صاحب کے توسط سے ہوئی تھی۔ اور ضیا صاحب نے ای ایم آئی کے لیے، فیض صاحب کی محبت میں، کے عنوان سے ریکارڈنگ کروائی تھی۔ اور بقول ارشد محمود اس کے بعد جیسے ضیا صاحب نے اپنے تئیں فیصلہ کر لیا کہ پاکستان میں جو کچھ بھی انہوں نے کیا اس تمام کے تمام میں مجھے اپنے ساتھ رکھا۔

ضیا صاحب کے بارے میں ارشد محمود کا ماننا تھا بلکہ نفیس احمد بھی یہی سراہتے ملے کے وہ جو کلام جو مضمون پڑھا کرتے اس کی ادائیگی، اس کے لیے موسیقی کے چناو میں ان کے ذہن میں مکمل خاکہ موجود ہوتا اور اس کے مطابق چاہے ریکارڈنگ کرانا ہو یا براہ راست نشست ہو وہ بھرپور انداز میں ابھر کر آتے اور معاونوں کے ساتھ پراجیکٹ مکمل کرتے۔ ارشد صاحب کے بقول ضیا صاحب جو خاکہ بتاتے میں اس کے مطابق تمام لوازامات کو ملحوظ رکھتا کیونکہ وہ ہر ادائیگی کی نوک پلک برابر درست رکھنے پر یقین رکھتے تھے۔

ارشد محمود صاحب نے بھی بتایا کہ سیاسی اعتبار سے ضیا محی الدین نہ کسی پارٹی کا حصہ بنے نہ کسی کو ترجیح دی بلکہ وہ خالصتاً آرٹسٹ انسان تھے اور وہ غیر سیاسی شخصیت تھے۔

عذرا محی الدین جس دلچسپی اور پر تپاک انداز میں ان کو یاد کرتی ملیں، اس سے یہی تاثر ملا کہ جیسے وہ سب سن رہے ہوں اور آس پاس موجود ہوں۔ عذرا جی کے بقول، یہ تسلیم کرنا ممکن نہیں کہ ضیا صاحب جا چکے ہیں بلکہ لگتا ہے کہ ٹی وی والے کمرے میں بیٹھے سب سن رہے ہوں اور کہہ اٹھیں کہ یہ بھی کوئی بتانے کی باتیں ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...