رُل جانے کی چَس

452

ویگنیں سیاسی پارٹیوں کی تمثیل ہیں۔ منزل کی ہانک لگا کر گھماتی پھرا تی ہیں اور شام کو وہیں پہنچا دیتی ہیں جہاں سے صبح مسافر نے سفر کا آغاز کیا تھا

اناطول لیوین کی کتاب ’’پاکستان سخت جان ملک‘‘ تو 2011 میں شائع ہوئی لیکن پاکستانیوں کو اپنی سخت جانی کا پہلے سے پتا ہے۔ البتہ لیوین کوبھی یہ معلوم نہیں کہ اس سخت جانی کا اصل  راز ہماری رُل جانے کی چَسْ ہے۔ یہ راز ہمیں ایک مسافر ویگن سے معلوم ہوا جس کے پیچھے یہ قول زریں لکھا تھا۔ ” رُل تے گئے آں پر َچسْ بڑی آئی اے”۔ بظاہر یہ  کوئی سیاسی بیان نہیں صرف بربادی کی شکایت ہے۔ لیکن یہ اعتراف کہ بربادی میں مزا بہت آیا  پاکستانی سخت جانی کا سر نہاں ہے۔

لٹ جانے والے کو لٹنے کا چسکہ لگا دینا اصل سیاست ہے۔ یہ  چَسّ انسان کو اتنا سخت جان بنا دیتی ہے کہ بڑے سے بڑا بحران  بھی اسے پریشان نہیں کر سکتا۔ ویگنیں سیاسی پارٹیوں کی تمثیل ہیں۔ منزل کی ہانک لگا کرگھماتی پھراتی ہیں اور شام کو وہیں پہنچا دیتی ہیں جہاں سے صبح مسافر نے سفر کا آغاز کیا تھا۔ مسافر اس چکر میں صبح دفتر کو اور شام میں گھ۔ر کو منزل سمجھ کر اترتا اور چڑھتا رہتا ہے۔ نہ سفر ختم ہوتا ہے نہ منزل کا پتا چلتا ہے۔ بے چین  طبیعت لوگ گھبرا جاتے ہیں اور جلد منزل تک پہنچنے کے لئے شور مچانے لگتے ہیں۔ لیکن تجربہ یہی بتاتا ہے کہ شور مچانے والے بھی آخر خاموش ہو جاتے ہیں۔ جہاں دیدہ پریشان نہیں ہوتے اور سخت جان ہوں تو بربادی میں بھی مزا لیتے ہیں۔ پہلے وقتوں میں اسلام آباد میں ویگنوں اور بسوں کی کمپنی کا نام ہی وران  تھا اور مسافر کو پہلے سے ویرانی کے مقدر ہونے کاعلم ہوتا تھا۔ آج کل تقدیر پر بھروسا نہیں رہا اس لئے ہر شخص خود منزل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ ہر طرف جلد بازی دکھائی دیتی ہے۔ کسی کو لیکس میں اقتدار کی چھت ٹپکتی نظر آتی ہے، کسی کو گوشواروں میں انقلاب کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔ سیانے اطمینان سے ہیں کہ تبدیلی آ چکی ہے۔ ویگنیں بتارہی ہیں کہ ُرلنےکی چَسّ  نے خودی کے اسرار بھلا دئے ہیں اور اب بے خودی کے رموز منکشف ہونے لگے ہیں۔

جی ٹی روڈ اور موٹر وے پر بھی رُلنےوالے چَسّ لیتے نظر آتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ نو آموز ڈرائیورگاڑی لے کر نکلتے تو اپنی حفاظت کے لئے بے خوف قیادت کی تلاش میں سڑک پر ٹرک ڈھونڈتے تھے۔ جہاں ٹرک نظر آتا پیچھے اس امام کے اللہ اکبر کہ کے ٹرک کے پیچھے لگ جاتے۔ وضع دار ٹرک کے پیچھے لکھا ہوتا تھا کہ ہارن دو اور راستہ لو۔ لیکن راستہ دینے کا اختیار تو ٹرک کے پاس ہی رہتا تھا۔ ٹرک  کے پیچھے کاروں کی قطار طویل ہو جاتی تو وہ لمبے راستے پر نکل پڑتے۔ بعض بے صبر گاڑیاں ہارن دینے لگتیں لیکن ٹرک کو پتا تھا کہ ہارن کا رولا رپا بنیادی حقوق کی طرح ہے۔ ان کے لئے شور تو مچایا جا سکتا ہے لیکن انہیں حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت ور ہمیشہ تالی پسند کرتے ہیں، اس کے شور سے دل کو راحت اور روح کو سکون ملتا ہے۔ ہارن بجانا سختی سے منع ہے اس سے ماحول اور ماحولیات  کا توازن بگڑتا ہے۔ چنانچہ ہارن دو اور راستہ لو کی بجائے ٹرکوں پر شعر و شاعری کو رواج  دیا گیا۔

ٹرک اپنے اپنے شہر آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ کچھ زبردستی میاںوالی لے جانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ تاہم ٹرک پر لکھے شعروں سے انکشاف ہوا کہ ٹرک اندر سے بہت دُکھی ہیں۔ کسی کو اپنے ہی دیس میں پردیسی ہونے کا دکھ ہے۔ کسی کو بے وفائی کا گلہ ہے۔ “تری یاد آئی تیرے جانے کے بعد” والے شعر سے تو زنانہ طرز کی طعن و تشنیع اور الزام تراشی کی دُھنیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ٹرک بہت زیادہ نسوانی ہوتے جا رہے ہیں۔ عقابوں، شیروں اور راکٹوں کی جگہ پھول پتیوں نے لے لی ہے۔ جیسے کسی ڈیزاینر کی لان کا سوٹ پہناہو۔ اب بے چاری گاڑیاں دوپٹوں اور پراندوں سے سجے ٹرک کے پیچھے دوڑنے سے کتراتی ہیں۔ ٹرک کی عزت سب کو پیاری ہے۔ نو آموز تو تھے ہی اب ساری ٹریفک رُل گئی ہے کہ بے خوف قیادت کہاں ملے گی۔ وہ تھوڑی دور تک ہر ٹرک کے پیچھے چلتے ہیں لیکن “چلتا ہوں تھوڑی دور ہر راہرو کے ساتھ، پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبرکو میں” کی طرح  رُل جانے کی کیفیت تو طاری ہو گئی ہے۔ لیکن مایوسی سے بچ گئے ہیں۔ رُل جانے کا چسکہ  ہی ایسا ہے کہ اللہ کے فضل سے  مایوسی بھی مزا دینے لگی ہے۔

کوئی اور ہوتا تو مشرقی پاکستان کے  بچھڑ جانے کے بعد اس طرح رُل گیا ہوتا کہ سر نہ اٹھا سکتا۔ لوگ پاکستانیوں کی سخت جانی پر عش عش کرتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ہم  رُلنے کی چَسّ جانتے ہیں۔ یہی راز یہ ہے کہ ہم  کوئی صدمہ کبھی جان پر نہیں لیتے۔ ہم یہ مان کے ہی نہیں دیتے کہ یہ صدمہ ہم پر گذرا ہے یا ہمارا اس سے کوئی واسطہ ہے۔ ہم ہر بحران میں بیرونی سازش پر یقین رکھتے ہیں۔ ہر حادثے میں کسی کا ہاتھ ڈھونڈتے ہیں۔ ہر حملے میں یا خود کش پکڑا جاتا ہے یا اس کا سر مل جاتا ہے جس سے ہمارا یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے کہ اس کا ڈی این اے ثابت کر دے گا کہ یہ جنگ ہماری نہیں ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ ہمارے پاس بے شمار  ٹھوس ثبوت موجود رہتے ہیں۔ مثلاً کوئی مسلمان ایسا کام نہیں کر سکتا کیونکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔

ہماری اس سخت جانی پر ایک لطیفہ سنئے۔

ایک سردار جی کو گوری پولیس بری طرح مار رہی تھی اور وہ قہقہے لگا کر ہنس رہے تھے۔ راہگیروں نے بیچ بچاؤ کرا کے پوچھا سردار جی  معاملہ کیا ہے۔ ہنسی سے بے حال سردار جی  کہنے لگے کہ یہ گورے شاید  کسی علی بھائی کی تلاش میں تھے۔ بار بار مجھے علی بھائی علی بھائی کا پوچھ رہے تھے۔ میں نے  بہت کہا کہ میں علی بھائی نہیں ہوں لیکن انہوں نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ میں ان کی بے وقوفی پر ہنستا رہا اور وہ مجھے مارتے رہے۔ راہگیروں نے کہا افسوس  ہے کہ سردار جی کو خواہ مخواہ مار پڑی۔ سردار جی نے کہا نا جی افسوس کس بات کا۔ میں تو ہنسی نہیں روک پا رہا کہ یہ لوگ مجھے علی بھائی سمجھ کر مار رہے تھے حالانکہ میں علی بھائی ہوں ہی نہیں۔ یہ تو بعد میں پتا چلا کہ پولیس والے سردار جی سے پوچھ رہے تھے کہ تم موقع واردات پر نہیں تھے تو پھر کہاں تھے۔ گورے ایلی بائی کی بات کر رہے تھے اور سردار جی سمجھے وہ کسی علی بھائی کے شک میں ان کو مار رہے ہیں۔ سردار جی نے لاکھ  انکار کیا کہ وہ علی بھائی نہیں ہیں وہ سردار جی ہیں۔ لیکن گورے مارے جا رہے تھے۔

اس لطیفے میں ہم نے جان بوجھ کر سردار اور گوروں کا ذکر کیا اور سردار جی کی طرح آپ  بھی محظوظ ہوے اور مار کا احساس بھی نہیں ہوا۔ یہ ہے رُل جانے کی چَسّ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...