کالاش کمیونٹی اور معدومیت کے خطرات

(یہ مضمون سہ ماہی تجزیات، شمارہ 99 سے لیا گیا ہے)

396

پاکستان متنوع ثقافتوں کا گلدستہ ہے۔ یہ سرزمین ثقافتی مظاہر جیسے زبان، لباس، مذہب، خوراک، اقدار و روایات کے حوالے سے بے پناہ تنوع اور رنگارنگی کی حامل ہے۔ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہم اپنی اس خصوصیت کا کما حقہ ادراک نہیں رکھتے۔ دنیا بھر میں بیدار قومیں اور خطے اپنے ثقافتی نشانات کی تحقیق و جستجو اور ان کی حفاظت پر کمربستہ ہیں اور اپنی تاریخی قدامت کی طاقت پر اپنا حال استوار کرتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں صورت حال برعکس ہے اور ہم اپنے ان رنگوں کو معدوم کرنے کے راستے پر رواں ہیں۔ کالاش قبیلے کی معدومیت کے خطرات کی طرف توجہ دلاتا یہ مضمون قارئین “تجزیات” کی توجہ کا طالب ہے۔ (مدیر) 

تحریر: عبیر علی

قدیم زمانے میں افغانستان کے موجودہ علاقے نورستان سے لے کر کشمیر تک کے علاقے کو درستان کہا جاتا تھا۔ درستان میں اسلام کے نفوذ سے پہلے بدھ مت جیسے بڑے مذاہب کے ساتھ ساتھ علاقائی طور پر پروان چرھنے والے کچھ دوسرے چھوٹے چھوٹے مذاہب کے پیروکار بھی رہتے تھے جنہیں بعد میں مسلمانوں نے مجموعی طور پر کافر اور موجودہ نورستان کو کافرستان کا نام دیا  جہاں کافروں کی سب سے زیادہ آبادی تھی۔  نورستان کے علاوہ چترال بھی ان کافروں کا مسکن تھا۔  ماہرین کافرستان (موجودہ نورستان ) کے کافروں کو کاٹی کافر یا ریڈ کافر (Red Kafir) کہتے ہیں جب کہ چترال کے کافروں کو کالاش یا بلیک کافر۔ کافروں کے عقائد قدیم ہندومت کے قریب تھے البتہ لمبے عرصے تک ہندوکش کی الگ تھلگ وادیوں میں رہنے اور ہندو مراکز سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ان میں بہت سارا مقامی رنگ بھی شامل ہوتا گیا۔ گیارویں صدی میں محمود غزنوی نے  کافرستان  پر پہلی لشکرکشی کی اور انہیں نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ کافروں نے امیر تیمور اور جلال الدین اکبر سمیت چترال کے مسلم حکمرانوں کے حملے بھی برداشت کیے مگر انیسویں صدی کے آخر میں افغانستان کے حکمران امیر عبدالرحمان نے ہزارہ کمیونٹی کی طرح    کافروں کے خلاف بھی بھرپور فوج کشی کی جس کے نتیجے میں کافرستان کے تمام باشندے مسلمان ہوگئے۔ چترال میں بسنے والی کالاش کمیونٹی    ڈیورانڈ لائن کے اس پار ہونے کی وجہ سے امیر عبدالرحمان کے حملے سے محفوظ رہی اور آج درستان میں موجود آخری کافر قبیلے کے طور پر زندگی گزار رہی ہے۔

 لوک روایات اور کچھ معروضی شواہد سے واضح ہے کہ کسی زمانے میں کالاشوں کی پورے چترال پر حکومت تھی اور مقامی آبادی کافر عقائد پر یقین رکھتی تھی مگر اس خطے میں اسلام پھیلنے کے ساتھ  کالاشوں کی اثرپزیری ختم ہوتی چلی گئی اور اب وہ چترال کے جنوب میں تین وادیوں  تک محدود ہوچکے ہیں۔ کالاش وادیوں میں کالاشوں کی تعداد محض چار ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے جب کہ مسلمان ہونے والے کالاش جنہیں شیخ کہا جاتا ہے کی تعداد ان سے لگ بھگ دو گنا زیادہ ہے۔

کالاشوں کی منفرد ثقافت اور ان کے متعلق  پھیلے کچھ مفروضوں   کی وجہ سے انہیں دنیا بھر میں شہرت مل گئی ہے۔   کالاش  روایات کے مطابق ان کے آباؤاجداد سکندر اعظم کے یونانی فوجیوں میں سے تھے جو سکندر کے فتوحات کے وقت کسی نہ کسی وجہ سے پیچھے رہ  گئے۔ کالاش لوک گیتوں کے مطابق ان کا آبائی وطن صیام نامی ایک علاقہ تھا جہاں سے وہ ہجرت کرکے چترال آئے۔  بعض ماہرین کے مطابق صیام بدخشا ن کا کوئی علاقہ ہوسکتا ہے۔  حالیہ تحقیق  اور ڈی این اے ٹیسٹ سے کالاشوں کے یونانی نسل سے ہونے کا  مفروضہ غلط ثابت ہوچکا ہے۔ کالاش درحقیقت “درد-آریائی”( Dard-Aryan) نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی زبان ، کالاشہ وار، ہندو آریائی ((Indo-Aryan زبان ہے جس سے دردستان  کی اکثر زبانیں تعلق رکھتی ہیں۔  ان کے مذہب  میں کہانت (Shamanism) کا عنصر غالب ہے اور  متعدد دیوتاؤں پر یقین رکھا جاتا ہے۔  کالاشوں میں سے ایک کاہن جسے دیہار کہا جاتا ہے، وجد کی مخصوص حالت میں  دیوتاؤں سے رابطہ قائم کرکے اپنے قبیلے کے لیے راہنمائی لیتا ہے اور پیشن گوئیاں کرتا ہے۔ کالاشوں میں ہدایت کا ذریعہ مذہبی کتاب  کی جگہ یہی دیہار ہوتا ہے۔ دیہار خود سے نہیں بنا جاسکتا بلکہ یہ  ان کے مطابق یہ الوہی انتخاب ہوتا ہے۔ کالاش  مذہبی رسومات  کے لیے ایک معبد میں جمع ہوتے ہیں جسے جستک کہا جاتا ہے۔ وہاں وہ دیوتاؤں کے لیے بکری ذبح کرکے قربانی دیتے ہیں۔ ان کے ہاں پاکی اور ناپاکی کا تصور بہت مضبوط ہے۔ پاکی کو اونجستہ جبکہ ناپاکی کو پراگتہ کہا جاتا ہے۔ وہ مرغی کو ناپاک تصور کرتے ہیں اور اس کا گوشت نہیں کھاتے۔ اسی طرح عورتوں کو بھی مخصوص ایام اور زچگی کے دوران گھر سے دور ایک عمارت میں ٹھہرایا جاتا ہے جسے بشالینی کہتے ہیں۔ عورتوں کو  معبد میں داخلے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔ پہاڑوں اور چراگاہوں کو پاک تصور کرتے ہیں اور زیریں وادیوں کو ناپاک۔ وہ پہاڑوں کو  پریوں اور دیوتاؤں کا مسکن سمجھ کرکے ان کی تعظیم کرتے ہیں۔

کالاشوں کے ہاں سال میں تین  اہم تہوار منائے جاتے ہیں۔ مئی میں چلم جوشی ، ستمبر میں اوچاؤ اور دسمبر  میں چھاؤمس کی تہوار منائی جاتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بہار مئی کے مہینے میں   آتی ہے۔ کالاش بہار اور نئے سال  کو خوش آمدید کہنے کے لیے  چلم جوشی مناتے ہیں جوکئی دنوں اور مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔  اس تہوار میں کالاش اپنے گھروں کو خودرو پھولوں اور اخروٹ کے پتوں سے سجاتے ہیں۔ دودھ تقسیم ہوتا ہے اور  پچھلے سال پیدا ہونے والے بچوں کو  مختلف رسومات کے ذریعے کالاش قبیلے میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر  مردو زن شانہ بشانہ گاتے ہوئے رقص کرتے ہیں۔ ان کے لوگ گیت تاریخی ہیروز اور دیوتاؤں کی مدحت سرائی سے لےکر  عشقیہ  موضوعات پر مشتمل ہوتے ہیں۔   اوچاؤ کی تہوار میں اوپر چراگاہوں میں گئے ہوئے چرواہے وافر مقدار میں  دودھ اور پنیر لے کر نیچے اترتے ہیں۔  لوگ ایک میدان میں جمع ہوتے ہیں ،  اور سال کی نئی فصلوں اور پھلوں  کے لیے دیوتاؤں کا شکر ادا کرکے کھانا کھایا جاتا ہے اور شراب پی جاتی ہے۔ اس سے پہلے انہیں ہاتھ نہیں لگایا جاتا ۔  ایک کالاش گیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے، “ہم رقص کرتے ہیں اور گاتے ہیں کیوں کہ ہمیں معلوم نہیں اس کے بغیر خدا کا شکر کیسے ادا کریں۔” چھاؤمس کی تہوار  دو ہفتوں تک منائی جاتی ہے۔ اس دوران نوجوان شادی کے لیے شریکِ حیات  پسند  کرتے ہیں۔

ان کے علاوہ بھی کالاشوں کے ہاں سال بھر میں یا کسی خاص موقع مثلاً فوتیدگی، پیدائش ، یا زلزلہ وغیرہ کے وقت مخصوص تہوار یا رسومات ادا کیے جاتے ہیں۔ فوتیدگی سمیت تقریباً تمام رسومات اور تہواروں میں  رقص اور موسیقی لازمی جزو تصور ہوتا ہے۔  ماضی قریب تک مرنے والوں کی لاش کھلے آسمان تلے ضروریاتِ زندگی کے ساتھ تابوت میں رکھ کر چھوڑی جاتی تھی۔ ارواح کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ وہ دنیا کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔ تہواروں  کے دوران  وہ اپنے بزرگوں کی روحوں کے لیے کھانے کا ایک حصہ مختص کرتے ہیں۔ تقریباً یہی تصور چترال کی مسلمان آباد ی میں رائج اساطیر کا حصہ ہے۔

ڈیورانڈ لائن کی وجہ سے نورستان کے ریڈ کافر امیر عبدالرحمان کے رحم و کرم پر رہ گئے تھے اور انہوں نے 1895 میں حملہ کرکے اس قدیم قبیلے کی شناخت تبدیل کرکے رکھ دی۔ ڈیورانڈ لائن سے قبل کافرستان تاریخی طور پر خودمختار یا پھر ریاستِ چترال کا باج گزار تھا۔ کالاش جو ڈیورانڈ لائن کے اس طرف رہ گئے وہ بتدریج  معدومیت کی سمت بڑھ رہے ہیں کیوں کہ  کافرستان میں اسلام کے جبراً نفاذ کے بعد چترال کے کالاش خود کو ایک ایسے جزیرے میں بے یاروبےمددگار  پاتے ہیں جس کے اردگررد کی ثقافتوں اور معاشروں سے ان کی کچھ زیادہ مماثلت نہیں ہے۔   پاکستان بننے کے بعد کی کچھ دہائیاں کالاشوں کے لیے نسبتاً  پرامن دور تھا۔ ذولفقار علی بھٹو نے پہلی بار ایک وزیر اعظم کے طور پر کالاش وادیوں کا دورہ کیا اور انہیں اپنی ثقافت سے جُڑے رہنے کی تلقین کی۔ مگر اسی کی دہائی میں پاکستان میں اسلامائزیشن کے دوسری اقلیتوں کے ساتھ ساتھ  کالاشوں پر بھی   اثرات پڑے۔ شہروں سے تبلیغیوں کی ٹولیاں کالاش وادیوں میں نمودار ہونا شروع ہوئیں اور مساجد  قائم کی گئیں۔    نائن الیون کے بعد حالات  کالاشوں  کے لیے مزید ناسازگار ہوگئے۔ طالبان نے نہ صرف انہیں دھمکیاں دے کر ان میں خوف و ہراس پھیلایا بلکہ متعدد بار سرحد  پار سے حملہ کرکے ان کے  لوگوں کو قتل کرکے ان کی مال مویشی اپنے ساتھ لے گئے۔

کالاشوں کو درپیش خطرات کی مختلف جہتیں ہیں۔ کالاش وادیوں میں اسلامی مذہبی اثرات کا بےجا نفوذ ان میں  سے سب سے اہم  خطرہ ہے۔ اردگرد کی مسلم آبادی اور تبلیغی کالاشوں کو نہ صرف مسلمان بننے کی تلقین اور حوصلہ افزائی  کرتے ہیں بلکہ مسلمان ہونے پر انہیں مراعات بھی دیتے ہیں ۔ خود کالاشوں کے اپنے کچھ مذہبی رسومات اور رواج بھی انہیں  اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کالاش مذہب میں شادی اور فوتیدگی کے رسومات بہت  پیچیدہ اور مہنگے ہوتے ہیں۔ کسی کی وفات ہونے کی صورت میں لواحقین کو کئی دنوں تک کھانا بناکر پوری وادی کی دعوت کرنا ہوتی ہے جو پورے خاندان پر معاشی بوجھ ہوتا ہے۔ کالاشوں میں کسی ایک مذہبی اتھارٹی کا نہ ہونا بھی ایک اہم مسئلہ ہے جو انہیں  ایک مرکز اور محور فراہم کرسکے۔ بدقسمی سے کالاشوں کے ہاں موجود دیہار کا تصور  بھی قریباً ناپید ہوچکا ہے اور  کچھ دہائیوں سے   کالاشوں میں  کوئی دیہار نہیں آیا ہے۔ موجودہ زمانے میں کالاش رسومات کی ادائیگی مقامی کالاش قاضی کی ذمہ دار ی ہے۔ اس کے علاوہ کالاش اپنے مذہب  اور رسومات کی انفرادیت کی وجہ سے خود  کو ایک مسلم  خطے میں اجنبی محسوس کرتے ہیں۔ مسلمان ہمسایوں اور وادی میں آنے والے سیاحوں کا رویہ ان کے ساتھ بڑی حد تک تحقیر آمیز  ہوتا ہے۔ وہ خود کو کسی چڑیا گھر میں بند جانور کی طرح محسوس کرتے ہیں جن  کا مقصد سیاحوں کی تفریح کا سامان بننا ہے۔ اس وجہ سے بڑی تعداد میں کالاش بددل ہوکر مذہب تبدیل کرکے  رہے ہیں۔ جو مذہب تبدیل کرتے ہیں بدقسمی سے وہ اپنی زبان، لباس اور ثقافتی اور تاریخی شناخت کی دوسری چیزیں بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے وہ اقلیتی دائرے سے نکل کر اکثریتی دائرے کا حصہ بن جاتے ہیں اور یوں انہیں زیادہ تحفظ اور طاقت کا احساس ہوتا ہے۔

کالاش وادیوں میں سیاحت کے فروغ کے باوجود ان کی معاشی صورتحال میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ ان کے لیے حالات اور دگرگوں ہوگئے ہیں۔ کالاش وادیوں میں زیادہ تر ٹرانسپورٹ اور ہوٹل مالکان  کالاشوں کے بجائے مسلمان ہیں۔ سیاحت سے کالاشوں کی آمدنی صرف وائن بیچ کر ہوتی ہے مگر انتظامیہ وائن تیار کرنے اور اس کے فروخت کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ کالاش میں سیاحت پر سرمایہ کاری باہر سے لوگ آکر کر رہے ہیں اور حکومت خود کالاشوں کو اپنے علاقے میں موجود مواقعوں سے فائدہ اٹھاکر اپنی معاشی حیثیت میں بہتری لانے کے لیے  کوئی اقدامات نہیں کر رہی  ہے۔

اقلیت میں ہونے کے باوجود کالاشوں کو اسکولوں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو مسلمان طالب علموں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ نئی کالاش نسل کو ان کے اپنے مذہب، تاریخ اور ثقافت سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں نیشنل کریکولم کونسل نے ملک بھر میں سات اقلیتی مذاہب کے طالب علموں کے لیے ان کے اپنے  عقائد  پر مبنی  مذہبی کتابوں کو نصاب میں شامل کرنے کے اجازت دی ہے جس میں کالاش مذہب بھی شامل ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے۔

ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ  ہندوکش کے پہاڑوں کے بیچ اپنی بقا کی آخری جنگ لڑنے والے منفرد ثقافت کے حامل اس قبیلے کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دے اور ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ کالاش قبیلے کو درپیش خطرات اور ریاست کی بے اعتنائی عالمی طور پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔ ریاست کو ثابت کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان میں بسنے والے ہر شہری کی ماں ہے اور اس کے تحفظ اور بقا کو اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری سمجھتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...