“نگاہِ آئینہ ساز میں”/ رشاد محمود

(یہ مضمون سہ ماہی تجزیات، شمارہ 99 سے لیا گیا ہے)

710

ایک آئینہ ساز کی سوانحِ حیات “نگاہِ آئینہ ساز میں”کے عنوان سے منصہ شہود پر آئی ہے۔ علامہ اقبال کے شعر والے آئینہ ساز کی نہیں بلکہ ایک حقیقی آئینہ ساز کی۔ رشاد محمود صاحب حقیقت میں آئینہ ساز ہیں۔ برسوں سے آئینوں اور شیشوں کا کاروبار کرتے رہے ہیں۔ عمر کی نوے بہاریں دیکھنے کے بعد اب “نگاہِ آئینہ ساز  میں”کی شکل میں ایک ایسا عجیب آئینہ سامنے لائے ہیں جس میں گزشتہ دنوں اور رفتگاں کے چہروں کے عکس صاف اور شفاف انداز میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ کتاب ان کے انٹرویوز پر مشتمل سوانح ہے جو ڈاکٹر جعفر احمد نے ریکارڈ کرکے تریب دی ہے۔

میں رشاد محمود صاحب کو پہلے نہیں جانتا تھا۔ ان کی یادداشتوں پر مشتمل یہ کتاب آئی تو ان سے ان کے بیٹے ناظر محمود صاحب کے حوالے سے تعارف ہوا جن سے فیس بک پر شناسائی ہے اور اخباروں میں گاہے بگاہے ان کے مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اب کتاب پڑھنے کے بعد، پہلے کے برعکس، بیٹے کو والد صاحب کے حوالے سے جاننے لگاہوں۔

رشاد محمود صاحب کوئی حکمران نہیں، معروف معنوں میں ہیرو نہیں، تاریخ پر نقش چھوڑنے والا سیاستدان نہیں، کوئی ایسا سپہ سالار نہیں جس نے علاقے فتح کیے ہو، مذہبی پیشوا نہیں جس کے ہزاروں لاکھوں  مرید ہوں، ایسے ادیب نہیں جس کی کتابیں ہزاروں کی تعداد میں چھپ کر فروخت ہوئی ہوں، ایسے شاعر نہیں جس کے شعر زبان زدِ  عام ہوں، علمی نشستوں میں اسٹیج پر براجمان ہوکر دقیق خیالات کو پیچیدہ اصطلاحات کا پیراہن پہنا کر پیش کر نے والے دانشور بھی نہیں۔   ایسا نہیں تو پھر کیا ہے ؟ ان کی یادداشتیں پڑھنا کیوں ضروری ہے؟ بلکہ ان کی یادداشتیں سرے سے لکھنا ہی کیوں ضروری تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ رشاد صاحب ہمارے گزشتہ 90 سالوں کی بیاض ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ان نو دہائیوں کے چہرے اور مناظر نقش ہیں، ان کے سینے میں قریباً ایک صدی کا زمانہ دفینے کی صورت دفن ہے، ان کے حافظے اور گفتگو سے یہ سارا کچھ شفاف بلور میں منعکس کسی منظر کی طرح جھلکتا ہے۔ انہوں نے جو گفتگو کی ہے اس میں گزشتہ ایک صدی کے ہندوستان اور پھر پاکستان کے سیاسی، سماجی اور ادبی منظرنامے کو مصوَّر کیا گیا  ہے۔ چنانچہ یہ کتاب ان کی کم اور ہماری سیاست، سماج اور ادب کی سوانح زیادہ ہے۔

رشاد صاحب 1932 میں بمبئی میں پیدا ہوئے۔ والد گجراتی تھے اور والدہ ترک۔ والد کا انتقال ہوا تو والدہ کے ساتھ مشقتیں اٹھانا پڑیں۔ چھوٹی عمر ہی کارخانوں میں محنت مزدوری کرنا پڑی۔ اس بات کے باوجود کہ اسکول چھٹ گیا تھا، انہوں نے اپنی تعلیم چھٹنے نہیں دی۔ بائیں بازو کے اسٹڈی سرکلز میں جاتے اور متنوع کتابیں پڑھتے۔ بمبئی میں ہی کمیونسٹ پارٹی اور انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ ہوئے۔ یہ ہندوستان کی تاریخ کا پُرآشوب دور تھا۔ بٹوارہ قریب تھا مگر سماج میں تقسیم کی لکیریں کھینچی جاچکی تھیں۔ فسادات ہورہے تھے اور لوگ مر رہے تھے۔ رشاد صاحب اپنے آس پاس یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ مذہب اور قومیت کے نام پر ہونے والی اس تباہی کو دیکھا تو بائیں بازو کے قریب تر ہوگئے۔ یہ وقت مگر برصغیر میں بائیں بازو کا زرین دور تھا۔ اس دور میں ادب اور سماج کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ ادب سیاست اور سماج پر اثرانداز ہوتا تھا اور سماج اور سیاست ادب پر۔ ادب کے قریباً تمام نابغوں کی بائیں بازو کے ساتھ جُڑت تھی۔ وہ ادب کے ذریعے سماج میں بہتری لانے کے متمنی تھے۔ بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں کی تربیت کئی جہتوں پر ہوتی تھی۔ انہیں ادبِ عالیہ پڑھایا جاتا تھا۔ سماج اور تاریخ کی بُنت اور ارتقا کو سمجھنے کے لیے کتابیں پڑھائی جاتی تھیں۔ رشاد صاحب نے بھی ایک مخلص کارکن کی طرح تربیت لی۔ نہ صرف تربیت لی بلکہ عملی میدان میں اس تربیت کو بروئے کار بھی لایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ دن کو کارخانے میں محنت مزدوری کرتے تھے اور شام کو کمیونسٹ پارٹی کے اسٹڈی سرکلز میں ہوتے یا گلی کوچوں میں جاکر ان کے اخبار تقسیم کر تے۔ بائیں بازو کے کسی سیاسی کارکن کی اس سے زیادہ پرفیکٹ تصویر اور کیا ہوسکتی ہے۔

بمبئی میں ہی انہوں نے انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے اجلاس میں جاکر کرشن چندر، سبط حسن، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، منٹو، نیاز حیدر اور عصمت چغتائی جیسے لوگوں سے ملنا اور انہیں سُننا شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے، ” کرشن چندر نے اپنے جتنے افسانے انجمن میں پڑھےتھے اس وقت ہم بھی وہاں موجود تھے”اور، “کیفی اعظمی کے ساتھ ہمارا بہت ساتھ رہا۔ جس علاقے میں ہم پلے بڑھے، جہاں سے ہماری تربیت ہوئی اور وابستگی رہی اس علاقے کے مزدوروں اور کامریڈوں کی سربراہی کیفی اعظمی کرتے تھے”۔ جو سوال میں نے اوپر کی سطور میں اٹھایا ہے کہ رشاد صاحب کی سوانح کیوں لکھی اور پڑھی جائے، یہ اس کا جواب بھی ہے۔ آج ہمارے بیچ کتنے لوگ ہوں گے جنہوں نے پچاس کی دہائی میں کرشن چندر، منٹو، کیفی اعظمی اور نیاز حیدر جیسوں کو دیکھا ہو، ان کے قریب رہے ہوں اور ان سے تربیت حاصل کی ہو۔ رشاد صاحب کی سوانح کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے یہی ایک بات بھی کافی ہے۔

تقسیم اور پھر انڈیا میں جمہوریت کے استحکام کے بعد کمیونسٹ پارٹی بھی ایک جمہوری اور پارلیمانی پارٹی بن گئی۔ رشاد صاحب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد ہندوستان میں کبھی مزاحمتی ادب سامنے نہیں آسکا۔ والدہ کے انتقال کے بعد 1952 ء میں رشاد صاحب کا پاکستان آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر آہستہ آہستہ وہ یہیں کے ہوکر رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جلد ہی کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگ گئی اور سارے کامریڈ انڈر گراؤنڈ ہوگئے۔ رشاد صاحب بھی عوامی لیگ اور پھر نیپ سے وابستہ رہے۔

اس دوران ملک پر کئی دور آئے اور گزر گئے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے کھلی آنکھوں کے ساتھ ان ادوار کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ ملک کو آئینی بحران کا سامنا کرنا پڑا، آمروں کی حکومتیں آئیں، ملک دولخت ہوگیا، پیچھے رہ جانے والا حصہ لسانی، علاقائی اور مذہبی تفرقہ بازی کا شکار ہوا، خود بائیں بازو کی سیاست کی حرکیات ریاستی تشدد اور بدلتے عالمی تناظر میں تبدیل ہوتی رہیں اور مختلف وجوہات کی بنا پر ملکی سیاسی تحریک میں اس کی جگہ کم ہوتی گئی۔ مگر رشاد محمود ایک سچے اور مخلص نظریاتی کارکن کی طرح اب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں امن، خوشحالی اور فلاح کا ضامن صرف اشتراکی نظام ہی ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ قومی اور بین الاقوامی سیاق و سباق کو جاننے اور اس کا احترام کرنے کے بھی قائل ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں مسائل کی سب سے بڑی جڑ فوج کی سیاسی عمل میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہونا ہے۔ وہ ملک کے اندر قومیتوں کی مضبوطی کے حامی ہیں۔ بین الاقوامی طور پر وہ موجودہ سرمایہ درانہ نظام کے ساتھ بقائے باہمی کے اصولوں پر رشتہ بنانے پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے ساری عمر اپنی شناخت ایک ورکر کی حیثیت سے کرائی اور اسی کو اپنے لیے باعثِ افتخار جانا۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ ورکر کے لیے ضروری ہے کہ وہ دانشور ہو اور دانشور کے لیے ضروری ہے کہ وہ ورکر ہو۔

موجودہ دور میں ‘اورل ہسٹری’ یعنی زبانی تاریخ بازیافت کرنے اور محفوظ بنانے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ لکھی ہوئی تاریخ عموماً شاہوں، سپہ سالاروں اور ہیروز کی ہوتی ہے۔ اس کا بڑا حصہ قلعے میں بیٹھ کر قلعے کے اندر کی دنیا کے احوال پر مشتمل ہوتا ہے۔ قلعے کی فصیلوں سے باہر پھیلی وسیع و عریض دنیا اور اس کے لاکھوں کروڑوں باسیوں کا نقطہ نظر خال ہی تاریخ کی کتابوں کا حصہ بن پایا ہے۔ زبانی تاریخ ان لوگوں کا نقطہ نظر سامنے لانے کا اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ اس میں ایک اہم مسئلہ یادداشت کا ہوتا ہے جو لکھائی کے مقابلے میں زیادہ دیرپا اور درست نہیں ہوتی۔ مگر رشاد محمود کی یادداشت کمال کی ہے۔ 90 سال کی عمر میں بھی ہر گلی محلے کا نام ٹھیک ٹھیک بتاتے ہیں۔ کب کون سی کتاب کس سے لے کر پڑھی انہیں یاد ہے۔ کون سی فلم، کون سا تھیٹر دیکھا، کس جلوس میں شریک ہوا، جلوس میں کون سے نعرے لگائے گئے، کس مشاعرے میں کس شاعر نے کون سی نظم پڑھی، یہ سب ان کی حیران کن یادداشت پر نقش ہیں۔

ایک سو پچیس صفحوں کی یہ چھوٹی سی کتاب پچھلے نو دہائیوں کی ہماری تاریخ کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ان نو دہائیوں میں رشاد محمود صاحب کی نگاہیں ہمیشہ چوکنا رہی ہیں۔ ہمارے درمیاں اب شاید ہی کوئی ایسا داستان گو موجود ہو جو اتنے طویل عرصے کی داستان اتنی درستی سے ہمیں سنا سکے۔ اور پھر یہ داستان کسی راوی کے ذریعے سے اس تک پہنچی ہوئی داستان نہ ہو بلکہ خود اس پر بیتا ہوا تجربہ ہو۔ اتنا معتبر داستان گو رشاد صاحب ہی ہوسکتے ہیں اور اتنی معتبر داستان “نگاہِ آئینہ ساز میں” ہی ہوسکتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...