پاک افغان تعلقات، بدامنی کے معاملات پر ایک مباحثہ

445

رپورٹ: عقیل یوسفزئی

اسلام آباد میں پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (پیپس) کے زیرانتظام پاک افغان تعلقات، دہشت گردی کی جاری لہر اور خطے کو درپیش چیلنجز، حالات پر بحث کے لیے ایک مباحثہ کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان اور افغانستان کے اہم ترین متعلقہ افراد نے شرکت کرکے جاری صورتحال پر اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔

جن متعلقہ صائب الرائے افراد نے اس تقریب میں شرکت کی ان میں سابق سیکرٹری خارجہ ریاض احمد خان، نیشنل سکیورٹی کے سابق مشیر ناصر جنجوعہ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، افغانستان کے سابق سفیر اور وزیر عمر زاخیل وال، سابق افغان پارلیمینٹرین میرویس یاسینی، پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر، ممتاز قوم پرست لیڈر سینٹر افراسیاب خٹک، بلوچ قوم پرست رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ، سابق پاکستانی سفیر منصور احمد خان، دفاعی تجزیہ کار انعام الحق، وحید ارشد کے علاوہ ممتاز ماہرین اور تجزیہ کاروں امتیاز گل، طاہر خان، شہزادہ ذوالفقار، حسن خان، ہارون الرشید، افتخار فردوس، سمیع یوسفزئی، رفعت اورکزئی، احسان ٹیپو اور عصمت قانع شامل تھے.

ڈائریکٹر پِپس اور  تجزیہ کار محمد عامر رانا نے تمہید کے طور پر خطے کو درپیش چیلنجز اور امکانات، خدشات پر بحث کو حالیہ واقعات کے تناظر میں لازمی قرار دیا اور کہا کہ اس صورت حال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ مستقبل کے حالات کا اندازہ کیا جاسکے۔

فرحت اللہ بابر کے مطابق پاکستان کی افغان پالیسی کو دونوں ممالک کے عوام کے علاوہ ان ریاستوں کے منتخب نمائندوں اور فورمز کے ذریعے طے کرنا چاہیے تاکہ بداعتمادی کو کم کیا جائے اور ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔ افراسیاب خٹک کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجود بد اعتمادی کا ایک لمبا پس منظر موجود ہے اور ہم نے افغانستان کے عوام اور منتخب اداروں کی بجائے افراد اور گروہوں پر انحصار کرکے نہ صرف عوام کو بددل کیا بلکہ خطے میں کشیدگی اور بدامنی کی بنیاد بھی رکھی۔ عمر زاخیل وال نے تقریب میں اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 2002 کے بعد کوشش کی گئی کہ پاکستان کے ساتھ سکیورٹی کے علاوہ معاشی اور انتظامی سطح پر بہتر تعلقات کا آغاز کیا جاسکے مگر یہ کوششیں بعض رکاوٹوں اور کم اہمیت کے تنازعات کے باعث کامیاب نہ ہوسکیں۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز کے مطابق دونوں ممالک کے علماء نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جرات مندانہ موقف اختیار کر کے ریاستوں کے درمیان بعض مسائل اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا اور اب اس عمل میں قبائلی عمائدین اور مشیران کو بھی شامل کیا جارہے۔

ناصر جنجوعہ نے کہا کہ 20 سالہ جنگ، دہشت گردی اور عالمی طاقتوں کے ٹکراؤ سے جو مسائل پیدا ہو چکے ہیں ان کو مہینوں میں ختم نہیں کیا جاسکتا تاہم پالیسیوں میں ابہام نہیں ہونا چاہیے اور عوام کی آراء کو اہمیت دینی چاہیے۔

ریاض احمد خان نے اس موقع پر کہا کہ خطے کو دہشت گردی سمیت مختلف دیگر چیلنجز کا سامنا ہے جس کے باعث کروڑوں عوام متاثر ہورہے ہیں، اس لیے نیا لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ میجر جنرل (ر) انعام الحق کے مطابق ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی دونوں ممالک کے درمیان مشکلات پیدا کررہی ہے۔ پاکستان جاری دہشت گردی پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ افغانستان کی حکومت حملہ آوروں کو لگام دینے کے لیے اقدامات کر پائے گی۔  منصور احمد خان کے مطابق ہماری افغان پالیسی عوام دوست ہونی چاہیے تاکہ عوام کو قریب لاکر بدامنی اور بداعتمادی کو کم کیا جاسکے اور اس مقصد کے لیے تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پاکستان بالخصوص بلوچستان کے حالات پر ہر وقت اثر انداز ہوتے رہتے ہیں اور اب کے بار بھی نہ صرف یہی کچھ ہوا بلکہ بدامنی میں اضافے کے پیچھے بھی یہی سبب کارفرما ہے۔ سمیع یوسفزئی کے مطابق افغان طالبان کسی کی رائے، تعاون یا تحفظات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور پاکستان نے بھی ان سے غیر ضروری توقعات وابستہ کیں۔ امتیاز گل نے بتایا کہ پالیسیوں میں نہ صرف تسلسل ہونا چاہیے بلکہ ان کی سمت بھی واضح ہو ورنہ نہ صرف بدامنی بلکہ بداعتمادی میں بھی اضافہ ہوگا۔

شہزادہ ذوالفقار کے مطابق بلوچستان میں تحریک طالبان پاکستان اور بعض مزاحمتی بلوچ گروپوں میں مشترکات اوران کی بنیاد پر مشترکہ کارروائیوں کے شواہد ملے ہیں جو کہ پاکستان کے لیے ایک اور چیلنج بن رہا ہے۔  افتخار فردوس نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے علاوہ داعش اور بعض دیگر گروپ بھی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں اور اگر جاری صورتحال کا نوٹس نہیں لیا گیا تو حالات مزید خراب ہوں گے۔  رفعت اورکزئی کے مطابق پاکستان بدترین حملوں کی زد میں ہے، پختون خوا پولیس بہادری سے ڈٹی ہوئی ہے اور فورسز کی کارروائیاں بھی جاری ہیں تاہم افغانستان کی حکومت سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جانی چاہئیں۔ طاہر خان نے ویزہ پراسیس کی سستی اور طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں پاکستان کو دیگر اقدامات کے علاوہ ویزہ پالیسی کو بھی آسان بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔  حسن خان کے مطابق موجودہ حالات دونوں ممالک کے ماضی کی غلطیوں کا نتیجہ ہے سب کو بدلتے حالات کے تناظر میں نئے امکانات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ حالات اور بد اعتمادی میں مزید اضافہ ہوگا۔  لیفٹیننٹ جنرل (ر) وحید ارشد نے ماضی کے تلخ واقعات اور تجربات پر بحث کی بجائے نئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات سب کی ضرورت اور وقت کا تقاضا ہے اس لیے آگے بڑھ کر اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لیکر اقدامات کیے جائیں تاکہ خطے کو پرامن بنانے کا راستہ ہموار ہو اور پراکسیز کا سدباب بھی ممکن ہوسکے۔

تمام شرکاء نے اس ایونٹ میں دونوں ممالک کے درمیان تعمیری تعلقات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بیانات سے اجتناب کیا جائے اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ مشترکہ مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور بدامنی کا راستہ روکا جاسکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...