دہلی کے 324 سالہ قدیم سکول کی حالت زار

239

سکول کی عمارت پر ایک تختی آویزاں ہے جس پر کنندہ ہے کہ اس سکول کی بنیاد 1692 میں غازی الدین خان نے رکھی۔یہ مدرسہ ایشیاء کے قدیم ترین مدارس میں سے ایک ہے۔

نئی دہلی کا 324 سالہ قدیم اینگلو عریبک سکول جہاں کئی نابغہ روزگار شخصیات نے تعلیم حاصل کی وہ آج کل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ کئی اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں، نہ کوئی لیب اسسٹنٹ ہے نہ لائبریرین، تاہم اس کے باوجود سرکاری فنڈز سے چلنے والا یہ سکول اس جستجو میں ہے کہ وہ ان 1800 ضرورت مند طلبہ کو تعلیم فراہم کرے جو یہاں معمولی فیسیں دے کر حصول علم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں زیر تعلیم زیادہ تر طلبہ کا تعلق متوسط اور غریب خاندانوں سے ہے جن کے والدین انہیں مہنگے سکولوں میں داخل کرانے کی سکت نہیں رکھتے۔ یہ سکول ایسے ناامید والدین کے لئے امید کی ایک کرن ہے۔ یہ بات ممبر پارلیمنٹ اور اس سکول کے فارغ التحصیل محمد افضال نے بتائی۔

اس سکول کے فارغ التحصیل افراد میں علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان اور انڈین ہاکی ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی مرزا ایم این مسعود بھی شامل ہیں۔ جبکہ اس کی حالیہ تاریخ میں جو بڑے نام یہاں سے نکلے ان میں سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، سابق ممبر پارلیمنٹ شاہد صدیقی، انڈین اسلامک کلچر سینٹرکے صدرسراج الدین قریشی، مولانا آزاد یونیورسٹی کے وائس چانسلر اسلم پرویز اور معروف نقاد گوپی چند نارنگ بھی شامل ہیں۔

اجمیری گیٹ پر واقع، شہر کے فصیلوں کے بالکل باہر اینگلو عریبک سکول پرانی دہلی کا واحد سکول ہے جو سرکاری فندز سے چل رہا ہے جہاں 1990 میں چھٹی سے دسویں جماعت تک کے لئے ایک الگ سے انگریزی سیکشن بھی قائم کیا گیا تھا۔ پہلے یہاں صرف لڑکوں کو تعلیم دی جاتی تھی تاہم 2012ء میں یہاں مخلوط تعلیم کا آغاز کیا گیا اور اب یہاں 400 لڑکیاں بھی زیر تعلیم ہیں۔ سکول میں 45 سیکشن ہیں جہاں چھ  شعبوں میں  چھٹی جماعت سے بارہویں تک کے طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ مگر اب ااینگلو عریبک کی حالت زار دیکھنے والی ہے۔ 2008ء کے بعد یہاں کوئی نئی تعیناتی نہیں ہوئی۔ آخری بار یہاں سات اساتذہ اور ایک گارڈ بھرتی کیا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں تعلیم کے متعلقہ شعبہ نے سکول کی جانب سے بھجوائی جانے والی 44 اساتذہ کی فائلیں کسی اعتراض کے بغیر واپس کر دی ہیں۔ ایک سال تک فائلیں دبانے کے بعد ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور واپس کر دی گئیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ کھینچنا چاہتے ہیں۔ وہ کیسے ان 44 اساتذہ کی ترقی کو روک  سکتے ہیں؟ یہ بات ریاضی کےایک سینئر استاد محمد قاسم نے بتائی۔ محکمہ تعلیم نے سکول کی انتظامیہ کی جانب سے نئے اساتذہ کی تعیناتی کا منصوبہ اس وقت خاک میں ملا دیا جب پہلے ہی یہاں 31 اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ موجودہ اسامیوں کو پر کرنے سے قبل سکول کا پرنسپل محکمہ تعلیم کو ایک سرٹیفکیٹ دیتا ہے کہ یہاں کسی استاد کی ترقی کا کوئی کیس زیر التوا نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک 44 اساتذہ کی ترقیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا یہاں کوئی نئی تعیناتی ممکن نہیں ہے۔ یہ بات احمد نے بتائی۔

اس وقت سکول میں خالی اسامیوں کو ایڈہاک اساتذہ کے ذریعے پر کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ “ہمارے پاس 25 ایڈہاک اساتذہ ہیں جن کو تنخواہوں کی ادائیگی سکول کے دیگر فنڈز سے کی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے سکول دیگر سرگرمیوں کے لئے پیسہ نہیں لگا سکتا جیسے کہ کھیلوں کی سہولیات میں”۔

سکول کا بے ہنگم کیمپس عدم توجہی کی ایک مثال بن چکا ہے۔ یہ ایک تاریخی ورثہ بھی ہے جس کی وجہ سے سکول انتظامیہ اس کی عمارت میں کسی تبدیلی کی مجاز نہیں ہے اور نہ ہی یہاں اپنے طور پر کوئی مرمت کر سکتی ہے۔ لیکن یہاں کھیل کا میدان بھی اچھی حالت میں نہیں ہے اور وہاں بھی فنڈز درکار ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہماری فٹ بال، کرکٹ اور ہاکی کی ٹیمیں ہیں جو سکول لیول ہر اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ یہ بات سکول کے پرنسپل نے قابل فخر انداز میں بتائی۔ سکول میں کوئی لائیبریرین نہیں ہے نہ ہی  2012ء سےبیالوجی اور فزکس کا لیب اسسٹنٹ ہے۔ جب بھی کوئی پوسٹ خالی ہوتی ہے وہ دوبارہ پر نہیں کی جاتی۔ احمد نے مایوس ہوتے ہوئے کہا۔

سکول کی عمارت پر ایک تختی آویزاں ہے جس پر کنندہ ہے کہ اس سکول کی بنیاد 1692 میں غازی الدین خان نے رکھی۔ یہ مدرسہ ایشیا کے قدیم ترین مدارس میں سے ایک ہے۔ یہ مدرسہ 1830 اور 1840میں دہلی کے دوبارہ احیاء میں مرکزی مقام کا حامل رہا ہے۔ یہ سکول آج بھی قدیم دہلی ، جامعہ نگر اور یمونا کے علاقے کے ان طلبہ کے لئے ایک خواب ہے جو دسویں جماعت کے بعد سائنس کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پسماندہ علاقوں کے بہت سے طلبہ دیگر سکولوں میں اس لئے داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ وہاں داخلے کے لئے زیادہ نمبروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سکول کی لمنائی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری محمد سلیم نے کہا کہ اس لیے اینگلو عریبک سکول ہی وہ جگہ ہے جہاں ایسے طلبہ آتے ہیں جو سائنس پڑھنا چاہتے ہیں مگر کہیں اور انہیں داخلہ نہیں ملتا۔ لیکن اب جب یہاں نہ کوئی لیبارٹری کا سامان ہے اور نہ ہی لیب اسسٹنٹ تو ایسے میں سائنس کی تعلیم تو عملی طور پر ممکن ہی نہیں رہی۔

اس وقت سکول کا انتظام دہلی ایجوکیشن سوسائٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر کے ساتھ مل کر چلا رہی ہے جو اس سے قبل اس تنظیم کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ سابق ممبر پارلیمنٹ افضال کے مطابق تاریخی حیثیت کے تناظر میں اس کی خاص اہمیت ہے لیکن یہ حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے۔

(Anchorبشکریہ : ڈان ، ترجمہ، سجاد اظہر)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...